تحریر : رؤف کلاسرا تاریخ اشاعت     27-05-2018

جنرل اسد درانی کٹہرے میں ...!

اس دفعہ آئی ایس آئی کے سابق چیف جنرل اسد درانی کٹہرے میں ہیں ۔
کچھ برس قبل جنرل شاہد عزیز کٹہرے میںلائے گئے تھے۔ الزام دونوں پر ایک ہی ہے جو سقراط کے ٹرائل کی یاد دلاتا ہے۔ان دونوں جرنیلوں پر الزام لگا کہ انہوں نے کتابیں لکھیں اور ملکی راز کھول کر رکھ دیے۔ جنرل شاہد عزیز پر بھی شدید تنقید ہوئی تھی کہ کیوں کتاب لکھی؟ ٹی وی کے پروگراموں سے لے کر کالموں تک میں جنرل شاہد عزیز کی مذمت کی گئی۔ اس وقت ہی کتاب کیوں لکھی؟ لعن طعن کی گئی۔ مجھے لگا‘ اب کوئی جنرل بھول کر بھی کتاب نہیں لکھے گا۔ اس وقت بھی میں نے جنرل شاہد عزیز کے حق میں ایک کالم روزنامہ ''دنیا‘‘ میں ہی لکھا تھا کہ جنرل کو بولنے دیں ۔ کچھ تو پتہ چلے جنرل مشرف دور میں کیا ہورہا تھا۔ کون کیا کررہا تھا‘ لیکن ہم سب لٹھ لے کر جنرل شاہد عزیز کے پیچھے پڑگئے اور اس کو گھر تک چھوڑ کر آئے کہ آئندہ کوئی بات لکھنے کی کوشش کی‘ تو تمہاری خیر نہیں۔ 
اب کی دفعہ جنرل اسد درانی ہاتھ لگ گئے ہیں۔ مجھے امید ہے‘ جو لوگ ان پر گولہ باری کررہے ہیں‘ ان میں سے اکثریت نے وہ کتاب نہیں پڑھی۔ واٹس ایپ گروپس میں یہ کتاب ایک فائل کی شکل میں بہت سارے دوستوں نے بھیجی ہے اور مجھے یہ بھی پوری امید ہے کہ جنہوں نے بھیجی ہے ‘انہوںنے خود کتاب نہیں پڑھی ۔ سارے غصے کی بنیاد وہ ٹی وی خبریں اور اخباری تراشے ہیں‘ جو کتاب سے لے کر شائع کئے گئے۔ جتنا میں نے اب تک اس کتاب میں پڑھا ہے‘ میرا خیال ہے ‘وہ کسی حد تک غلط بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ 
جنرل درانی اور'' را‘‘ کے چیف کے درمیان ہونے والی گفتگو ہوسکتا ہے کہ بہت ساروں کو اس وجہ سے نہ پسند آئے کہ بھلا کیسے دو دشمن ملکوں کے سابق انٹیلی جنس چیفس اتنے دوستانہ ماحول میں بیٹھ کر بہت اہم ، نازک اور حساس موضوعات پر کھل کر گفتگو کرسکتے ہیں۔ 
مجھے یہ کتاب بہت دلچسپ لگی ہے۔ جب کتاب ختم ہوگی‘ تو میرے پاس انفارمیشن کا خزانہ ہوگا۔ جہاں مجھے آئی ایس آئی کی ورکنگ کے بارے میں پتہ چل رہا ہے‘ وہیں بھارتی ایجنسی ''را ‘‘کا بھی اندازہ ہورہا ہے کہ وہ کیسے آپریٹ کرتے ہیں۔ مجھے بتائیں اب کتنے ٹی وی چینلز، کالم نگاروں اور اخبارات نے آپ کو یہ بتایا ہے ؛'' را‘‘ کے سابق چیف نے پاکستانی آئی ایس آئی کی تعریف کی ہے۔ بھارت میں کسی نے ''را‘‘ کے سابق چیف کی مذمت کی کہ کیوں دشمن آئی ایس آئی کی تعریف کی ہے؟ جب میزبان صحافی نے جنرل درانی سے وجہ پوچھی کہ آئی ایس آئی اتنے کم وقت میں کیسے دنیا کی بڑی ایجنسی بن گئی؟ تو جنرل درانی نے بہت خوبصورت جوابات دیے ‘ جو دل کو لگتے ہیں۔ 
زیادہ شور کشمیر میں پاکستانی حمایت کے اعتراف اور ممبئی حملوں کے متعلق کیا جارہا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے جنرل مشرف کھل کر کہہ چکے ہیں کہ کشمیر میں لڑنے والے ہمارے ہیرو ہیں اور وہ ہم نے پیدا کیے تھے ۔ حافظ سعید جنرل مشرف کا ہیرو ہے۔ سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ضیاء الدین بٹ نے ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ نان سٹیٹ ایکٹرز ہماری فرسٹ ڈیفنس لائن ہیں۔یہ کون سا راز ہے‘ جس کا علم نہیں؟ کون سا ریٹائرڈ فوجی ہے‘ جو ان نان سٹیٹ ایکٹرز‘ جو کشمیر یابھارت میں کارروائیاں کرتے ہیں‘ کا دفاع ٹی وی پر نہیں کرتا یا انہیں 'اون‘ نہیں کرتا؟ 
دوسرا بڑا اعتراض اسامہ بن لادن پر آرہا ہے۔ جنرل نے کہا: پاکستان نے اسامہ کو امریکہ کے حوالے کیا ۔ اس پر جنرل درانی نے واضح کیا کہ یہ بات میں پہلے ٹی وی پر بھی کہہ چکا ہوں اور یہ میری assessment ہے۔ اندازے اور انفارمیشن میں بھی بہت فرق ہوتا ہے اور جنہوںنے کتاب سے یہ پیراگراف ترجمہ کیا ہے‘ وہ سمجھنے میں ناکام رہے ہیں ۔ اندازہ ہر کسی کا ہوتا ہے‘ جو غلط یا درست ہوسکتا ہے‘ لیکن انفارمیشن کا مطلب ہوتا ہے‘ بات پکی ہے۔ کسی کے اندازے لگانے سے آسمان نہیں گر پڑتا‘ لیکن اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ اس کی انفارمیشن ہے ‘تو پھر یقینا آسمان گرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں اندازے اور انفارمیشن کے فرق کا بھی نہیں پتہ تو پھر دیواروں سے سر ٹکراتے رہیں ‘آپ ۔ 
جنرل درانی نے کہا: میں ٹی وی پر پہلے کہہ چکا ہوں یا تو اسامہ کو ہم نے چھپا کر رکھا ہوا تھا یا کسی مرحلے پر ہمیں پتہ تھا کہ اسامہ پاکستان میں ہے، بہرحال ہمیں اپر ہینڈ تھا۔ شاید کسی مرحلے پر آئی ایس آئی کو بھی پتہ چل گیا تھا اور امریکہ کو کسی انڈرسٹینڈنگ کے تحت حوالے کیا گیا ہو۔ شاید ہم نے امریکن کو کہا ہو: اسامہ کو لے جائو اور ہم ایسے ظاہر کریں گے‘ جیسے ہمیں پتہ نہیں تھا۔ اگر ہم نے اس میں کسی رول سے انکار کیا ہے ‘تو اس کا مطلب یہ تھا کہ حکومت ِوقت کے لیے مسائل کھڑے ہوسکتے تھے ‘اگر یہ پتہ چلتا کہ ہم نے امریکہ سے تعاون کیا ہے۔
اب ذرا بتائیں‘ اس میں کہاں جنرل درانی نے کہا ہے کہ یہ ان کی پکی انفارمیشن ہے اور یہ سب کچھ ہوا ہے؟ اس نے ہر جگہ لفظ perhapsاور assessment استعمال کیا ہے۔ 
ویسے یہ بات وکی لیکس میں بھی آچکی ہے۔ یوسف رضا گیلانی نے امریکیوں کو کہا تھا: آپ ڈرون مارتے رہیں‘ ہم مذمت کرتے رہیں گے۔ یہی کچھ جنرل مشرف نے امریکیوں سے طے کیا تھا۔ یہی کچھ جنرل کیانی نے طے کیا :آپ ڈرون مارتے رہیں‘ ہم مذمت کرتے رہیں گے۔ ڈان کی سٹوری تھی کہ جنرل کیانی نے امریکیوں کو ٹارگٹ دیا تھا کہ وہ ڈرون استعمال کریں۔ تو یہ کون سی نئی بات ہے‘ جو جنرل درانی کررہے ہیں کہ ''شاید‘‘ہم نے یہی کچھ اسامہ کے معاملے پر بھی کیا ؟ 
ممبئی حملوں کے بارے میں بھی یہی شور مچایا گیا ہے۔ کیونکہ ہمارے ہاں کتابیں پڑھنے کا کوئی رواج نہیں ہے‘ لہٰذا پھر چائے کی پیالی میں طوفان اٹھایا گیا ہے۔ اگر کسی نے سابق ڈی جی ایف آئی اے طارق کھوسہ کی چند ماہ پہلے آنے والی کتاب پڑھی ہوتی‘ تو پتا ہوتا کہ وہ تفصیل سے بتا چکے ہیں کہ کیسے یہ سب حملہ پاکستان سے پلان کیا گیا ۔
جب آپ یہ کتاب پڑھنا شروع کرتے ہیں‘ تو آپ کو واضح ہوجاتا ہے کہ یہ جنرل درانی کے اپنے خیالات ، اندازوں اور تبصروں پر مبنی کتاب ہے۔ اس نے اپنے خیالات شیئر کیے ہیں ‘نا کہ اس نے کوئی راز افشاں کیے ہیں ۔ اس کتاب کو پڑھتے ہوئے آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ کئی سوالات ایسے کیے گئے‘ جس کا مقصد ان سے انفارمیشن نکلوانا تھا‘ لیکن جنرل درانی نے سمجھداری سے بات کی اور بات موڑ دی۔ سوال کرنے والے کا بھی قصور نہیں ہے کیونکہ جب آپ ایک سابق ڈی جی آئی ایس آئی سے مل رہے ہوتے ہیں‘ تو پھر آپ موسم پر تو گفتگو نہیں کریں گے بلکہ کوشش ہوگی کہ ایسی انفارمیشن نکلے ‘جو لوگوں کے لیے دلچسپی کا باعث ہو۔ 
اس قوم کو نہ سچ سننے کی عادت ہے اور نہ ہی دلچسپی ۔ ہم ایک ہیرونچی کی طرح جیے جانے پر یقین رکھتے ہیں۔ چند لوگ جو کچھ ہمیں بتا دیں، جو بیانیہ ہمیں دے دیں ‘ ہم نے اس پر زندہ رہنا ہوتا ہے۔ ساری عمر ہم درسی کتب کے علاوہ کوئی کتاب نہیں پڑھتے بلکہ اس کوبھی رٹا لگا کر پڑھتے ہیں کیونکہ ہم نے امتحان دینا ہوتا ہے۔ 
ویسے اب بڑے عرصے تک کوئی اور جنرل کتاب لکھنے کی جرأت نہیں کرے گا۔ چند لوگ کیا گیمز کھلتے رہتے ہیں‘ ان کا پتہ نہیں چلے گا ۔ جو یہ کھیل کھیلتے رہتے ہیں‘ ان کے اپنے بچے امریکہ لندن رہتے ہیں‘ وہیں پڑھتے اور ہمارے جیسے بدنصیبوں کو اتنا حق بھی نہیں کہ جان سکیں کہ اس خطے میں دونوں ملکوں کے انٹیلی جنس ادارے کیا کیا کھیل رہے تھے۔بہتر ہوتا جنرل درانی اور'' را‘‘ چیف دلت کو استعمال کر کے دونوں ملکوں میں تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کی جاتی ۔ اس خطے سے جنگی جنوں اور پراکسی جنگوں کے خاتمے اور مسائل کے حل کے لیے انہیں استعمال کیا جاتا‘ لیکن الٹا ہم توپیں ‘گنیں لے کر ان کے پیچھے پڑگئے ہیں۔ ہمیں بھی کتابیں پڑھنے اور شعور سے ایسی ہی نفرت ہے‘ جیسی سقراط کے زمانے میں یونان میں تھی۔ سقراط کٹہرے میں پیش ہوا‘ تو جج نے پوچھا کیا :الزام ہے؟ جواب ملا: یہ ہمارے بچوں کو اپنی گفتگو سے خراب کررہا ہے۔ پراسیکیوشن کے وکیل نے الزامات لگا کر سقراط کے بولنے سے پہلے ججوں کو خبردار کیا۔ یہ لوگوں کو لچھے دار باتوں میں گھیر لیتا ہے۔ خبرداراس کی باتوں میں نہ آجانا۔ 
وہی کچھ ہمارے ہاں ہورہا ہے۔جو کتاب چھپتی ہے ‘اس پر رولا پڑ جاتا ہے؛ خبردار نہ پڑھنا‘ آسمان گر پڑے گا ۔ شاہد عزیز کے انکشافات کے بعد بھی آسمان نے گرنا تھا‘ دو برس سے زائد ہوگئے ہیں‘ ابھی نہیں گرا۔ اب دیکھتے ہیں کہ جنرل درانی کے اندازوں اور تبصروں سے آسمان کب گرتا ہے۔

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved