تحریر : شاہد صدیقی تاریخ اشاعت     18-09-2018

حسن صہیب مراد: وہ ہم نفس ہم سخن ہمارا

کبھی کبھی گھر سے ہم اپنی منزل کا تعین کرکے نکلتے ہیں‘ لیکن راستے میں ہمیں کوئی نادیدہ آواز پکارتی ہے اورہمارے قدم بے اختیار اس کی طرف اٹھناشروع ہوجاتے ہیں۔اس دن بھی ایساہی ہوا تھا۔ ان دنوں میں کراچی میں آغاخان یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشنل ڈیویلپمنٹ میں پڑھاتا تھا۔ تین سال یہاں پڑھانے کے بعد میرا انتخاب کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی جدہ میں ہوگیا تھا۔ یہ1999ء کے سال کا ایک روشن دن تھا۔ اُس روز ہمدرد یونیوسٹی کی کانوکیشن تھی۔ کیسااتفاق تھاکہ میرے ساتھ والی نشست حسن صہیب مراد کی تھی۔ یہ حسن بھائی کے ساتھ میری پہلی ملاقات تھی۔ ابتدائی تعارف کے بعد جب انہیں معلوم ہوا میرا انتخاب کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی جدہ میں ہوگیاہے ‘توانہوں نے بڑی سنجیدگی سے مجھے کہا: آپ ہمارے پاس لاہورکیوںنہیں آجاتے؟ یادرہے یہ دودہائیوں پہلے کاذکر ہے ‘اُس وقت حسن بھائی انسٹی ٹیوٹ آف لیڈرشپ اینڈ مینجمنٹ چلارہے تھے۔ نا جانے اُن کی گفتگو میںکیاتاثیرتھی یااُن کی دلاویز مسکراہٹ میں کیاسحرتھا کہ میںنے جدہ جانے کاارادہ ترک کردیا اورحسن بھائی کے قافلے میں شریک ہوگیا۔اس ابتدائی قافلے میں عابدشیروانی‘ حبیب واحدی‘ عبدالغفار غفاری‘شاہین رشید اور زاہد وڑائچ بھی شامل تھے۔ سلیم منصور خالد کے گراں قدر مشورے بھی شامل ِحال تھے۔
برکت مارکیٹ میںکرائے پرایک عمارت لی گئی تھی‘ جہاں اکنامکس اور بزنس ایڈمنسٹریشن کے ڈیپارٹمنٹس تھے۔ حسن بھائی کاخواب تھا کہ ایک فعال سوشل سائنسز کی فیکلٹی کا اجراء کیاجائے۔ وسائل نہ ہونے کے برابرتھے‘ میرے پاس پرنٹرنہیںتھا ‘وہ میں حسن بھائی کے د فتر سے اٹھالایا۔یوں سوشل سائنسز اورہومینٹیز کی فیکلٹی کاآغاز 1999میں ہوا۔ ابتداء میں پانچ پروگرامز آفرکئے گئے۔ حسن بھائی کے ساتھ خواب دیکھنااوران خوابوں کی تکمیل کے لیے جدوجہد میں ایک خاص طرح کی راحت تھی۔ مجھے یاد ہے کیسے دیوانہ وار میں اورفاروق کنورمرحوم فیکلٹی کے نئے پروگراموں کی تشہیرکے لیے لاہوراورلاہور سے باہرشہروں میںجاتے تھے۔ اس عرصے میں مجھے حسن بھائی کوقریب سے دیکھنے کاموقع ملا۔ میرے لیے وہ باس سے زیادہ ایک دوست اور Mentor تھے۔ خواب تو ہم سب ہی دیکھتے ہیں ‘لیکن حسن بھائی کے خواب بڑے ہوتے تھے اورکبھی کبھی توہمیں لگتا تھا کہ اُن کی تعبیرمشکل ہے ‘لیکن اُن کی محنت لگن اور جذبے سے بہت سے خوابوں کی تعبیریں اُن کی زندگی میں ہی مل گئیں۔ ان میں سے ایک یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی ہے‘ جس کاشمار ملک کی صفِ اوّل کی یونیورسٹیوں میں ہوتا ہے‘ جووسیع وعریض عمارت پرمشتمل ہے اورجس میںجدید ترین سہولتیں میسرہیں۔ یہ سفر1991ء میں علامہ اقبال ٹائون میں ایک مکان کے دوکمروں پرمشتمل پورشن سے شروع ہوا‘ پھرمنی مارکیٹ اورگارڈن ٹائون کی کرائے کی عمارتوں سے ہوتا ہوا جوہرٹائون کی عظیم الشان یونیورسٹی تک آ پہنچا۔ کچھ اور خواب جن کی تعبیر انہیں زندگی میں ملی ان میں آفاق ‘آئی ایل ایم کالجز‘ اور نالج سکولز کا قیام تھا‘لیکن حسن بھائی کے خواب ختم نہیں ہوتے تھے۔ ان کاایک خواب یوایم ٹی کوانٹرنیشنل سطح پرمتعارف کراناتھا۔ ان کاایک اورخواب جس کاانہوںنے مجھ سے ذکرکیا‘ ایک فیڈرل یونیورسٹی کے چارٹر کاحصول تھا‘ خداکرے اُن کے یہ خواب اُن کا جواں ہمیت بیٹا ابراہیم پورے کرے!۔
حسن بھائی کومیںنے آئی ایل ایم سے یوایم ٹی کے تھکادینے والے سفرمیںکبھی ہمت ہارتے نہیںدیکھا۔ حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں ان کے ہونٹوں پرایک دلآویز مسکراہٹ ہوتی‘ ان کی طبیعت میں ایک لطیف حس مزاح تھا۔ وہ کسی بھی محفل میںہوتے مرکز نگاہ بن جاتے۔ حسن بھائی کی شخصیت کے کئی پہلوتھے ۔وہ ادارے کے ریکٹر بھی تھے‘ کلاس میں طالب علموں کوپڑھاتے بھی تھے۔ مسجد میں جمعہ کاخطبہ بھی دیتے تھے۔ مطالعے کاان کوجنون کی حدتک شوق تھا۔ نئی نئی کتابیں اورجراید اُن کے پاس آتے تھے۔ ان کے گھر کی ذاتی لائبریری میں کتابوں اوررسالوں کا ایک وسیع ذخیرہ تھا۔ کتابوں کی باقاعدہCataloguingکی گئی تھی۔ میری حسن بھائی کے ساتھ قربت کی ایک وجہ کتاب سے محبت بھی تھی۔ ہم ایک دوسرے سے ملتے تو کتابوں کاتذکرہ ہوتا‘ہم ایک دوسرے کونئی کتابوں کاتحفہ دیتے۔حسن بھائی کو نئے نئے خیال سوجھتے تھے۔ یہ ندرتِ خیال ان کے خوابوں کو تشکیل دیتی تھی۔ان کے خوابوں کی کوئی سرحد نہیں تھی۔الغرض خوابوں کا ایک لا متناہی سلسلہ تھا‘ جو ان کو متحرک رکھتا تھا۔
حسن بھائی ایک فرماںبردار بیٹے‘ایک مشفق باپ اور ایک محبت کرنے والے شوہرتھے۔ اپنے مصروف اوقات کار کے باوجود وہ اپنی والدہ‘ بیگم اوربچوں کووقت دیتے تھے۔ حسن بھائی سحرخیزتھے‘ تہجد کے لیے چار بجے بیدارہوجاتے‘فجرکی نماز اپنے بیٹے ابراہیم کے ہمراہ مسجد میںجاکر پڑھتے۔ صبح قرآن کی تلاوت ضرور کرتے۔ اپنے لیے چائے کا ایک کپ خود تیارکرتے۔ یہ وہ معمولات تھے‘ جن میں کبھی ناغہ نہیں ہوا۔ جنازے میں شریک ان کے بڑے بھائی فاروق صاحب نے بتایا کہ وہ تقریباً نصف قرآن حفظ کرچکے تھے۔وہ دین اوردنیا کاحسین امتزاج تھے۔ پاکستان سے ان کی محبت لازوال تھی‘ جب وہ اپنی زندگی کے آخری سفرپر جارہے تھے‘ توان کاتابوت پاکستان کے چاندستارے والے پرچم میں لپٹاہواتھا۔
حسن بھائی کے ساتھ ہمارے خاندان جیسے تعلقات تھے۔ نوشابہ بھابھی کامیری بیگم کے ساتھ بہنوں جیساتعلق تھا۔ حسن بھائی کے بچے ابراہیم اورمریم ہمارے سامنے بڑے ہوئے دونوں بچوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اوراپنے والدین کے نقشِ قدم پرچلتے ہوئے دین اوردنیاکے توازن کوبرقرار رکھا۔ حسن بھائی اورنوشابہ بھابھی کاتعلق مثالی تھا‘ اسی طرح حسن بھائی اپنے بچوں مریم اورابراہیم سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ابراہیم کوانہوں نے غیرمحسوس طریقے سے بڑی ذمہ داریوں کے لیے تیار کرناشروع کردیاتھا۔ جوہرٹائون میں اویس قرنی پارک کے قریب ان کے گھر ہم کتنی ہی بارگئے ہوں گے۔ وہ اکثراپنے گھردعوت پربلالیتے۔ مہمانوں کی تواضع کرکے دونوں میاں بیوی بہت خوش ہوتے۔ ان کے ہاں نہاری اہتمام سے تیار کی جاتی۔ اسی طرح حسن بھائی اورنوشابہ بھابھی کئی بارہمارے گھرتشریف لائے۔جوہرٹائون سے بیدیاںروڈ پرہمارا گھر کافی دوری پرواقع تھا‘لیکن یہ ان کی خاص محبت تھی کہ وہ خود ڈرائیوکرکے ہمارے گھرآتے۔
آج سے تقریباً چارسال پہلے جب علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں میراانتخاب بطور وائس چانسلر ہوا‘تو انہوںنے اپنے گھر میں ایک فیملی ڈنرکااہتمام کیا۔ ڈنر میںہمیشہ کی طرح نوشابہ بھابھی نے بہت تکلف کیا تھا۔اس دن حسن بھائی نے مجھے بہت سے مفیدمشورے دیئے۔ میری حسن بھائی سے آخری ملاقات تقریباً ایک ماہ پہلے اسلام آبادمیں ہوئی۔ انہوں نے مجھے فون کیا کہ وہ اسلام آباد آرہے ہیں اورلنچ میرے ساتھ کریں گے ۔اس روز عرصے بعد ہماری طویل ملاقات ہوئی مسکراتے ہوئے کہنے لگے کہ اب ریکٹرشپ کی ذمہ داری نہیں رہی۔ اب میرے پاس وقت ہے۔ ان کے ذہن میں کئی موضوعات تھے ‘جن پروہ لکھناچاہتے تھے۔ ان کے بیٹے ابراہیم نے بتایا: حادثے کے بعد وہ کچھ دیرزندہ رہے‘ ان کے لبوںپرذکرتھا۔وہ شہادت کی انگلی کھڑی کرکے گواہی دے رہے تھے۔ دمِ آخربھی وہ اپنے رب کونہیں بھولے تھے۔ ابراہیم نے بتایا: اصل پروگرام سکردوجانے کاتھا‘ لیکن پھر اچانک پروگرام بدل گیا اوروہ گلگت کی طرف روانہ ہوگئے۔کبھی کبھی گھرسے ہم اپنی منزل کاتعین کرکے نکلتے ہیں‘لیکن راستے میں کوئی نادیدہ آواز پکارتی ہے اور ہمارے قدم بے اختیار اس کی طرف اٹھنا شروع ہوجاتے ہیں۔

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved