تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     24-03-2013

سرخیاں‘ متن اور ٹوٹا

نگران وزارتیں سات سے دس کروڑ میں بک رہی ہیں…طاہرالقادری عوامی تحریک کے سربراہ طاہرالقادری نے کہا ہے کہ ’’نگران وزارتیں سات سے دس کروڑ میں بک رہی ہیں‘‘ چنانچہ ہم نے بھی ہرصوبے میں چار چاروزارتوں کے لیے آرڈر بک کرادیا ہے کہ اگر نگران حکومت نے قومی خدمت بھی کرنی ہے تو عوامی تحریک پیچھے کیوں رہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’موجودہ حالات میں انتخابات میں حصہ لینا جُرم ہے‘‘ اسی لیے ہم ان میں حصہ نہیں لے رہے اور دیگر ذرائع سے کام چلانے کی کوشش کررہے ہیں کیونکہ دیگر ذرائع بھی اسی لیے تو ہوتے ہیں اور ان کا فائدہ نہ اٹھانا کفرانِ نعمت کے مترادف ہے جبکہ ہم نے آج تک الحمد للہ کسی نعمت کاکفران نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم کسی کو ووٹ ڈالنے سے نہیں روکیں گے‘‘ کیونکہ اگر ایسا کریں گے تو صاف دھرلیے جائیں گے جبکہ الیکشن کمیشن‘ جسے ہم مانتے ہی نہیں، ہماری مزاج پرسی کرنے میں بھی دیر نہیں لگائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’’پنجاب میں وزیر کاریٹ 10کروڑ تک ہے ’’جوکہ بہت زیادتی ہے اور ضرورتمندوں کے جذبات کی ہرگز ترجمانی نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمارے دھرنے پولنگ سٹیشنوں سے دور ہوں گے ‘‘ کیونکہ پولنگ سٹیشنوں کے سامنے یا قریب دھرنا دینے کا مطلب اپنی ہی شامتِ اعمال کو دعوت دینا ہے جبکہ یہ ہم پہلے ہی بہت بھگت رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ’’نااہل حکمرانوں نے ملک کو روانڈا بنادیا ہے اور اب اسے صرف مرونڈا بنانا باقی ہے‘‘ اور اگر کبھی موقعہ ملا تو یہ خدمت ہم سرانجام دیں گے کیونکہ میٹھی چیز ہم مولویوں کو بھی بہت مرغوب ہے۔ آپ اگلے روز لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ پاکستان بچانے کے لیے آئین معطل کرنا پڑے تو مضائقہ نہیں …پرویز مشرف سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے کہا ہے کہ ’’پاکستان بچانے کے لیے آئین معطل کرنا پڑے تو مضائقہ نہیں ‘‘ کیونکہ میں نے بھی پاکستان کو بچانے کے لیے ہی آئین کو معطل کیا تھا اور اسی لیے یہ اب تک موجود ہے، اور اس بات پر مجھے سخت حیرت بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’تین سال کے لیے عبوری حکومت کا قیام ملک کو دلدل سے نکالنے کا بہترین ذریعہ ہے ‘‘ جس دوران احتساب وغیرہ کی بدولت سیاستدانوں کو اپنی پڑ جائے گی اور میرے کارہائے نمایاں نظروں سے اوجھل رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’’زرداری، نواز شریف اور آرمی چیف سے میرا رابطہ نہیں‘‘ کیونکہ اس سلسلے میں عرب شہزادگان سے پہلے ہی نتیجہ خیز رابطہ کرچکا ہوں جس سے نواز شریف کے دل میں میرے لیے انتہائی برادرانہ جذبات پیدا ہوگئے ہیں اور وہ جلد ازجلد مجھ سے بغلگیر ہونے کے لیے بیتاب ہیں جبکہ باقی دونوں تو پہلے ہی اپنے آدمی ہیں اور ان دونوں نے طوعاً وکرہاً ہی مجھے ملک سے باہر بھجوانے کی ہامی بھری تھی، اگرچہ میرا ملک میں مزید رہنا میرے لیے کافی خطرناک بھی ہوچکا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’’واپسی پر مجھے بلٹ پروف گاڑی درکار ہوگی‘‘ اس کے علاوہ چند طبلوں اور ہارمونیم کی بھی ضرورت ہوگی تاکہ اپنی اور اپنے مورخین کی دل پشوری کرتا رہوں ۔ آپ اگلے روز ایک نجی ٹی وی پر اپنے خیالات کا اظہار کررہے تھے۔ جمہوریت کی جڑیں مضبوط ہورہی ہیں …پرویز الٰہی سابق چھوٹے وزیراعظم پرویزالٰہی نے کہا ہے کہ ’’جمہوریت کی جڑیں مضبوط ہورہی ہیں‘‘ کیونکہ جنرل (ر) پرویز مشرف کے وقت سے ہی یہ عمل شروع ہوگیا تھا جب ہم نہایت خشوع وخضوع کے ساتھ جمہوریت کی جڑوں میں بیٹھ گئے تھے اور خاکسار نے صاحب موصوف کو مزید دس باروردی میں صدر منتخب کرانے کی سعادت حاصل کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن وہ وردی اتار کر خود ہی بھاگ کھڑے ہوئے اور ہماری ساری امیدوں پر پانی پھیر گئے، تفوبرتواے چرخِ گرداں، تفو۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم نے جمہوریت کی مضبوطی کے لیے اپنا کردار ادا کیا ہے‘‘ کیونکہ جنرل مشرف اکیلے ایسا کرنے سے معذور تھے اور تنہا اپنی اس زبردست خواہش کو عملی جامہ نہ پہنا سکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ملک میں پہلی بار اقتدار ایک سویلین حکومت سے دوسری سویلین حکومت کو منتقل ہوگا‘‘ لیکن اس کایہ مطلب نہیں کہ ہماری حکومت سویلین نہیں تھی کیونکہ جنرل صاحب نے ہماری نیک خواہشات کے برعکس وردی اتار کر شیروانی زیب تن کرلی تھی اور سوٹ بھی پہن لیے تھے اور ان کی یاد تازہ کرنے کے لیے ہی ہم نے اگلے روز ایک زبردست صوفیانہ ڈانس کی محفل برپا کی تھی جو ہمیشہ یادگار رہے گی۔ آپ اگلے روز لاہور میں اپنے گھر پر برطانوی ہائی کمشنر ایڈم تھامپسن سے ملاقات کررہے تھے۔ درست مؤقف سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے ٹھیک کہا ہے کہ میں جمشید دستی کا مقابلہ نہیں کرسکتی کیونکہ وہ تو وزارت خارجہ چلا رہی تھیں، انہوں نے اس کا قلمدان تو اپنے نازک ہاتھوں میں تھام رکھا تھا، اور دستی نے اس غیرحاضری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کے حلقے میں نہ صرف اتنے سارے فلاحی کام کروادیئے بلکہ عوام کے لیے مفت بس سروس بھی شروع کردی اور جس سے بڑی زیادتی اور کوئی نہیں ہوسکتی جس نے عوام کا دماغ ہی خراب کردیا ہے، مزہ جب تھا کہ وہ وزیر خارجہ ہوتے اور یہ سارے کام کروا کے دکھاتے جبکہ وہ کوئی ایسی ویسی وزیر خارجہ نہیں تھیں بلکہ ان کے نت نئے فیشن تو دنیا بھر میں مشہور ہوچکے تھے۔ علاوہ ازیں، دستی صاحب کے پورے خاندان میں ایک بھی ایسا قیمتی پرس نہیں ہوگا جس قسم کے موصوفہ کے پاس اتنے ہیں کہ کسی گنتی میں ہی نہیں آتے۔ مزید برآں ، بھارت جیسے پرخاش رکھنے والے ملک میں انہیں خوب سراہا گیا۔ پھر انہوں نے اپنی آواز کی طرح جملہ مصائب ومسائل کا مردانہ وار مقابلہ کیا ۔ چنانچہ دستی صاحب نے نہایت خود غرضی سے کام لیتے ہوئے حلقے میں اتنے سارے کام کروادیئے کہ اب کھر صاحبہ کے کرنے کو کوئی رہ ہی نہیں گیا۔ پھر ، وہ جاگیردار خاندان سے ضرور ہیں لیکن اس کے باوجود عوام کی ہمدرد جاگیردار ہیں۔ آج کا مقطع میں آپ کے جیسوں میں ظفرؔ، رہ نہیں سکتا ہٹ جائو‘ مجھے راستہ جانے کے لیے دو

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved