تحریر : منیر احمد بلوچ تاریخ اشاعت     30-07-2018

عمران خان اور عالمی میڈیا

عام انتخابات2018ء میں پاکستان تحریک ِ انصاف کی دوسری سیا سی جماعتوں پر واضح برتری کے بارے میں جیسے ہی غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج آنا شروع ہوئے اور جب رات گئے تمام دنیا کے میڈیا کو اندازہ ہو گیا کہ عمران خان‘ پاکستان کے وزیر اعظم کے عہدے پر براجمان ہونے والے ہیں‘ تو ایک دم بھارت ‘ امریکہ اور برطانیہ سمیت پورپ کے مختلف اخبارات و جرائد میں آپ کے خلاف مضامین شائع کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔یہاں بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عمران خان کے خلاف اس قسم مضامین اور کارٹون کیوں شائع کیے جا رہے ہیں؟
ظاہر ہے کہ ان کا ایک ہی مقصد ہے کہ کسی طرح عمران خان کو بر انگیختہ کرتے ہوئے پاکستان کے دفاعی اداروں کے مدمقابل لا کھڑا کیاجائے۔ میری معلومات اور تجربے کی روشنی کے مطابق‘ ان مضامین اور بین الاقوامی ٹی وی چینلز پر نشر کئے جانے والے تمام پروگرامز کے پس پردہ مقاصد صرف اور صرف یہ ہیں کہ نفسیاتی حملوں کی اس قدر بھر مار کر دی جائے کہ عمران خان خود کو ایک خود مختار اور ہر قسم کے دبائو یا ڈکٹیشن کے مفروضے سے آزاد وزیر اعظم کے طور پر تسلیم کروانے اور بیرونی میڈیا میں اپنی واہ واہ کروانے کے چکر میں ‘اپنے ہی قومی اداروں اور ان کی سکیورٹی سے مربوط اقدامات پر عمل کرنے سے باغی ہو جائیںاور عالمی سازشیں کرنے والے اپنے مقاصد میں کسی طرح کامیاب ہو سکیں۔ عمران خان نے تین روز قبل امریکی ٹی وی سی این این پر حسین حقانی کا تبصرہ سن لیا ہو گا؟ جس میں موصوف وہی کچھ کہہ رہا تھے‘ جو امریکی ‘بھارتی اوربرطانوی اخبارات اپنے اپنے طریقے سے شائع کر رہے ہیں‘ لہٰذا عمران خان کو سمجھ جانا چاہئے کہ اس کے پیچھے جہاں نواز شریف اور مشاہد حسین کی حسین حقانی سے دوستی ہے‘ تو وہیں پاکستان کی فوج کو کمزور کرنے کا مکروہ بین الاقوامی ایجنڈا بھی شامل ہے ۔ 
میرے مطابق مستقبل میںدنیا بھر کے معروف ترین اخبارات سمیت بھارتی میڈیا کی جانب سے اس قسم کے نفسیاتی حملے اور بھی شدت سے کئے جائیں گے ۔ آپ بہت جلد دیکھیں گے کہ دنیا بھر کا میڈیا عمران خان کے انٹرویوز کرنے کیلئے پاکستان آنا شروع ہو جائے گا اور مت بھولئے کہ بھارت امریکہ‘ یورپ‘ برطانیہ اور جاپان سمیت دوسرے ممالک کا میڈیا خاص حد تک نہیں‘ بلکہ بہت بڑی حد تک اپنی حکومت کے خفیہ اداروں اور ان اداروں کی ہدایات پر کام کرنے والے تھینک ٹینکس کی مشاورت سے خبریں‘ مضامین اور تجزیئے لکھواتے ہوئے اور عوامی رائے کو متاثر کرنے کی بھر پور کوشش کریں گے۔ میں یہ سب کچھ اس لئے لکھ رہا ہوں کہ مجھے اس ملک کے تین اہم ترین انگریزی اخبارات میں لکھنے کا کچھ تجربہ ہے اور میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ کون کیا ہے ا ور کس کا کیا ایجنڈا ہے ۔
عمران خان کو جلد ہی اندازہ ہو جائے گا کہ کس طرح غیر ملکی میڈیا سے منسلک ٹی وی چینلز اور ان کے نمائندگان آپ کاانٹرویو کرنے کیلئے پاکستان میں اترنا شروع ہوں گے اور وہ آپ سے جو اہم ترین سوالات کریں گے ‘ان میں پاکستان کا نیو کلیئر پروگرام‘ اچھے اور برے طالبان ‘ ایران سے تعلقات اور چین کے سی پیک کے پس منظر میں ایک ہی سوال کریں گے کہ کیا آپ نواز شریف کے نقش قدم پر چلیں گے یا اس کے بر عکس عمل کرتے ہوئے اپنی حکومت چلائیں گے؟ اگر توآپ ان کی لچھے دار اور خود کو طاقتور وزیر اعظم کے طور پر منوانے کے جال میں آ گئے اور آپ نے کوئی ایسا فقرہ اپنے منہ سے اُگل دیا‘ جس سے ہمارے قومی اداروں کی سبکی ہونے کا احتمال ہو تو آپ ان کی آنکھوں کے تارے بن جائیں گے اور اگر ایسا نہ ہوا تو امریکہ‘ بھارت اور برطانیہ کی طاقتور خفیہ ایجنسیاں آخر دم تک آپ میںہوا بھرنے کی سر توڑ کوشش کریں گی‘ تاکہ آپ اپنی ہی اداروں سے ٹکرا جانے کی ' حماقت ‘کر نا شروع کر دیں۔مجھے افسوس سے کہنا پڑرہا ہے کہ حماقت کا لفظ استعمال کیا ہے‘ لیکن اگر آپ ان الفاظ پر غور کریں ‘تو آپ کو بھی یقین ہو جائے گا کہ نواز شریف کی طرح اپنے ہی قومی اداروں سے ٹکرانا حماقت ہی ہے۔
امریکہ ‘برطانیہ‘ بھارت اور اسرائیل کی خفیہ ایجنسیوں اور ان کی وزارتِ داخلہ اور خارجہ میں بیٹھے ہوئے گھاگ فیصلہ سازوں کے سامنے آپ کی زندگی کا ایک ایک پہلو ہے اور اس وقت تک یہ سب دنیا ئے کرکٹ کے ان سپر سٹارز سے آپ کی نفسیاتی کمزوریوں‘ فیلڈنگ اور بیٹنگ میں اعصاب اور غصے کی علامات اور جذبات کو ا بھارنے کی کمزوریوں سے واقف ہو چکے ہوں گے۔اس لئے وہ آپ کے اندر ''ایگو‘‘ عزت ِنفس اور حاکمیت کے جذبے کو ہوا دیتے ہوئے اپنے مقاصد کیلئے آپ کو استعمال کرنے کی ہر ممکن کوششیں کریں گے اور اس سلسلے میں بہت جلد یا ہو سکتا ہے کہ انہوں نے پہلے سے ہی کوئی پرویز رشید آپ کے قریب کر دیا ہو۔ آپ کو اس قسم کی سوچ کے حامل لوگوں کو بغیر کسی مہلت کے اپنے قریب سے بھگا دینا ہو گا۔یہ یاد رکھنا ہو گاکہ ہمارے دشمن ممالک کی ہر ممکن کوشش ہوتی ہے کہ پاکستانی سیاستدان کسی نہ کسی طرح اپنے ہی قومی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے رہے‘ تاکہ وہ پاکستانی سیاستدانوں کو کم عقل اور نا تجربہ کار قرار دے سکیں‘ جبکہ بھارت کو دنیا بھر میں سب سے بڑی جمہوریت کے نام سے پکارا جا سکے۔
ہو سکتا ہے کہ آپ کیلئے یہ خبر کچھ حیران کن ہو کہ 2007ء مئی میں من موہن سنگھ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کی منظوری سے جنرل مشر ف کے ساتھ سیا چن پر ایک قابل قبول سمجھوتہ کرنے کیلئے اسلام آباد تشریف لا رہے تھے۔اس وقت بھارت کے آرمی چیف جنرل جے جے سنگھ نے ایک پالیسی بیان دیتے ہوئے سب سے بڑی جمہوریت کے وزیر اعظم من موہن سنگھ کو اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا: بھارتی فوج ایک خاص حد سے ایک انچ بھی سیا چن سے پیچھے نہیں ہٹے گی‘کیونکہ اگر کوئی دوسرا فیصلہ ہوا تو ہم اپنے دفاع میں کمزور ہو جائیں گے اور پھر نواز ‘بھارت اور امریکی گٹھ جوڑ سے مارچ میں عدلیہ کو آزادی دیتے ہوئے پاکستان کی سڑکوں پر ڈبل مارچ شروع کروا دیا گیا‘ تاکہ سیا چن کو رستہ ہی نہ ملے۔ جب اٹل بہاری واجپائی بھارت کے وزیر اعظم تھے‘ تو ایک شام ان کی کابینہ کے وزیر دفاع جارج فرنینڈس نے پارلیمنٹ سے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہہ دیا کہ چین بھارت کا دشمن نمبر ایک ہے۔ ابھی ان کا یہ بیان بھارت سمیت دنیا کے دوسرے میڈیا چینلز پر گھوم ہی رہا تھا کہ اسی وقت بھارت کے آرمی چیف جنرل وی پی ملک نے ہندوستان ٹائمز کے نمائندہ خصوصی کو فوری طور پر بھارت کے آرمی ہیڈ کوارٹر بلاکر یہ خبر چلوا دی کہ فوج کہتی ہے کہ چین بھارت کا دشمن نمبر ایک نہیں ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے بھارتی آرمی چیف وی پی ملک کا یہ بیان ہر طرف فلیش ہونے لگا‘ لیکن مجال ہے کہ واجپائی حکومت نے اس پر ذرا سی بھی مین میخ نکالنے کی کوشش کی ہو‘بلکہ دو ہفتے بعد یہ ہوا کہ بھارتی فوج کے کہنے پر جارج فرنینڈس کو وزارت دفاع کی بجائے وزیر ماحولیات کی وزارت دے دی گئی۔
مذکورہ بالا واقعات سے آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں بھی ہمسایہ ممالک سے تعلقات اور خطے کی سٹریٹیجک پالیسیوں کیلئے خارجہ پالیسی میں فوج کی سوچ اور ترجیح کس قدر ضروری ہوتی ہے۔ اس لیے یہ کہنا نا گزیر ہے کہ عمران خان نے گزشتہ دو ماہ سے پاکستان سمیت دنیا کے بہت سے انگریزی اخبارات کے مضامین اور تجزیئے لازمی دیکھے ہوں گے ۔ہو سکتا ہے کہ عمران خان کو ان کے پس پردہ ہاتھوں کا علم نہ ہو‘ جس کا ذکر شروع میں کر چکا ‘ لیکن عالمی اور بھارتی میڈیا چاہیں گے کہ عمران خان کو طاقتور وزیر اعظم ‘ کپتان کے علا وہ ایک فاسٹ بائولر کا پر کشش تصور ابھارتے ہوئے قومی اداروں کے خلاف کھڑا کر دیا جائے ۔

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved