تحریر : ھارون الرشید تاریخ اشاعت     17-09-2018

خودفریبی

حکومتیں رسوا کیوں ہوتی ہیں۔ حکمران ناکام کیوں ہوتے ہیں۔ لیڈروں میں ایسے ہوتے ہیں ‘ابدی اور خدائی قوانین کو نظرانداز کرکے جو خیالی جنت تعمیر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
1977ء کا الیکشن بھٹو کو جیتنا تھا۔ جیت گئے مگر باقی نہ رہ سکے اور پھانسی کے پھندے تک پہنچے۔ مدّاح کہتے ہیں امریکہ نے سازش کی کہ مرحوم ایٹمی پروگرام کا خالق اور قومی خودداری کے علم بردار تھے۔ استعمار کو گوارا نہ تھے۔بجا ارشاد مگرکیوبا کے فیڈل کاسترو؟ چار عشرے تک پڑوسی واشنگٹن کے سینے پر وہ مونگ دلتے رہے۔
1977ء میں ایک دن تین کالمی تصویر اخبارات میں چھپی ''فخر عوام‘ قائد ایشیا ذوالفقار علی بھٹو لاڑکانہ سے جو بلامقابلہ قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوگئے‘‘ مخالف امیدوار‘ جماعت اسلامی کے جان محمد عباسی اغوا کرلیے گئے تھے۔ اجلے اور باوقار مگر آدھے ووٹ بھی شاید نہ لے سکتے۔ پھر بھٹو نے ایسا کیوں کیا۔ اس لیے کہ شخصیت پرست معاشرے میں وہ ایک دیوتا تھے‘جس طرح بعض کے لیے آج عمران خاں یا نواز شریف۔تھا بھی یہ دیوتائوں کا دور۔ سٹالن بیت چکا تھا لیکن چین میں مائوزے تنگ اور کوریا میں کم ال سنگ کارفرما تھے۔ ان کا ذکر فانی آدمیوں کی طرح نہ ہوتا۔ لیبیا میں کرنل قذافی تھے۔ 
مشہور اور ڈرامہ باز آریانا فلانچی کو انٹرویو دینے گھوڑے پہ سوار وہ کمرے میں داخل ہوئے۔ سوال پوچھا تو کہا: میری ''سبز کتاب‘‘ میں جواب موجود ہے۔ دو تین بار یہی کہا تو فلانچی نے پوچھا: کیا آپ خدا پہ یقین رکھتے ہیں؟ قذافی نے کہا: اس کا مطلب کیا ہے۔اس نے کہا: مجھے لگا کہ آپ خود ہی کو خدا سمجھتے ہیں۔ انٹرویو تمام ہوا۔ قذافی کہا کرتے کہ '' قل ھواللہ‘‘ اور اس طرح کی دوسری سورتوں میں سے ''قل ‘‘کاٹ دینا چاہیے۔
زیادہ چرچا مائوزے تنگ کی ''سرخ کتاب‘‘ کا تھا۔ چین کے کنفیوشس کو عظیم ترین فلسفیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ مگر مائوزے تنگ کے ارشادات کو الہامی درجہ حاصل تھا۔ تاریخ ساز لیڈر تھے مگر ان کے سائے میں چین خوشحالی سے بہت دور رہا۔ صدیوں پرانے سماج کو بدل ڈالا۔ یکسر ایک نیا نظام متعارف کرایا۔ روسیوں نے اچانک ہاتھ کھینچا۔اس کے باوجود فوجی قوّت تعمیرکی‘بہت مشکل حالات میں ایٹمی پروگرام تشکیل دیا۔ دونوں عالمی طاقتوں امریکہ اور سوویت یونین کے سامنے ڈٹ کر کھڑے رہے۔ مگر چینیوں کی زندگی دکھوں سے بھری رہی۔ مائوزے تنگ نے کبھی نہ مانا کہ ان سے کبھی کوئی غلطی سرزد ہوئی ہوگی۔ چین کی خوشحالی اور طاقت کا آغاز ان کے جانشین ڈنگ سیائو پنگ سے ہوا۔ ان کا قول نئے دور کی علامت بن گیا: بلی اگر چوہا پکڑ سکتی ہے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ کالی ہے یا سفید۔ یہ ڈنگ کی پالیسیوں کا ثمر ہے کہ چین آج دنیا کی دوسری بڑی معاشی قوّت ہے اورفروغ پذیر ۔ بعض اعتبار سے اس کا کردار امریکہ سے بڑھ چکا‘ حالاں کہ عالمی سیاست میں وہ ایک نئی قوم ہیں۔ 
مائوزے تنگ سامراج کے خلاف فیصلہ کن کامیابیوں کے امین تھے۔ قوم ان سے محبت کرتی تھی۔ حکومت ہی نہیں‘ کمیونسٹ پارٹی اور معاشرے پر ان کی گرفت مضبوط تھی‘ میڈیا اور فلم ان کے ہاتھ میں۔ معاشرے کی اقتصادی‘ ثقافتی اور سماجی اقدار کا تعین وہی کرتے۔ اس کے برعکس ذوالفقار علی بھٹو ایک منقسم قوم کے لیڈر تھے۔ ایک پارلیمانی نظام کے قائد۔ 1970ء کے الیکشن میں ان کے حریف شیخ مجیب الرحمن نے قومی اسمبلی کی دوگنا سیٹیں جیتی تھیں۔ بھٹو کبھی اقتدار میں نہ آسکتے‘ خون ریز خانہ جنگی سے ملک اگر ٹوٹ نہ جاتا۔ مشرقی پاکستان اگر الگ نہ ہوگیا ہوتا۔ جس کے لیے وہ خود بھی قصوروار تھے۔
مغربی پاکستان میں بھی صرف 35 فیصد ووٹ انہیں ملے تھے۔ صرف پنجاب میں قطعی اکثریت حاصل تھی‘ جہاں وہ غریبوں کا دکھ بانٹنے اور دشمن بھارت کو چیلنج کرنے والے جواں مرد ہیرو تھے۔ سندھ کی 60 میں سے 28 نشستیں ۔ صوبے میں ان کے مخالف منقسم تھے۔ آزاد امیدوارآ ملے تو اکثریت حاصل ہو گئی۔ تلخ سچائی مگر یہ تھی کہ کراچی سمیت بڑے شہروں کی اردو بولنے والی آبادی ان کی مخالف تھی۔ کوئی انقلابی لیڈر نہیں‘ انہیں وہ ایک سندھ جاگیردار سمجھتی تھی۔ 
بلوچستان اور سرحد میں‘ جو اب پختون خوا ہے‘ پیپلزپارٹی ناکام رہی ۔ ڈیرہ اسمٰعیل خاں میں بھٹو مفتی محمود سے ہار گئے۔ دونوں صوبوں میں عبدالولی خاں کی نیشنل عوامی پارٹی سب سے بڑی تھی۔ بلوچستان کے قبائلی سرداران کے ہم نوا تھے۔ سرحد میں اے این پی نے مولانا مفتی محمود کی جمعیت علمائِ اسلام کے تعاون سے حکومت تشکیل دی۔ جمعیت کی صرف چھ سیٹیں تھیں مگر توازن اس کے ہاتھ میں تھا؛ چنانچہ مفتی صاحب کو وزیراعلیٰ بنانا پڑا۔ اپنے فرزند مولانا فضل الرحمن کی طرح وہ ایک کامیاب‘ کارگر اور عملی سیاست دان تھے۔ نسبتاً اچھی شہرت کے حامل بھی۔
اوّل دن سے دونوں صوبائی حکومتوں کے ساتھ بھٹو کے تعلقات کشیدہ رہے۔ بلوچستان پہ انہوں نے اختر مینگل کے والد عطاء اللہ مینگل کی حکومت برطرف کی اور صوبے پہ فوج چڑھا دی۔ سرحد کی حکومت احتجاجاً مستعفی ہوگئی۔ اب ایک نئی حزب اختلاف تشکیل پانے لگی۔ کسی قیمت پہ بھٹو جسے گوارا نہ تھا۔ بھٹو اور اس کی اپوزیشن میں پائی جانے والی تلخی ‘آج کی پی ٹی آئی اور نون لیگ سے کہیں زیادہ تھی۔ 
23مارچ 1973ء کو لیاقت باغ راولپنڈی کے جلسۂ عام میں حزب اختلاف کے ایک درجن سے زیادہ کارکن قتل کر دیئے گئے۔ سٹیج پر براہ راست گولیاں برسائی گئیں۔سامعین کو لانے والی بسیں جلا دی گئیں۔مخالف سیاسی لیڈر آئے دن جیلوں میں ڈالے جاتے اور شاہی قلعے کے تاریک تہہ خانوں میں۔ بھٹو آج ایک عظیم حریت پسند اور جمہوری لیڈر ہیں مگر ان کے اقتدار میں رہنماؤں سے بدترین سلوک کیا جاتا۔ چودھری شجاعت حسین کے والد چودھری ظہور الٰہی کو بھینس چوری کے الزام میں پکڑا گیا۔بلوچستان کی دوردراز مچھ جیل میں انہیں رکھا گیا ‘ بعدازاں قتل کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔ جماعت اسلامی کے امیر میاں طفیل محمد کی تنقید میں تلخی ہوتی مگر ذاتی طور پہ وہ نہایت ہی محترم مانے جاتے۔ سادگی کا ایسا نادر نمونہ کہ دکھاوے کے سماج میں شاذ ہی دیکھنے میں آتا ہے۔ ایک زاہد کی مشکل زندگی وہ گزارتے تھے۔ بے حد ریاضت کیش اور مرتّب آدمی۔ جیل میں ایسی ان کی توہین کی گئی کہ سننے والے دنگ رہ گئے۔ یہ طالب علم لیڈروں سراج الحق اور لیاقت بلوچ کی نہیںسیدابوالااعلیٰ مودودی کی پارٹی تھی۔ اس سے کراہت رکھنے والے لوگ بھی جماعت کے لیڈروں کا احترام کرتے۔ پوری مسلم دنیا میں سید ابوالاعلیٰ مودودی کی شناخت ایک سکالر کی تھی۔
جماعت کے لیڈروں میں سے ایک ڈیرہ غازی خان کے ڈاکٹر محمد نذیر تھے۔ ایک ہیومیوپیتھک معالج مگر بہت بالاقامت اور بہت مقبول۔ ایک کچے کلینک اور کچے مکان میں رہنے والے آدمی نے جاگیردار حریفوں کو شکست فاش سے دوچار کیا۔ علاقے سے ان کا تعلق نہیں تھا لیکن پھر بھی وہ عام لوگوں کے ہیرو بن گئے۔ لیڈر کی بجائے انہیں ایک درویش سمجھا جاتا۔ وہ ان لوگوں میں سے ایک تھے ‘خوف جن کی کھال میں داخل نہ ہوتا۔ اپنے مقصد کے لیے جو ہر قربانی دینے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ ایک دن وہ قتل کر دیئے گئے اور کسی کو اس میں شبہ نہ تھا کہ بھٹو کے حکم پر ۔ یہ ایک منجھی ہوئی نظریاتی پارٹی کے ساتھ ایسی دشمنی کا آغاز تھا‘ جو خون طلب کیا کرتی ہے۔
بھٹو کی یلغار سے کوئی محفوظ نہ تھا۔صنعتی ادارے ‘بینک اور انشورنس کمپنیاں قومیا لیں‘ حتیٰ کہ چاول صاف کرنے والے کارخانے اور فلور ملیں بھی۔سیاسی اور کاروباری ہی نہیں‘نوکرشاہی سمیت تمام فعال طبقات سے ان کا مطالبہ یہ تھا کہ سرجھکادیں۔محض ایک حکمران ہی نہیں‘ وہ ایک عظیم مفکر‘فلسفی ‘خطیب اور نثرنگاربھی تھے یا کم از کم بہت سے لوگوں کا خیال یہی تھا ۔وہ بے حد پڑھے لکھے اور ذہین آدمی تھے۔ کپتان سے بھٹو کا موازانہ کوئی نہیں کرتا۔ مگر اپنی عظمت کا احساس اِس میں بھی پایا جاتا ہے۔ قوم کے لیے اُس کی خدمات ہیں ۔بخیل بھٹو کے برعکس اس نے بہت مالی ایثارکیا مگرخود سے محبت کرنے والا لیڈر خوشامدیوں میں گھرتا جا رہاہے۔وہی ازل سے چلی آتی خودفریبی۔وہی اپنا محاسبہ نہ کرنے کی روش۔
حکومتیں رسوا کیوں ہوتی ہیں۔ حکمران ناکام کیوں ہوتے ہیں۔ لیڈروں میں ایسے ہوتے ہیں ‘ابدی اور خدائی قوانین کو نظرانداز کرکے جو خیالی جنت تعمیر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved