تحریر : بیرسٹر حمید باشانی تاریخ اشاعت     21-04-2018

کیا یہ آدھا سچ اور ادھورا بیانیہ ہے؟

آج کل ووٹ کی عزت کا بہت چرچا ہے۔ چہار سو یہی موضوع زیر بحث ہے۔ ووٹ کی عزت ایک مقبول بیانیہ بنتا جا رہا ہے۔ انتخابات تک شاید یہ ہماری سیاست کا مقبول ترین بیانیہ بن جائے؛ چنانچہ یہ مناسب وقت ہے کہ اس نعرے، اور بیانیے کا جائزہ لیا جائے۔ میں اس کالم میں اسے نعرہ ہی لکھوں گا۔ مگر یاد رہے کہ یہ نعرہ ایک باقاعدہ بیانیے کا عکاس ہے۔ یعنی اس نعرے کے پس منظر میں پوری ایک کہانی ہے۔ ایک موقف ہے۔ میں اس نعرے کا تجزیہ کرنے سے پہلے اس کے پس منظر میں موجود بیانیے کو دوبارہ یہاں مختصر انداز میں بیان کر رہا ہوں تاکہ قارئین کے ذہن میں پس منظر موجود رہے، اور انہیں میری بات سمجھنے میں آسانی ہو۔ ووٹ کی عزت کے نعرے کے پیچھے جو کہانی ہے، وہ ہم سب سن چکے ہیں، اور باری باری سنا بھی چکے ہیں۔ میں بلا مبالغہ سینکڑوں بار یہ کہانی پڑھ چکا ہوں۔ بچپن میں تاریخ، معاشرتی علوم اور اس طرح کی دوسری کئی کتابوں میں اس کہانی کا ایک بڑا حصہ میں نے پڑھا تھا۔ ایسی چیزیں پڑھنے لکھنے کا میرا زمانہ اسّی کی دہائی کے اوائل سے شروع ہوا تھا۔ چنانچہ اس وقت تک اس کہانی کا کافی بڑا اور بیشتر درد ناک حصہ سامنے آچکا تھا۔ درجن بھر وزرائے اعظم برطرف یا فارغ ہو چکے تھے۔ ایک کو قتل کیا جا چکا تھا۔ ایک کو پھانسی دی جا چکی تھی۔ اس کے بعد کے واقعات کا میں چشم دید گواہ ہوں۔ اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھنے اور اپنے کانوں سے سب کچھ سننے کے علاوہ میں اس موضوع پر سینکڑوں کالم، مضامین اورکتابیںبھی پڑھ چکا ہوں۔ تقاریر اور گفتگو سن چکا ہوں‘ اور ایک ریفریشر کورس کی طرح ابھی اسی ہفتے ووٹ کی عزت کے موضوع پر ہونے والی کانفرنس کا پورا وڈیو بھی دیکھ چکا ہوں، جس میں نواز شریف صاحب سمیت کئی سیاست دانوں نے ووٹ کی عزت کی بات کی ہے۔ اس کانفرنس میں نواز شریف صاحب نے بذات خود ایک طویل کہانی سنائی ہے۔ کہانی دلچسپ مگر افسوسناک ہے۔ مگر جیسا کہ عرض کیا اس کہانی میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ یہ ہماری تاریخ کا ایک مختصر خلاصہ ہے، جسے میرے خیال میں ہمارے سکولوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھایا جانا چاہیے تھا۔ نواز شریف صاحب نے تاریخ کو اس کے درست تناظر میں پیش کیا ہے۔ اس سارے قصے کا ون لائنر یعنی یک سطری خلاصہ یہ ہے کہ پاکستان میں روز اول سے ہی جمہوریت اور آمریت پسند قوتوں کے درمیان جنگ چھڑ گئی تھی۔ اس جنگ کا پہلا محاذ ہماری پہلی قانون ساز اسمبلی تھی۔ یہ جنگ اسمبلی کے اندر اور پھر عدالت عالیہ میں لڑی گئی۔ مگر بد قسمتی سے عوام یعنی جمہوریت پسند قوتیں یہ جنگ ہار گئیں۔ جمہوریت کی شکست اور اس پہلی قانون ساز اسمبلی کو ختم کرنے کے پیچھے جو کردار تھے، وہ آج بھی ہم میں موجود ہیں، اور پوری قوت سے موجود ہیں۔ نواز شریف صاحب نے سچ کہا ہے، مگر یہ آدھا سچ ہے ۔ ادھورا بیانیہ ہے۔ تاریخ کی تھوڑی بہت سدھ بدھ رکھنے والا آدمی نواز شریف صاحب کے اس آدھے سچ سے اختلاف نہیں کر سکتا۔ یہ سیدھے سادے تاریخی حقائق ہیں‘ مگر ان تاریخی حقائق کو الگ الگ تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ الگ زاویے سے پیش کیا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے تین بیانیے پہلے سے موجود ہیں۔ ایک بیانیہ یہ ہے کہ سیاست دان بدعنوان اور نا اہل تھے۔ وہ آئین سازی اور ترقی کے راستے کی رکاوٹ تھے۔ ملک کو آگے بڑھانے کے لیے ان کو ہٹانا ضروری تھا۔ دوسرا بیانیہ وہ ہے، جو نواز شریف نے پیش کیا کہ پاکستان میں شروع دن سے ہی جمہوریت کو نہیں تسلیم کیا گیا۔ ووٹ کو عزت نہیں دی گئی۔ فردِ واحد نے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے قانون سازوں کو گھر بھیج دیا۔ جسٹس منیر جیسے جج نے اس فرد واحد کے غیر جمہوری اقدام کو ایک قانونی اور آئینی جواز مہیا کر کے آمریت کے طویل سلسلوں کی ابتدا کر دی۔ تیسرا بیانیہ یہ ہے کہ کچھ سیاست دان نا اہل اور بد عنوان تھے، اور کچھ آمریت پسند اپنی لمبی چوڑی خواہشات کے اسیر۔ دونوں عوام کے مفادات کے خلاف آپس میں سمجھوتے بھی کرتے تھے، اور لڑائیاں بھی لڑتے تھے۔ یہ عوام کے وسائل پر قبضے اور اس کی بندر بانٹ کے لیے اکٹھے ہو جاتے تھے۔ نواز شریف صاحب نے جو کچھ فرمایا اس کے ساتھ کچھ دوسرے سیاست دانوں نے بھی اتفاق کیا کہ پاکستان کا اصل اور سب سے بڑا مسئلہ ووٹ کی عزت کا مسئلہ ہے، اور اگر یہ مسئلہ حل ہو جائے تو تمام مسائل ختم ہو جائیںگے۔ ہمارے تمام دکھ دور ہو جائیں گے۔ اور اس کے بعد ہم سب لوگ ہمیشہ کے لیے خوش و خرم زندگی بسر کرنے لگیں گے۔ اس سے مجھے وہ سب کہانیاں یاد آتی ہیں، جو میں نے بچپن میں سنی تھیں۔ ہمارے گائوں میں داستان گو لوگوں کا کمال یہ ہوتا تھا کہ ان کی کہانی کا ہیرو انتہائی خوفناک اور ڈرائونے حالات سے ہمیشہ کامیابی سے گزر جاتا تھا۔ اور تمام خطرات سے نپٹنے کے بعد وہ ہنسی خوشی اپنے گائوں میں رہنے لگتا تھا۔ نواز شریف صاحب کی کہانی بھی ان کہانیوں سے ملتی جلتی ہے۔ چنانچہ یہ ہمیشہ کے لیے ہنسی خوشی رہنے والی بات اتنی سادہ نہیں ہے۔ یہاں ایک چھوٹا سا سوال یہ ہے کہ جب ہم ووٹ کی عزت کی بات کرتے ہیں، تو اس سے مراد کس کی عزت ہے؟ ووٹ دینے والے کی یا ووٹ لینے والے کی۔ کچھ لوگ کہیں گے کہ یہ تو ایک ہی بات ہے۔ جب آپ منتخب رہنما کی عزت کریں گے تو یہ ووٹ کی عزت ہے۔ اگر ووٹ کی عزت ہو گی تو عوام کی عزت ہو گی۔ اس طرح ووٹ کی عزت دونوں کی عزت ہے۔ مگر مسئلہ اتنا سادہ نہیں ہے۔ تاریخ کا تجربہ اس سے بہت مختلف اور تلخ ہے۔ 
جیسا کہ پہلے عرض کیا تھا ، نواز شریف صاحب نے آدھا سچ بولا ہے، پورا سچ یہ ہے کہ تاریخ میں ووٹ کی عزت کو خود سیاست دانوں سے بھی بہت بڑا خطرہ رہا ہے۔ اور آج بھی یہ خطرہ موجود ہے ۔ ووٹ کی بے عزتی کا آدھا ذمہ دار سیاست دان بھی ہے۔ سیاست دانوں کی کہانی کا یہ حصہ تو بڑی حد تک درست ہے کہ اگر جمہوریت میں مداخلت بند ہو جائے، عوام کو آزادانہ طریقے سے ان کے نمائندے منتخب کرنے کی اجازت ہو، منتخب نمائندوں کو آزادی اور خود مختاری سے اپنا کام کرنے کا اختیار ہو، ان کے دائرہ کار میں کوئی مداخلت نہ ہو تو اس سے ہمارے مسائل کا ایک بہت بڑا حصہ حل ہو جاتا ہے‘ مگر یہ کہنا بھی درست نہیں کہ اس کے بعد زندگی میں رنگ ہی رنگ اور خوشیاں ہی خوشیاں ہوں گی ۔ ووٹ کی عزت صرف ووٹ لینے والے کو اختیار اور توقیر دلانے سے نہیں بن جاتی۔ اس کے لیے ایک سچی جمہوریت کا قیام چاہیے۔ ووٹ جمہوری عمل کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ سچی جمہوریت صرف ووٹ سے نہیں قائم ہوتی، اس کی کچھ دیگر شرائط اور ضروریات بھی ہیں۔ اس کے لیے سماجی و معاشی انصاف کی ضرورت ہے۔ انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کی ضرورت ہے۔
سچی جمہوریت قائم کیے بغیر عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کے درمیان موجود تضادات کو دور نہیں کیا جا سکتا۔ ووٹ لینے والے کی عزت ہو سکتی ہے۔ ووٹ کی بھی عزت ہو سکتی ہے‘ مگر ووٹ دینے والے خود وہیں کے وہیں کھڑے رہ جاتے ہیں۔ یہ لاکھوں کی تعداد میں تہی دست و تہی دامن لوگ ہیں۔ لاکھوں بھوکے ننگے ، جن کو سر چھپانے کے لیے جگہ اور تن ڈھانپنے کے لیے کپڑا چاہیے ۔ لاکھوں ہیں جن کو پینے کا صاف پانی چاہیے، انصاف کی آس میں لمبی قطاروں میں لگے ہوئے بے شمار لوگ ۔ یہ ووٹ دینے والے لوگ ہیں، جب تک ان کے حقوق ان کو نہیں دئیے جاتے، ان کی عزت نفس کو تحفظ نہیں مل جاتا ، اس وقت تک ووٹ اور ووٹ لینے والے کی توقیر بھی نہیں ہو سکتی۔ پورا سچ یہ ہے اور اس سچ کو آج کے بیانیے کا حصہ بنائے بغیر ووٹ کی عزت نہیں ہو سکتی۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ آدھے سچ اور ادھورے بیانیے سے کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی۔

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved