تحریر : ڈاکٹر رشید احمد خاں تاریخ اشاعت     25-03-2018

متحدہ مجلس عمل کی بحالی اور انتخابی سیاست

کراچی میں جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے رہنما اویس احمد نورانی کی رہائش گاہ پر منعقدہ ایک اجلاس میں پاکستان میں مذہبی‘ سیاسی جماعتوں کے ایک سابقہ اتحاد ''متحدہ مجلس عمل‘‘ کو بحال کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ متحدہ مجلس عمل کا قیام سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں عمل میں آیا تھا‘ اور اس میں چھ سیاسی جماعتیں یعنی جمعیت علمائے اسلام (ف)‘ جمعیت علمائے اسلام (سمیع الحق)‘ جمعیت علمائے اسلام (نورانی) جماعت اسلامی‘ جمعیت اہلِ حدیث اور تحریکِ نفاذِ جعفریہ شامل تھیں۔ اپنے قیام کے بعد دینی جماعتوں نے 2002ء کے عام انتخابات میں ایک پلیٹ فارم سے اور ایک انتخابی نشان ''کتاب‘‘ کے ساتھ حصہ لیا تھا‘ اور سابق صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) اور کراچی میں نمایاں کامیابی حاصل کی تھی۔ صوبہ سرحد میں جمعیت علمائے اسلام (ف) اور جماعت اسلامی نے علی الترتیب 28 اور 20 صوبائی اسمبلی کی نشستیں حاصل کیں‘ جس کے نتیجے میں متحدہ مجلس عمل نے صوبائی حکومت تشکیل دی۔ اس حکومت میں جمعیت علمائے اسلام (ف) سے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی اکرم خان درانی وزیر اعلیٰ تھے۔ متحدہ مجلسِ عمل نے کراچی میں بھی سات نشستیں حاصل کی تھیں۔ انتخابی نتائج کی روشنی میں توقع کی جا رہی تھی کہ متحدہ مجلس عمل آئندہ انتخابات میں بھی ایک اہم طاقت بن کر ابھرے گی‘ لیکن 2008ء کے انتخابات میں شرکت کے سوال پر اس میں شامل جماعتوں خصوصاً جمعیت علمائے اسلام (ف) اور جماعت اسلامی کے درمیان شدید اختلافات کی وجہ سے متحدہ مجلس عمل انتشار کا شکار ہو گئی۔ 2013ء کے انتخابات میں متحدہ مجلس عمل میں شامل مذہبی سیاسی جماعتوں نے الگ حیثیت میں حصہ لیا اور سوائے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے کسی مذہبی سیاسی جماعتوں کو قابلِ ذکر کامیابی حاصل نہ ہو سکی تھی۔ گزشتہ ایک دہائی میں پاکستان کی مذہبی‘ سیاسی جماعتوں کو قابلِ ذکر کامیابی حاصل نہ ہو سکی‘ اور اس کا تازہ ترین ثبوت حال ہی میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے نتائج ہیں۔ ان نتائج کی روشنی میں جماعت اسلامی صوبہ خیبر پختون خوا (سابقہ شمال مغربی سرحدی صوبہ) کے قبائلی علاقوں اور جمعیت علمائے اسلام (ف) بلوچستان تک محدود ہو گئی ہے‘ جبکہ ملک کے دو سب سے بڑے صوبوں‘ پنجاب اور سندھ میں پُرانی اور روایتی مذہبی سیاسی جماعتوں کے اثر و رسوخ میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کی بجائے علامہ خادم حسین رضوی کی قیادت میں تحریکِ لبیک پاکستان اور حافظ سعید کی سربراہی میںملی مسلم لیگ کو زیادہ عوامی پذیرائی ملنا شروع ہو گئی ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر گزشتہ کچھ عرصہ سے متحدہ مجلس عمل کو دوبارہ بحال کرکے فعال بنانے کی کوششیں جاری تھیں اور جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق ان کوششوں میں نمایاں کردار ادا کر رہے تھے۔ اس سلسلے میں گزشتہ سال نومبر میں جماعت اسلامی کے ہیڈکوارٹر منصورہ لاہور میں سابقہ متحدہ مجلس عمل میں شامل جماعتوں کا ایک سربراہی اجلاس منعقد ہوا تھا۔ اس اجلاس میں جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق‘ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مولانا فضل الرحمٰن اور جمعیت علمائے اسلام (سمیع الحق) کے سربراہ مولانا سمیع الحق شامل تھے۔ اس اجلاس میں متحدہ مجلس عمل کو بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا‘ لیکن اس کی قیادت پر اختلافات کی بدستور موجودگی کے باعث باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا تھا۔ اب جبکہ اتحاد میں شامل دو بڑی جماعتوں یعنی جمعیت علمائے اسلام (ف) اور جماعت اسلامی کے درمیان قیادت کے مسئلے پر اختلافات دور ہو گئے ہیں تو متحدہ مجلس عمل کے قیام کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا ہے۔ اس اعلان کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن متحدہ مجلس عمل کے صدر اور جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ سیکرٹری جنرل ہوں گے۔ ان دو بڑے عہدوں کے علاوہ کراچی کے اجلاس میں دیگر عہدے داروں کا بھی اعلان کیا گیا۔ جمعیت علمائے پاکستان (نورانی) اور دیگر جماعتوں کو مختلف عہدے دئیے گئے ہیں۔ کراچی کے اجلاس میں جمعیت اہل حدیث کے رہنما مولانا ساجد میر کی قیادت میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی‘ جو ایک ماہ میں متحدہ مجلس عمل کا نیا انتخابی منشور تیار کرے گی۔
صدر منتخب ہونے کے بعد مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل اس نئے منشور کے ساتھ 2018ء کے الیکشن میں حصہ لے گی۔ البتہ اس کے انتخابی نشان (Election Symbol) یعنی کتاب میں کوئی تبدیلی نہیں ہو گی اور اس کے بنیادی اصول بھی وہی ہوں گے جو آج سے 17 سال قبل اس کے قیام کے وقت وضع کئے گئے تھے۔ متحدہ مجلس عمل کی بحالی پاکستان کی سیاست میں ایک اہم اقدام ہے‘ کیونکہ اس میں شامل مذہبی جماعتیں اگرچہ ملک میں اسلامی نظام کے قیام کے سلسلے میں کوشاں ہیں تاہم وہ اس کیلئے 1973ء کے آئینی ڈھانچے کے اندر رہ کر جدوجہد پر یقین رکھتی ہیں۔ اس طرح یہ سیاسی جماعتیں نہ صرف آئین اور پارلیمنٹ کی بالا دستی بلکہ جمہوری نظام کے تسلسل کی بھی حامی ہیں۔ پاکستان کے جمہوری سیاسی نظام میں ان جماعتوں نے مثبت کردار ادا کیا ہے۔ ان جماعتوں کے منشور‘ پروگرام یا اندرونی اور خارجہ پالیسی کے متعلق ان کے موقف سے اختلاف کیا جا سکتا ہے‘ لیکن غیر آئینی‘ غیر جمہوری اور تشدد اور قوت کے استعمال پر مبنی سیاست کی مخالف ہونے کی وجہ سے یہ سیاسی جماعتیں ان عناصر کو غیر مؤثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں‘ جو موجودہ جمہوری سیاسی نظام کو رد کرکے مذہب کے نام پر انتہا پسندی اور دہشت گردی کا پرچار کرتی ہیں۔ 2018ء کے انتخابات کے قریب آنے پر متحدہ مجلس عمل کی بحالی اس لحاظ سے بھی خصوصی اہمیت کی حامل ہے کہ انتخابات کے معرکے میں کودنے سے پہلے سیاسی جماعتوں کے پُرانے اتحادوں کی توڑ پھوڑ اور نئی صف بندیاں دیکھنے میں آئیں گی۔ بحال شدہ متحدہ مجلس عمل کے صدر مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ انتخابی اتحاد اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ کیلئے متحدہ مجلس عمل کے دروازے کھلے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ متحدہ مجلس عمل کے رہنمائوں کے درمیان طے شدہ معاہدے کے تحت اتحاد میں شامل سیاسی جماعتیں وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے الگ ہو جائیں گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 2018ء کے انتخابات سے قبل جمعیت علمائے اسلام (ف) پاکستان مسلم لیگ ن سے مرکز میں اور جماعت اسلامی‘ تحریکِ انصاف کے ساتھ صوبہ پختون خوا کی حکومت میں اپنی شراکت ختم کر دیں گی۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ آئندہ انتخابات میں متحدہ مجلس عمل دیگر جماعتوں کے ساتھ انتخابی اتحاد میں شرکت یا سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا فیصلہ کرنے میں نہ صرف آزاد ہو گی بلکہ یہ فیصلہ اجتماعی طور پر کیا جائے گا‘ جس کی پابندی متحدہ مجلس عمل میں شامل تمام جماعتوں پر لازم ہو گی‘ کیونکہ اتحاد ایک انتخابی نشان کے ساتھ انتخابات میں شرکت کرے گا۔ پاکستان کی سیاست نے گزشتہ چند ماہ میں جو رخ اختیار کیا ہے‘ اس کو دیکھتے ہوئے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ متحدہ مجلس عمل کا اصل مقابلہ ان نئی مذہبی سیاسی جماعتوں کے ساتھ ہو گا جو سیاست میں روایتی مذہبی سیاسی جماعتوں کے ووٹ بینک کے سکڑنے کا باعث بن رہی ہیں۔ ملک میں کچھ سیاسی حلقے اس رجحان کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اس کے ذریعے بڑی سیاسی جماعتوں خصوصاً پاکستان مسلم لیگ ن کو کمزور کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح متحدہ مجلس عمل کی بحالی کا اقدام مسلم لیگ ن کیلئے خوش آئند اور مددگار ثابت ہو سکتا ہے‘ کیونکہ اس کے پلیٹ فارم سے عمران خان کی طرف سے مذہبی حلقوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوششوں کو ناکام بنایا جا سکتا ہے‘ جو مولانا سمیع الحق کے ساتھ اتحاد یا تحریکِ لبیک پاکستان کی کھلم کھلا حمایت کی صورت میں کی جا رہی ہیں۔ اگرچہ جماعت اسلامی نے کے پی کے کی حکومت میں رہ کر اب تک پی ٹی آئی کا ساتھ نبھایا ہے‘ لیکن آئندہ انتخابات میں پی ٹی آئی اور جے آئی کے اتحاد یا اشتراکِ عمل کا کوئی امکان نہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں کے اتحاد کے بعد دونوں جماعتیں اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ انہیں اس اتحاد سے کوئی سیاسی فائدہ حاصل نہیں ہوا۔ اور دوسرے جماعت اسلامی اب متحدہ مجلس عمل کا حصہ ہے‘ جو ایک منشور اور ایک انتخابی نشان کے ساتھ 2018ء کے انتخابی معرکے میں اترے گی۔ اگر متحدہ مجلس عمل کسی اور سیاسی پارٹی کے ساتھ انتخابی اتحاد یا سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا فیصلہ کرے گی تو پاکستان مسلم لیگ ن اس کی پہلی ترجیح ہو گی کیونکہ مولانا فضل الرحمٰن اور علامہ ساجد میر کی جماعتیں پہلے ہی اس کی حامی ہیں۔ متحدہ مجلس عمل میں مولانا سمیع الحق کی غیر موجودگی اس فیصلے کو اور بھی سہل بنا دے گی۔

 

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved