تحریر : ایاز امیر تاریخ اشاعت     07-04-2018

پلاسٹک میں غرق قوم‘ اور بچانے والا کوئی نہیں

ہندوستان اور امریکہ سے خطرہ نہیں۔ ہم پلاسٹک کے ہاتھوں تباہ ہو رہے ہیں اور کسی کو کوئی فکر نہیں۔ گلی، محلے ، شہر ، کھیت ، کھلیان، ندی اور نالے ، حتیٰ کہ آسمان کو چھونے والے ہمالیہ کے پہاڑ، پلاسٹک کی اشیاء سے بھرے پڑے ہیں۔ ہماری باتونی قوم‘ جو ہر فضول بات پہ چیخ و پکار کرتی ہے‘ اس موذی مرض کے بارے میں سوچنے کی صلاحیت سے محروم ہے۔ 
لیڈر دیکھ لیں‘ ہر نکمّی بات پہ چیختے تھکتے نہیں۔ اِن کی تقریریں سُنیں‘ فضولیات سے بھری ہوتی ہیں۔ اِس ملک کو جو بنیادی بیماریاں لاحق ہیں‘ اُن کے بارے میں اِن کے لبوں سے ایک لفظ ادا نہیں ہوتا۔ پینے کو صاف پانی نہیں ہے۔ باہر کے پیسے سے فلٹریشن پلانٹ لگتے ہیں تو جلد ہی زنگ آلود ہو جاتے ہیں ۔ ہر بڑا شہر دو حصوں میں بٹا ہوا ہے ، ایک امیروں کیلئے اور دوسرا اُس مخلوق کیلئے جو عوام کہلاتے ہیں۔ کھاتے پیتے لوگوں کی جہاں رہائشیں ہیں وہاں منظر کچھ اور ہے اور عوام جن حالات میں رہتے ہیں‘ وہ ایک مختلف تصویر پیش کرتے ہیں ۔ لیکن اِن بَٹے ہوئے جہانوں میں ایک چیز مشترک ہے ۔ ہر جگہ پلاسٹک کی بھرمار ہے۔
ہم کہیں اور سے سبق نہ سیکھیں ۔ صرف دو ممالک کی مثالیں سامنے رکھ لیں ، ایک روانڈا اور دوسرا کینیا۔ دونوں ممالک میں ہزار مسائل ہوں گے لیکن اُنہوں نے پلاسٹک کی اشیاء کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا ہے ۔ روانڈا میں کسی دُکان سے پلاسٹک کا شاپر مل جائے تو دُکان فوراً بند کی جاتی ہے اور اُسے بھاری جرمانہ بھی ادا کرنا پڑتا ہے ۔ کینیا میں پلاسٹک کے شاپر رکھنا اور استعمال کرنا ایک فوجداری جرم بن چکا ہے ۔ سزا چار سال اور جرمانہ لاکھوں میں ہو سکتا ہے۔ لیکن ہمارے پاس نہ آنکھیں ہیں کہ ہم پلاسٹک کی پھیلائی ہوئی تباہی دیکھ سکیں نہ دماغ کہ اس حوالے سے کوئی حکمت عملی ترتیب دے سکیں۔ 
لیڈروں اور سیاسی پارٹیوں سے اُمید رکھنا بیکار سی بات ہے۔ ایسی باتوں پہ وہ دھیان دے ہی نہیں سکتے ۔ اُن کے ہاں اِن مسائل پہ کبھی سوچ بچار ہی نہیں ہوتی‘ نہ ایسے ایشو کبھی موضوعِ گفتگو بنتے ہیں ۔ میں پانچ سال ایم این اے اور ایک سال ایم پی اے رہ چکا ہوں ۔ مجال ہے کہ پارٹی میٹنگ ہو اور بنیادی مسائل تو کُجا پلاسٹک کے بارے میں بھی کبھی کوئی بات ہوئی ہو۔ لیڈروں کی تعریفیں اور ایسی فضول باتیں کہ قائدِ محترم بیس کروڑ عوام آپ کے منتظر ہیں۔ اِن اجلاسوں میں ایسی لا یعنی باتیں سُننے کو ملتی ہیں۔ میرا یہ تجربہ تھا اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی کہ پڑھنے لکھنے کا کام تو ہماری سیاسی پارٹیوں میں پَرلے درجے کا گناہ سمجھا جاتا ہے۔ پی پی پی ہو تو بھٹو فیملی کی تعریفیں ، نواز لیگ ہو تو میاں صاحب کی عظمتوں کا ذکر اور پی ٹی آئی ہو تو جنابِ قائد کے ساتھ سیلفیاں بنانے کا سلسلہ بند نہیں ہوتا۔ پی ٹی آئی میں تو سیلفیاں بنانے کی باقاعدہ وباء پھیلی ہوئی ہے۔ 
جھوٹ اور مبالغے سے کام لینا ہے تو منشوروں میں صرف پلاسٹک کے مسئلے کا کچھ ذکر ہی کر دیں۔ لیکن اتنا تکلف بھی نہیں ہوتا۔ یہی حال اہل مذہب کا ہے چاہے ان کا تعلق مذہبی‘ سیاسی پارٹیوں سے ہو یا کسی مذہبی مکتبہ فکر سے۔ ایک ہی مقصد کارفرما رہتا ہے کہ باقاعدہ مسلمانوں کو مزید مسلمان کیسے بنایا جائے۔ عجیب عجیب فلسفیانہ گفتگو ہوتی ہے لیکن بنیادی مسائل کا ذکر یا اُس طرف توجہ دلانا اُن کا کام نہیں۔ 
ہماری حکومتوں سے اور کوئی کام تو ہوتا نہیں۔ تعلیم کا بیڑہ غرق ہو گیا ہے۔ نجی اور سرکاری سکولوں کے درمیان فرق کو مٹانا کسی پارٹی کے منشور کا حصہ نہیں‘ لیکن (ن) لیگ حکومت سرکاری سکولوں میں مذہبی تعلیم کو مزید فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ مذہب پہ عمل نہیں کرنا صرف باتوں سے کام چلانا ہے۔ سکولوں میں یہی سمجھا دیا جائے کہ صفائی نصف ایمان ہے اور جو ملک میں گندگی پھیلی ہوئی ہے وہ دین اور اسلام سے بغاوت کے برابر ہے۔
اُمید کی کرن بس ایک رہ گئی ہے ۔ حکومتوں نے پینے کے صاف پانی کے بارے میں کچھ نہیں کیا۔ اُنہوں نے پلاسٹک کے شاپروں کے بارے میں کیا کرنا ہے ۔ جیسے سپریم کورٹ اور چیف جسٹس آف پاکستان جناب ثاقب نثار نے صاف پانی کا مسئلہ کراچی اور لاہور میں اُٹھایا‘ اُنہوں نے ہی پلاسٹک کے بارے میں کچھ کرنا ہے‘ ورنہ یہ مسئلہ ایسے ہی چلتا رہے گا۔ حالت تو دیکھیے: پینے کا پانی دو نمبر، ماحول کی آلودگی ایسے کہ جس ہوا سے سانس لیتے ہیں وہ دو نمبر، شراب دو نمبر اور اُس میں قوم ایسی مہارت حاصل کر رہی ہے کہ ترقی یافتہ دنیا حیرت زدہ رہ جائے‘ لیکن پلاسٹک ایک نمبر۔ ایسا پلاسٹک کا شاپر کہ پانچ سو سال بھی رہے تو ڈی گریڈ (Degrade) نہ ہو۔ ہماری حکومتوں اور سیاسی پارٹیوں کو کون سمجھائے گا۔ چیف جسٹس آف پاکستان ہی رہ گئے ہیں کہ چاروں صوبائی چیف سیکرٹریوں کو بلائیں‘ اور پوچھیں کہ اس بارے کیا کر رہے ہیں۔ خادمِ اعلیٰ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس آف پاکستان کے سامنے پیش ہوئے اور اُن سے کہا گیا کہ آؤ چلتے ہیں اسی وقت کسی ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کا دورہ کرنے کیلئے، وہ سر ہلاتے رہے منہ سے کوئی لفظ نہ نکل سکا۔ اُن سے پوچھا گیا کہ دریائے راوی میں روز کے حساب سے جو شہر بھر اور فیکٹریوں کی آلودگی پھینکی جاتی ہے‘ اُس کے تدارک کی کوئی پلاننگ ہوئی ہے؟ تو اُن کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ پلاسٹک کے شاپر اور پلاسٹک کی دیگر اشیاء کیلئے بھی چیف جسٹس صاحب کو کچھ ایسا ہی کرنا پڑے گا‘ ورنہ یہ وبا پھیلتی جائے گی‘ گندگی کے ڈھیر بڑھتے جائیں گے۔ ترک اور چینی کمپنیوں کو شہروں کی صفائی کے ٹھیکے دینے پڑیں گے لیکن ہمارے نجات دہندہ باتیں ہی کرتے رہ جائیںگے۔ 
افواج سے کچھ اُمید تھی کہ اگر سویلین حکومتیں اِس مسئلے میں کچھ نہیں کر پا رہیں تو وہ پہل کرتے ہوئے چھاؤنیوں اور ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹیز کی حدود میں پلاسٹک کے شاپرز کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دیں گے‘ لیکن اُن کے ذہنوں میں بھی یہ بات نہیں آئی۔ وہ کچھ کرتے تو اوروں کیلئے مثال بن جاتی لیکن وہاں سے بھی کچھ نہیں ہوا۔ 
لگتا یہ ہے کہ جب تک پانی کی سطح حلق تک نہ پہنچ جائے ہم کچھ نہیں کرتے۔ دہشت گردی ملک کے لئے خطرہ بن چکی تھی‘ لیکن نہ فوجی‘ نہ سویلین بڑے فیصلے کرنے کیلئے تیار تھے۔ جب خطرہ حد سے پار ہو گیا تو پھر ہی فاٹا میں آپریشن کرنے کا فیصلہ کیا گیا‘ لیکن تب بھی سیاسی پارٹیاں اور سویلین حکومتیں فضول باتوں اور ٹال مٹول سے کام لیتی رہیں۔ کراچی میں بھی یہی کچھ ہوا۔ شہر قائد تقریباً الطاف حسین کی آزاد ریاست بن چکا تھا‘ اور جو حکم آنجناب صادر کرتے اُسی پہ وہاں عملدرآمد ہوتا تھا۔ وہ تقریر فرماتے اور پوری قوم یرغمال ہو کے رہ جاتی کیونکہ گھنٹوں پہ جاری تقاریر قوم کو سننا پڑتی۔ پھر جب افواج کی مدد سے رینجرز نے کراچی میں آپریشن شروع کیا‘ تو آہستہ آہستہ کراچی الطاف حسین کی ڈکٹیٹرشپ سے آزاد ہوتا گیا۔ 
غرضیکہ پاکستانی ریاست کمزور نہیں ہے۔ کچھ کرنا چاہے تو کر سکتی ہے۔ شمالی وزیرستان میں فوج کشی اور کراچی میں ایم کیو ایم کو سبق سکھانا آسان اہداف نہ تھے لیکن جب فیصلہ کر لیا گیا تو دونوں چیزوں میں ریاست کامیاب رہی۔ ایٹمی ہتھیاروں کے بارے میں جو رائے بھی رکھی جائے‘ ایٹم بم بنانا پاکستان جیسی ریاست کے لئے آسان کام نہ تھا‘ لیکن جب تہیہ کر لیا گیا تو تمام تر غربت اور دیگر کمزوریوں کے باوجود یہ مقصد حاصل کر لیا گیا۔
اگر روانڈا اور کینیا پلاسٹک کے بے جا استعمال کے خلاف اعلانِ جنگ کر سکتے ہیں تو یہاں بھی یہی کچھ ہو سکتا ہے۔ لیکن پہلے سوچ تو آئے، ارادہ بنے، فیصلہ کیا جائے اور پھر ہی کچھ ہو سکتا ہے۔ صفائی نصف ایمان ہے‘ صرف نعرے تک نہ رہے‘ یہ تصور ہماری زندگیوں کا حصہ بن جائے تو اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے‘ لیکن کوئی پہل تو کرے۔ موجودہ تناظر میں وہ صرف چیف جسٹس آف پاکستان ہیں جو اس حوالے سے کچھ کر سکتے ہیں۔

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved