تحریر : ایم ابراہیم خان تاریخ اشاعت     31-03-2018

جُنون چاہیے، جُنون!

ہم ایک ایسی دنیا کا حصہ ہیں جس میں ہر طرف مسابقت ہی مسابقت ہے۔ مسابقت اگر نہیں ہے تو صرف ان کے لیے جو مسابقت میں شریک ہونا ہی نہیں چاہتے اور جو کچھ خود بخود مل رہا ہے بس اُسی پر اکتفا کرنا چاہتے ہیں۔ جو لوگ کچھ کرنے کے لیے بے تاب ہوتے ہیں اُنہیں خاصی تیاری کے ساتھ میدان میں آنا پڑتا ہے کیونکہ اُن کے شعبے میں ہر طرف مقابلہ ہی مقابلہ ہے۔ سب ایک دوسرے سے آگے نکلنے کے لیے بے تاب و بے قرار رہتے ہیں۔ مسابقت میں بہت کچھ غلط بھی ہوتا ہے۔ لوگ آگے نکلنے کے چکر میں دوسروں کو گِرانے پر بھی یقین رکھتے ہیں۔ کاروباری اور پیشہ ورانہ معاملات میں اخلاقی اقدار نہیں چلتیں یا یہ کہہ لیجیے کہ اِن معاملات میں اخلاقیات کچھ اور ہوتی ہیں۔ 
آپ جہاں بھی ہیں وہاں سے آگے جانے کے لیے بہت کچھ کرنا پڑے گا۔ اپنی صلاحیتوں کو مزید پروان چڑھانا، زیادہ سے زیادہ مشق اور مہارت کا حصول لازم ہے۔ کسی بھی شعبے میں آگے وہی لوگ بڑھ پاتے ہیں جو دوسروں سے زیادہ باصلاحیت اور دوسروں سے زیادہ محنتی ہوں۔ مسابقت کے معاملے میں صرف صلاحیت یا صرف محنت سے کام نہیں چلتا۔ جہاں ''گلا کاٹ‘‘ مسابقت ہو وہاں لوگ دوسروں سے بہتر ثابت ہونے کی دُھن میں کچھ بھی کر گزرتے ہیں۔ مسابقت کے معاملے میں صلاحیت اور محنت کے ساتھ ساتھ معاملہ فہمی، موقع شناسی اور تھوڑی سی دِلیری بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ جن میں کچھ کر دکھانے کا جذبہ ہوتا ہے اُنہیں بعض مواقع پر تھوڑی سی اضافی ہمت کا مظاہرہ بھی کرنا پڑتا ہے۔ ایسی حالت میں وہ دوسروں سے بہتر ثابت ہونے میں زیادہ وقت نہیں لیتے۔ 
کاروباری اور پیشہ ورانہ معاملات میں وہ لوگ زیادہ کامیاب رہتے ہیں جو اپنے کام میں ڈوبے رہتے ہیں۔ جنہیں اپنے کام سے خاص غرض اور باقی دنیا سے کچھ خاص غرض نہ ہو وہ کیریئر کے حوالے سے منطقی طریقے زیادہ آسانی سے اپناتے ہیں اور اُن کی کارکردگی میں بھی یہ بات نمایاں طور پر جھلکتی ہے۔ زندگی کا ہر شعبہ ہمہ وقت تحقیق و ترقی سے متصف رہتا ہے۔ اس وقت کوئی بھی شعبہ ایسا نہیں جس میں کسی نہ کسی حوالے سے تحقیق و ترقی کا بازار گرم نہیں۔ ماہرین کے علاوہ شعبے کے عام لوگ بھی کچھ نہ کچھ کر ہی رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بہت سی نئی باتیں سامنے آتی رہتی ہیں۔ اگر کوئی ترقی چاہتا ہے تو اُسے اپنے شعبے میں رونما ہونے والی ہر طرح کی پیش رفت پر نظر رکھنا پڑے گی۔ ایسی حالت میں اُس کے لیے خود کو اپ ڈیٹ رکھنا آسان ہوجائے گا اور وہ زیادہ دل جمعی کے ساتھ کام کرکے اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑھاسکے گا اور کارکردگی کا گراف بلند کرنے میں بھی کامیاب ہوگا۔ 
اب سوال یہ ہے کہ کوئی اپنے کام میں مستغرق کیسے ہو؟ یہ کوئی ایسا عمل نہیں جو لاشعوری طور پر یا بہتر تیاری کے بغیر کیا جائے۔ بہتر تیاری کے بغیر کی جانے والی محنت محض خرابیاں پیدا کرتی ہے۔ خرابیاں یوں کہ کوئی ہدف متعین کیے بغیر محنت کرنے سے مطلوب نتائج پیدا نہیں ہوتے اور یوں انسان پریشانی کا شکار ہوتا ہے۔ یہ پریشانی جب بدحواسی میں تبدیل ہوتی ہے تو معاملات بگڑتے ہیں۔ 
کامیابی اُن کے قدم چومتی ہے جو اپنے کام میں محض دلچسپی نہیں لیتے بلکہ اُس سے جُنون کی حد تک عشق کرتے ہیں۔ یوں تو زندگی کے ہر معاملے میں جُنون ہی حیرت انگیز نتائج کی راہ ہموار کرتا ہے مگر کاروباری اور پیشہ ورانہ امور میں جُنون یعنی غیر معمولی جوش و خروش کی بڑی اہمیت ہے۔ کوئی بھی شخص اپنے کیریئر اور کاروبار میں جس قدر جُنون کا مظاہرہ کرتا ہے اُسی قدر کامیابی سے ہم کنار ہوتا ہے۔ جب کوئی اپنے کام، کیریئر اور کاروبار سے عشق کرتا ہے تب اُس کے شب و روز تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اپنے کام سے جُنون کی حد تک لگاؤ رکھنے والوں کے رنگ ڈھنگ الگ ہی، بلکہ نرالے ہوتے ہیں۔ وہ ہر چھوٹا بڑا کام بھرپور دل جمعی سے کرتے ہیں۔ اُن کی کارکردگی میں اُن کا جذبہ خوب جھلکتا ہے۔ کارکردگی کا معیار بھی بلند ہوتا ہے اور لوگ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ کسی اور ہی عالم میں کام کو گلے لگایا گیا ہے۔ 
کسی بھی شعبے میں کام کا معیار خود بہت سی کہانیاں سُنا رہا ہوتا ہے۔ جب لوگ پوری دلچسپی لیتے ہوئے، بھرپور لگن اور دل جمعی کے ساتھ اپنے کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچاتے ہیں تب معیار کچھ اور ہی ہوتا ہے۔ ایسے میں سبھی اندازہ لگا لیتے ہیں کہ کام جُنون کی سی لگن اور دلچسپی سے کیا گیا ہے۔ یہی جذبہ، یہی جُنون کسی بھی انسان کو دوسروں سے ممتاز کرتا ہے۔ 
اس نکتے کو سمجھنا ضروری ہے کہ کام کرنے اور دل جمعی یا جُنون کے ساتھ کام کرنے میں بہت فرق ہے۔ محنت بہت سے لوگ کرتے ہیں۔ اور ایسا بھی نہیں ہے کہ وہ اپنے کام میں زیادہ دلچسپی نہیں لیتے مگر اِس کے باوجود اُن کی کارکردگی کا معیار بلند نہیں ہوتا۔ اُن کے جوش و خروش سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔ تو پھر مطلوب نتائج کیوں برآمد نہیں ہوتے؟ بات سیدھی سی ہے۔ کسی بھی کام کو کرنے کے لیے چند اُصولوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ اچھی تیاری کے بغیر کی جانے والی محنت اکارت ہو جاتی ہے کیونکہ وہ اپنے حصے کا کام کرنے میں ناکام رہتی ہے۔ جُنون کے ساتھ کام کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آنکھیں بند کرکے سفر جاری رکھا جائے۔ ایسی صورت میں تو آپ کسی نہ کسی شخص یا چیز سے ٹکرا جائیں گے یا پھر کسی گڑھے میں جا گریں گے۔ جُنون کے ساتھ ساتھ متعلقہ شعبے یا جاب کے بنیادی لوازم کا خیال رکھنا بھی لازم ہے۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو محنت مطلوب نتائج پیدا کرنے میں ناکام رہتی ہے۔ 
جب ہم کسی بھی معاملے میں جُنون کا مظاہرہ کرتے ہیں تو کام یا تو بہت اچھی طرح ہو پاتا ہے یا پھر بگڑ جاتا ہے۔ بگڑنے کا سبب بہت سے معاملات کو یکسر نظر انداز کرنا ہوتا ہے۔ اگر تمام لوازم ذہن نشین رکھتے ہوئے، تمام تقاضے نبھاتے ہوئے کام کیا جائے تو محنت مطلوب نتائج پیدا کرتی ہے اور کام کے ساتھ ساتھ مجموعی طور پر پوری زندگی کا معیار بھی بلند ہوتا ہے۔ 
کامیابی پر آپ کا بھی برابر کا حق ہے مگر دوسری طرف آپ کا بھی کچھ فرض ہے۔ یہ فرض کردار ادا کرنے سے متعلق ہے۔ آپ کو محنت کرنی ہے، اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہے۔ جب آپ اپنے پورے وجود کو بروئے کار لانے کے لیے بھرپور جُنون کے ساتھ کام کرتے ہیں تو بیشتر معاملات میں معیار قابلِ رشک ہی ہوتا ہے۔ جُنون اگر تمام متعلقہ لوازم کے ساتھ ہو تو مطلوب نتائج پیدا کرنے میں تاخیر کرتا ہے نہ کوئی کسر ہی رہنے دیتا ہے۔ جُنون کا یہی تو کام ہوتا ہے۔ یہ جُنون ہی ہے جس سے ہم کنار ہونے والے مٹی میں ہاتھ ڈالتے ہی تو اُسے سونے میں تبدیل کردیتے ہیں۔ سوال صرف یہ ہے کہ آپ جُنون سے کس حد تک اور کیسا کام لینا چاہتے ہیں۔

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved