تحریر : رؤف کلاسرا تاریخ اشاعت     16-05-2018

دو نمبری انقلاب...!

کبھی میں خود کو اور ارشد شریف کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ ہم دونوں کو دو ہزار چھ سات میں لندن میں اپنے اپنے میڈیا گروپس کے لیے وہاں سے رپورٹنگ کرنے کا موقع ملا۔ ہمارے قابل احترام ایم ضیاء الدین بھی وہیں سے رپورٹنگ کرتے تھے۔ لندن میں بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ سب سے بڑھ کر ہم سب کو نواز شریف اور بینظیر بھٹو اور اُن کے رفقا کار کی سیاست سمجھنے میں مدد ملی اور یہ پتہ چلا سیاسی لوگ فراڈ کیسے کرتے ہیں۔ 
یوں ہم تینوں میں ایک صحت مندانہ مقابلہ بھی چلتا رہتا تھا کہ کون اندر کی خبریں نکال کر پاکستان اپنے قارئین یا ٹی وی چینلز کو بھیجتا ہے۔ ضیاء الدین میرے اور ارشد شریف کے استاد بھی تھے کیونکہ انہوں نے ہی ہمیں انگریزی اخبار ''ڈان‘‘ اسلام آباد میں تربیت دی تھی، لہٰذا ان کے سامنے ہم دونوں دب کر بیٹھتے تھے۔ ان کی موجودگی میں مجال ہے، میں اور ارشد شریف اپنے تئیں کوئی بڑھک مارنے کی کوشش کرتے یا سیاست پر کوئی تبصرہ کرتے ۔میں خوش قسمت اس لیے کہہ رہا ہوں کہ وہ دن پاکستانی سیاست کے بہت بڑے دن تھے۔ بینظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان لندن میں میثاق جمہوریت ہوا تھا ۔ دونوں ایک دوسرے کو دھوکا دینے کی کوششوں میں لگے ہوئے تھے۔ ہم بھی سب بڑے جذباتی تھے اور نواز شریف اور شہباز شریف یا پھر بینظیر بھٹو کی انقلابی باتین سن کر ہمارا لہو بھی جوش کھا جاتا کہ اب پاکستان میں اچھے دن آنیوالے ہیں۔ یہ جمہوری لوگ اب ملک کی کایا پلٹ دیں گے۔ جمعہ کے روز ڈیوک اسٹریٹ لندن میں باقاعدہ میلہ ہوتا ۔ اس دن لندن میں ایک ریسٹورنٹ مرچ مصالہ کے مالک ریاض کے ہاں سے خاص پکوان پک کر آتے ۔ کمال کا ذائقہ ۔ ریاض ایک بیبا اور اچھا بندہ تھا۔ وہ بے چارہ سب کی خدمت کرتا ۔ شاید ریاض کا بھی یہی خیال تھا وہ پاکستانی جمہوریت کی خدمت کررہا ہے۔ مفت کے کھانے کھلا کر یا پھر اسے یہ یقین دلایا گیا تھا کہ اس کے مفت کھانوں سے ہی پاکستان میں جمہوری انقلاب آئے گا اور اس کے مزیدار کھابے کھا کر ہی یہ سب انقلابی جنرل مشرف کا تختہ الٹیں گے۔ 
وہ دن ہم نے بڑے قریب سے نواز شریف اور ان کے ساتھیوں کو دیکھا ، پرکھا اورجانچا۔ ایمانداری کی بات ہے ہم سب بھی ان کے ماضی کو بھول گئے تھے اور ہمارا خیال تھا یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ تکلیفوں کے بعد سیکھاتا ہے اور کم از کم وہ غلطیاں نہیں دہراتا، جن کی وجہ سے وہ پہلے ہی مصیبت بھگت چکا ہو۔ ضیاء الدین، ارشد شریف اور میں نے پورا سال کئی بڑھکیں سنیں، قوم سے نئے نئے وعدے سنے بھی سہی اور انہیں رپورٹ بھی کیا ۔ میں نے بھی ان بھائیوں کی اعلیٰ شان تبدیلیوں پر کالم لکھے۔ ہم بھی اپنے تئیں ان بھائیوں کو وہ خلائی مخلوق سمجھ بیٹھے تھے، جو خدا نے پاکستانیوں کی مدد کے لیے آخرکار بھیج دی تھی۔ 
بہت سارے لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا بات ہے، لندن میں جب آپ تھے، تو اس وقت نواز شریف اور شہبازشریف کے حامی لگتے تھے۔ پاکستان لوٹتے ہی آپ کو کیا ہوگیا کہ آپ ان کے مخالف ہوگئے۔ یہ بات سمجھانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ صحافی ہمیشہ اپوزیشن کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں اور عوام اور ریاست کا مفاد ان کے لیے اہم ہوتا ہے۔ انفرادی لوگوں یا شخصیات کا نہیں ، جو شخصیات کے غلام بن جاتے ہیں اور ان کا سچا جھوٹا بیانیہ بیچتے ہیں۔ وہ صحافی کم اور میراثی زیادہ ہوتے ہیں ۔ میں اور ارشد شریف اس وقت نواز شریف اور شہباز شریف کا ساتھ نہیں دے رہے تھے بلکہ اپنے تئیں دراصل جمہوریت کی مدد کررہے تھے۔
ان دنوں جس طرح کی قسمیں قرآن کھا کر ہمیں یقین دلایا گیا تھا کہ وہ ایک دفعہ پاکستان لوٹ آئیں، تو پھر دیکھیں ،وہ ملک کی تقدیر کیسے بدل دیں گئے۔ بہت سارے لوگ جو وہاں اس دربار میں موجود ہوتے ان کی جذبات سے آنکھیں گیلی ہوجاتی تھیں۔ اس دربار میں اب پاکستان سے آنے والوں کی تعداد بڑھتی جارہی تھی اور جب بھی ایسا دربار سج جاتا اور میں بھی کسی کونے کھدرے میں بیٹھا ہوتا کہ کوئی خبر شاید نکل آئے تو میاں صاحب دور سے مجھے دیکھ کر آواز لگاتے:کلاسرا صاحب! سن رہے ہیں ناں آپ،پلیز اپنے اخبار میں لکھیں۔ پاکستان کے لوگوں کو واضح بتائیں کہ میں جمہوریت کی جنگ لڑ رہا ہوں ۔ مجھے اب اپنے لیے کچھ نہیں چاہیے۔ میں نے کافی اقتدار دیکھ لیا۔ اب پاکستان کو ٹھیک کرنا ہے۔مجھے واپس پاکستان جانے دیں، پھر دیکھیں ہم کیا کرتے ہیں ۔ اپنی بات میں زور ڈالنے کے لیے پھر کہتے: آپ لکھیں۔ آپ لکھ نہیں رہے کہ اب کی دفعہ میں نے وہ دکان بند کر دی ہے، جہاں لوٹوں کی خریدوفروخت ہوتی تھی۔ اب جو بھی جنرل مشرف کا ساتھی ہے، اسے معافی نہیں ہوگی، جس نے جنرل مشرف سے ہاتھ تک ملایا ہے۔ اب ہم ڈکٹیٹروں اور ان کے ساتھیوں سے لڑیں گے۔ اب پاکستان میں نئی شروعا ت ہوں گی۔ کلاسرا صاحب آپ لکھ نہیں رہے۔ آج ہی لکھیں اور اسٹوری بنائیں کہ نواز شریف نے وہ دکان بند کر دی، جہاں سودے ہوتے تھے اور لوٹوں کی خرید و فروخت ہوتی تھی ۔اس دربار کے بعد نواز شریف باقاعدہ میری، ارشد شریف اور ضیاء الدین کی پلیٹوں میں کھانا ڈالتے ۔ یہ بھی چکھیں اور وہ بھی چکھیں۔ 
اور پھر وہی نواز شریف جب پاکستان لوٹے ،تو لوٹوں کی قطار لگ ہوئی تھی اور وہ ایک ایک لوٹے کو خرید رہے تھے۔لوٹوں کی دکان پھر کھل گئی تھی ۔ 
اس طرح کے کئی دعوے میں نے نواز شریف کے منہ سے سنے۔ کوئی کسر رہ جاتی تو شہباز شریف پوری کردیتے۔ ایک دفعہ شہباز شریف مجھے ایک ایرانی ریسٹورنٹ پر لے گئے اور کافی دیر مجھے سمجھاتے رہے۔ اب کی دفعہ وہ کیسے پنجاب کی تقدیر بدل دیں گے۔میں خاموش سنتا اور ایرانی کھانے کی خوشبو کے مزے لیتا رہا۔ ویسے اس دن میں نے دیکھا شہباز شریف نے اپنا بٹوہ نکال کر کھانے کا بل دیا، ورنہ جب سے وہ پاکستان لوٹے ہیں، پچھلے دس سال سے ان کے سب گھروں کا خرچہ ماشاء اللہ عوام کے ٹیکسوں کے پیسے سے ادا ہورہا ہے۔ میں وہ خوش نصیب ہوں جو یہ دعوی کرسکتا ہے کہ جس نے شہباز شریف کا بٹوہ دیکھا ہوا ہے۔ ہاں !یاد آیا ایک دفعہ ماربل آرچ لندن کے قریب میریٹ ہوٹل میں بھی چائے کا بل شہباز شریف نے جیب سے دیا تھا ۔
شہباز شریف جس طرح انقلابی باتیں کرتے تھے، میرا خیال تھا کہ وہ بندہ اب کمپرومائز نہیں کرے گا۔ ایک دفعہ لندن کی سڑک پر ملاقات ہوگئی، جب وہ بس کے انتظار میں کھڑے تھے۔ اور جب وہ پاکستان لوٹے تو سب سے پہلے ق لیگ کے ایم پی ایز کو عطا مانیکا کی قیادت میں توڑ کر حکومت بنائی۔ اس کے بعد انہوں نے کچھ عرصہ یہ ڈرامہ کیا کہ وہ بہتریں بیوروکریٹس سامنے لائیں گے۔ ایک دن پتہ چلا ایک اچھے پولیس افسر کو اوکاڑہ کا ڈی پی او لگایا ۔ اس نے تین ماہ میں شہر کو درست کر دیا ۔ ق لیگ کے ایم پی ایز اور ایک آزاد امیدوار شہباز شریف سے ملے اور انہوں نے پارٹی جوائن کرنے کے عوض ڈی پی او کا تبادلہ مانگ لیا ۔ ہمارے انقلابی شہباز شریف نے ایک منٹ ضائع کیے، بغیر اس افسر کو او ایس ڈی بنا دیا ۔ اس افسر کا نام اس لیے نہیں لکھ رہا موصوف نے ایک دفعہ کہا تھا اپ میری تعریف نہ کیا کریں کیونکہ اس سے حکمران ناراض ہوتے ہیں شاید آپ سے ہمارا تعلق ہے۔ اس کے بعد اس افسر کا نام نہ لیا، جسے اپنی نوکری اپنی عزت اور تعریف سے زیادہ عزیز تھی۔ اس پر ایک کالم لکھا تھا ''لندن سے اوکاڑہ تک‘‘۔ اس کے بعد کبھی نہ شہباز شریف سے ملا اور نہ ہی خواہش ہوئی۔ شہباز شریف کا لندن سے شروع ہونے والا انقلاب تین ماہ بھی نہیں چل سکا تھا ۔
اب دس برس بعد نواز شریف پر وہی انقلابی کیفیت طاری ہوچکی ہے جو لندن میں جلاوطنی کے دنوں میں تھی۔ جب وہ چی گویرا بنے ہوئے تھے۔ آج نواز شریف کو اقتدار واپس کردیں کل ہی یہ کیفیت ختم ہوجائے گی اور یہ پھر جہاز پکڑ کر دنیا کی سیر پر نکل جائیں گے ،جیسے تین سو دن انہوں نے پاکستان سے باہر گزارے اور وزیراعظم کے طور پر سو ملکوں کے دورے کیے اور بمشکل پارلیمنٹ میں شکل دکھاتے تھے۔ 
مجھے آج تک سمجھ نہیں آتی ان بھائیوں کا سارا انقلاب اقتدار سے باہر ہی کیوں بڑھکیں مارتا ہے۔۔۔ لندن کی جلاوطنی تک ہی کیوں محدود ہوجاتا ہے۔ پاکستان اترتے اور اقتدار ملتے ہی ان سمجھدار بھائیوں کا انقلاب کیوں دو نمبری نکل آتا ہے! 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved