تحریر : ایم ابراہیم خان تاریخ اشاعت     27-03-2018

دامن ذرا بچاکے!

ہم زندگی بھر اپنے جیسے دوسرے لوگوں کے ساتھ رہتے ہیں، بلکہ رہنا پڑتا ہے۔ معاشرتی حیوان ہونے کے ناتے انسان دوسروں سے الگ نہیں رہ سکتا۔ جب ہم دوسروں کے ساتھ رہتے اور کام کرتے ہیں تو قدم قدم پر ہماری صلاحیت اور سکت کے ساتھ ساتھ صبر کا بھی امتحان لیا جاتا ہے! بہت سے لوگ ہمارے لیے امتحان یا آزمائش کا درجہ رکھتے ہیں۔ ہمیں نہ چاہتے ہوئے بھی ان سے ربط برقرار رکھنا پڑتا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو ہم میں کام کرنے کی لگن کو ناکامی سے دوچار کرتے رہتے ہیں، ہمیں منزل یا ہدف کی طرف بڑھنے سے روکتے رہتے ہیں۔ 
منفی سوچ رکھنے والوں میں آگے بڑھنے کا جذبہ نہیں ہوتا۔ وہ خود بھی کچھ نہیں کرتے اور دوسروں کو بھی کچھ نہیں کرنے دیتے۔ ایسے لوگ ہمارے لیے منفی اثاثے ہوتے ہیں یعنی ہماری جمع پونجی بھی داؤ پر لگادیتے ہیں۔ ڈیوڈ پولے نے ''دی لا آف گاربیج ٹرک‘‘ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں لکھی ہے۔ ڈیوڈ پولے کی کتاب کا بنیادی آئیڈیا یہ ہے کہ منفی سوچ رکھنے والے دراصل کچرے کے مانند ہوتے ہیں جو کسی کام کے نہیں ہوتے اور دوسروں کو بھی کام کرنے کی لگن سے محروم رکھتے ہیں۔ کام میں برائے نام بھی دلچسپی نہ رکھنے والے منفی توانائی کے مانند ہوتے ہیں یعنی ان کا وجود ہماری توانائی بھی ختم کرنے پر تلا رہتا ہے۔ 
ڈیوڈ پولے کا استدلال ہے کہ اگر ہمیں کچھ کرنا ہے، کچھ بننا ہے تو لازم ہے کہ ایسے تمام لوگوں کی صحبت اپنائیں جن میں کام کرنے کی لگن ہمیشہ جوان رہتی ہے، جو مثبت فکر کے ذریعے اپنے ہر عمل کو تابندہ بناتے رہتے ہیں اور ان تمام افراد سے دور رہنا چاہیے جو فکر اور عمل دونوں اعتبار سے زندگی کی جنگ ہار چکے ہیں۔ ایسے لوگ ہمیں کچھ دیں گے تو خیر کیا، جو کچھ ہمارے پاس ہے وہ بھی چھین لیں گے۔ ان کے پاس صرف منفی سوچ ہوتی ہے جو ہمارے لیے کسی کام کی نہیں ہوتی۔ 
اگر ہمیں اپنے مقصد یا ہدف کا حصول یقینی بنانا ہے تو ڈیوڈ پولے کا مشورہ یہ ہے کہ منفی لوگوں سے بچ کے رہنا چاہیے۔ اس سلسلے میں انہوں نے وہی طرز عمل اپنانے پر زور دیا ہے جو ہم کچرے کی گاڑی کے لیے اپناتے ہیں۔ جب ہمارے سامنے سے کچرے کی گاڑی گزرتی ہے تو ہم کیا کرتے ہیں؟ کیا اسے روکتے ہیں؟ نہیں۔ کیا ہم کچرے کی گاڑی کے نزدیک جاتے ہیں؟ نہیں۔ کیا ہم کچرے کے گاڑی کے ساتھ سیلفی لیتے ہیں؟ نہیں۔ جب بھی ہمارے سامنے سے کچرے کی گاڑی گزرتی ہے ، ہم ناک بند کرکے اسے گزرنے دیتے ہیں۔ ہماری خواہش ہوتی ہے کہ وہ جلد از جلد گزر جائے۔ کون ہے جسے کچرے کی گاڑی اچھی لگتی ہو؟ یقیناً کوئی نہیں۔ 
ہر انسان اپنے ساتھ بہت کچھ لیے پھرتا ہے۔ خیالات اور اعمال ہر انسان کے لیے سامان کا درجہ رکھتے ہیں۔ یہ سامان دوسروں کے لیے اہم ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی ہوسکتا۔ ہر انسان اپنے خیالات اور اعمال کو بہت اہم گردانتا ہے مگر لازم نہیں کہ ان میں دوسروں کے لیے افادیت ہو۔ ہمیں قدم قدم پر ایسے بہت سے لوگ ملتے ہیں جو اپنے شعبے میں کامیاب ہوتے ہیں مگر مزاج کی ہم آہنگی نہ ہونے کے باعث وہ ہمارے لیے زیادہ مفید نہیں ہوتے۔ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو کچھ کر ہی نہیں پائے اور اس حوالے سے ان میں تاسّف اور پچھتاوا بھی پایا جاتا ہے۔ ایسے لوگ عام طور پر منفی رجحانات کے حامل ہوتے ہیں۔ وہ کامیاب ہونا ہی نہیں چاہتے۔ اپنی ناکامی کا وہ کوئی نہ کوئی جواز ضرور ڈھونڈ نکالتے ہیں اور پھر اس کا ڈھول بھی پیٹتے رہتے ہیں۔ ایسے لوگ کچرے کی گاڑی جیسے ہوتے ہیں۔ کچرے کی گاڑی میں کچرا بھرا ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں میں منفی خیالات اور ناکارہ رجحانات بھرے ہوتے ہیں۔ یہ لوگ جہاں سے گزرتے ہیں وہاں کی فضاء کو آلودہ کردیتے ہیں۔ ان کی باتوں سے بدبو پھوٹتی ہے۔ کسی بھی موضوع پر بات کرتے وقت یہ صرف اور صرف منفی سوچ کو گلے لگائے رکھتے ہیں۔ ان کی باتیں حوصلہ شکن ہوتی ہیں کیونکہ خود ان میں بھی حوصلہ نہیں پایا جاتا۔ 
اگر آپ کچھ کرنا، کچھ بننا چاہتے ہیں تو لازم ہے کہ منفی سوچ اور منفی تر رجحان رکھنے والوں سے دور رہیں۔ ایسے لوگ آپ کی راہ میں دیوار بن کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ یہ آپ کو خوش نہیں دیکھنا چاہتے۔ ان کی شدید خواہش یہ ہوتی ہے کہ جس طرح انہیں ناکامی ملی ہے اسی طرح آپ بھی ناکامی سے دوچار ہوں، بلکہ ناکامی سے دوچار رہیں۔ یہ لوگ اپنا مزاج کبھی نہیں بدلتے۔ یہ لوگ ہمیشہ دوسروں میں کیڑے نکالتے رہتے ہیں۔ انہیں صرف تنقید کرنے سے غرض ہوتی ہے۔ 
ڈیوڈ پولے نے منفی سوچ رکھنے والوں کو کچرا گاڑی اس لیے قرار دیا ہے کہ کچرا گاڑی میں ہمارے لیے صرف بدبو اور آلودہ کرنے والی اشیاء ہوتی ہیں۔ اسی طور منفی سوچ رکھنے والوں کے پاس ہمارے لیے کچھ بھی نہیں ہوتا۔ وہ اپنی باتوں سے ماحول کو صرف گندا کرتے ہیں، تعفن پھیلاتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے دور رہنا چاہیے۔ اگر کسی وجہ سے ربط رکھنا ہی پڑے تو وہ ربط برائے نام ہونا چاہیے۔ 
ڈیوڈ پولے نے اپنے قارئین کو کام کا ایک اور مشورہ بھی دیا ہے۔ یہ کہ وہ کچرا گاڑی جیسے لوگوں سے دور رہیں اور دوسری طرف خود بھی کچرا گاڑی بننے سے گریز کریں! دوسروں میں خامیاں تلاش کرنے اور ان کی غلطیوں کا تجزیہ کرنے کے بجائے ہمیں اپنی خوبیوں اور صلاحیتوں پر توجہ دینی چاہیے۔ ذہنی اور جسمانی طور پر توانا اور متوازن رہنے کے لیے ایساکرنا لازم ہے۔ محض تنقید کرتے رہنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ تنقید سے تو صرف تناؤ میں اضافہ ہوتا ہے، اشتعال کی سطح بلند ہوتی ہے۔ ایسے میں کسی اور کا تو کیا نقصان ہوگا، ہمارے اپنے کام بگڑتے چلے جاتے ہیں۔ 
جب آپ منفی خیالات سے دور رہیں گے اور منفی لوگوں کی صحبت اختیار کرنے سے گریز کریں گے تب آپ کی طرز عمل میں حسن پیدا ہوگا، مزاج میں شائستگی بڑھے گی اور آپ لوگوں سے اچھی طرح پیش آئیں گے۔ جب ایسا ہوگا تو گھر، دفتر، حلقۂ احباب اور دائرۂ اعزاء میں آپ کے لیے ماحول سازگار ہوتا جائے گا۔ 
منفی لوگوں سے دور رہنے کی صورت میں دوسروں کو قبول کرنے اور ان کی غلطیاں معاف کرنے کا رجحان تقویت پاتا ہے۔ ہر معاملے میں انتقام پسندی درست نہیں۔ چند ایک معاملات میں معاف کرنے کا جذبہ پیدا کرنا اور پروان چڑھانا لازم ہے۔ کسی کو معاف کرنے سے دل کو جو خوشی ملتی ہے اس کا اندازہ وہی لوگ لگاسکتے ہیں جو معاف کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ ہر انسان کی زندگی میں چند ایک پریشانیاں ضرور ہوتی ہیں۔ اگر آپ اپنے دکھ بیان کریں گے تو لوگ ہمدردی جتائیں گے مگر لازم نہیں کہ ہمدردی آپ کی توقع کے مطابق ہو۔ اگر آپ اپنے دکھ بیان کرتے رہیں گے تو آپ سے ہمدردی رکھنے والوں اور دوستوں کی تعداد کم ہوتی جائے گی۔ ہمیں مدد ضرور قبول کرنی چاہیے مگر کم ہونے کی صورت میں تنقید سے گریز کرنا چاہیے۔ اگر ہم کسی سے کام لینا چاہتے ہیں تو اپنے رویے میں تبدیلی لانا پڑے گی۔ اگر رویہ درست نہ ہو تو ہم کسی کے لیے قابل قبول نہیں ٹھہرتے۔ ہمیں اچھے لوگ بھی ملتے رہتے ہیں۔ برے لوگوں کا رویہ ہم پر البتہ زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔ ان کی باتیں ہمیں زیادہ دیر یاد رہتی ہیں یعنی تکلیف دیتی رہتی ہیں۔ ہمیں جو کچھ بھی پانا ہے اس مختصر سی زندگی ہی میں پانا ہے اس لیے ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ منفی لوگوں میں وقت ضائع نہ ہو اور منفی باتیں ہماری توانائی زائل نہ کریں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved