تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     21-05-2018

شہزاد نیّر، حسن نثار، سرور سکھیرا اور مسعود احمد

ہمارے شاعر دوست میجر شہزاد نیّر کا پیغام ملا کہ میری ٹرانسفر جہلم میں ہو گئی ہے۔ آپ کا کالم مزیدار تھا‘ لیکن یہ تو آپ نے نہیں بتایا کہ زخمی انگوٹھا ہاتھ کا تھا یا پائوں گا۔ دائیں بائیں کی وضاحت تو میں نے کر دی تھی۔ اگر بائیں ہاتھ کا ہوتا تو لکھنے میں دقت نہ ہوتی کہ میں کھبو نہیں ہوں۔ البتہ اگر پائوں کا ہوتا تو چلنے میں مشکل پیش آتی جبکہ چلنا پہلے بھی کچھ ایسا قابل اعتبار نہیں تھا کہ؎
میں چلتے چلتے اپنے گھر کا رستہ بھول جاتا ہوں
جب اس کو یاد کرتا ہوں تو کتنا بھول جاتا ہوں
تاہم ، اب مجھے بھی کوئی خاص یاد نہیں ہے کہ ہاتھ تھا یا پائوں کیونکہ حافظے کی صورت حال خاصی مشکوک ہو چکی ہے۔ مثلاً ؎
ظفرؔ ، ضعف ِ دماغ اب اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گا؟
کہ جاتا ہوں وہاں اور واپس آنا بھول جاتا ہوں
اگر یاد آ گیا تو آپ کو ضرور بتا دونگا تا کہ آپ کی فکر مندی دور ہو سکے۔
اگلے روز حسن نثار آئے جن سے ملاقات کئی برس بعد ہوئی کیونکہ آخر میں ملاقات اس ضیافت میں ہوئی تھی جوانوں نے بیلی پور میں اپنے فارم پر برپا کر رکھی تھی۔ خیر ''دھنک‘‘ کے دنوں کی یادوں کو بھی تازہ کیا گیا۔ پوچھنے لگے، اس وقت کے دوستوں کے ساتھ بھی کوئی رابطہ ہے یا نہیں۔ بتایا کہ سرور سکھیرا کبھی کبھار ملنے آ جاتے ہیں۔ ضیاء ساجد کا چند سال پہلے انتقال ہو گیا جبکہ محمود احمد مودی اور مستنصر جاوید ماشاء اللہ زندہ و سلامت موجود ہیں۔ اگرچہ ملاقات کبھی نہیں ہوئی۔
آفتاب اقبال نے فیز 6 میں جو اپنا گھر بنایا ہے، اس سے ملحقہ پلاٹ سکھیرا ہی کا ہے۔ آفتاب ایک بار بولے کہ بعض اوقات گاڑیاں زیادہ ہو جاتی ہیں، سرور صاحب سے پوچھ لیں کہ اگر کچھ گاڑیاں ان کے پلاٹ میں کھڑی کر دی جائیں ‘تو انہیں کوئی اعتراض تو نہ ہو گا۔ میں نے بات کی تو بولے، پلاٹ ہے ہی آپ کا، چنانچہ آفتاب نے وہاں تنبو لگا کر سائے کا بھی انتظام کر لیا۔ میں نے سکھیرا کو بتایا کہ ہم نے آپ کے پلاٹ پر قبضہ کر لیا ہے۔
حسن نثار میرا احترام کچھ ضرورت سے زیادہ ہی کرتے ہیں۔ کئی برس ہو گئے‘ غالباً وہ ''دھنک‘‘ ہی کا زمانہ تھا ۔ کراچی سے ان کا فون آیا تو کہنے لگے ‘اس وقت میرے پاس فلاں فلاں حضرات بیٹھے ہوئے ہیں‘ یہ گواہ ہیں کہ میں آپ سے بات کرتے ہوئے کرسی سے ا ٹھ کر کھڑا ہو گیا ہوں۔ کسی چائے کمپنی کے لوگو کے لئے کہہ رہے تھے۔ میں نے نام پوچھا تو بتایا کہ ریڈ لیبل چائے ہے۔ شاعر آدمی ہوں اور قافیہ ہماری مدد اکثر بلکہ ہمیشہ کرتا ہے۔ چنانچہ فوراً ہی مجھے سوجھ گیا۔
ریڈ لیبل کی چائے
ہر ٹیبل کی چائے
حسن نثار خود بھی شاعر ہیں اور یہ مسئلہ خود بھی حل کر سکتے تھے‘ لیکن اس کی سعادت مجھی کو حاصل ہونا تھی۔
آفتاب اور موصوف کے درمیان میری شاعری پر بحث چھڑ گئی۔ آفتاب کا کہنا کہ اب وہ بات نہیں رہی‘ لیکن حسن کا کہنا تھا کہ نوجوانی اور جوانی کی شاعری اور طرح کی ہوتی ہے جبکہ اس عمر میں اس میں ایک گریس آ جاتی ہے‘وغیرہ وغیرہ۔ بہر حال، میں اور آفتاب ایک دوسرے کا نام خوب روشن کر رہے ہیں۔ ہمارے ایک دوست کا کہنا ہے کہ یہ بوہڑ کے نیچے بوہڑ اُگ آیا ہے۔ 
اوکاڑہ سے ہماری شاعر دوست مسعود اوکاڑوی (حال:مسعود احمد) نے یہ فقرہ چست کر رکھا ہے کہ دیکھو جی، کتنا بڑا شاعر تھا اور لاہور جا کر اپنے بیٹے کے نام پر مشہور ہو گیا ہے۔
مذکورہ کالم ہی کے حوالے سے مسعود احمد کے بھائی ندیم اصغر کا فون آیا، یہ بھی بتایا کہ مسعود احمد آج کل شوگر وغیرہ کے چنگل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کے لئے دعائے صحت!
فارم ہائوس سے خبر یہ ہے کہ ہماری کتیا نے تین بچے دیئے ہیں۔ یاد آیا کہ ایک فلمی شخصیت کے ہاں تین بیٹے پیدا ہوئے ‘تو ان کا ایک ستم ظریف دوست مبارک باد دینے کے لئے آیا اور بولا کہ جب آنکھیں کھول لیں‘ تو ایک مجھے بھی دینا!
اور اب اس ہفتے کی تازہ غزل:
یہ جو آسانی ہمیں اہل نظر ہونے میں ہے
کچھ ادھر ہونے میں ہے اور کچھ اُدھر ہونے میں ہے
فکر مندی ہے نہ ہے کوئی پریشانی ہمیں
اپنی ساری کامیابی بے خبر ہونے میں ہے
آسماں ٹوٹا نہیں تھا کوئی پہلی بار، اگر
کہیے آخر ہرج کیا بارِ دگر ہونے میں ہے
غلطی جو کر نہیں پائے محبت کی، حضور
کچھ کمی تو آپ کے بندہ بشر ہونے میں ہے
ورنہ تو ممکن تھا اُس کو ڈھونڈ ہی لیتے، مگر
کچھ کسر شاید ہمارے دربدر ہونے میں ہے
اپنے ہی طولِ بیاں سے کام کر ڈالا خراب
جانتے تھے فائدہ تو مختصر ہونے میں ہے
آج تک یہ بھی نہیں معلوم ہم کو ہو سکا
ہے اگر تو بہتری اپنی کدھر ہونے میں ہے
سچ اگر پوچھیں تو لوگوں کے گزرنے کا مزہ
وہ سفر میں بھی نہیں جو رہگزر ہونے میں ہے
منہ پہ کہہ دیتے ہیں ساری بات جو بھی ہو ظفرؔ
یہ رکاوٹ بھی ہمارے معتبر ہونے میں ہے
آج کا مقطع
فاصلوں ہی فاصلوں میں‘ جان سے ہارا ظفرؔ
عشق تھا لاہورے کو ایک ملتانی کے ساتھ

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved