تحریر : منیر احمد بلوچ تاریخ اشاعت     15-04-2018

بشریٰ زیدی اور نقیب اللہ محسود

سر سید گرلز کالج کراچی کی سال دوم کی طالبہ بشریٰ زیدی... 15 اپریل 1986 کا دن‘ اور لوکل روٹ پر چلنے والی پشتون ڈرائیور کی بس‘ جس کے بھاری ٹائروں کے نیچے بشریٰ زیدی کچلی جاتی ہے۔ مشتعل مظاہرین کا قریب کھڑی ہوئی بسوں اور گاڑیوں کو نذر آتش کرنا اور پھر کراچی پولیس کا سر سید گرلز کالج کے اندر گھس کر کلاس رومز میں بیٹھی طالبات پر تشدد کرنا۔ اس خبر کا پھیلنا اور دیکھتے ہی دیکھتے کراچی بھر میں خون ریز ہنگاموں کا شروع ہو جانا، جن پر کنٹرول کے لئے فوج کو آگے آنا پڑا۔ حادثہ بشریٰ زیدی اور پٹھان ڈرائیور کی بس کا‘ لیکن سندھ بھر میں مہاجر اور پنجابی پٹھان کا نہ ختم ہونے والا قتل و غارت کا سلسلہ‘ ایم کیو ایم کو جنم دیتا ہے۔ آج بشریٰ زیدی واقعہ کو 32 برس گزر چکے ہیں‘ لیکن ایک نیا منظر دیکھیے کہ جب رائو انوار نقیب اللہ محسود جیسے خوبصورت نوجوان کا ناحق قتل کرتا ہے تو پورا کراچی سراپا احتجاج بن جاتا ہے‘ لیکن چند دن بعد اس کے اندر سے ایم کیو ایم کی طرح‘ پشتون تحفظ موومنٹ کے نام سے ایک گمنام نوجوان منظور پشتین کی ایسی تنظیم جنم لیتی ہے‘ جو فاٹا اور قبائلی علاقوں سمیت پورے کے پی میں ریلیاں نکال کر پاک فوج کو بدنام کرنے لگتی ہے۔ 
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے راولپنڈی میں ایک فوجی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ''ابھی ہم وزیرستان میں امن قائم کر ہی پائے تھے کہ وزیرستان سمیت قبائلی علاقوں میں ایک نئے نام سے فوج مخالف تحریک شروع کر دی گئی ہے‘ اور ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ کچھ لوگ اندر اور باہر سے ملکی سالمیت کے درپے ہیں اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اس تنظیم کی جانب سے کئے جانے والے تمام مظاہرے انجینئرڈ ہیں... لیکن ہم یقین دلاتے ہیں کہ جب تک محب وطن لوگ اپنی فوج کو سپورٹ کرتے رہیں گے‘ وہ وطن دشمنوں کے تمام منصوبے خاک میں ملاتی رہے گی‘‘۔ کل تک جس طرح حکیم اللہ محسود اور بیت اللہ محسود مغربی میڈیا کی آنکھوں کا تارا بنے ہوئے تھے‘ وہی پسندیدگی اور محبت ان کی آنکھوں میں آج کل منظور پشتین کے لئے نظر آتی ہے۔ حال ہی میں بی بی سی اور الجزیرہ سمیت مختلف بین الاقوامی ٹی وی چینلز پر منظور پشتین کے پاک فوج کے خلاف دیئے گئے انٹرویوز کی بھرمار دیکھی جا رہی ہے۔
پشتون تحفظ موومنٹ میں اکثریت تحریک طالبان پاکستان کے لوگوں کی ہے‘ جن کے عزیز و اقارب اور ساتھی آپریشن ضرب عضب اور ردالفساد میں جہنم واصل کئے جا چکے ہیں۔ ان میں کچھ Displaced Persons بھی ہیں جن میں سے اکثر کی دلی ہمدرد یاں مولوی فضل اللہ کے ساتھ ہیں۔ ہلاک کئے گئے دہشت گردوں کے عزیز و اقارب اور ساتھی اس وقت منظور پشتین کے ہراول دستے میں شامل ہو کر آئے روز نکالی جانے والی ریلیوں میں فوج کے خلاف اچھل اچھل کر بولتے دکھائی دے رہے ہیں۔ گرفتار کئے گئے کچھ بھگوڑے دہشت گردوں نے دوران تفتیش اگل دیا ہے کے ان کے تانے بانے ملک کے اندر اور باہر کن پاکستان دشمن قوتوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں مبینہ طور پر شیخ مجیب ثانی کے اتحادی چادر پوش پیش پیش ہیں۔ کہاں نقیب اللہ محسود کا کراچی پولیس کے ہاتھوں بہیمانہ قتل اور کہاں منظور پشتین کے آزاد پشتونستان کے نعرے؟ پاکستان دشمن غیر ملکی ایجنسیوں کی مہارت دیکھیے کہ دیکھتے ہی دیکھتے نقیب اللہ شہید کی لاش کو منظر سے غائب کر کے منظور پشتین کے نعروں کو آ گے لے آئے ہیں۔ اگر کہانی کا آغاز دیکھیں تو کراچی پولیس کے ایس ایس پی رائو انوار کے ہاتھوں نقیب اللہ محسود کو ''جعلی پولیس مقابلے‘‘ میں قتل کر دیا جاتا ہے‘ جس پر پورے ملک کے عوام اور میڈیا اس بے گناہ کے ناحق قتل کے خلاف ایک آواز بن کر احتجاج شروع کر دیتے ہیں۔ ہر قوم اور نسل کے لوگ اس کی جوان موت پر خون کے آنسو بہانے لگتے ہیں۔ نقیب اللہ شہید کے والدین اور دوسرے عزیز و اقارب تو ایک طرف ملک بھر کی سکیورٹی فورسز اس کے قاتلوں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لئے عوام کی ہمنوا بن جاتی ہیں۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب کی جانب سے لئے گئے از خود نوٹس کی آخری مہلت ختم ہونے سے چند لمحے پہلے رائو انوار خود کو عدالت کے حوالے کر دیتا ہے۔ سب دیکھ رہے تھے کہ نقیب کی شہادت کے دو تین ہفتوں بعد تک نقیب کے والدین میڈیا پر احتجاج کرتے نظر آتے رہے لیکن پھر یہ ہوا کہ جنہوں نے نقیب کی شہادت کے خلاف کراچی میں احتجاج شروع کیا ہوا تھا‘ ان کو ایک ایک کرکے نا معلوم افراد قتل کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ایک دن اچانک چادر پوش کے شاگردِ خاص منظور پشتین اس تحریک کو ہائی جیک کر لیتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر نقیب شہید کا نام غائب اور منظور پشتین کا گونجنا شروع ہو جاتا ہے۔
اس وقت منظور پشتین اور اس کی سوشل میڈیا ٹیم رائو انوار جیسی کالی بھیڑوں کی بجائے فوج کو گالیاں دینے میں ہمہ تن مصروف ہے۔ اس سلسلے میں Fake Accounts کو استعمال کیا جا رہا ہے‘ جو ظاہر کرتا ہے کہ ان کو باقاعدہ ایک منظم نیٹ ورک کنٹرول کر رہا ہے۔ بات چلی کراچی کے ایس ایس پی رائو انوار سے لیکن نعرے یہ لگوائے جا رہے ہیں کہ فوج پشتونوں کو قتل کر رہی ہے۔ نقیب اللہ محسود کے قتل کا کہیں ذکر ہی نہیں۔ پشتون تحفظ موومنٹ کی ریلیوں میں لگائے جانے والے نعرے وہی ہیں جو شیخ مجیب لگایا کرتا تھا۔ کیا کراچی کا کوئی ایک بھی پشتون اس حقیقت سے بے خبر ہو سکتا ہے کہ رائو انوار کا کس بڑی شخصیت کے ساتھ قریبی تعلق چلا آ رہا ہے؟ وہ ملک کی کس بڑی شخصیت کا منظور نظر ہے؟ اگر کراچی میں رہنے والا ایک ایک پٹھان جانتا ہے کہ رائو انوار کس کا آدمی ہے تو پھر نقیب شہید کے قاتلوںکو سزا دینے کی بجائے وہ سب ایک آواز ہو کر منظور پشتین کی اس سازش کو نا کام کیوں نہیں بناتے؟
منظور پشتین کو اگر پشتونوں سے رتی بھر ہمدردی ہوتی تو وہ افغان ایئر فورس کی مدرسے پر بمباری سے 123 حفاظ قرآن بچوں اور مظلوموں کی المناک شہادت پر آواز اٹھاتا۔ منظور پشتین کا تعارف کراتے ہوئے لکھا جا رہا ہے کہ وہ گومل یونیورسٹی میں دورانِ تعلیم ہیومن رائٹس ورکر تھا، یہاں تک تو درست ہے کہ وہ کسی سے ملنے اکثر اسلام آباد آیا کرتا تھا، جہاں اس کو اکثر مذکورہ شخصیت کے ساتھ دیکھا جاتا تھا‘ لیکن کیا اس کی یہ تمام ہیومن رائٹ ایکٹی وٹیز جنوبی وزیرستان سے شروع ہو کر وہیں پر ہی ختم ہو جاتی ہیں؟ کیا اسے کشمیر میں عورتوں، بچوں اور نوجوانوں کی آئے دن ہونے والی ہلاکتیں نظر نہیں آتیں؟ کیا اسے بھارتی فوج کی پیلٹ گنوں سے عمر بھر کے لئے نابینا ہونے والے کشمیری بچے کبھی نظر نہیں آئے؟
میرے خیال میں اپنے دشمن کی تعریف نہ کرنا بزدلی کے مترادف ہوتا ہے اور میں بھارت کی خفیہ ایجنسی را کی مہارت اور کارکردگی کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ جیسے ہی سوات، بونیر، دیر، جنوبی اور شمالی وزیرستان میں دہشت گردی اور دہشت گردوں کے خلاف پاکستانی فوج 90 فیصد سے زائد کامیابیاں حاصل کر لیں‘ نئے نام سے پشتون تحفظ کا شوشہ سامنے آ گیا، جسے اس وقت تک مبینہ طور پر کے پی‘ کے ایک اعلیٰ حکومتی عہدے دار کی بھر پور مدد مل رہی ہے۔

کل تک جس طرح حکیم اللہ محسود اور بیت اللہ محسود مغربی میڈیا کی آنکھوں کا تارا بنے ہوئے تھے‘ وہی پسندیدگی اور محبت ان کی آنکھوں میں آج کل منظور پشتین کے لئے نظر آتی ہے۔ حال ہی میں بی بی سی اور الجزیرہ سمیت مختلف بین الاقوامی ٹی وی چینلز پر منظور پشتین کے پاک فوج کے خلاف دیئے گئے انٹرویوز کی بھرمار دیکھی جا رہی ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved