تحریر : امیر حمزہ تاریخ اشاعت     22-08-2018

عمران خان ریاست مدینہ کے راستے پر

2013ء کے الیکشن میں عمران خان کرین سے گرے اور شوکت خانم ہسپتال میں زیر علاج ہو گئے۔ ان کی صحت بحال ہوئی‘ تو عیادت کرنے ان کے پاس حاضر ہوا۔ صحت یابی کی دعائوں کے ساتھ ان کی خدمت میں عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو صوبہ خیبرپختونخوا میں حکمرانی کا موقع عطا فرما دیا ہے۔ آپ یہاں کامیاب ہو گئے‘ تو اس صوبے کا رول ماڈل آپ کو پورے ملک کا حکمران بنا دے گا۔ محترم اعجاز چوہدری پاس کھڑے تھے۔ جناب عمران خان نے مجھے جواب دیتے ہوئے فرمایا: انشاء اللہ خیبرپختونخوا کو رول ماڈل بنائیں گے۔ جی ہاں!خیبرپختونخوا کے لوگوں نے اپنے صوبے کو رول ماڈل بنتے دیکھا اور پہلے سے زیادہ ووٹ دیئے؛ چنانچہ عمران خان اب ملک عزیز پاکستان کے وزیراعظم ہیں۔ انہوں نے پاکستان کو ریاست مدینہ کے راستے پر چلانے کی بات کی ہے‘ تو قائداعظم حضرت محمد علی جناحؒ کے بعد عمران خان پہلے حکمران ہیں ‘جنہوں نے قائداعظم کے نقشِ قوم پر چلتے ہوئے ریاست مدینہ کی بات کی ہے۔ قائداعظم سے بھی جب پوچھا گیا تھا کہ پاکستان کا دستور اور انداز حکمرانی کیسا ہوگا تو انہوں نے فرمایا تھا کہ ہم وہاں مدینہ کی ریاست کا تجریہ کریں گے۔ 
حضرت قائداعظم کو موقع نہ مل سکا۔ لیاقت علی خان شہید کر دیئے گئے۔ میں نے اپنی ساٹھ سالہ زندگی میں سجدے میں گر کر صرف ایک سیاستدان اور حکمران کے لیے زندگی اور کامیابی کے لیے دعا کی ہے‘ تو وہ عرفہ کے دن صرف عمران خان کے لیے کی ہے اور اس لئے کی ہے کہ عمران خان نے قائد اعظم کے بعد ہمارے پیارے قائد کی پون صدی پرانی بات کو دہرا کر زندہ کر دیا ہے۔ قائد کی شیروانی میں قائد کی بات کرتا ہوا‘ عمران خان بہت خوبصورت لگ رہا تھا۔ 
لوگو!ریاست مدینہ کے حکمران حضرت محمد کریمﷺ دس ہزار جانثاروں کے ہمراہ مدینہ سے چلتے ہیں۔ یہ مکّہ میں جانا چاہتے ہیں۔ وہی مکّہ جہاں رات کے اندھیرے میں میرے حضورﷺ کو جان بچا کر نکلنا پڑا تھا۔ آج وہ مکّہ میرے حضورﷺ کی حکمرانی میں شامل ہونے جا رہا ہے۔ مدینہ رول ماڈل بن گیا۔ اب مکہ اس ریاست کا حصہ بننے جا رہا ہے۔ر حمت دو عالمﷺ نے لڑائی لڑے بغیر انتہائی امن کے ساتھ مکہ کو مدینے کی ریاست کا حصہ بنا دیا۔ یہ انتہائی خوشی کا دن تھا۔ حضورﷺ نے خوشی کے اس موقع پر کعبہ کے اندرون کو بتوں وغیرہ سے پاک صاف کروایا اور پھر اندر داخل ہوئے۔ خوشی کے حکمران نے کمال کر دیا۔ آپ کے ہمراہ صرف دو اشخاص تھے اندر داخل ہوئے۔ عثمان بن طلحہؓ تو چابی بردار تھا‘ جس نے کعبہ کا دروازہ کھولا تھا۔ حضورﷺ کے ساتھ مدینہ سے آئے ہوئے ‘دس ہزار میں سے نہ کوئی قریشی حضور کے ہمراہ تھا۔ نہ ہاشمی تھا۔ نہ خاندان کا کوئی فرد تھا۔ نہ سردار تھا اور نہ کوئی رئیس اور نوابزادہ تھا۔ 
بخاری کی حدیث ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ کعبہ میں داخل ہوئے‘ تو آپﷺ کے ہمراہ حضرت اسامہ بن زیدؓ اور حضرت بلالؓ تھے۔ عثمان بن طلحہٰ (چابی بردار بھی) تھے۔ آپﷺ کافی دیر تک کعبہ کے اندر ٹھہرے رہے۔ پھر آپﷺ نکل کر دروازے پر تشریف لائے‘ تو کئی لوگ کعبہ میں داخل ہونے کے لیے لپکے۔ پہلا شخص جو اندر داخل ہوا‘ وہ عبداللہ بن عمرؓ تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ حضرت بلالؓ دروازے کے پیچھے کھڑے ہیں۔ عبداللہ بن عمرؓ نے حضرت بلالؓ سے پوچھا:اللہ کے رسول ﷺنے کس جگہ نماز پڑھی؟ تو انہوں نے اس جگہ کی طرف اشارہ کیا‘ جہاں اللہ کے رسولﷺ نے نماز پڑھی تھی (بخاری: 4289)۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے بھی اسی جگہ پر نماز ادا کی۔ 
قارئین کرام! کہنے کا مقصد یہ ہے کہ مدینہ کے حکمران نے اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کیا۔ کعبے میں داخل ہو کر شکرانے کے نفل ادا فرمائے اور اس عظیم تاریخی موقع پر اپنے ساتھ صرف دو اشخاص کو لیا۔ ایک غلام تھا۔ حبشی بلالؓ تھا۔ عربی بھی نہ تھا اور جو دوسرا تھا‘ وہ بھی ایک غلام کا بیٹا تھا۔ جی ہاں! دونوں غلام تھے۔ دونوں کا تعلق معاشرے کے اس طبقے سے تھا کہ جو عرب معاشرے میں سب سے آخری کلاس تھی۔ ایسی کلاس اور درجہ تھا کہ جس کے نیچے کوئی درجہ نہ تھا۔ دس ہزار کی افواج ۔ مکہ اور گرد و نواح کے سینکڑوں سردار اور ہزارہا افراد باہر کھڑے باتیں کرتے ہوں گے کہ سرکارِ مدینہﷺ کی سرکار میں مکہ داخل ہوا ہے‘ تو سارا عرب داخل ہو گیا ہے۔ اس موقع پر سرکارﷺ کے ساتھ کعبہ کے اندر جو لوگ گئے ہیں ‘وہ دونوں غلام ہیں۔ یہ تھی‘ معلوم انسانی تاریخ میں اک لاجواب تبدیلی۔ اک بے مثال تبدیلی!!۔
ریاست مدینہ کی بات کرنے والے عمران خان نے قومی اسمبلی میں قائد ایوان منتخب ہونے کے بعد شکرانے کے دو نوافل ادا کیے۔ سرکارِ مدینہﷺ کی سنت پر عمل کیا۔ حلف اٹھانے کی تقریب میں کوئی رشتہ دار نہ بلایا۔ نہ بیٹے‘ نہ بہنیں‘ نہ بھانجے ‘نہ بھانجیاں‘ نہ بہنوئی‘ نہ چچا ازاد‘ نہ ماموں زاد‘ نہ پھوپھی زاد‘ نہ دوست یار‘ نہ قبیلے کے افراد۔ جو بھی آئے ‘لازمی لوگ آئے اور میرٹ پر جماعتی لوگ آئے۔
پھر جو اوّلین خطاب کیا ‘اس میں ریاست مدینہ کے حوالے دیئے۔ خلفائے راشدین میں سے صدیق اکبرؓ اور فاروق اعظمؓ کی حکمرانی کے حوالے دیئے۔ صدیق اکبرؓ کی طرح کاروبار نہ کرنے کا اعلان کیا کہ حکمران کاروبار کرے گا تو اس کے مقابلے پر بھلا کس کا کاروبار چلے گا؟ میں کہتا ہوں جمود کی ماری ہوئی سیاسی روش کا جنازہ نکل گیا ہے۔ عمران خان کی حکمرانی کا یہی انداز آگے بڑھتے بڑھتے بڑھتا چلا جائے گا‘ تو سٹیٹس کو قبر میں داخل ہو کر رہے گا۔ پاکستان کے سیاسی نظام میں اسے زندہ کرنا‘ کسی کے لیے ممکن نہ رہے گا۔
ہمارے حضور حضرت محمد کریمﷺ نے مدینہ منورہ کا نام طاب سے بھی رکھا اور طیبہ بھی رکھا۔ معنی ایک ہی ہے اور وہ ہے‘ پاکیزہ یا پاک جگہ۔ پاکستان فارسی زبان کا لفظ ہے۔ اس کا معنی بھی پاک جگہ ہے۔ دوسرے لفظوں میں طیبہ کا ترجمہ پاکستان ہے اور پاکستان کا عربی ترجمہ طیبہ ہے۔ یوں پاکستان کی ریاست اور مدینہ کی ریاست کا لغوی معنی بھی ایک ہے اور اب اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے معنوی معنی بھی شرمندۂ تعبیر ہونے جا رہا ہے۔
تو یہ ہم اہل پاکستان کی خوش قسمتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں ‘اب پاکستان میں موجود سیاسی جماعتوں میں تبدیلی آئے گی۔ وہ تبدیلی نہیں کریں گی ‘تو سیاسی موت مرتی جائیں گی۔ آصف علی زرداری کو پیچھے ہٹنا ہوگا ۔ان کی انتہائی ناگوار اور بدنام سیاسی روش کے لیے پاکستان کی سیاست میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ان کی خوش قسمتی ہے کہ ان کا ہونہار بیٹا بلاول بھٹو زرداری آگے آ گیا ہے‘ مگر بلاول صاحب کو بطور چیئر مین آزادانہ کردار ادا کرنے دیا جائے گا ‘تو خود زرداری صاحب کے مفاد میں ہوگا۔ 
مسلم لیگ ن کو بھی روش بدلنا ہوگی۔ میاں شہباز مرکز میں قائد حزب اختلاف بن گئے ‘ تو بیٹا پنجاب میں قائد حزب اختلاف بن گیا۔ عمران خان جو سیاسی انداز عملی طور پر اختیار کر چکے ہیں۔ اس میں موروثیّت اور اقرباء پروری کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ جو پارٹی اس گھسے پٹے گھٹیا انداز کو لے کر چلے گی۔ میرا تجربہ یہ ہے کہ وہ پاکستان کے نئے سیاسی سسٹم میں نہیں چل سکے گی۔ 
قربانی کے موقع پر مجھے کہنا ہوگا کہ جو مذہبی سیاسی یا سیاسی جماعت اس حقیقت کو سمجھے بغیر آئندہ انتخابات میں آئے گی‘ وہ عوام کے ہاتھوں ووٹ کی چھری سے ذبح ہو جائے گی۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved