تحریر : خورشید ندیم تاریخ اشاعت     28-07-2018

ہیجان یا صبر؟

صبر یا ہیجان؟ اس سوال کا تعلق حکمتِ عملی سے ہے، نفسِ واقعہ سے نہیں۔ واقعے کے بارے میں ایک ہی رائے ہے الا یہ کہ کوئی کان اور آنکھیں بند کر لے۔
جس کی تمہید چند ماہ قبل باندھی گئی تھی، وہ فیصلہ 25 جولائی کو سنا دیا گیا۔ درمیان میں جو شب و روز گزرے، ان پر آنکھوں اور کانوں کی شہادتیں ثبت ہیں۔ قوم ایک ایک لمحے کی گواہ ہے۔ اس پر مولانا فضل الرحمن کا بیان کوئی اضافہ کر سکتا ہے نہ شہباز شریف کی پریس کانفرنس۔ ایسے واقعات خبرِ واحد کی بنیاد پر ثابت نہیں ہوتے۔ چاند نکلتا ہے تو جمِ غفیر ہی کی شہادت قابلِ قبول ہوتی ہے۔ وزیر اعظم ہاؤس سے اڈیالہ جیل تک، نواز شریف نے جو سفر طے کیا‘ اور اس سفر میں جو جو پڑاؤ آئے، اس کی روداد ہم نے کسی کہانی گو سے نہیں سنی۔ یہ میرے عہد کا واقعہ ہے جس پر بصارتیں گواہ ہیں اور سماعتیں بھی۔
ان انتخابات کی شفافیت کے بارے میں، ایک ایک چیز کھو ل کھول کر بیان کر دی گئی تھی۔ اس معاملے کا اس سطح پر ابلاغ ہوا کہ شاید ہی کسی واقعے کا ہوا ہو۔ میڈیا کتنا آزاد تھا، یہ بھی ہم سب جانتے ہیں مگر اس کے باوجود، کون سی بات ہے جو کسی آنکھ سے اوجھل رہی ہو اور جو کسی کان نے نہ سنی ہو۔ 25 جولائی کو اس 'واقعے‘ کا آخری منظر دیکھا گیا۔ کہانی جیسے جیسے آگے بڑھتی ہے، سکرپٹ میں جزوی تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ کہانی کا انجام مگر پہلے سے طے ہوتا ہے۔ لوگ کہانی پر آخری منظر دیکھ کر تبصرہ کر رہے ہیں۔ میں سارے مناظر سامنے رکھ کر ایک رائے قائم کر رہا ہوں۔ اس لیے خود کو شہباز شریف صاحب سے متفق پاتا ہوں۔
نفسِ واقعہ واضح ہونے کے بعد، یہ سوال سامنے ہے کہ اس پر کیا ردِ عمل ہونا چاہیے؟ اس باب میں کوئی رائے قائم کرنے سے پہلے، بہتر ہے کہ ایک نظر ان سماجی اور سیاسی نتائج پر ڈال لی جائے جو انتخابات کے نتیجے میں ہمارے سامنے آئے۔
1۔ یہ بات ایک بار پھرثابت ہوئی کہ ہمارا سیاسی نظام بدستور 'سٹیٹس کو‘ کی گرفت میںہے۔جاگیرداری، سرمایہ داری،برادری،پیری مریدی،مذہب کا جذباتی استحصال،'سٹیٹس کو‘ کی تمام قوتیں آج بھی ہمیشہ کی طرح فعال ہیں اور ان کی مرضی کے بغیر کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی۔عمران خان اگرچہ انفرادی طور پر 'سٹیٹس کو‘ کے آدمی نہیں ہیں مگر ان کے لیے بھی یہ ممکن نہیں ہو سکا کہ وہ ان سے آزاد ہو سکیں۔ ان کو ان سب قوتوں سے رابطہ کرنا پڑا۔اہلِ مذہب اور خانقاہوں کی تائید کے حصول کے لیے، انہوں نے ایک اور مسئلے کو بھی استعمال کیا۔
2۔ اس ملک کی دانش ابھی اس باب میں یکسو نہیں ہو سکی کہ پاکستان کا بنیادی مسئلہ کیا ہے۔ مجھے کوئی ابہام نہیں کہ ہمارا اصل مسئلہ کرپشن نہیں، عدم استحکام ہے۔ عدم استحکام کا سبب قوت کے مراکز میں مسلسل تصادم ہے۔ یہ پلڑا جس سمت میں جھک رہا ہے، اس سے عوامی مینڈیٹ کی نفی ہوتی ہے۔ اس سے عوامی نمائندوں میں اضطراب کا پیدا ہونا فطری ہے۔ عوامی نمائندہ اس کا اظہار کرے تو اسے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ نہ کرے تو پلڑے کے دوسری جانب جھکنے سے مسائل پیدا ہوتے ہیں جو اضطراب کا باعث بنتے ہیں۔ ہماری ساری تاریخ اس کشمکش کی داستان ہے۔ ان انتخابات میں یہ فالٹ لائن مزید واضح ہو کر سامنے آئی ہے اور کسی وقت زمین کو ہلا سکتی ہے۔
نواز شریف کا بیانیہ اسی کی نشان دہی ہے۔ اس کی عوام میں ایک سطح پر پزیرائی ہوئی مگر اس کا راسخ ہونا ابھی باقی ہے۔ عوام سے پہلے، خواص کو اس کی حساسیت کو سمجھنا ہے۔ یہاں آئین شکنی کو کوئی جرم ہی نہیں سمجھا جاتا۔ کسی کو اس بات کا ادراک ہی نہیں کہ عمرانی معاہدے کو توڑنے اور کسی قانون کی خلاف ورزی میں وہی فرق ہے‘ جو بغاوت اور جرم میں ہوتا ہے۔ پاکستان کا دستور، آئین شکنی کو بغاوت قرار دیتا ہے اور اسی لیے اس کی سزا موت تجویز کرتا ہے۔ انتخابی نتائج سے معلوم ہوا کہ ابھی شعوری سطح بلند کرنے کے لیے مزید محنت کی ضرورت ہے۔
3۔ آج ملک میں عوامی نمائندگی کرنے والی شخصیات تو موجود ہیں، جماعتیں نہیں ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے بغیر جمہوری عمل آگے نہیں بڑھ سکتا۔ نواز شریف صاحب نے اگر جماعت بنائی ہوتی تو وہ زیادہ بہتر جگہ پر کھڑے ہوتے۔ جمہوریت اور سیاسی شعور کی پختگی کا بڑا انحصار سیاسی جماعتوں کی مضبوطی پر ہے۔ تحریکِ انصاف بھی ابھی جماعت نہیں بنی۔ یہ عمران خان کے پرستاروں کا ہجوم ہے۔ اقتدار میں عام طور پر سب سے زیادہ جماعت ہی نظر انداز ہوتی ہے۔ مسلم لیگ کے ساتھ یہ ہو چکا۔ دیکھیے، اب تحریکِ انصاف کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ 
4۔ عمران خان نئی نسل کے سب سے مقبول راہنما بن کر ابھرے ہیں۔ نئی نسل نے روایت حتیٰ کہ ماں باپ سے بغاوت کرتے ہوئے ان لوگوں کو ووٹ دیے جن کے پاس تحریکِ انصاف کا ٹکٹ تھا۔ عمران خان کی ایک آزمائش یہ ہے کہ وہ نئی نسل کے اس اعتماد پر کتنا پورا اترتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں، وہ جماعت کا بلّا کسی فردوس عاشق کے ہاتھ میں تھماتے ہیں یا کسی با صلاحیت جوان کے ہاتھ میں۔
5۔ مذہب کے استحصال کا دروازہ ابھی بند نہیں ہوا۔ نون لیگ کو نقصان پہنچانے کی حد تک اس نے اپنا کام بڑی حد تک کر دیا ہے۔ ایک خبر کے مطابق، قومی اسمبلی کی چودہ نشستیں ایسی ہیں جہاں تحریک لبیک کے امیدواروں نے چار سے چوالیس ہزار تک ووٹ لیے۔ سب سے کم چار ہزار ہیں جو حلقہ این اے 13 میں پڑے۔ یہاں نون لیگ کا امیدوار دو ہزار ووٹوں سے ہارا ہے۔ 
انتخابات کے یہ چند سماجی و سیاسی نتائج ہیں۔ ان کی روشنی میں، ان لوگوں کو احتجاجی حکمتِ عملی اپنانی چاہیے جو سمجھتے ہیں کہ دھاندلی کے خلاف آواز اٹھانی ضروری ہے۔ احتجاج متاثرین کا جمہوری اور اخلاقی حق ہے‘ اور انہیں اس سے روکا نہیں جا سکتا؛ تاہم اس کی حکمتِ عملی کے باب میں کئی آرا ہو سکتی ہیں۔ میرے نزدیک احتجاج اور ہیجان میں فرق ہے۔ ہیجان پیدا کرنا اس وقت ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ اب پارلیمنٹ موجود ہے، جیسے بھی ہے۔ میڈیا بھی آزاد ہے، جس حد تک ہے۔ نون لیگ اور مجلس عمل کو اپنا مقدمہ پارلیمنٹ میں پیش کرنا چاہیے اور عوام کو شعوری سطح پر اپنا مخاطب بنانا چاہیے۔ پُرامن سیاسی جدوجہد ہی واحد راستہ ہے۔
ہیجانی سیاست نے ہمارے چار سال برباد کر دیے۔ پاکستان مزید اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ قوم کو عدم استحکام کی اصل وجہ سمجھانے کے لیے مزید محنت چاہیے۔ جس قوم کے اہلِ دانش آئین شکنی اور کرپشن میں فرق کو نہ سمجھ سکیں، وہاں عوام کے ذہن پر زیادہ بوجھ نہیں ڈالنا چاہیے۔ اس میں شبہ نہیں کہ آج کے حالات کو1977ء سے مماثلت ہے لیکن ہیجانی احتجاج کے بارے میں سوچنے سے پہلے، اس احتجاج کے نتائج کو سامنے رکھنا چاہیے۔ مولانا فضل الرحمٰن سیاست میں تحمل اور بصیرت کی علامت ہیں۔ مجھے حیرت ہو گی اگر وہ ہیجانی احتجاج کا راستہ اپنائیں گے۔
نون لیگ کو یہ بھی پیشِ نظر رکھنا ہے کہ عمران خان ان کا اصل حریف نہیں۔ اس لیے سامنے کھڑی دیوار پر پتھر برسانا عقل مندی نہیں۔ اگر تصادم بیانیوں کا ہے تو کردار غیر اہم ہیں۔ بیانیے کو پہلے ذہنی سطح پر منوانا ہو گا۔ یہ ایک تدریجی عمل ہے اور صبر طلب۔ صبر برداشت کا نام نہیں، استقامت اور مشکل حالات میں مسلسل جدوجہد پر آمادگی کا نام ہے۔ عمران خان کو ہمیں مسلسل عمل کا ایک حصہ سمجھنا چاہیے۔ ان کے ساتھ لڑائی بے معنی ہو گی۔ وہ اگر کچھ اچھی باتیں کر گزرتے ہیں تو اس سے جمہوریت مضبوط ہو گی۔ اس سے نواز شریف کے بیانیے کو تقویت ملے گی۔
ایک اور بات؛ جمہوریت کی مضبوطی کے لیے اچھی اپوزیشن بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی اچھی حکومت۔ افسوس کہ گزشتہ چار سالوں میں پاکستان کو اچھی اپوزیشن نہیں مل سکی۔ نون لیگ کو پارلیمنٹ میں ایک اچھی اپوزیشن کی مثال پیش کرنا ہے۔ اچھی اپوزیشن ہر حکومتی اقدام پر تنقید کا نام نہیں۔ یہ احتساب، تعمیری تنقید اور بہتر حل پیش کرنے کا نام ہے۔ 



Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved