تحریر : خورشید ندیم تاریخ اشاعت     14-05-2018

مہاتیر محمد اور نوازشریف

مہاتیر محمدپندرہ سال بعد ،ایک بار پھر اپنی قوم کا انتخاب بنے ہیں۔کیا پاکستان کے عوام بھی یہی تجربہ دہرانا چاہیں گے؟
سرد جنگ کے دنوں میں، مسلم دنیا میں بھی ایک نظریاتی معرکہ بر پا تھا۔نظریاتی سیاست کی فضارومان پرور ہوتی ہے۔اسی دور میں ہمارے ہاں رومانوی شخصیات ابھریں۔ذوالفقار علی بھٹو،شاہ فیصل،کرنل قذافی،یاسر عرفات۔مسلم نیشنل ازم،اسلام اور آزادی جیسے تصورات ان سے وابستہ تھے۔ یہ دور تمام ہواا ور یہ شخصیات بھی تاریخ کارزق بن گئیں۔سوویت یونین کا زوال ہوا تو ایک نئی تاریخ لکھی گئی۔ان تاریخ نگاروں میں،ایک بڑے طبقے نے ضیاالحق مرحوم کوبھی شامل کیا اور یوں ان کے ساتھ بھی ایک رومان وابستہ ہوا۔ہماری صفوں میں،اس رومانوی دور کی شاید وہ آخری شخصیت تھے۔
نظریاتی سیاسی کا دور تمام ہواتو مسلم دنیا میں قیادت کا تصور بھی تبدیل گیا۔اب مسلم اقوام کو بھی خیال آیا کہ نظریے اور رومان سے پیٹ نہیں بھرتا۔معاشی ترقی کے بغیر بقا کی کوئی ضمانت نہیں۔یوں مسلم معاشروں کے مطالبات تبدیل ہوئے تو قیادت کا معیار بھی بدل گیا۔اب لوگوں کو ایسی شخصیات کی تلاش ہوئی جو انہیں معاشی اور مادی طورپر توا نا بنا سکیں۔اس دور میں دو شخصیات نمایاں ہو کر سامنے آئیں۔ایک ملائشیا کے مہاتیر محمد اور دوسرے ترکی کے طیب اردوان۔ 
مہاتیر محمد نے اپنے ملک کی ترقی کے لیے وہی ماڈل اپنایاجو ترقی یافتہ دنیا میں کامیابی کی ضمانت سمجھا گیا۔یہ کھلی منڈی کی معیشت تھی جو ظاہر ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام ہی کا دوسرا نام ہے۔اس ماڈل کی اساس ایک مضبوط اور بڑا انفراسٹرکچر ہے۔ وزیراعظم بننے کے بعد انہوں نے انہی خطوط پر پیش قدمی کا آغاز کیا۔پہلے دور میں ان کی ساری توجہ اسی کام پر رہی۔ 
مہاتیر نے انور ابراہیم کو اپناجانشین نامزد کیا۔خیال یہی تھا کہ ملائشیا کی قیادت مہاتیر محمد کے بعد انوار ابراہیم کو منتقل ہو جائے گی۔ بدقسمتی سے ان کے مابین سخت اختلافات پیدا ہوگئے۔ا ختلاف کا ایک بڑا سبب معاشی ترقی کے باب میں دونوں کے نقطہ ہائے نظر کا فرق بھی تھا۔مثال کے طور پر مہاتیر محمد نے کوالالمپور میں دنیا کی سب سے اونچی عمارت تعمیر کرنے کا اعلان کیا۔انور ابراہیم اس کے خلاف تھے۔ان کے خیال میں یہ وسائل کا ضیا ع تھا۔مہاتیر یہ سمجھتے تھے کہ اس طرح کے پراجیکٹ معاشی سرگرمی کے بارے میں ایک تاثر قائم کرتے ہیں اور یہی تاثر معاشی عمل کو انگیخت دیتا ہے۔انہوں نے نہ صرف یہ عمارت بنائی بلکہ بڑے ایئر پورٹس کی تعمیر سمیت اس نوعیت کے بہت سے منصوبے بنائے۔یوں اپنے وژن کو متشکل کیا۔
اس دوران میں انور ابراہیم کے ساتھ ان کے اختلافات اتنے بڑھے کہ مہاتیر محمد نے ان پر اخلاقی نو عیت کا ایک مقدمہ قائم کر کے انہیں جیل میں ڈال دیا۔اپنے تئیں انہوں نے انور ابراہیم کی سیاست کا خاتمہ کر دیا۔وہ مگر سخت جان ثابت ہوئے۔وہ جیل میں گئے تو ان کی اہلیہ عزیزہ وان اسماعیل میدان میں اتریں۔انہوں نے انور ابراہیم کے نام پر سیاست جاری رکھی اور اپنے خاوند کا مقدمہ بھی لڑا۔مہاتیرمحمد عوام کی توقعات پر پورا اترے۔عوام کی تائید سے وہ بائیس سال وزیر اعظم رہے۔
اس دوران میں نجیب رزاق کی حکومت بنی۔مہاتیر محمد اور ان کی جماعت ایک ہی تھی۔نجیب رزاق پرکرپشن کے الزامات لگے۔یہ محض الزام نہیں تھے۔امریکہ کے محکمہ انصاف نے بھی ا س کی تصدیق کی۔ لوگ ان سے ناراض تھے لیکن ان کے خلاف کوئی لیڈر مو جود نہیں تھا۔اس دوران میں ایک دلچسپ پیش رفت ہوئی۔مہاتیر محمد نے پندرہ سال بعد ایک بار پھر سیاست میں سر گرم ہو نے کا اعلان کیا۔اپوزیشن نے انہیں اپنا راہنما بنا لیا۔سیاست کے کھیل دیکھیے کہ ان کو قائد حزب ِاختلاف ،انور ابراہیم کی جماعت نے بنایا۔عزیزہ نے ایک اجتماع میں مہاتیر کے حق میں ایک شاندار تقریر کی اور اس طرح وہ متبادل لیڈر کے طور پر سامنے آگئے۔انتخابات میں ان کا اتحاد جیت گیا اور یوں وہ بانوے سال کی عمر میں ایک بار پھروزیراعظم بن گئے۔
مہاتیر عارضی وزیر اعظم ہیں۔8 جون کو انور ابراہیم کی سزا ختم ہو جائے گی۔ملائشیا میں ریاست کا سربراہ اب بھی بادشاہ ہی ہے۔بر طانیہ کی طرح،جمہوریت کے باوجود ،وہاں بادشاہت باقی ہے۔مہاتیر محمدنے بتا یا کہ انور ابراہیم کی رہائی کے بعد،بادشاہ ان پر عائد سب پابندیاں ختم کر دے گا اور وہ دوبارہ سیاست میں متحرک ہوں گے اور مہاتیر محمد کی جگہ ملک کے وزیراعظم بن جائیں گے۔یوں ایک طرف انور ابراہیم اور مہاتیر محمد کے درمیان تعلقات کانیا دور شروع ہو گا اور اس کے ساتھ انور ابراہیم کی سیاست کا بھی احیا ہو جا ئے گا۔
مہاتیر محمد ،اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جدید ملائشیا کے معمار ہیں۔ان کے دور ِ اقتدار میں ان پر تین الزامات تسلسل کے ساتھ لگے۔کرپشن، اقربا پروری اورآمرانہ مزاج۔تینوں کے حق میں شواہد مو جود ہیں اور ان کی تر دید محال ہے۔انور ابراہیم کے خلاف، وہ عدالتوں پر جس طرح اثر انداز ہوئے،وہ تاریخ کا معلوم واقعہ ہے۔اس کے باوجود عوام نے انہیں منتخب کیا اور وہ ملائشیا کو ترقی یافتہ بنانے میں کامیاب رہے۔یہی وجہ ہے کہ قوم نے ایک بار ان کی ضرورت کو محسوس کیا ہے۔سوال یہ ہے کہ ان کی کامیابی کا راز کیا تھا؟
میرے نزدیک اس کے چند اسباب ہیں۔پہلا سبب ان کا ترقی کاماڈل ہے۔انہوں نے پہلے ایک بڑا انفراسٹرکچر بنایا اور وہ سازگار ماحول فراہم کیا جوسرمایے کی نشوونما کے لیے ضروری تھا۔دوسرا سبب سیاسی استحکام تھا۔اس سازگار ماحول کو امرِ واقعہ بنانے میںسیاسی استحکام نے بنیادی کام کیا۔ملائشیا میں کسی خلائی مخلوق کا تذکرہ نہیں ہوتا۔یوں ان کو اپنے دورِ اقتدار میں کسی ریاستی ادارے کی مزاحمت کا سامنا نہیں کر نا پڑا۔
ایک مرتبہ وہ اسلامی یونیورسٹی کی دعوت پرپاکستان آئے۔ڈاکٹر اعجاز شفیع گیلانی ان دنوں یونیورسٹی سے وابستہ تھے۔ انہوں نے چند منتخب لوگوں کے ساتھ ان کی ایک ملاقات کا اہتما م کیا۔ ان میں مجھے بھی شامل کیا گیا۔مہاتیر محمد نے اپنی ترقی کے ماڈل کے بارے میں ایک بات یہ کہی کہ انہوں نے وزیراعظم بننے کے بعد،ملک سے ہڑتال اور احتجاج کا کلچرختم کیا۔مثال کے طورپر انہوں نے کوالالمپور کے ٹیکسی ڈرائیورزکی یونین کے ذمہ داران کو بلا یا اور ان سے وعدہ لیا کہ کچھ ہو جائے،وہ ہڑتال نہیں کریں گے۔گویا انفرا سٹرکچرکی تعمیر،سیاسی استحکام اورپالیسی کا تسلسل ان کے حکومتی ماڈل کے اجزائے ترکیبی تھے۔کرپشن ،ا قرباپروری اور غیر جمہوری رویے جیسے الزامات کے باوجودیہ ماڈل کامیاب رہا۔ یہ دلچسپ بات ہے کہ طیب اردوان پر بھی یہی الزامات ہیں اور ترکی میں بھی یہ ماڈل کامیاب ہے۔
پاکستان میں اس ماڈل کو اگر کسی نے اپنا یا ہے وہ نوازشریف ہیں۔پاکستان کی تاریخ میں ساٹھ کی دہائی کے بعد،وہی تھے جنہوں نے سنجیدگی کے ساتھ انفراسٹرکچر کی تعمیر کو اہمیت دی ہے ۔پاکستان کی سرزمین پر آج بھی ترقی کے جو مظاہربچشمِ سر دیکھے جاسکتے ہیں ان کا انتساب نوازشریف کے نام ہے۔ان پر بھی مہاتیر محمد کی طرح کرپشن،اقرباپروری اور آمرانہ مزاج کے الزامات ہیں لیکن وہ سیاسی استحکام کے باب میں مہاتیر محمد کی طرح خوش قسمت نہیں رہے۔وہ کبھی اطمینان کے ساتھ حکومت نہیں کر سکے۔ان کا زیادہ وقت اور توانائیاںاپنے اقتدار کے استحکام پر خرچ ہوگئیں۔
پاکستان میں جمہوری عمل کا تسلسل ہو تا تو میرا احساس ہے کہ ملائشیا اور ترکی کے ساتھ پاکستان بھی ترقی کی مثال بن جاتا۔جو بات ہمیں ملائشیا سے سیکھنی ہے ،وہ یہ ہے کہ مہاتیر محمد کی کامیابی کے لیے ایک سازگار ماحول ناگزیر ہے۔کوئی مہاتیر محمد کامیاب نہیں ہو سکتا اگر ملک میں آئے دن دھرنے اور ہڑتالیں ہوں اور ریاستی ادارے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی ترکیبیں سوچتے رہتے ہوں۔
آج پاکستان کے حالات دیکھتے ہوئے میں سوچتا ہوں:ہم دوسروں کے تجربات سے سیکھیں گے یا خود تجربات کریں گے؟ہم اپنے مہاتیر محمدکو ابھی آواز دیں گے یا پندرہ سال کا انتظار کریں گے؟ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved