تحریر : رؤف کلاسرا تاریخ اشاعت     28-03-2018

نئے سیاسی گھونسلوں کی تلاش میں

سرائیکی علاقے سے نواز لیگ کے نوجوان ایم این اے‘ جو کبھی جنرل مشرف دور میں شوکت عزیز کی کابینہ میں جونیئر وزیر تھے، بڑے عرصے بعد ملے۔ ارشد شریف، انور بیگ اور میں ریسٹورنٹ میں کھانا کھا رہے تھے۔ بیگ صاحب پر نظر پڑی تو ان سے ہاتھ ملانے آ گئے۔ ارشد اور میں نے توجہ نہ دی۔ انور بیگ نے مجھے مخاطب کر کے کہا: جناب آپ کے علاقے کے ہیں۔ مجھے یاد آیا‘ موصوف ہر پانچ سال بعد نیا گھونسلا ڈھونڈتے ہیں۔ جنرل مشرف کا گھونسلا پرانا ہوا تو ق لیگ سے اڑ کر زرداری صاحب کے ساتھ مل گئے۔ زرداری کا گھونسلا زمین بوس ہوا تو رائیونڈ کے گھونسلے میں پناہ لے لی۔
مجھ سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا: آپ کو ڈھونڈ رہا تھا‘ کچھ مشورے اور گپ شپ کرنی ہے۔ میں نے کہا: خیریت؟ آپ سے پانچ سال بعد ملاقات ہو رہی ہے۔ اب آپ کو یاد آ گیا کہ اسلام آباد شہر میں اگر کوئی سیانا ہے تو وہ میں ہوں جس سے مشورہ نہ ہوا تو آپ کا پورا سیاسی کریئر دائو پر لگ جائے گا؟ وہ کچھ شرمندہ ہوئے اور بولے: ایسی بات نہیں ہے۔
میں نے کہا: ان پانچ برسوں میں آپ کو نواز شریف برا نہ لگا تو اب کیوں لگ رہا ہے۔ سرائیکی علاقوں کے بارے میں آپ نے ایک دفعہ بھی اسمبلی میں بات نہ کی۔ وہ بولے: ابھی وقت نہیں آیا کہ ان ظالم قوتوں سے لڑا جائے جو سرائیکیوں کا استحصال کر رہی ہیں۔ پھر بھرپور قہقہہ لگایا اور کہا: آپ تو جانتے ہیں کہ ہم سرائیکی کوئی اتنے لڑاکا نہیں ہیں کہ حقوق کے لیے لڑیں۔ میں نے کہا: یہ تو پہلا سچ ہے‘ جو آپ نے بولا ہے۔ واقعی آپ لوگوں میں تو جرأت نہیں ہے۔ وہ بولے: آپ تو جانتے ہیں کہ میں قومی اسمبلی میں بھی چپ رہا۔ میں نے کہا: جیسے پانچ سال قومی اسمبلی میں ایک گونگے کی طرح گزارے اور کبھی مشورہ نہ کیا تو اب کیا کریں گے مجھ سے مشورہ کر کے؟ انہوں نے بغیر شرمندہ ہوئے بڑا قہقہہ لگایا۔ ارشد شریف اور انور بیگ حیرانی سے دیکھ رہے تھے کہ کس طرح کی گفتگو ہے جو سرائیکی میں ہو رہی ہے۔ 
موصوف نے بات کا رخ بدل دیا اور بولے: ویسے آپ نے اپنے دوست اویس لغاری پر ٹی وی پروگرام کر کے ان کا بیڑہ غرق کر دیا ہے۔ میں یکدم انجان بن گیا اور بھولے پن سے پوچھا: کون سا پروگرام، کون سا دوست اور کون سا لغاری؟ وہ مسکرا کر بولے: حضور اب ایسی بھی کیا بات ہے کہ سب کچھ بھول گئے ہیں۔
پھر کہا: اویس لغاری کی بات کر رہا ہوں۔ پچھلے دنوں جو ٹی وی پروگرام میں آپ نے اویس لغاری اور جمال لغاری کے جو منت ترلے دکھائے کہ کیسے وہ شہباز شریف کا جلسہ کامیاب بنانے کے لیے ڈیرہ غازی خان کے لوگوں کو کعبہ، قرآن اور اپنے باپ کے حوالے دے کر گڑگڑا رہے تھے ۔
میں نے کہا: اس میں کیا غلط تھا؟ وہ چہرے پر شرارتی مسکراہٹ لاتے ہوئے بولے: باقی تو ٹھیک ہے یار! لیکن وہ نواز شریف کا پرانا کلپ چلا کر آپ نے زیادتی کی۔ بیچارے لغاری برادرن بہت پریشان ہیں۔ میں پھر بھولا بن گیا اور پوچھا: اس کلپ میں کیا غلط بات تھی؟ نواز شریف نے جو کچھ کہا‘ وہی چلایا۔ وہ بولے: دیکھیں اب یہ بھی کوئی ٹی وی شو میں چلانے کی بات تھی کہ لغاری ایک بددیانت شخص ہے اور یہ لغاری انگریزوں کے کتے نہلاتے تھے۔
میں سمجھ گیا کہ یہ اپنے دوست اویس لغاری کے خاندان کے بارے میں نواز شریف کے کہے گئے کلمات پر چسکے لے رہا ہے۔ میں نے کہا: سر جی! اگر لغاری برادران کو اس پر اعتراض نہیں ہے کہ نواز شریف نے ان کے گھر کے باہر آکر کتنی گالیاں دی تھیں یا ان کے باپ اور ان کے قبیلے کے بارے کیا کیا فرمایا تھا تو پھر آپ اور میں کیوں شرمندہ ہوں؟
اولاد کو خود شرمندگی نہیں ہے بلکہ وہ تو فخر سے ڈیرہ غازی خان کے لغاری بلوچوں کو اکٹھا کر کے شہباز شریف کی خوبیاں بیان کر رہے تھے۔ اگر ان دونوں بھائیوں کو نواز شریف کے گالیاں دینے پر کوئی غصہ ہوتا تو وہ بھلا کب شہباز شریف کو اپنے گھر کے باہر اس جگہ بلاتے جہاں ان کا بڑا بھائی چوبیس برس قبل ان کے باپ اور لغاری قبیلے کو گالیاں دے کر گیا تھا؟ میں نے کہا: آپ ہی سنجیدہ ہو رہے ہیں یا اس کی اداکاری کر رہے ہیں ورنہ لغاری برادران کو تو بالکل‘ نہ اس پر افسوس ہے اور نہ ہی کوئی شرمندگی۔ موصوف نے پھر ایک لمبا قہقہہ لگایا اور ہاتھ ملا کر باہر نکل گئے۔ جاتے جاتے بولے: آپ کو کال کرتا ہوں اور مل کر بیٹھتے ہیں۔
میں نے ارشد شریف اور انور بیگ کو کہا: دیکھا آپ نے؟ یہ ہے ہمارے سرائیکی علاقوں کے ایم این ایز کی اوقات اور یہ پڑھی لکھی ایلیٹ ہے۔ یہ سب ماشاء اللہ باہر سے پڑھے ہوئے ہیں۔ ان کی سیاسی تربیت ملاحظہ فرمائیں۔ ان میں اتنی جرأت نہیں کہ یہ لوگ اپنے پیروں پر کھڑے ہوکر سیاسی غیرت کا مظاہرہ کر سکیں۔ اوپر اوپر سے یہ تاثر دے رہا تھا کہ ٹی وی کلپ چلا کر اس کے لغاری دوست کے ساتھ زیادتی کی گئی لیکن میرے جواب پر کتنا بڑا قہقہہ مارا کہ اچھا ذلیل ہوئے۔
یہ سب نئے ٹھیکیدار ہیں سرائیکی علاقوں کی سیاست کے۔ ان نوجوانوں نے باہر سے پڑھائی کرنے کے بعد یہ سوچا کہ باپ دادا مر کھپ گئے۔ اب ان کی زندگی ہے اور ان کا سیاسی کیریئر۔ ان کے اندر مزاحمت نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ یہ اسلام آباد اور لاہور کے ہر دربار کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ ان نوجوان نے سوچ لیا ہے کہ پیسہ اور اقتدار ہی سب کچھ ہے۔ یہ ہر حکومت میں وزیر بن جائیں گے یا پھر پچاس کروڑ‘ ایک ارب روپے تک ترقیاتی فنڈ کے نام پر پیسہ پکڑ لیں گے۔ پھر مقامی سطح پر تھانیدار، ڈی پی او اور کوئی مریل سا ڈپٹی کمشنر ان کا اپنا بندہ ہوگا جو ان کے اشاروں پر ناچے گا۔ یہ خود اسلام آباد اور لاہور کے دربار میں حاضری دیتے ہیں اور مؤدب رہتے ہیں اور واپسی پر اپنے ڈیرے پر ڈی پی اور ڈپٹی کمشنر کو بلوائیں گے اور غریبوں پر ظلم ڈھائیں گے۔ ایک عزت دار پولیس افسر شارق کمال صدیقی نے بہاولنگر کے ایم این اے عالم داد لالیکا کے ڈیرے پر جانے سے انکار کیا تو (سابق) وزیراعظم نواز شریف نے ان کی صوبہ بدری کے احکامات جاری کر دیے کہ کس گستاخ کی جرأت ہوئی کہ ہمارے ایک مؤدب سیاسی چیلے کے گھر جا کر کھانا نہ کھائے۔ وہی بیورو کریسی جس نے کرپٹ بیورو کریٹ احد چیمہ کی گرفتاری پر ہڑتال کر دی تھی‘ اسے جرأت نہ ہوئی تھی کہ وہ شارق کمال صدیقی کا بھی ساتھ دیتی۔ ہمارے سرائیکی علاقوں کے ایم این ایز ہوں یا ایم پی ایز‘ سب سمجھدار ہیں۔ ان میں سے اکثریت رائیونڈ اور اسلام آباد کے دربار میں سیاسی سجدے کرتی ہے لیکن اپنے اپنے علاقوں میں یہ لوگ ظالم بن جاتے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او کو ہر وقت نچاتے ہیں۔ اور جونہی حکومت جانے کا وقت آتا ہے تو یہ سب نیا گھونسلا تلاش کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اب جبکہ حکومت ختم ہونے میں کچھ ہفتے یا دو ایک ماہ باقی ہیں تو ان کی نئے آقا کی تلاش شروع ہے۔ 
ارشد شریف نے پوچھا: یہ موصوف آپ سے کیوں ملنا چاہتے ہیں؟ میں ہنس پڑا اور کہا: بھولے بادشاہو! آپ ابھی تک بھی نہیں سمجھے؟ ہمارے سرائیکی علاقو ں کے یہ پڑھے لکھے سیاستدان سمجھ چکے ہیں کہ نواز شریف اور شہباز شریف کا دور ختم ہوا۔ اب یہ سیاسی بٹیرا چاہتا ہے کہ میں اسلام آباد کے تیزی سے بدلتے سیاسی موسم میں اس کی رہنمائی کروں کہ ہوا کا رخ کس طرف ہے۔ فوج اور عدلیہ کیا سوچ رہی ہیں۔ بیورو کریسی کس طرف بھاگ رہی ہے۔ نواز شریف اور مریم نواز کو کتنی سزا ہو گی اور کیا اب شریف خاندان کا سیاسی مستقبل واقعی ختم ہو چکا اور یہ کہ نیا لیڈر کون ابھر رہا ہے، شہباز شریف کے کیا امکانات ہیں، اب یہ سب کس کو وفاداری کا حلف دیں اور کس نئے سیاسی گھونسلے میں جا کر انڈے یا بچے دیں؟ 
واقعی...؟ انور بیگ اور ارشد شریف نے مجھے حیرانی سے دیکھا۔
میں دوستوں کی حیرانی پر حیران ہوا کہ جنہیں ابھی یہ پتا نہیں تھا کہ شریف خاندان کا راج ختم ہو رہا ہے اور اب ان پرندوں کا نئے گھونسلوں کی تلاش میں‘ رائیونڈ محل کی اونچی منڈیر سے اڑنے کا وقت آن پہنچا ہے!

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved