تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     07-05-2018

سُرخیاں‘ متن اور شعر و شاعری

الیکشن کمیشن کا کام انتخابات کرانا ہے
ملک چلانا نہیں: شاہد خاقان عباسی
وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ''الیکشن کمیشن کا کام انتخابات کرانا ہے‘ ملک چلانا نہیں‘‘ اگرچہ کئی اور ادارے بھی ملک چلا رہے ہیں اور ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے ہیں جسے عرف عام میں خلائی مخلوق کہا جاتا ہے‘ حالانکہ یہ حکومت نہیں چلا سکتے کیونکہ حکومت چلانے کے ساتھ ساتھ جو کچھ کرنا پڑتا ہے وہ ہمارا ہی کام ہے اور ان کے بس کا روگ ہی نہیں جبکہ ملکی ترقی مطلوب ہو تو یہی کچھ کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''سیاستدان کی جج اور جنرل کے برابر عزت ہونی چاہیے‘‘ کیونکہ جج اور جرنیل خدمت کے کام پر وہ کچھ نہیں کر سکتے جو ہم قومی فریضہ سمجھ کر ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ''ہر ادارہ آئینی حدود میں رہ کر کام کرے‘‘ اور ہمیں ہرگز نہ پوچھے کہ ہم کیا کر رہے ہیں کیونکہ ہم نے ان سے کبھی نہیں پوچھا کہ وہ کیا کر رہے ہیں حالانکہ وہ بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا ''جو خود کچھ نہیں کر سکتا وہ الزام لگاتا ہے‘‘ جبکہ ہم سب کچھ بلکہ اتنا کچھ کرتے ہیں کہ ہمیں الزام لگانے کی فرصت ہی نہیں ملتی۔ آپ اگلے روز سیالکوٹ روڈ کو دو رویہ کرنے کا سنگ بنیاد رکھ رہے تھے۔
ساری عمر نوازشریف کا سیاسی بوجھ اٹھایا
جوتیاں اٹھانے والا نہیں: چوہدری نثار علی خان
نواز لیگ کے ناراض لیڈر اور سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ ''ساری عمر نوازشریف کا سیاسی بوجھ اٹھایا‘ جوتیاں اٹھانے والا نہیں‘‘ جبکہ نوازشریف کے بوجھ میں وہ سارا کچھ شامل تھا جو وہ کرتے رہے اور جس کا اب خمیازہ بھگت رہے ہیں‘ اگرچہ ان کے بوجھ میں ان کی جوتیاں بھی شامل تھیں کیونکہ وہ ننگے پائوں بہت کم رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ''ووٹ کے تقدس کی بات کرتے ہیں لیکن سینیٹ کے 4 ٹکٹ مشرف کے ساتھیوں اور 4 اپنے ملازمین کو دے دیئے‘‘ کم از کم مجھ سے بھی پوچھ لیتے کہ تمہارا بھی کوئی ملازم ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ''اپنے ضمیر اور خمیر کے خلاف ان کو ووٹ دیئے‘‘ چنانچہ اب دیکھنا یہ ہے کہ اپنے ضمیر کے خلاف کب تک کام کر سکتا ہوں۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
پیپلزپارٹی کی سیاست کا محور صرف عوام ہیں: آصف علی زرداری
سابق صدر اور پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ''پیپلزپارٹی کی سیاست کا محور صرف عوام ہیں‘‘ کیونکہ ہم جو کام بھی کرتے ہیں اس کا نشانہ عوام ہی بنتے ہیں لیکن ساتھ ساتھ ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لیے اپنے ایم بی بی ایس کے ذریعے ان کا علاج معالجہ بھی کرتے ہیں‘ اگرچہ وہ نیم جان ہی رہتے ہیں کیونکہ شفاء تو منجانب اللہ ہی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''پیپلزپارٹی کی توجہ صرف اس بات پر رہتی ہے کہ کس طرح اور کیسے عوام کی مشکلات کو ختم کیا جائے‘‘ لیکن یہ کم بخت خود ہی ختم ہوتے رہتے ہیں تو اس میں ہمارا کیا قصور ہے؟ حالانکہ ہم خود اور اپنے فرنٹ مینوں کے ذریعے ان کی مشکلات کا جائزہ لیتے رہتے ہیں اور حیران ہوتے رہتے ہیں کہ ہمارے ہوتے ہوئے ان کی مشکلات میں روزبروز اضافہ کیوں ہوتا جاتا ہے۔ آپ اگلے روز پنجاب اور کے پی کے سے تعلق رکھنے والے کارکنوں سے خطاب کر رہے تھے۔
مجھے خلائی مخلوق تو نہیں‘ تارے دکھائی دے رہے ہیں: حمزہ شہباز
رکن قومی اسمبلی اور نوازلیگ کے مرکزی رہنما حمزہ شہبازشریف نے کہا کہ ''مجھے خلائی مخلوق تو نہیں‘ تارے دکھائی دے رہے ہیں‘‘ کیونکہ صورت حال روزبروز اس قدر بگڑتی جا رہی ہے کہ ہمیں دن میں بھی تارے دکھائی دیتے ہیں‘ پتہ نہیں تایا جان کو خلائی مخلوق کیسے نظر آ جاتی ہے اور جس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ آج کل جنوں بھوتوں سے ان کا ڈائریکٹ رابطہ قائم ہے جو انہیں کچھ اور کرنے ہی نہیں دے رہے‘ سو میں ان سے گزارش کروں گا کہ کبھی ان کا دیدار ہمیں بھی کروا دیں کیونکہ ہمیں تو صرف ایک چڑیل ہی نظر آ رہی ہے‘ ساتھ ساتھ اس کا مقابلہ بھی ہمیں کرنا پڑ رہا ہے اور سارا وقت اسی میں صرف ہو جاتا ہے۔ آپ اگلے روز چوہدری عامر صدیق کی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
اور اب آخر میں کچھ شعر و شاعری ہو جائے:
چل نہیں سکتا کوئی میرے سوا اس پہ ضمیرؔ
بڑا چالاک ہے وہ رستہ بنانے والا
دنیا داروں کو دیا واسطہ دل کا میں نے
جبکہ سکہ تھا کہیں اور یہ چلنے والا
جشنِ ہجراں منا رہا تھا میں
رنگ میں بھنگ ڈال دی تُو نے
دی تھی آواز اور کو میں نے
نام ایک اور کا پکارا تھا
تنگئی جا‘ ہے اس کے جانے سے
ورنہ اچھا بھلا گزارا تھا
ضمیرؔ مل کے مجھے اور بھی اُداس ہوئے
مری جدائی میں جو لوگ تھے‘ اُداس بہت
میں جس شب سو نہیں پاتا
زیادہ خواب تکتا ہوں (ضمیر طالب)
ہنس دیا تھا وہ ایک دن مجھ سے
آج تک لاعلاج پھرتا ہوں
ایک انبار اساطیر کا لگ جاتا ہے
شام ہوتے ہی یہاں زادِ سفر کھُلتے ہیں (آزاد حسین آزادؔ)
اُس نے آنکھوں سے پکارا مجھ کو
میں نے آواز کو آتے دیکھا
جتنا چھڑکا ہے تُونے زخموں پر
اتنا کھایا نہیں نمک تیرا (زبیر قیصر)
آج کا مقطع
کسی کے دل میں جگہ مل گئی ہے تھوڑی سی
سو کچھ دنوں سے ظفر گوشہ گیر ہو گئے ہیں

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved