تحریر : ایم ابراہیم خان تاریخ اشاعت     06-05-2018

بڑا خواب، بڑے تقاضے

خواب دیکھنے پر کوئی پابندی ہے نہ فیس ادا کرنا پڑتی ہے۔ ہم سب خوابوں کی نگری ہی میں تو جیتے ہیں۔ اور بیشتر خواب ہم جاگتی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ مگر ایسا نہیں ہے کہ خواب دیکھتے رہنے ہی سے کچھ مل جاتا ہے۔ محض خواب دیکھنا حقیقی تبدیلی کے لیے کافی نہیں ہوا کرتا۔ خواب کسی بھی حقیقت کا ابتدائی چہرہ ہوتے ہیں۔ ہم جب کوئی بڑا اور پرکشش خواب دیکھتے ہیں تو اُسے حقیقت کا روپ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر خواب واقعی اتنا بڑا (یعنی پرکشش و طاقتور) ہو کہ ہمیں کچھ کرنے کی تحریک دے سکتا ہو تو عمل پسند رویّہ نہ اپنانا اپنے وجود کی توہین اور اپنی صلاحیتوں سے غداری کے مترادف ہے۔ 
ہر خواب اِس قابل نہیں ہوتا کہ سب کے سامنے بیان کردیا جائے اور بڑے خواب بھی محض روانی میں یا رسمی کارروائی کے طور پر بیان کی منزل تک نہیں لائے جانے چاہئیں۔ کسی نے خوب کہا ہے ؎ 
دیکھ لو خواب مگر خواب کا چرچا نہ کرو
لوگ جل جائیں گے سُورج کی تمنّا نہ کرو 
ہماری آنکھوں میں بہت سے خواب سمائے رہتے ہیں۔ بعض خواب ہم زیادہ یا بار بار دیکھتے ہیں۔ ایسا اُسی وقت ہوتا ہے جب ہمارے ذہن میں کچھ چل رہا ہو۔ اگر ہم کچھ کرنے کا عزم رکھتے ہوں تو وہ مقصد خواب کی صورت ہماری آنکھوں میں بس جاتا ہے اور پھر ہمارے پاس اُس خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے متحرّک ہونے کے سوا آپشن نہیں بچتا۔ اگر دل و دماغ میں دن رات فعال رہنے والا کوئی خیال یا تصوّر ہماری آنکھوں میں خواب بن کر سما جائے تو اُسے شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے متحرّک نہ ہونا بہت سی نفسی پیچیدگیوں کا باعث بنتا ہے۔ 
کسی بھی مادّی یا غیر مادّی چیز سے متعلق کوئی بھی آئیڈیا سب سے پہلے ذہن کے پردے پر نمودار ہوتا ہے۔ ذہن کے پردے پر تادیر موجود رہنے کی صورت میں کوئی بھی آئیڈیا خواب کی شکل اختیار کرکے ہماری نفسی ساخت کا حصہ بن جاتا ہے۔ اگر ہماری کوئی خواہش بڑی ہو تو خواب بھی اُسی کی مناسبت سے بڑے اور واضح ہوتے ہیں۔ خوابوں کو نظر انداز کرکے ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔ اگر کوئی معاملہ خوابوں میں تادیر قیام کرلے تو اندازہ ہو جانا چاہیے کہ ہمارے مقاصد اور ترجیحات کیا ہونے چاہئیں۔ اگر کوئی خواب بار بار دکھائی دے رہا ہو تو دراصل ہماری نفسی ساخت ہمیں پیغام دے رہی ہوتی ہے کہ اُسے شرمندۂ تعمیر کرنے کی خاطر متحرّک ہوں۔ 
ہر بڑا خواب تحت الشعور کی جھلک ہم تک پہنچانے کا اہم ذریعہ ہوتا ہے۔ اس جھلک کی بنیاد پر ہمیں فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کرنا کیا ہے۔ بہت سے خواب ہمارے لیے غیر معمولی تحریک کا وسیلہ ہوتے ہیں۔ اُن کی مدد سے ہم بہت کچھ کرنے کا جذبہ اپنے اندر محسوس کرتے ہیں۔ یہ جذبہ طے کرتا ہے کہ ہم خواب کو کس طور شرمندۂ تعبیر کریں گے۔ 
اب سوال یہ ہے کہ کوئی بھی بڑا خواب شرمندۂ تعبیر کرنے سے متعلق ہمیں کیا کرنا ہوتا ہے۔ کسی بھی خواب کو عملی شکل دینا آسان نہیں ہوا کرتا۔ اور اگر خواب بڑا ہو تو اُس کے لیے منصوبہ بندی بھی بہتر ہونی چاہیے اور کام بھی زیادہ کرنا پڑتا ہے۔ آپ کچھ بھی تنہا نہیں کرسکتے۔ جو کچھ بھی آپ کے ذہن میں چل رہا ہے اُسے حقیقت کا روپ دینے کے لیے لازم ہے کہ آپ محنت کریں۔ مگر صرف آپ کی محنت سے کیا ہوگا؟ آپ کو بہت سے معاملات میں دوسروں سے مدد لینا پڑتی ہے۔ ہم سب مل کر ہی کچھ کر پاتے ہیں۔ انفرادی کارکردگی کو بھرپور کامیابی سے ہم کنار کرنے کے لیے بھی دوسروں سے بہت کچھ لینا پڑتا ہے۔ 
کسی بھی بڑے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے بھرپور صلاحیتوں کی حامل ٹیم بھی درکار ہوا کرتی ہے۔ ٹیم چونکہ کئی افراد پر مشتمل ہوتی ہے اس لیے سب کی کارکردگی کا جائزہ لے کر اُن سے کام لینا پڑتا ہے۔ جب ہم کسی بڑے مقصد کا حصول یقینی بنانا چاہتے ہیں، کسی بڑے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنا چاہتے ہیں تو مطابقت رکھنے والی ٹیم بھی تیار کرنا ہم پر لازم ہو جاتا ہے۔ ایسا کیے بغیر بہتر کارکردگی یقینی بنانا ممکن ہو ہی نہیں سکتا۔ 
بڑے خواب کے تقاضے بھی بڑے ہوا کرتے ہیں۔ اُسے شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر تیاری کرنا پڑتی ہے۔ تیاری کیے بغیر ہم کوئی بھی کام ڈھنگ سے نہیں کرسکتے۔ کوئی مقصد جتنا بڑا ہو اُس کی تیاری اُتنی ہی بڑی کرنا پڑتی ہے۔ ہم اکیسویں صدی میں جی رہے ہیں۔ یہ عہد غیر معمولی مسابقت کا ہے۔ بھرپور مسابقت کے قابل ہونے کے لیے ہمیں بہت کچھ کرنا پڑتا ہے۔ عمومی کارکردگی کی سطح سے بلند ہوکر کچھ کرنا آسان نہیں۔ ہر شعبے میں کارکردگی کا معیار اس قدر بلند ہوچکا ہے کہ بھرپور تیاری کے بغیر میدان میں اترنا ذرا بھی سودمند نہیں ہوتا۔ 
فی زمانہ کوئی بڑا خواب دیکھنا بجائے خود بہت بڑی بات ہے۔ لوگ عمومی سطح پر جینے کے اس قدر عادی ہوچکے ہیں کہ اِس سطح سے بلند ہوکر کچھ سوچنے میں ذرا بھی دلچسپی نہیں لیتے۔ کسی کو بڑے کام کے لیے تیار کرنا بھی اب ایک کارِ محال ہے۔ لوگ باصلاحیت ہوتے ہوئے بھی عام ڈگر سے ہٹ کر کچھ کرنے کے لیے مشکل سے تیار ہوتے ہیں۔ سبب اس کا یہ ہے کہ لوگ اب محنت سے جی چرانے کے عادی ہیں۔ کوشش یہ ہوتی ہے کہ بس گزارے کی سطح کا کام چلتا رہے۔ 
کسی بڑے خواب یا مقصد کو حقیقت کا روپ دینے کی تحریک دینا اب بجائے خود ایک بڑا مقصد ہے۔ انسان بڑے کام کے لیے بھرپور ذہنی تیاری اُسی وقت کرسکتا ہے جب وہ خود کو کام کے ماحول میں زندہ رکھتا ہو۔ کام کے ماحول میں زندہ رہنے کا مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنے شعبے سے جذباتی طور پر بھرپور وابستگی کا مظاہرہ کرے اور عام ڈگر سے ہٹ کر کچھ نہ کچھ کرنے کا ذہن بناتا رہے۔ 
جب انسان کسی بڑے کام کے لیے خود کو آمادہ کرتا ہے تب اُسے ٹیم بھی تیار کرنا پڑتی ہے۔ ٹیم تیار کرنا آسان کام نہیں۔ بہت سے مختلف الخیال اور مختلف المزاج لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر لاکر اُن کی صلاحیتوں سے بھرپور استفادے کے لیے متعدد عوامل کو ذہن نشین رکھنا پڑتا ہے۔ ہر ایک کی صلاحیت کو ذہن میں رکھتے ہوئے اُس سے کام لینا دانش مندی کی دلیل ہے۔ ٹیم لیڈر کے لیے اس بات کی بہت اہمیت ہے کہ وہ ٹیم کے ہر رکن کو اچھی طرح سمجھتا ہو اور اُس سے مطلوبہ معیار کے مطابق کام لے۔ 
ہمیں یہ نکتہ کسی حال میں نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ ہم تنِ تنہا کچھ بھی نہیں کرسکتے۔ عام ڈگر سے ہٹ کر کیا جانے والا کوئی بھی بڑا کام ہم سے غیر معمولی محنت اور معاملہ فہمی کا تقاضا کرتا ہے۔ اس مرحلے پر ہمیں ایسے لوگ تلاش کرنا پڑتے ہیں جو اپنی کارکردگی کے اعلٰی معیار سے ہماری کارکردگی کا گراف بھی بلند کریں۔ تھوڑے بہت فرق کے ساتھ کوئی بھی بڑا خواب شرمندۂ تعبیر کرنے کی یہی ایک صورت ہے۔ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved