تحریر : ایم ابراہیم خان تاریخ اشاعت     21-07-2018

میڈیا کے دو پاٹ

کسی بھی بات کو اب خبر کا لبادہ اُڑھاکر پھیلانے میں کچھ دیر نہیں لگتی ‘ نہ آگ لگانے میں ۔ دیر لگے بھی تو کیسے کہ کسی بھی بات کو اچھی یا بُری طرح پھیلانے کا نظام موجود ہی نہیں فعال بھی ہے۔ ہم خبر رسانی اور خبر وصولی کے حوالے سے دستیاب سہولتوں کے اعلٰی ترین معیار کے دور میں جی رہے ہیں۔ کوئی بھی واقعہ ہم تک پہنچنے میں چند لمحے لیتا ہے۔ اور کبھی کبھی تو ہم کسی واقعے کو رونما ہوتے ہوئے بھی دیکھتے ہیں۔ گزرے ہوئے زمانوں کے لوگوں کویہ سہولتیں دکھائیے تو اُن کے دل و دماغ پر کیا گزرے ‘اس کا ہمیں اچھا خاصا اندازہ ہے۔ ہم خود بھی تو بار بار حیرت کے سمندر میں غرق ہوتے رہتے ہیں۔ 
میڈیا کے دور میں زندگی بسر کرنے کے جو اچھے برے نتائج برآمد ہوسکتے ہیں وہ برآمد ہو رہے ہیں اور ہم ان سے ہم کنار یا دوچار بھی ہیں۔ دنیا کا نظام اِسی طور چلتا ہے۔ 
خوشی کے ساتھ دنیا میں ہزاروں غم بھی ہوتے ہیں 
جہاں بجتی ہے شہنائی وہاں ماتم بھی ہوتے ہیں 
اِس بازار میں یہی سب کچھ بیچا اور خریدا جاتا ہے۔ زندگی کے میلے کی رونق اِسی نظام سے ہے۔ یکسانیت ہو تو ہر طرف بیزاری کا دور دورہ ہو۔ خیر کے ساتھ شر اور شر کے ساتھ خیر‘یہی ہماری آزمائش اور یہی سزا یا جزا ہے۔ 
بات ہو رہی ہے آسانیوں کے ساتھ مشکلات اور پریشانیوں کے ساتھ سامانِ راحت کی۔ ہم ایسی زندگی بسر کر رہے ہیں جس میں ہمارے لیے بہت کچھ ہے اور بہت کچھ نہیں بھی ہے۔ ایسا بہت ہے جو کل تک تھا مگر آج کی زندگی کا حصہ نہیں‘ اور آج کی زندگی میں ایسا بہت کچھ ہے جو گزرے ہوئے کسی بھی دور میں انسان کے تصور سے بھی دور تھا۔ 
میڈیا ہی کو لیجیے‘ میڈیا کا عمل دخل ہماری زندگی میں اس قدر ہے کہ ہم نہ چاہتے ہوئے بھی بہت سے رجحانات کو اپنانے پر مجبور ہیں اور بہت سے کام خالص مشینی انداز سے کرتے ہیں۔ اب ہمارا وقت ہمارے تصرف میں ہے نہ ہمارے وسائل۔ بہت سے رجحانات ہماری زندگی اور نفسیاتی ساخت کا حصہ بن گئے ہیں اور ہم لاشعوری یا تحت الشعوری طور پر انہیں اپنائے رہنے پر مجبور ہیں۔ معاملہ زمانے کے ساتھ چلنے کا بھی ہے۔ میڈیا نے ہمارے لیے اتنی سہولتیں پیدا کردی ہیں کہ قدم قدم پر مشکلات کا جال سا پھیلا ہوا ہے۔ کہنا پڑتا ہے 
عزیز اِتنا ہی رکّھو کہ جی بہل جائے 
اب اِس قدر بھی نہ چاہو کہ دم نکل جائے! 
جاننے کا حق ہر انسان کو ہے۔ اور جاننا ہر انسان کا فرض بھی ہے۔ اپنے ماحول کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننا انسان کے لیے لازم ہے۔ اپنی شخصیت کو سمجھنے کے لیے انسان کو بہت کچھ پڑھنا اور سمجھنا پڑتا ہے۔ اس عمل سے گزر کر ہی وہ سوچنے پر مائل ہوتا ہے۔ سوچنا ہر انسان کے بس کی بات نہیں‘ اس کے لیے پہلے علم کے حصول کی منزل سے گزرنا پڑتا ہے۔ مگر کیا لازم ہے کہ ہر انسان زمانے بھر کی یکسر غیر ضروری باتوں کو بھی اپنے ذہن میں انڈیلتا رہے؟ کس نے کہہ دیا کہ ہر انسان کے لیے سب کچھ جاننا انتہائی ضروری یا لازم ہے؟ کسی بھی دور کے انسان کے لیے یہ سب کچھ لازم نہیں تھا اور آج کے انسان کے لیے بھی معاملہ یہی ہے۔ 
ہماری زندگی چونکہ میڈیا کے واضح اثر میں ہے اس لیے حکومتیں‘ کاروباری ادارے اور دیگر 'سٹیک ہولڈرز‘ میڈیا کو ہمارے خلاف یا اپنے مفادات کو زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کرنے کی غرض سے بروئے کار لاتے ہیں۔ اصولی طور پر تو یہ بات حیرت انگیز ہے نہ قابلِ مذمّت۔ منطق کے نقطۂ نظر سے بھی دیکھیے تو میڈیا کو مختلف مقاصد کے لیے بروئے کار لانا زیادہ قابلِ اعتراض نہیں۔ مگر اخلاقی اقدار کی دنیا کچھ اور کہتی ہے۔ میڈیا کو رائے عامہ کی تشکیل و تہذیب کے ساتھ ساتھ تکذیب و تنسیخ کے لیے جس بڑے پیمانے پر اور جس بھونڈے انداز سے بروئے کار لایا جارہا ہے اُسے دیکھ کر سمجھ میں نہیں آتا کہ زیادہ حیرت ہونی چاہیے یا افسوس۔ میڈیا کے بے لگام غلط استعمال کے نتیجے میں انسان کی حالت قابلِ رحم ہوچکی ہے۔ آج کا انسان بیشتر معاملات میں میڈیا کے ہاتھوں ایسی سوچ کا حامل ٹھہرتا ہے جس سے چھٹکارا پانا اس کے اختیار میں نہیں ۔ 
ہم میڈیا کے غلام ہوکر رہ گئے ہیں۔ ایک طرف مین سٹریم میڈیا ہے اور دوسری طرف سوشل میڈیا۔ مین سٹریم میڈیا اپنی بہت سی خرابیوں اور خامیوں کے باوجود اب تک کسی نہ کسی اعتبار سے قابلِ اعتبار ہے۔ ایک باضابطہ ادارہ جب کوئی خبر دیتا ہے یا کوئی تجزیہ پیش کرتا ہے تب یقین کرنے کو جی چاہتا ہے اور دل کے کسی کونے میں یہ اطمینان بھی بسا ہوتا ہے کہ کسی بھی ایسی ویسی بات پر وضاحت طلب کی جاسکتی ہے۔ 
متبادل محاذ سوشل میڈیا کا ہے۔ ڈیسک ٹاپ پبلشنگ کے آسان آپشن نے معاملات کو برق رفتاری سے فروغ بھی دیا ہے اور الجھایا بھی ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے کوئی بھی اچھی یا بُری بات عقل کو دنگ کردینے والی تیزی سے پھیلائی جاسکتی ہے۔ اور پھر اس کا ردعمل بھی اتنی ہی تیزی سے پیدا ہوتا ہے۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ لوگ سوشل میڈیا کے دھاروں میں بہتے چلے جاتے ہیں اور اس بات پر غور نہیں کرتے کہ خود کو کسی دھارے کے حوالے کردینا سفر نہیں کہلاتا‘ اور جب سفر ہی نہیں ہوا تو منزل کیسی؟ دھارے کے رحم و کرم پر بہتے رہنے سے انسان کہیں بھی پہنچ سکتا ہے‘ اور اس وقت ہمارے ساتھ یہی ہو رہا ہے۔ پاکستانی قوم نے خود کو ہر دو طرح کے میڈیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ سوشل میڈیا کے معاملے میں ڈھیلا پن ہلاکت خیز حد تک پہنچ چکا ہے۔ مین سٹریم میڈیا کے معاملے میں بھی قوم لاپروائی برت رہی ہے‘ مگر بالکل اندھی نہیں ہوگئی۔ چینلز کو بدلتے رہنے سے وہ کبھی کبھی حقیقت تک پہنچ بھی جاتی ہے اور کچھ نہ کچھ سوچنے کی راہ پر بھی گامزن ہوتی ہے۔
سوشل میڈیا کا معاملہ خود کو دھارے کے رحم و کرم پر چھوڑ دینے والا ہے۔ بیشتر سوشل میڈیا ویب سائٹس افواہ ساز فیکٹری کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ مقبول ترین ویب سائٹس ہمیں راہ دکھانے کا وسیلہ بننے کے بجائے گمراہ کرنے کا آلہ ثابت ہو رہی ہیں۔ سوشل میڈیا ہمارا مدد گار ہونے سے کہیں زیادہ امتحان کا درجہ رکھتا ہے۔ اس آزمائش میں پورے اترنے والے خال خال ہیں۔ سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی بات دوسروں تک پہنچانا چونکہ بہت آسان ہے اس لیے استفادہ کرنے والوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے‘ جو اپنی بات آسانی سے کہتا ہے وہ دوسروں کی بات بھی آسانی سے قبول کرلیتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ سچائی کہیں دب دبا گئی ہے اور دنیا بھر کی جھوٹی اور بے بنیاد باتیں صداقت کے درجے پر فائز ہوکر ہمارے حواس پر مسلط ہوچکی ہیں۔ 
ہمارا وقت بے وقعت ہے نہ وسائل۔ زندگی ہمیں ملنے والی بہترین نعمت ہے۔ اس نعمت کو بے مصرف چھوڑا جاسکتا ہے نہ ضائع کرنے کی گنجائش ہے۔ مین سٹریم اور سوشل میڈیا چَکّی کے دو پاٹوں کی مانند ہیں۔ جس نے دھیان نہ رکھا‘ احتیاط نہ برتی وہ پِس گیا۔ آپ کو اس چَکّی سے استفادہ بھی کرنا ہے اور پسنے سے بچنا بھی ہے۔ معلومات کے نام پر جو کچھ بھی آپ تک پہنچ رہا ہے اس پر آنکھیں بند کرکے یقین کرنے سے گریز کرنا آپ کی ایک اہم ذمہ داری ہے۔ تصدیق کے مرحلے سے گزرنے ہی پر آپ حقیقت تک پہنچ سکتے ہیں اور پہنچنا ہی چاہیے۔ 

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved