تحریر : منیر احمد بلوچ تاریخ اشاعت     26-05-2018

مٹی دیاں مورتیاں

ا سلام آباد کی احتساب عدالت میں شاہی کرو فر سے 72 پیشیوں کے بعد ایون فیلڈ اور العزیزیہ سٹیل مقدمات کا آخری مرحلہ پہنچنے پر میاں نواز شریف اور مریم صفدر کے عدالتی بیانات ریکارڈ ہونا شروع ہوئے‘تو طے شدہ عدالتی قاعدے قانون کے مطا بق گواہوں کی طرح ملزمان کو بھی عدالتی کٹہرے میں کھڑا ہونا پڑتا ہے‘ اسی طرح مریم صفدر کو اپنا بیان ریکارڈ کرانے اور پھر استغاثہ کے وکیل کی جرح اور جج کے سوال و جواب کیلئے کٹہرے میں آنا پڑا ‘بالکل اسی طرح جیسے واجد ضیا اور عمران ڈوگر کو آپ کے سامنے دوسرے گواہوں کی طرح کئی کئی دن اور کئی کئی گھنٹے کٹہرے میں کھڑے ہو کر اپنے بیانات ریکارڈ کرانے پڑے تھے۔ کیا آپ کے وکلا کٹہرے میں کھڑے ہوئے واجد ضیا پر کئی کئی گھنٹے جرح نہیں کرتے رہے؟ میاں صاحب کو اس عدالتی طریقہ کار کا اچھی طرح علم تھا‘ لیکن پہلے سے طے شدہ پلان اور اس کے ذریعے سیا سی ہمدردیاں سمیٹنے کیلئے میاں نواز شریف نے کمرہ عدالت میں اپنے ساتھ لائے ہوئے نیم سرکاری میڈیا سے مخاطب ہوکر کہنا شروع کر دیا کہ ایک باپ کے سامنے اس کی بیٹی کو عدالتی کٹہرے میں کھڑا کیا جا رہا ہے‘ ایسا کرنے والوں کو یاد رکھنا ہو گا کہ ایک دن ان کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک ہو گا اور پھر سب نے دیکھا کہ ۔نیم سرکاری میڈیا اس خبر کو اچھالنا شروع ہو گیا ۔ میاں صاحب کا شکوہ اپنی جگہ درست ،اورسچی بات ہے کہ مریم صفدر ہی نہیں ‘ہمیں کسی کی بیٹی کا ایک دن کیلئے ایک لمحے کیلے بھی کسی تھانے ‘ ایف آئی اے یا عدالت میں آنا اچھا نہیں لگتا‘ لیکن میاں صاحب:YOU ASKED FOR ITََ
آج جب آپ احتساب عدالت کے اندر سیا سی ہمدردیاں بٹورنے کیلئے مریم بیٹی کی مظلومیت کے قصے سناتے ہوئے ان کے کٹہرے میں کھڑے ہونے کی بریکنگ نیوز دکھا رہے ہیں ،اپنے تجزیہ کاروں کے ذریعے فوج پر تبرے بھجوا رہے ہیں ‘تو یہ پوچھنے کا حق بھی دیں کہ 72 عدالتی پیشیوں پر آپ کی زبان پر ایک لمحے کے لئے بھی کٹہرے کا شکوہ نہیں آیا؟ لیکن جیسے ہی مریم کی باری آئی‘ تو آپ نے سیا سی ماتم شروع کر دیا۔ کہیں یہ اس لئے تو نہیں کہ '' بیٹے سے تنخواہ نہ لینے اور مجھے کیوں نکالا کا بیانیہ اب کچھ پرانا ہونے کے ساتھ اپنی قد رکھو چکا تھا‘‘۔ اور اس کی جگہ کسی ایسے نعرے اور بیانیے کی ضرورت تھی‘ جس سے عورتوں سمیت معصوم بھولے بھالے لوگوں کی ہمدرد یاں بھی لوٹ لی جائیں؟ اپنی جماعت کے لوگوں کے جذبات سے کھیلتے ہوئے ان کو مزید بیوقوف بنانے کیلئے '' رونا شروع کر دیا جائے کہ دیکھو کتنا ظلم ہو رہا ہے کہ بیٹی کو اس کے باپ کے سامنے کٹہرے میں کھڑا کیا گیا ہے ‘‘۔ بیٹی باپ کے ساتھ ہزاروں افراد کے جلسوں سے خطاب کر سکتی ہے؟ احتساب عدالت میں آتے جاتے ا س ملک کی افواج ا ور عدلیہ پر بھارت کا سارا گند الٹا سکتی ہے‘تو پھر آپ کی وجہ سے عدالت کے کٹہرے میں آنے پر شکوہ کیسا؟
مجھے تو جے آئی ٹی دفتر کے باہر ڈیوٹی پر کھڑی کندھوں پر PSP کابیج لگائے اس خاتون ایس پی کا جھک کر مریم کے پائوں کے پاس سے گری ہوئی پنسل کا اٹھاکر مریم کو دینا او رپھر مریم صفدر کا اس پنسل کو نخوت اور شان ِبے نیازی سے گاڑی کے اندرپھینک دینا بھی اچھا نہیں لگا تھا‘یہ علیحدہ بات ہے کہ مریم کے پائوں میں گر کر پنسل اٹھانے والی اسلام آباد پولیس کی اس خاتون ایس پی کو ا س کے اس طرح'' گرنے‘‘ پر بطور انعام یا بخشش ایک بہترین پوسٹنگ دے دی گئی ہے‘ لیکن یقین جانئے اس خاتون ایس پی کا ہر کسی کی نظروں سے گرنا‘ آج تک اچھا نہیں لگا ‘تو مریم صفدر کو کٹہرے میں کھڑے دیکھنا کیسے اچھا لگ سکتا ہے؟
مریم صفدر کے کٹہرے میں کھڑے ہونے کا شکوہ تو کر دیاگیا‘ لیکن شرمیلا فاروقی اور ڈپٹی سپیکر سندھ اسمبلی شہلا رضا کا جواب ِشکوہ بھی سن لیجئے‘ وہ پوچھتی ہیں: ان کا کیا قصور تھا‘ جب آپ کے حکم پر سیف الرحمان نے 1997ء میں شرمیلا فاروقی اور اس کی والدہ کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے جیل میں پھینکا تھا ۔شرمیلا فاروقی پوچھتی ہے: ہم ماں بیٹی کو جیل کے اندر پھینک کر سرکاری ٹی وی اور من پسند اخبارات کے فوٹو گرافر بلا کر جیل کے اندر مارتے ہوئے ہماری فلمیں کس لئے اور کیوں بنائی گئی تھیں؟اگر کوئی جرم ہمارے والد نے کیا تھا‘ تو اس کی سزا انہیں دی جاتی ‘ہمیں کس لئے تھپڑ مارے گئے ؟کیوں ہمیں تھانے کے اندر چھڑیاں مارتے ہوئے گھسیٹا گیا؟شرمیلا فاروقی پوچھنے کا حق رکھتی ہے کہ آپ کی بیٹی تو شاہی سواری اور شاہی پروٹو کول کے ساتھ عدالت تشریف لا رہی ہے ‘اس کے ساتھ پاکستان کی آدھی کابینہ ہوتی ہے‘ اسلام آباد اور پنجاب پولیس کے بڑے بڑے افسران ہوٹر بجاتے ہوئے راستہ بناتے ہیں‘ لیکن ہم ماں بیٹی کو فرش پر بیٹھادیا گیا‘ اور سخت گرمی میں پنکھا بند کر دیا گیاتھا۔کیا آپ کو شرمیلا فاروقی کی وہ تصویر یاد نہیں جب پولیس نے اس کے کپڑے پھاڑ دیئے تھے اور اس کی تصویریں اخبارات میں شائع کرائی جا رہی تھیں؟ شہلا رضا کو پولیس کی گاڑی میں روزانہ عدالت لایا جاتا تھا اور شرمیلا فاروقی کو تھانوں میں پیٹا جاتا رہا۔ خد ا نہ کرے کہ آپ کی بیٹی کو کبھی اس طرح کی گندی گاڑیوں اور مرد پولیس والوں کے درمیان بٹھایا جائے۔
آپ نے دھمکی آمیز شکوہ کرتے ہوئے مریم صفدر کا کٹہرے میں کھڑے ہونے کا انتقام لینے کا اعلان تو کر دیا ہے‘ لیکن کیا بھول گئے کہ آپ نے اس ملک کے ایک وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی کے ساتھ کیا سلوک کیا ؟آپ بھول گئے کہ اس ملک کی ایک منتخب وزیر اعظم پارلیمنٹ ہائوس کے لاجز میں جب اپنے گرفتار خاوند سے ملاقات کیلئے ان کے کمرے میں گئیں‘ تو آپ نے ان کی فلمیں بنانے کیلئے خفیہ کیمرے نصب کرا دیئے تھے؟کیا آپ نے وہ فلمیں پھر اپنے خاص ساتھیوں کے ہمراہ بیٹھ کر نہیں دیکھی تھیں؟ کیا بے نظیر بھٹو کسی کی بیٹی اور ماں نہیں تھی؟کیا آپ کے دورِ حکومت میں بند کئے گئے آصف علی زرداری سے جیل میں ہفتے میں ایک بار ملاقات کیلئے آنے والی بے نظیر بھٹو کو آپ کے حکم پر جیل کے باہر کبھی دھوپ اور کبھی سردی میں دو دو گھنٹے انتظار نہیں کرایا جاتا تھا۔
آپ کا شکوہ بنتا نہیں کیونکہ آپ نے تو ذوالفقار علی بھٹو جیسے ایک وزیر اعظم کی بیٹی بے نظیر اور خاتون ِاول کا اعزاز رکھنے والی بیگم نصرت بھٹو کی شرمناک جعلی تصاویر بنا کر پنجاب کے ہر گائوں اور قصبے میں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے گرائی تھیں۔ کبھی سوچا ہے کہ یہ کس قدر گھٹیا حرکت تھی ؟ کیا آپ میں سے کوئی ایک پسند کرے گا کہ آپ کے سیا سی مخالفین آپ کی ماں یا بیٹی کی لاکھوں کی تعداد میں جعلی شرمناک تصویریں چھپوا کر انہیں جہازوں او رہیلی کاپٹروں سے گھر گھر گرایا جائے؟آپ کا یہ شکوہ بنتا نہیں‘ ماڈل ٹائون کی تنزیلہ اور شازیہ کے پاک چہروں کو کلاشنکوف کے برسٹ مارے گئے‘ وہ بھی کسی کی بیٹیاں تھیں۔ ہاں! یہ علیحدہ بات ہے کہ آپ کی نظروں میں بیٹیاں صرف آپ کی ہیں ‘باقی لوگوں کے گھروں میں تو صرف مٹی کی مورتیاں ہیں ۔

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved