تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     16-09-2018

کاک ٹیل

صبح واک کے لیے نکلتے ہی ٹھنڈی ہوا کا جھونکا جو مجھ سے ٹکرایا ‘تو معلوم ہوا کہ موسم سرما کا آغاز ہو گیا ہے۔ چیونٹیاں اب نہیں آتیں‘ شاید انہیں احساس ہو گیا ہے کہ اب ان کے لیے ضیافت کا کوئی اہتمام نہیں ‘ جو مردہ مکھیوں کی شکل میں ہوا کرتا تھا‘ بلکہ ان کی بجائے اب کئی دن سے ایک مکوڑا‘ جسے ہم دھک مکوڑا کہا کرتے تھے‘ آتا ہے اور اِدھر اُدھر چکر لگا کر واپس چلا جاتا ہے۔ یہ چلتا نہیں‘ بلکہ بھاگتا ہے۔ یہ کاٹتا ہے‘ تو اتنے زور سے کہ اسے ہٹائو تو ٹوٹ جائے گا‘ ہٹے گا نہیں اور اس کا سر اُسی جگہ رہ جائے گا‘ جہاں وہ کاٹ رہا ہوتا ہے۔ 
چڑیوں کا احوال ؛البتہ کافی افسوسناک ہے اور وہ یوں کہ پانچ سات چڑیوں کے ساتھ چڑا صرف ایک ہی ہوتا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ گجرانوالہ کے دوستوں نے کھا کھا کر یہ ویسے ہی کمیاب کر دیئے ہیں اور یہ چڑیاں زیادہ تر بیوائوں پر مشتمل ہیں اور جو اِکّا دُکّا چڑے باقی رہ گئے ہیں‘ ان کی تو موج لگی ہوئی ہے کہ کوئی نصف درجن چڑیوں میں راجہ اِندر بنا ہوتا ہے۔ جہاں میں بیٹھا ہوں ‘وہاں ایک جھرّی میں سے گلاب کا ایک پھول دکھائی دے رہا ہے‘ سبز پتوں کے پس منظر میں یہ اتنا خوبصورت لگ رہا ہے کہ میں جوہر تیسرے چوتھے روز اپنے گُلدان کے لیے تین چار پھول تُڑوایا کرتا تھا‘ اب یہ کام موقوف کر دیا ہے کہ یہ پھول اپنی جگہ پر ہی بھلے لگتے ہیں اور یہیں رہنے بھی چاہئیں‘؛اگرچہ (غالباً) غالبؔ نے تو کہہ رکھا ہے ؎
ز غارتِ چمَنَت بر بہار مِنّت ہاست
کہ گل بدستِ تو از شاخ تازہ تر مانَد
اس سے فارسی کے ایک قدیم شاعر قمی شہیدی کا یہ شعر یاد آ گیا ؎
شبے گفتم مرا از تیرگی ہا ہول می آید
ازاں شب دیدۂ مادر‘ شدہ از خواب محرومی
اور ایسا بھی لگا کہ یہ شعر ہمارے شاعر عباس تابش کے شعر ؎
ایک مدت سے مری ماں نہیں سوئی‘ تابشؔ
میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے
کا چربہ ہے اور خوشی بھی ہوئی کہ فارسی زبان کے شعراء بھی ہمارے اردو شعراء سے استفاد ہ کرنے لگے ہیں۔ یہ فارسی شعر کا چربہ تو نہیں ہو سکتا ‘کیونکہ عباس تابش بھی میری طرح فارسی زبان سے تقریباً نابلد ہیں‘ تاہم یہ توارد بھی ہو سکتا ہے کہ بڑے آدمی ایک ہی طرح سے سوچتے ہیں!آج کچھ فون بھی آئے ہیں‘ ایک جناب شکیل عادل زادہ کا اور دوسرا جناب گلزار بخاری کا‘ جو میرے گپ شپ والے کالموں کی تعریف کر رہے تھے اور یہ فرمائش بھی کہ ایسا کالم ہفتے میں کم از کم ایک ضرور ہونا چاہئے۔ سو‘ میں نے سوچاہے کہ ہفتے کے روز ایسے ہی کالم کی کوشش کیا کروں گا۔ تیسرا فون برطانیہ سے یاسمین سحرؔ کا تھا ‘جو ہوتی تو امریکہ میں ہیں‘ لیکن سیر سپاٹے کے لیے برطانیہ بھی آیا جایا کرتی ہیں۔ شاعرہ ہیں اور متعدد شعری مجموعوں کی خالق۔ کہہ رہی تھیں کہ کافی عرصہ پہلے الحمرا کی ایک تقریب میں آپ سے ملاقات ہوئی تھی(جو مجھے ہر گز یاد نہیں) چوتھا فون ہمارے گرائیں جناب افضل خاکسار کا تھا۔ ان کا تعلق ہمارے نواحی علاقے گوگیرہ سے ہے‘ جس کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ کبھی ضلع ساہیوال کا صدر مقام ہوا کرتا تھا‘ پھر اس کی پسلی میں سے ضلع اوکاڑہ کو نکالا گیا۔ آپ نے اپنے اشعار کے ساتھ جناب ادریس بابر کا ایک عشرہ بھی بھجوایا ہے‘ جو میری تعریف میں ہے اور کہا ہے کہ اسے کالم میں چھاپ دیں ‘جو میں کبھی نہیں کروں گا۔ عشرہ ادریس بابرؔ کی ایک اپنی صنفی ایجاد ہے ‘جو دس مصرعوں پر مشتمل ہوتا ہے‘ تاہم یاسمین سحرؔ اور افضل خاکسار کے اشعار کسی وقت ضرور پیش کروں گا۔ ادبی جریدہ ''استعارہ‘‘ کے مدیراور ممتاز ادیب و نقاد ڈاکٹر امجد طفیل اپنی ٹیم کے ہمراہ مفصل انٹرویو کے لیے آنا چاہتے تھے۔ میرا کہنا تھا کہ میں نے فلیپ نویسی کی طرح یہ سلسلہ بھی بند کر دیا ہے کہ کافی انٹرویو دے چکا ہوں ‘جبکہ ہر انٹرویو میں ایک ہی طرح کے سوالات پوچھے جاتے ہیں۔کہنے لگے کہ ہم ذرا مختلف قسم کے سوالات پوچھیں گے۔ پھر میں نے کہا کہ میری یادداشت بھی اب وہ نہیں رہی اور کافی متاثر ہو چکی ہے اور بہت سی باتیں یکسر بھول چکی ہیں۔ کہنے لگے: ہم آپ سے وہ باتیں ہی پوچھیں گے‘ جو آپ کو یاد ہوں۔ انہیں لارا لگایا ہے کہ طبیعت حاضر ہونے پر کسی وقت آپ کو بتا دوں گا۔
ہمارے یار جانی اور نظم کے ممتاز شاعر جناب اقتدار جاوید فریضۂ حج ادا کرنے کے بعد بخیر و عافیت تمام واپس تشریف لے آئے ہیں۔ پہلے گناہ تو ممکن ہے‘ معاف کرا آئے ہوں اور یہ کارِ خیر‘ اب نئے سرے سے شروع کر سکتے ہیں‘ کوئی بات نہیں‘ پھر ایک اور حج بھی تو کیا جا سکتا ہے!
اور‘ اب آخر میں اس ہفتے کی تازہ غزل:
ہوتا رہا زوال بھی
کرتے رہے کمال بھی
اِسی عشق میں گزریں گے
اگلے چودہ سال بھی
خود پکڑایا تھا کشکول
اب اس میں کچھ ڈال بھی
سر پر تُو ہی سوار ہے
چھوڑا ترا خیال بھی
مچھلی بھی ہشیار ہے
پھٹا ہوا ہے جال بھی
کسی کی نقل اتارتے
بھُولے اپنی چال بھی
باسی کڑھی میں رہ گیا
آیا ہُوا اُبال بھی
کم خوری کا ہے دعویٰ
بھرا ہُوا ہے تھال بھی
شعر کہاں ہے‘ اے ظفرؔ
اب وہ سانپ نکال بھی
آج کا مقطع
ظفرؔ‘ یہ تاک جھانک اب جو بھی سمجھیں
ذرا ایمان تازہ کر رہا ہوں

 

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved