تحریر : افضل رحمٰن تاریخ اشاعت     03-04-2013

تیز رفتار ترقی کی دو داستانیں

میں ایک مقامی یونیورسٹی میں پڑھاتا ہوں اور کلاس میں طالب علموں کے ساتھ سوال جواب کی نشست میں جب کبھی بات تیز رفتار ترقی کے معاشرتی اثرات سے متعلق ہوتی ہے تو موازنے کے طور پر میرے ذہن میں اسی لاہور شہر کا وہ ماحول آجاتا ہے جو میں نے ساٹھ کے عشرے میں دیکھا بلکہ میں اس کا حصہ رہا۔ مقامی لوگوں کے ساتھ مہاجروں کی کافی تعداد اپنے اپنے آبائی علاقوں کے رسم و رواج اور سماجی اقدار کے ساتھ رہتی تھی اور بظاہر کسی کو کوئی مسئلہ نہیں تھا‘ یا کم از کم مجھے دکھائی نہیں دیتا تھا۔ سکول میں میرے ساتھ ایک لڑکا رستم علی پڑھتا تھا۔ میرے گھر کے قریب ہی اس کا گھر تھا لہٰذا ہم اکٹھے سکول سے واپس آتے تھے۔ ایک روز میں اسے اپنے گھر لے گیا۔ ہم نے کھانا کھایا، کھیلتے رہے اور پھر وہ اپنے گھر چلا گیا۔ دو چار دن بعد پھر اسی طرح ہوا اور یوں اس کا معمول بن گیا کہ چند دن کے بعد وہ میرے ساتھ گھر آجاتا اور دو تین گھنٹے بعد پھر اپنے گھر چلا جاتا۔ دوستی بڑھی تو میں بھی ایک دن اس کے گھر گیا۔ رستم علی مجھے گھر لے جاتے ہوئے پہلے کچھ ہچکچا رہا تھا اور پھر چلتے چلتے کہنے لگا۔ میری اماں نہیں ہے۔ میرے دو چھوٹے بھائی ہیں اور ابا ہیں۔ ابا تو کام پر ہوتے ہیں۔ وہ اتنا بتا پایا تھا کہ اس کا گھر آگیا۔ اس کے دونوں چھوٹے بھائی گھر پر‘ معلوم ہوتا ہے‘ اس کا انتظار کررہے تھے۔ سب سے چھوٹا کہنے لگا۔ بھائی بھوک لگی ہے۔ رستم علی نے اپنے سے چھوٹے بھائی کو کہا جا تندور سے روٹیاں لے آ۔ ایک، دو، تین، چار، پانچ۔ تو چھ لے آ گرم گرم۔ وہ چلا گیا۔ اس کے بعد اس نے ایک برتن میں چینی ڈال کر اس میں پانی ڈالا اور شربت بنانا شروع کردیا۔ ہم سکول کی باتیں کرتے جارہے تھے اور چھوٹا بھائی انہماک سے سن رہا تھا۔ اس کا منجھلا بھائی روٹیاں لے کر آگیا۔ رستم علی نے چھوٹی پیالیوں میں شربت ڈال کر سب کو دیا اور وہ تینوں بھائی تندور کی گرم گرم روٹیاں شربت کے ساتھ کھانے لگے۔ رستم علی نے مجھے کہا کھائو یار ورنہ روٹی ٹھنڈی ہوگئی تو مزہ نہیں آئے گا۔ میں نے ان کے ساتھ بیٹھ کر روٹی کھائی۔ اتنا مزہ آیا۔ اس وقت جب کہ یہ واقعہ میں لکھ رہا ہوں میں وہ مزہ اب بھی اپنے منہ میں محسوس کرسکتا ہوں۔ رستم علی سے دوستی کے دوران پتہ چلا کہ تقسیم ہند سے پہلے اپنے آبائی علاقے میں رستم علی کے والد کا مناسب کاروبار تھا جو سب وہیں رہ گیا۔ والدہ کو رستم علی کے بقول لاہور کا پانی موافق نہیں تھا۔ ہیضہ ہوا اور فوت ہوگئی۔ اس کی ایک بڑی بہن تھی جو فسادات کے دوران بھارت میں ان کے آبائی علاقے میں گم ہوگئی تھی۔ یہ بتا کر رستم علی عجیب سے انداز میں بولا کہ اماں اصل میں باجی کے غم میں مری۔ ابا کہتے ہیں کہ پانی موافق نہیں تھا۔ رستم علی کے ابا نہ تو کوئی مولوی تھے اور نہ ان کا کوئی زعم تھا کہ بڑے ایماندار آدمی ہیں۔ سیدھی سادی طبیعت تھی مگر بچوں کو کہہ رکھا تھا کہ بھلے فاقوں مر جانا کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانا اور رب کے سوا کسی سے کچھ نہ مانگنا۔ تھوڑی سی تنخواہ میں بچوں کو سرکاری سکولوں میں پڑھوایا اور بعد میں ان کے تینوں بچے سرکاری محکموں میں ملازم ہوئے۔ تینوں ہی نے اپنے عہدوں کا ناجائز فائدہ اٹھایا اور بے پناہ دولت جمع کی اور تینوں کے خاندان کہنے کو خوشحال گھرانے ہیں مگر میں جانتا ہوں تینوں میں سے ایک بھی خوش نہیں ہے۔ کوئی لڑائی جھگڑے اور مقدمے بازی میں پھنسا ہے، کوئی بیماری کے ہاتھوں گھر سے باہر تک نکلنے سے قاصر ہے اور ایک تو بینائی کھو بیٹھا ہے۔ یہ کوئی افسانہ نہیں ہے۔ یہ ہمارے اردگرد کے واقعات ہیں‘ اگر آنکھیں کھلی رکھی جائیں تو دکھائی دے جاتے ہیں۔ اسی طرح ہمارے ہمسائے میں ایک میر صاحب رہتے تھے۔ ان کا آبائی وطن ’’سمانہ‘‘ تھا جو کہ ریاست پٹیالہ میں واقع ہے۔ ریڈیو پر تلقین شاہ جو زبان بولتے تھے میر صاحب وہی زبان بولتے تھے۔ گرمیوں میں چھت پر سوتے تھے تو اس قدر بلند آواز میں گفتگو کرتے تھے کہ ادھر ادھر مکانوں کی چھتوں پر لوگ ان کی گفتگو سے محظوظ ہوتے رہتے تھے۔ تقسیم ہند کے بہت خلاف تھے۔ ان کے چھوٹے بیٹے نے ایک روز چاند کی طرف اشارہ کرکے پوچھا ’’ابا یا چاند انڈیا ماں بھی نکلے‘‘(یعنی ابا یہ چاند انڈیا میں بھی نکلتا ہے) میر صاحب بولے ’’کہاں۔ سب کچھ وہیں رہ گیا۔ بس یا چاندای ہمارے حصے ماں آگیا۔‘‘ (بس یہ چاند ہی ہمارے حصے میں آیا ہے۔) میر صاحب کی دلی خواہش تھی کہ کسی طور پر یہ پارٹیشن کا فیصلہ واپس ہوجائے۔ دل خوش کرنے کے لیے اپنے دوستوں کو ایسی خیالی خبریں سنایا کرتے تھے ’’میر صاحب۔ خبر سنیں۔ روس، چین، نہرو، سہروردی۔ اکٹھے ہوگئے۔ کہاں؟ چین ماں۔ اور انہوں نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کردیا ہے (رک کر) میر صاحب یا فیصلہ ہو چکا۔ الاٹمنٹاں منسوخ۔ اپنے اپنے دیس واپس۔ جو نہ جائے … اس کے گولی ٹھوک دیو۔‘‘ ان کی اس تصوراتی خبر میں نہرو اور سہروردی کے نام شامل تھے جبکہ روس اور چین کے لیڈروں کا چونکہ نام معلوم نہیں تھا لہٰذا ملکوں کا نام لے کر گزارا کر لیتے تھے اور ان سے یہ بیان منسوب کرتے تھے کہ متفقہ فیصلے کے نتیجے میں الاٹمنٹس منسوخ ہوگئی ہیں یعنی بھارت اور پاکستان میں مہاجرین کوجو جو پراپرٹی حکومت نے الاٹ کی ہے وہ منسوخ ہے اور سب کو حکم ہوا ہے کہ اپنے اپنے گھروں کو لوٹ جائیں اور جو کوئی انکار کرے گا اس کو گولی مار دی جائے۔ یہ میر صاحب کی کیفیت تھی کہ ایوب خان کے مارشل لاء کے بعد مہاجروں سے کہا گیا کہ وہ اپنی اپنی پراپرٹی جو وہ ہندوستان میں چھوڑ آئے ہیں اس کے کلیم دیں۔ میر صاحب ایف اے پاس تھے۔ بحالیات کے دفتر سے کلیم فارم لے آئے اور سارا دن لوگوں کے کلیم فارم بھر بھر کر ان سے کلیم بھروائی کی اچھی خاصی فیس لیتے رہے۔ اس طرح سال بھر میں مالی حالت سدھر گئی تو ایک روز فرمانے لگے۔ ’’میر صاحب اپنے سامانے ماں میں مسلم لیگ کا سیکرٹری تھا‘‘ یعنی اپنے آبائی وطن سامانہ میں موصوف وہاں کی مقامی مسلم لیگ کے سیکرٹری رہ چکے تھے لیکن یہ بات یاد اس وقت آئی جب آسودہ حال ہوئے وگرنہ دن رات تقسیم ہند کو کوستے رہتے تھے۔ اس کے بعد میر صاحب یہاں کی مسلم لیگ میں گھس گئے۔ ایوب خان کے الیکشن میں گلاب کا پھول جو کہ ایوب خان کا انتخابی نشان تھا‘ لگا کر گھوما پھرا کرتے تھے اور دیگیں پکوا کر تقسیم کردیا کرتے تھے۔ پھر سرکاری اثرورسوخ سے اپنے کلیم پاس کروانے کے بعد میر صاحب نے لاہور کی ایک عالیشان عمارت اپنے نام کروا لی اور جائزو ناجائز طریقوں سے بہت دولت جمع کی۔ بعد ازاں میر صاحب کی اولاد نے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے خاندانی دولت میں بے پناہ اضافہ کیا۔ میں نے صرف دو داستانیں بیان کی ہیں لیکن ایسی ان گنت داستانیں ہمارے ملک میں موجود ہیں جہاں تیز رفتار ترقی تو ہوئی ہے مگر اس کی سمت کی طرف کسی نے دھیان نہیں دیا۔ گزشتہ 65 برسوں میں ہم نے جو سمت اختیار کی ہوئی ہے وہ ثابت ہوچکا ہے کہ تباہی لانے والی سمت ہے۔ کیا آپ کو دکھائی دیتا ہے کہ موجودہ انتخابات کے نتیجے میں بربادی کی جانب جاری ہمارا سفر رک پائے گا؟

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved