تحریر : ڈاکٹر رشید احمد خاں تاریخ اشاعت     24-06-2018

کشمیر: گورنر راج کے بعد

کشمیر کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ بھارت نوشتۂ دیوار پڑھنے سے انکاری ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت اس حقیقت کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں کہ کشمیر اس کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ کیونکہ کشمیر میں چھوٹے بڑے، مرد، عورت، بچے بوڑھے اب بھارت کی غلامی میں رہنے کیلئے تیار نہیں۔ اس کا ثبوت گزشتہ تقریباً دو سال کے دوران میں ہونے والے واقعات اور حالات کی صورت میں سب کے سامنے ہے۔ بھارت اس عرصہ کے دوران کشمیریوں کی جدوجہد کو دبانے کیلئے ہر حربہ استعمال کر چکا ہے لیکن اس جدوجہد کو دبانے میں مکمل طور پر ناکام رہا۔ بھارتی حکومت کو معلوم ہونا چاہئے کہ کشمیر میں حالات اس کے حق میں نہیں رہے۔ ناکامی اور شکست ان کا مقدر بن چکی ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے اتحاد پر مبنی ریاستی حکومت کا خاتمہ اور ریاست میں گورنر راج کا نفاذ ہے۔ حالات کو اس نہج تک لانے کی ذمہ داری خود بی جے پی پر عائد ہوتی ہے کیونکہ اسی نے وزیر اعلیٰ (اب سابق) محبوبہ مفتی کی پارٹی پی ڈی پی کے ساتھ اتحاد ختم کر کے حکومت سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔ ریاست جموں و کشمیر کی بی جے پی نے یہ فیصلہ اپنی حلیف پارٹی سے مشورہ کئے بغیر کیا۔ بلکہ حکومت سے بی جے پی کی علیحدگی کے فیصلے سے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کو ریاست کے گورنر این این ووہرا نے مطلع کیا۔ اس کے بعد وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے پاس مستعفی ہونے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں تھا‘ کیونکہ بی جے پی کی علیحدگی کے بعد ان کی پارٹی ریاست کی اسمبلی میں اقلیتی پارٹی کی پوزیشن میں آ جاتی ہے۔ بی جے پی نے حکومت سے علیحدگی کا سبب ریاست میں دن بدن بگڑتی ہوئی سکیورٹی کی صورتحال کو ٹھہرایا ہے۔ 
اس میں کوئی شک نہیں کہ برہان وانی کی شہادت کے بعد ریاست میں حالات تیزی سے خراب ہوئے ہیں۔ سکیورٹی فورسز اور مجاہدین میں جھڑپوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں شہید ہونے والے نہتے کشمیریوں کی تعداد بھی پہلے کے مقابلے میں بڑھی ہے۔ صرف رواں سال میں اس وقت تک 134 کشمیری جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔ اس کے باوجود بھارت کی قابض فوج اور سکیورٹی فورسز کے خلاف عوام کے احتجاج میں کمی نہیں آئی‘ نہ ہی ریاستی حکومت مجاہدین کی سرگرمیوں کو دبانے یا محدود کرنے میں کامیاب ہو سکی ہے۔ ان حالات میں ریاست میں بی جے پی اور پی ڈی پی کے اتحاد کا قائم رہنا محال تھا‘ لیکن ریاستی حکومت سے بی جے پی کی علیحدگی کا اصل سبب وہ نہیں جو اس کے ریاستی صدر بتاتے ہیں۔ اصل میں 2014ء کے انتخابات کے بعد بی جے پی نے محبوبہ مفتی کی پی ڈی پی کے ساتھ مخلوط حکومت میں شرکت پر اس لیے آمادگی کا اظہار کیا تھا کہ بی جے پی ریاست کے ہندو اکثریت کے تین اضلاع یعنی جموں‘ کٹھوعہ اور اودھ پور کو اپنا گڑھ بنا کر پی ڈی پی کے ذریعے ساری ریاست کی سیاست کو کنٹرول کرنا چاہتی تھی۔ بی جے پی خصوصاً نریندر مودی کی ایک بہت بڑی اور دیرینہ خواہش یہ ہے کہ بھارت میں مسلم اکثریت کی اس واحد ریاست میں بی جے پی کی حکومت بنے اور اگر یہ ممکن نہ تو دیگر سیاسی پارٹیوں کے ساتھ مل کر ایسی مخلوط حکومت تشکیل دے جو بی جے پی کے تابع ہو تا کہ ریاست جموں و کشمیر میں بی جے پی کے ایجنڈے پر مکمل طور پر عمل درآمد ہو سکے۔ اس ایجنڈے پر سرفہرست آئٹم بھارتی آئین کی دفعہ 370 کو حذف کرتا ہے تا کہ اس دفعہ کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو حاصل سپیشل سٹیٹس کا خاتمہ ہو سکے۔ دوسرا ٹارگٹ ریاست میں انتہا پسند ہندوازم کے نظریئے ہندتوا کو فروغ دینا اور ریاست میں موجود ہندو آبادی کو ساتھ ملا کر مجاہدین کے خلاف مسلح کارروائیاں کرنا ہے۔ لیکن ان دونوں مقاصد میں بھارت کو کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ کشمیر کے مسئلے پر بھارت صرف دنیا بھر میں ہی یک و تنہا نہیں‘ بلکہ خود بھارت اور ریاست کے اندر مودی سرکار کی انتہا پسندانہ پالیسی کو کشمیر میں موجودہ صورتحال کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔ محبوبہ مفتی کی اس تجویز کو کہ یونین حکومت ریاست میں صورتحال کو ڈیفیوز کرنے کیلئے فوری طور پر مجاہدین اور پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کرے، بھارت کی تمام بڑی بڑی سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ لیکن بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے مجاہدین کے ساتھ بات چیت سے انکار اور پا کستان کے ساتھ مذاکرات کو ''دہشت گردی کے خاتمے‘‘ کی شرط سے منسلک اور مشروط کر کے بھارت جموں و کشمیر میں حالات پر قابو پانے اور پاکستان اور بھارت کے درمیان دیرپا امن کے قیام کا ایک موقعہ گنوا دیا۔ اب بھارتی حکومت اپنے ایجنڈے پر گورنر راج کے ذریعہ عمل کرنا چاہتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ گورنر راج کے بعد مرکزی حکومت کو بلا روک ٹوک مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپنی من مانی کرنے کا موقعہ مل جائے گا۔ ابھی سے اطلاعات موصول ہونا شروع ہو گئی ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں زیادہ مہلک ہتھیاروں سے لیس نئے فوجی دستے بھیجے جا رہے ہیں۔ اب مرکزی حکومت اور ریاستی مشینری مربوط طریقے سے مجاہدین کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کریں گی۔ دیگر الفاظ میں ریاست جموں و کشمیر میں پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ خون خرابہ ہو گا۔ لیکن اگر بھارتی حکومت یہ سمجھتی ہے کہ اپنے راستے سے تمام آئینی اور قانونی پابندیاں ہٹا کر اور طاقت کے زیادہ سے زیادہ استعمال سے وہ کشمیری عوام کو شکست دینے میں کامیاب ہو جائے گی تو یہ اس کی بہت بڑی بھول ہے کیونکہ خود بھارتی فوج کے چیف آف سٹاف اعتراف کر چکے ہیں کہ کشمیری نوجوان جان کی پروا کئے بغیر جوق در جوق جہاد میں شامل ہو رہے ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں پہلے ہی بھارت نے کافی فوج جمع کر رکھی ہے اور کشمیری عوام کے خلاف ہر ہتھکنڈا استعمال کیا جا چکا ہے۔ اس کے باوجود کشمیری عوام کے جذبۂ حریت کو ٹھنڈا نہیں کیا جا سکا۔ کشمیری عوام کے جذبۂ حریت کو کچلنے میں ناکامی کے علاوہ بھارت کو کشمیر کے محاذ پر مزید مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس میں اقوامِ متحدہ کی طرف سے کشمیر میں بھارتی افواج کے ہاتھوں وسیع پیمانے پر انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزیوں پر مشتمل ایک رپورٹ کی اشاعت اور اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی طرف سے کشمیر میں ایک تحقیقاتی کمیشن بھیجنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ اگرچہ بھارت نے ان دونوں کو مسترد کر دیا‘ لیکن ان رپورٹس سے کشمیر کے بارے میں ایسے حقائق منظر عام پر آئے ہیں جن کی روشنی میں بھارت کا مکروہ چہرہ اور بھی بے نقاب ہو جائے گا۔
اندیشہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں گورنر راج نافذ کئے جانے کے بعد تشدد اور جنگ میں اور شدت آ جائے گی۔ کیونکہ کشمیر کے بارے میں نریندر مودی کی حکمت عملی یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ طاقت استعمال کر کے اگلے سال یعنی 2019ء کے پارلیمانی انتخابات سے قبل کشمیر کی سکیورٹی صورتحال میں کوئی بڑی تبدیلی لا کر اپوزیشن پارٹیوں کے مقابلے میں اپنی پوزیشن مضبوط بنا سکے‘ لیکن آثار یہ بتاتے ہیں کہ نریندر مودی کی یہ حکمت عملی کامیاب نہیں ہو گی‘ کیونکہ بھارت کی اپوزیشن جماعتیں بی جے پی کے خلاف متحد ہو رہی ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ مودی کی پالیسیوں نے بھارت میں قومی اتحاد کو پارہ پارہ کر دیا ہے‘ اور اگر وہ کشمیر میں اپنی سخت گیر اور غیر لچک دار پالیسی جاری رکھتا ہے تو بھارت میں سیاسی محاذ آرائی میں اور بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ ماضی میں بھی گورنر راج نافذ ہوتے رہے اور ہر بار یہ تجربہ ناکام رہا۔ اس دفعہ بھی یہ اقدام صورتحال میں کوئی بہتری لانے کی بجائے اسے مزید خراب کرنے کا باعث ثابت ہو گا۔

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved