تحریر : نذیر ناجی تاریخ اشاعت     27-03-2013

پرویزمشرف اور مجرا

کبھی کبھی دل مجبور کر دیتا ہے کہ گھوڑے کو دیکھ ہی لیں۔ یہ اس قصے کی طرف اشارہ ہے‘ جس میں ایک لڑکااپنے دادا سے سرکس دکھانے کی فرمائش کرتا ہے۔ دادا حضور ٹالتے رہتے ہیں۔ کئی مرتبہ انکار ہوا‘ تو ایک دن پوتے نے دادا سے فرمائش کرتے ہوئے کہا ’’دادا جی! آپ مجھے سرکس دکھانے کیوں نہیں لے جاتے؟ وہاں ایک خوبصورت سفید گھوڑا بھی ہے۔ جس پر ایک میم نیکر پہن کے طرح طرح کے کرتب دکھاتی ہے۔‘‘ یہ سن کر دادا تھوڑے سے متذبذب ہوتے ہیں اور پھر بے دلی سے یہ کہتے ہوئے آمادگی کا اظہار کرتے ہیں کہ ’’بیٹے دل تو نہیں چاہ رہا تھا۔ اب تم اتنا ہی مجبور کرتے ہو‘ تو چلومیں بھی تمہارے ساتھ سرکس پہ چلتا ہوں۔ سفید گھوڑا دیکھے بہت عرصہ ہو گیا۔‘‘ آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ دادا جی کے دل میں گھوڑا دیکھنے کی چاہت کیوں پیدا ہوئی؟ اب اگر میں کہوں کہ ’’مجھے سیاسی جماعتوں اور لیڈروں سے دوری اختیار کئے 14 برس سے زیادہ کا عرصہ ہو گیا ہے۔ مگر اب میں پرویزمشرف سے متاثر ہو کر‘ ان کی پارٹی کے لئے کام کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ تو یقین کیجئے کہ سیاست میں دوبارہ جانے کا خیال مجھے کسی غلط نیت سینہیں آیا۔وہ تو بس یونہی آج ایک خبر پر نظر جا اٹکی‘ جس میں اداکارہ لیلیٰ نے ارادہ ظاہر کیا ہے کہ وہ پرویزمشرف کی پاکستان مسلم لیگ میں شامل ہو کر ان کے مشن کو آگے بڑھانا چاہتی ہیں۔ میں اپنی زندگی کا 75واں سال گزار رہا ہوں۔ میرے لئے سیاست میں صرف یہی دلچسپی باقی رہ گئی ہے کہ اگر 84 سال کی عمر کو پہنچ گیا‘ تو نگران وزیراعظم بننے کی امیدکر سکتا ہوں اور اگر وزیراعظم بننے کو دل نہ چاہا‘ تو 84 سال کی عمر کو پہنچنے سے پہلے ہی فائنل رختِ سفر باندھ سکتا ہوں۔ ہرچند میری عمر نگران وزیراعظم بننے کی نہیں۔ لیکن گھوڑا دیکھنے کی خواہش تو کر ہی سکتا ہوں۔ دادا جی صرف ایک میم کا سن کر گھوڑا دیکھنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ پرویزمشرف کی پارٹی میں شامل ہو کر تو اچھی کمپنی بلکہ کمپنیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔ میڈم لیلیٰ نے یہ ہوشربا اعلان کر دیا ہے کہ وہ جنرل صاحب کی جماعت میں شمولیت کے لئے پرتول رہی ہیں۔ انہیں دیرسویر بھی ہو گئی‘ تو گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ کراچی ایئرپورٹ پر جنرل صاحب کا استقبال کرنے کے لئے عتیقہ اوڈھو اپنے پرس کے ساتھ موجود تھیں۔ عتیقہ بی بی کی نگاہ التفات سے محروم رہ گئے‘ تو پرس میں کچھ نہ کچھ مل ہی جائے گا۔ کراچی ایئرپورٹ پر بہرحال وہ ایسی جگہ کھڑی تھیں‘ جہاں کسٹم والوں کا زور نہیں چلتا۔عتیقہ بی بی اگر چاہتیں‘تو انٹرنیشنل لائونج میں جا کر بھی جنرل صاحب کا استقبال کر سکتی تھیں۔ جنرل صاحب کے ہوتے ہوئے‘ کسٹم والوں کی مجال نہیں تھی کہ ان کے پرس کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھتے۔ ویسے بھی جب آنکھ اٹھا کر دیکھنے کے لئے گردوپیش میں بہت کچھ ہو‘ تو پرس کی طرف نظر کس کی جاتی ہے؟ مجھے جنرل صاحب کی حکمرانی سے غرض نہیں۔ ان کے پورے دورحکمرانی میں مجھے صرف ایک مرتبہ احساس ہوا کہ اگر جنرل صاحب کے ساتھ سلام دعا ہو جاتی تو‘ وہ احساس محرومی شاید نہ ہوتا جو ایک شاندار ویڈیو دیکھنے کے بعد ہوا تھا۔ اس ویڈیو میں جنرل صاحب کی ایک شاندار محفل دکھائی گئی ہے‘ جس میں اعلیٰ درجے کے ایک افسر سر پر گلاس رکھے ایسے شاندار ٹھمکے لگاتے دکھائی دیتے ہیں جو سری دیوی یا وجنتی مالا بھی نہیں لگا سکتیں۔ ایوان اقتدار سے جنرل صاحب کی رخصت کے بعد ایوان اقتدار میں سجنے والی محفلیں تو قصہ پارینہ بن کر رہ گئیں۔ مسلم لیگ (ق) کبھی کبھی جنرل صاحب کو یاد کر لیتی ہے۔ گزشتہ روز جب جنرل صاحب کی یاد نے ق لیگ کو بہت ستایا‘ تو اس نے اپنے مرکزی دفتر میں ایک محفل رقص کا اہتمام کر لیا اور جب یوٹیوب پر اس رقص کی ویڈیو چلی‘ تو لوگوں کو جنرل صاحب کی محفل بھی یاد آ گئی۔ افسوس کہ ق لیگ جس اقتدار میں حصے دار تھی‘ اس کا وہ دبدبہ نہیں تھا کہ افسروں کو نچا سکتی ۔ ق لیگ نے اقتدار براستہ گجرات لیا تھا۔ موٹروے کے زمانے میں براستہ گجرات‘ اقتدار کی وہی قسم ہاتھ آ سکتی ہے جو ق لیگ کے ہاتھ آئی تھی۔ آنے والے انتخابات کے بعد ہو سکتا ہے ق لیگ براستہ موٹروے ایوان اقتدار تک جا پہنچے۔ مگر عوام کے موڈ کا کیا پتہ ہوتا ہے؟ وہ جسے چاہیں موٹروے سے اسلام آباد بھیج دیں۔ جسے چاہیں براستہ گجرات بھیج دیں۔ جسے چاہیں موجودہ ریلوے کی پسنجر ٹرین میں بٹھا دیں۔ جس کے ساتھ تانگے والا بھی ریس لگا دے‘ تو ٹرین سے پہلے اسلام آباد پہنچ جاتا ہے۔ بہرحال ق لیگ کی اس خوبی کا اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ وہ اپنے پیاروں کو بھولتی نہیں۔ جنرل (ر) پرویزمشرف کی پاکستان واپسی سے پہلے‘ مسلم لیگ (ق) نے ان کی یاد میں رقص کی ایک تقریب کا اہتمام کیا تھا۔ اس میں ہونے والا رقص‘ جنرل صاحب کی محفل سے بہرحال اچھا تھا۔ جنرل صاحب نے مرد کو نچوایا تھا۔ ان کی چھوڑی ہوئی پارٹی‘ زیادہ ترقی تو نہ کر سکی مگر ایک ہیجڑے تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی۔ میڈیا والے چوہدری صاحبان پر ہمیشہ مہربان رہتے ہیں۔ انہوں نے چوہدری شجاعت حسین اور مشاہد حسین کا ٹھاٹ بنانے کے لئے یو ٹیوب سے رقص کی فٹیج لے کر‘ ٹی وی چینلز پر چلا دی۔ ہمارے سیاسی مولوی حضرات ٹیلیویژن پر اور کچھ دیکھیں نہ دیکھیں‘ اچھے مناظر دیکھنے سے نہیں چوکتے۔ وہ ایسا شوق کی وجہ سے نہیں کرتے۔ ذوق کی وجہ سے بھی نہیں کرتے۔ میڈیا میں رہنے کی چاہت میں کرتے ہیں۔ پہلے ڈھونڈڈھونڈ کر اچھے اچھے مناظر دیکھتے ہیں اور پھر بیانات جاری کرنے لگتے ہیں کہ میڈیا میں فحاشی دکھائی جا رہی ہے۔ فحاشی دیکھنے کا مجھے بھی شوق ہے۔ لیکن میں اکیلا ہی لطف اٹھا کر خاموش ہو جاتا ہوں۔ شور مچا کر دوسروں کو ترغیب نہیں دیتا کہ وہ بھی فوری طور پر ٹی وی آن کر کے بہتی گنگا میں ہاتھ دھو لیں۔ گناہوں کی ترغیب دینا مجھے برا لگتا ہے۔ اکیلے ہی قناعت کر لیتا ہوں۔ بہرحال جب میں نے دیکھا کہ ناقدین جنرل صاحب کی یاد میں کئے گئے مجرے کو ترغیب گناہ کے لئے کثرت سے استعمال کر رہے ہیں‘ تومناسب یہی سمجھا کہ اس مجرے کی بطور گناہ تشہیر و ترغیب کا سلسلہ ‘ حقیقت ظاہر کر کے روک دوں۔ جس روز میں نے اپنے کالم میں انکشاف کیا کہ یہ مجرا وہ نہیں تھا‘ جسے دیکھ کر‘ ناقدین کے ذہنوں میں خواہش گناہ بیدار ہو گئی تھی بلکہ اس مجرے میں رقص کا مظاہرہ کرنے والی /یا والا فنکارایک ہیجڑا تھا۔جب میں نے یہ لکھا‘ اسی دن سے مجھ پر سوالات کی بوچھاڑ ہونے لگی۔ مختلف لوگ ٹیلیفون ‘ ای میل اور بالمشافہ دریافت کرنے لگے کہ ’’مسلم لیگی قیادت میں بیٹا کس کے گھر ہوا تھا؟ جس کی خوشی میں ہیجڑا ناچنے آیا۔‘‘ظاہر ہے میں چوہدری شجاعت حسین کا نام نہیں لے سکتا۔ اگر میں ان کا کہہ دیتا‘ تو پتہ نہیں عزیزی اپنے شو میں اس پر کیا تبصرہ کرتا؟ چوہدری پرویزالٰہی کا نام لینا بھی مشکل ہے۔ وہ آج بھی جواں سال نظر آتے ہیں۔ ان کی پارٹی کی ایک دلکش شخصیت محض ایک غلط خیال میں ق لیگ سے دور ہو گئی۔ ورنہ اس نے غلط فہمی میں ہم خیالی کے لئے‘ جس کا انتخاب کیا‘ چوہدری پرویزالٰہی بہرحال اس سے بہتر ہیں۔ خصوصاً ٹیلیفون پر بات کرتے وقت وہ کبھی ہوش کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔ وہ تو دامن بھی نہیں چھوڑتے۔ کوئی آزما کر تو دیکھے۔ لوگ مجھ سے یہ بھی پوچھ رہے ہیں کہ جنرل (ر) پرویزمشرف کیا سوچ کر پاکستان واپس آئے؟ اس طرح کے سوال کرنے والے قومی سیاست کو پوری طرح نہیں سمجھتے۔ پاکستان میں اقتدار لینے کے لئے الیکشن میں کامیاب ہونا ہی ضروری نہیں۔ اس کے بغیر بھی اقتدار حاصل کیا جا سکتا ہے۔ جنرل صاحب الیکشن میں کامیاب نہیں ہوتے‘ تو بھی عمر - ان کے ساتھ ہے۔ ابھی وہ صرف 69برس کے ہوئے ہیں۔ جب حالیہ انتخابات کے بعد بننے والی حکومت کی معینہ مدت ختم ہو گی‘ اس وقت وہ 74 سال کے ہو چکے ہوں گے۔ قسمت نے یاوری کی اور نگران وزیراعظم بننے کا موقع مل گیا‘ تو پھر اگلے 9سال گزارنا انہیں آتا ہے۔ میں بہرحال جنرل صاحب کے مستقبل سے مایوس نہیں۔ اگر ان کا مستقبل اتنا ہی مشکوک ہوتا‘ تو لیلیٰ ان کی پارٹی میں شامل ہونے کے لئے بیتاب نہ ہوتی اور میں بھی اس بڑھاپے میں سیاست میں کودنے کے لئے پرتول کر‘ کندھوں میں درد کا خطرہ مول نہ لیتا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved