تحریر : ڈاکٹر لال خان تاریخ اشاعت     23-07-2018

ووٹر کی عزت

پاکستان میں اس وقت جو انتخابی معاملات چل رہے ہیں ان میں عوام کی گرمجوشی اور کشش کا فقدان ایک اکتاہٹ کو جنم دے رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس الیکشن مہم کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ ٹھنڈی اور کافی حد تک امنگوں سے عاری ہے۔ تحریک انصاف کی جتنی 'ہائپ‘ پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اس کے جلسے اتنے ہی خالی ہیں۔ غور کریں تو یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے۔ مالیاتی سرمائے کی پجاری اشرافیہ اب پوری طرح پیسے اور دھونس کے زور پر مہم چلا رہی ہے۔ عوام کی امنگوں اور سسکتی ہوئی آرزوئوں کے لئے امید کی کوئی کرن بھی نہیں ہے۔ عام طور پر طبقاتی معاشروں میں انتخابات حکمران طبقات کے مختلف دھڑوں کی دولت اور طاقت کے حصول کی ہوس کا ٹکرائو ہوتے ہیں‘ لیکن کہیں نہ کہیں عوام کو امید کا سراب تو محسوس ہوتا ہے؛ تاہم یہاں ایسا بھی نہیں ہے۔ حکمران طبقات کی باہمی لڑائی اتنی شدت اختیار کر گئی ہے کہ اب وہ ہر قسم کے حربے سے یہ الیکشن جیتنے کے درپے ہیں۔ بعض قوتیں اِن انتخابات کے نتیجے میں آنے والی حکومت کو انتہائی نحیف اور مطیع بنا دینا چاہتی ہیں۔ پچھلے ستر سال سے فیصلہ کن حلقوں کا جو کنٹرول چل رہا ہے وہ اس میں کوئی ہلکی سی رخنہ اندازی بھی برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ ہر طرف ''انجینئرنگ‘‘ کا شور ہے۔ بین الاقوامی سطح پر مختلف طاقتور میڈیا گروپس بھی'' پری پول رِگنگ‘‘ کا الزام جس کھلے اور بے دھڑک انداز سے لگا رہے ہیں‘ ایسا پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔ ایک کے سوا تقریباً تمام بڑی پارٹیاں بھی یہی شور مچا رہی ہیں‘ لیکن نواز لیگ کے اعتراضات سب سے زیادہ اور بلند آہنگ ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ اس کے بہت سے امیدوار عتاب کا شکار ہیں‘ اس کے باوجود شہباز شریف یہ دعوے کرتے جا رہے ہیں کہ ان کی پارٹی انتخابات جیتے گی۔ یہ ایک کھلا تضاد ہے۔ اگر دھاندلی کے اتنے الزام لگائے جا رہے ہیں تو پھر نواز لیگ کے ووٹ کہاں سے نکلیں گے اور وہ بھلا انتخابات کیسے جیتے گی؟ جس طریقے سے اس کے امیدواروں کی پکڑ دھکڑ کی جا رہی ہے اور انہیں دبائو میں لایا جا رہا ہے‘ اس کے پیش نظر تو حکمتِ عملی کچھ اور ہونا چاہئے تھی۔ جس الیکشن میں معلوم ہے کہ آپ کو ہروانے کی کوشش ہو گی‘ اس کا نتیجہ کیا نکلے گا‘ اور اگر انتخابات سے پہلے دھاندلی کے الزامات اتنی شدت سے لگائے جا رہے ہیں تو بعد میں کیا ہو گا؟ لیکن مسلم لیگ کون سی کوئی عوامی پارٹی ہے۔ میرے اندازے کے مطابق تو شہباز شریف تو اب بھی کسی ڈیل کے چکر میں ہیں۔ چوہدری نثار کے ذریعے ممکنہ ڈیل کو تو نواز شریف اور مریم نے تہس نہس کر دیا ہے‘ لیکن چوہدری نثار‘ شہباز شریف اور دوسرے طبقات کے درمیان کوئی واحد حل یا رابطے کا آخری ذریعہ نہیں ہیں۔ اور بھی بہت سے ناتے، بہت سی ہاٹ لائنز ہیں۔ یہ سرمایہ دارانہ سیاست، جس کی بدعنوانی کسی کے تحفظ اور ایما کے بغیر چل نہیں سکتی، انہی طبقات کو تقریباً ہر شعبے میں مداخلت کا راستہ اور دعوت دیتی ہے۔ حصہ داری بھی ملتی ہے اور پھر اس پر تضادات بھی بنتے ہیں۔
میکسیکو کے نو منتخب بائیں بازو کے صدر لوپیز آبراڈور نے اپنے ایک مشیر کی تجویز کہ مسائل کے حل اور بد عنوانی کے خاتمے کے لئے عدالت کا راستہ اپنایا جائے، کا جواب دیا کہ ''اب رکاوٹیں صرف عوامی تحریکوں کو متحرک کرنے سے ہی ٹوٹیں گی اور مسائل کے حل کی راہ ہموار ہو گی‘‘۔ یہاں نواز شریف اور مریم کی گرفتاری کے بارے میں یہ کہا جا رہا تھا کہ ایک بڑا عوامی طوفان کھڑا ہو جائے گا‘ لیکن اس طوفان کو شہباز شریف نے گورنر ہائوس کے سامنے روک کر اس کا زور توڑ دیا۔ اس کا جواز یہ بنایا گیا کہ چھوٹے میاں صاحب آئین اور قانون کے دائرے میں ایک پُرامن احتجاج کے ذریعے انتخابات میں بڑی اکثریت لیں گے! لیکن حقیقی انقلابی اور احتجاجی تحریکیں اتنی پُرامن اور ٹھنڈی نہیں ہوا کرتیں۔ نہ ہی انہیں قابو کرنا اتنا آسان ہوا کرتا ہے۔ عام لوگ جب اپنے مقدر بدلنے کے لئے سیلاب بن کے امڈتے ہیں تو بعض اوقات قیادتوں کو بھی ساتھ بہا لے جاتے ہیں۔ چھوٹے میاں صاحب اقتدار کے اتنے عادی ہو چکے ہیں کہ اس نظام میں سرکاری طاقت کے حصول کے بغیر وہ سیاست بھی نہیں کر سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ اندرونِ خانہ وہ اب پنجاب تک ہی سہی‘ لیکن حکومت کے لئے ترس رہے ہیں۔ لیکن اگر نوا ز شریف اور مریم کا مؤقف دیکھا جائے تو 'ووٹ کو عزت دو‘ کا معاملہ تو ہے اور اس کا بڑھ چڑھ کر پرچار بھی کیا جا رہا ہے‘ لیکن 'ووٹر کو عزت دو‘ کے لئے اقدامات کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ یعنی ووٹ کو تو عزت مل جانی چاہئے لیکن ووٹر کو چاہے یہ نعمت نہ ملے تو بھی کوئی بات نہیں۔ کیا اس ٹھوس حقیقت سے کوئی انکار کر سکتا ہے کہ اس معاشرے میں عزت اسی کی ہوتی ہے جس کے پاس پیسہ ہو۔ جو مالیاتی طور پر کسی کا مرہون منت نہ ہو وہی سماجی طور پر حاوی ہوتا ہے۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ اس ملک کے 90 فیصد باسیوں کو عزت کے حصول کے لئے تعلیم، صحت، غذا، رہائش اور اسی طرح کی دوسری بنیادی سہولتیں درکار ہیں۔ مستقل اور باعزت روزگار کی ضرورت ہے۔ ان بنیادی ضروریات کے بغیر عزت تو دور کی بات انسان‘ انسان بھی نہیں بن سکتا۔ اور وسیع تر عوام کے یہی وہ بنیادی مسائل ہیں جن کے حل کی گنجائش نہ اِس نظام میں ہے نہ کسی مروجہ پارٹی کے پاس اس بارے کوئی متبادل پروگرام اور لائحہ عمل ہے۔ تمام حاوی پارٹیوں کا منشور اِسی نظام تک محدود ہے۔ ماضی میں اِس نظام کے اندر رہتے ہوئے بھی کم از کم یہ تو ہوتا تھا کہ ریاستی سرمایہ داری پر مبنی کچھ اصلاح پسندانہ پروگرام دئیے جاتے تھے‘ جس کا عام آدمی کو کچھ نہ کچھ فائدہ ہوتا تھا اور اسے محدود حد تک ریلیف بھی ملتا تھا۔ آج سب آزاد منڈی کی معیشت کے سامنے سجدہ ریز نظر آتے ہیں‘ کچھ بھی کرنے سے قاصر۔ 
نواز شریف کے لئے کچھ ہمدردی کی جو لہر ابھری تھی اس کی وجہ ان کی مدِ مقابل سیاسی پارٹیوں کو ملنے والی اضافی قوت کا بے نقاب ہونا تھا۔ لیکن نواز شریف صحت مند جمہوریت اور ہر کسی کے اپنی حدود میں رہنے کی جو بات کر رہے ہیں‘ وہ کم از کم اس نظام کے لئے قابل قبول نہیں۔ ایک بحران زدہ نظام کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں۔ بیمار نظاموں میں صحت مند جمہوریت نہیں پنپ سکتی۔ نواز شریف کا مطالبہ ہے کہ عوام ان انتخابات میں ان قوتوں کے خلاف ووٹ دیں جنہوں نے انہیں فارغ کروا کے جیل جانے پر مجبور کیا۔ یہ اس نظام کو چلانے والوں کے لئے صرف ایک حد تک خطرناک ہے۔ لیکن نوا زشریف اور مریم نواز کا پروگرام یہاں آ کے بالکل رک سا جاتا ہے۔ اقتصادی بحران اور عام لوگوں کو درپیش معاشی مسائل‘ جو انتشار پیدا کرتے ہیں‘ سے حاکمیت کے توازن میں بگاڑ آتا ہے۔ اب میاں صاحبان وہ پروگرام تو دے نہیں سکتے جو ان کے اپنے طبقے کے وجود کو ہی چیلنج کرتا ہو۔ لیکن اگر عوام کو ابھارنا ہے، ان کی جرات مندانہ حمایت لینی ہے تو پھر ان کے بنیادی مسائل پر بھی بات کرنا ہو گی اور ان کے حل کا راستہ اور نقشہ بھی پیش کرنا ہو گا‘ کیونکہ اس نظامِ سرمایہ میں ہزارہا جمہوری حکومتیں ہی کیوں نہ آ جائیں ووٹر کو عزت تبھی ملے گی جب اُس کا طبقاتی استحصال ختم ہو گا، جب امیر اور غریب کا فرق مٹے گا، جب بنیادی ضروریات نجکاری اور منافع خوری کی بھینٹ چڑھنے کی بجائے بنیادی انسانی حق کے طور پر ہر انسان کو فراہم ہوں گی، جب معاشرہ انفرادی خود غرضی کی بجائے اجتماعی فلاح کی طرف گامزن ہو گا۔ یہ سب کچھ اس نظام کے سیاسی نمائندے اور ادارے تو نہیں کر سکتے۔ اپنی موت کو خود بھلا کون پکارتا ہے۔

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved