تحریر : منیر احمد بلوچ تاریخ اشاعت     06-06-2018

محسود سے پشین کیسے ہو گیا؟

فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کی بات چلی ہی تھی کہ بھارت اور افغانستان میں اضطراب کی لہریں دوڑنا شروع ہو گئیں اور جب قومی اسمبلی‘ سینیٹ اور خیبر پختونخوا اسمبلی سے فاٹا کے انضمام کی قراردادیں کثرت رائے سے منظور ہوئیں‘ تو بھارت ‘ افغانستان تو ایک طرف محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمن غصے میںآ گئے اور فاٹا میں اپنے جلسوں اور پریس کانفرنسوں میں انہوں نے اسی غصے کا بھر پور اظہار کیا۔ مولانافضل الرحمن کہہ رہے تھے '' تم نے فاٹا کے انضمام کی قرار داد منظور کی ‘تو افغان سفیر کا غصہ تمہیں نظر نہیں آیا؟ اس کا صرف احتجاج نہیں بلکہ اب ڈیورنڈ لائن تنازعہ دوبارہ کھڑا ہو گا‘‘۔۔ان کے ادا کئے گئے ایک ایک لفظ کو سنتے ہوئے یقین نہیں آرہا تھاکہ یہ وہ شخصیت بول رہی ہے‘ جو گزشتہ دس برس سے حکومت پاکستان کی جانب سے قائم کی گئی کشمیر کمیٹی کے چیئر مین کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ مولانا کی چیئر مینی سے لے کر آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کے بھارت سے تعلق تک کشمیریوں کے ساتھ ان کے خلوص کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ خیبر پختونخوا سمیت پاکستانیوں کے سنتے کانوں اور دیکھتی آنکھوں کو کسی گواہی کی ضرورت نہیں کہ ایک جانب محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمن تو دوسری جانب میاںنواز شریف اپنے ان دونوں اتحادیوں کو کھونے کے ڈر سے فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے حق میںنہیں تھے ‘یہی وجہ تھی کہ یہ اہم ترین معاملہ پی ٹی آئی‘ پی پی پی ‘ جماعت ِاسلامی‘ اے این پی‘ ایم کیو ایم سمیت اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بھر پور تائید کے با وجود لٹکتا چلا آ رہا تھا‘ لیکن جیسے ہی نواز حکومت کی آئینی مدت پوری ہونے لگی اور اچکزئی اور مولانا کے ووٹوں اور تقریروں کی ضرورت ختم ہو گئی ‘تو یہ انضمام معرض وجود میں آ گیا ‘جس سے اب علاقہ غیر کی تشریح ختم ہو چکی ہے ‘کیونکہ ہم سب پاکستانی آئین اور قوانین کے سائے میں ایک جیسے حقوق رکھنے والے شہری بن چکے ہیں اور اب یہ نہیں ہو گا کہ دنیا کے جس ملک سے جب بھی کسی کا جی چاہے گا‘ منہ اٹھائے فاٹا میں ڈیرے ڈال لے گا۔ اب کسی غیر متعلقہ شخص کا وہاں آنا ایسے ہی ہو گا‘ جیسے کسی پاکستانی کا کسی دوسرے ملک جانا یا کسی دوسرے ملک سے آنے والے کا پاکستان کے کسی بھی حصے میں آنے پر ہوتا ہے اور یہی دشمن کو سب سے بڑی تکلیف پہنچ رہی ہے ‘کیونکہ اس انضمام سے ان کی دہشت گردی کے نیچے سے آدھا قالین پاکستان کھینچ چکا ہے۔ 
جیسے ہی بھارت نے اندازہ کر لیا کہ اسے اب فاٹا میں پہلے جیسی آزادی نہیں مل سکے گی‘ تو اس نے ایک ایسا شور و غو غا دنیا بھر میں پھیلا نا شروع کر دیا کہ جس سے مودی کی عقل پر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے۔اس صدی کا سب سے بڑا جھو ٹ گھڑتے ہوئے ''انڈیا ٹوڈے ‘‘ نے 9 مئی کو نشر ہونے والے اپنے پروگرام '' انڈیا فرسٹ‘‘ میں شوشہ چھوڑا کہ '' مولوی فضل اﷲ کی تحریک ِ طالبان پاکستان اور آئی ایس آئی کے درمیان معاملات طے پا گئے ہیں اور اب تحریک ِطالبان پاکستان کے لوگ مقبوضہ کشمیر میں گھس کر خود کش حملے کرتے ہوئے بھارتی فوج کے خلاف جہاد کریں گے اور اس کیلئے انہیں پاکستانی جیلوں سے رہا کیا جا رہا ہے‘‘ ۔۔۔۔بھارت کا یہ جھوٹا پراپیگنڈہ پوری پاکستانی قوم کیلئے لمحہ فکریہ ہے اور یہ کوئی ایک جھوٹ نہیں‘ بلکہ اگرہم گزشتہ چھ ماہ کے دوران پاکستان کے خلاف بچھائی گئی شطرنج کی بساط پر بھارت کی ایک ایک چال کو سامنے رکھیں‘ تو پاکستان کوDE-STABLIZE کرنے کیلئے بھارت کی مہارت اور ٹائمنگ کی داد دینا پڑے گی۔
سب سے پہلے آئے روز لائن آف کنٹرول اور ورکنگ بائونڈری پر جدید ہتھیاروں سے گولہ باری اور نقیب اﷲ محسو د کے جعلی پولیس مقابلے میں قتل سے منظور پشین کی اٹھنے والی چنگاری کو ہی لے لیجئے کہ کراچی میں آصف علی زرداری کے معتمد خاص ایک پولیس افسر کے ذریعے محسود قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک پختون نوجوان نقیب اﷲ محسود کا جعلی پولیس مقابلے کے نام پر قتل ہوتا ہے اور اس قتل کیخلاف کراچی میں سول سوسائٹی اور پختونوں میں اٹھنے والی احتجاجی لہر کے تیسرے روز اچانک NDS سے تعلق رکھنے والے منظور محسود کو منظور پشین کے نام سے بھر پور کوریج دلاتے ہوئے دیکھتے ہی دیکھتے بین الاقوامی میڈیاکے قریب کر دیا جاتا ہے۔اور پھرایک نئی تنظیم سامنے آجاتی ہے ‘جس کے جلسوں اور ریلیوں میں شریک لوگ فاٹا میں کھلے عام پاکستان اور اس کی افواج کے خلاف نعرے بازی شروع کرتے ہوئے ان نعروںکی ویڈیوز کی سو شل میڈیا پر بھر مار کر دی جاتی ہے۔ فاٹا جیسے ایک کٹر مسلم معاشرے کے درمیان کھڑے ہو کر منظور پشین کے یہ لوگ اسرائیل کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے دیکھے جاتے ہیں۔ جیسے ہی ملکی افواج ا ور پاکستان کے خلاف ان کے نعرے فاٹا کی فضائوں میں گونجتے ہیں‘ تو الجزیرہ اور بی بی سی سمیت دنیا کا ہر ٹی وی چینل منظور پشین کے گرد گھومنا شروع ہو جاتا ہے۔ کہاں کراچی میں نقیب اﷲمحسود کا جعلی پولیس مقابے میں قتل اور کہاں قبائلی علا قوں میں کھڑے ہو کر پا کستان کے خلاف اور اسرائیلی فوج کے حق میں نعرے بازی۔
کل تک افغان مہاجرین کو افغانستان اور پاکستانی حدود میں آنے جانے پر کوئی خاص سختی نہیں تھی اور جہاں کرپشن عام ہو‘ وہاں ایجنسیوں کی مہارت اور تعلقات سے یہ در اندازی اور بھی آسان ہو جاتی ہے۔ اس سلسلے کو سختی سے روکنے کیلئے وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی نے ایف سی کے ہیلپ سینٹر پر خود کش حملوں میں مارے گئے دہشت گردوں کے ایک زخمی ساتھی کی گرفتاری اور اس کی تفتیش کے نتیجے میں حاصل ہونے والی معلومات پر پریس کانفرنس میں یہ کہہ کر سب کو چونکا دیا کہ بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی کی ہر واردات کے پیچھے افغان مہاجرین کے بھیس میں چھپے ہوئے بد قسمتی سے افغانستان کی خفیہ ایجنسی NDS کے لوگ ہوتے ہیں ‘جو کہیں سہولت کا ر بنتے ہیں‘ تو کہیں خود دہشت گردی میںحصہ لیتے ہیں۔ سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ وقت آ چکا ان افغان مہاجرین کو ہمیں اپنی اور اپنے شہریوں کی جان و مال کی حفاظت‘ اپنی سکیورٹی فورسز پر آئے روز ہونے والے حملوں کو روکنے کیلئے‘ واپس افغانستان بھیجا جائے۔ اس میں بہت سی مشکلات پیش آئیں گی اور خاص طور پر مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی کی جانب سے اسی طرح کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا‘ جس کا مظاہرہ انہوں نے27 مئی کو پشاور میں کے پی کے اسمبلی کے باہر کیا ۔
ظاہر ہے کہ مذکورہ دونوں سیاستدانوں کی سیا ست افغان مہاجرین کی مرہون منت ہے ‘کیونکہ انہوں نے اپنے ہر دور اقتدار میں لاکھوں افغان مہاجرین کے جعلی شنا ختی کارڈ بنوائے ‘انہیں بطور ِووٹر اپنے حلقوں میں رجسٹر کرایا اور انہی کے بل بوتے پریہ کامیاب ہوتے چلے آ رہے ہیں۔

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved