تحریر : ڈاکٹر لال خان تاریخ اشاعت     19-09-2018

جو تاریک راہوں میں مارا گیا

مرتضیٰ بھٹو کے تاریک راہوں میں مارے جانے کے 23 سال بعد‘ اس کی یاد‘ اس کے بہیمانہ اور ظاہری پراسرار قتل کو نئی نسل کے سیاسی افق سے تقریباً غائب کر دیا گیا ہے۔ سرکاری یا زرداری پیپلز پارٹی‘ جو اب اس ملک کے 'نظام حاکمیت‘ کا ایک ثانوی سا حصہ بن چکی ہے، ویسے ہی مرتضیٰ کے قتل کے ذکر سے ہی خائف ہے۔ اس کے لیڈروں کے نہ جانے کیوں رونگٹے سے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ان کے چہروں پر خجالت کے تاثرات ابھر آتے ہیں۔ مرتضیٰ کی اہلیہ کی قیادت میں چلنے والی پیپلز پارٹی 'دھنوانوں کی سیاست‘‘ میں بری طرح پچھاڑ کر کہیں کونے کھدرے میں ٹھونس دی گئی ہیں۔ مرنے والوں کے ساتھ کوئی مرتا نہیں۔ کسی کی درد ناک موت یا وحشیانہ قتل کا درد اور اذیت جتنی بھی ہو‘ اس کے انتقام کی آگ میں ہونے والی جدوجہد کی سیاست وقت کے نشیب و فراز آخر کار ٹھنڈی اور بے ضرر کر ہی ڈالتے ہیں۔ ''شہید بھٹو پیپلز پارٹی‘‘ بھی سیاسی اور تنظیمی طور پر کسی ایسی نظریاتی اور لائحہ عمل کی بنیاد پر نہیں چلائی گئی جس میں ایک لیڈر کی شخصیت کا 'سحر‘ اور چاہت کے ساتھ اس کے انقلابی بیانات اور تقاریر کو ٹھوس شکل میں ایک پروگرام اور حکمت عملی دی جا سکتی ہو۔ پھر بھی ان کی ہمت ہے کہ اس حالت میں جب سندھ میں مرتضیٰ کے سب سے بڑے دشمنوں کا بھاری اقتدار ہے انہوں نے تھوڑا بہت پارٹی کا نام باقی اور سرگرمیوں قائم رکھی ہوئی ہیں‘ لیکن فاطمہ بھٹو کے سیاست سے انحراف اور پارٹی کی قیادت سنبھالنے سے انکار بھی ایک ایسی کاری ضرب تھی جو مرتضیٰ بھٹو کے نظریات پر بنائی جانے والی پارٹی کو زیادہ آگے نہیں لے جا سکی اور' شہید بھٹو پیپلز پارٹی‘ مین سٹریم سیاست کا حصہ بننے میں ناکام رہی۔ ویسے بھی اس وقت کی مسلط سیاست اور مالیاتی فنانسروں کی پروردہ پارٹیوں کے ڈھانچے میں اس کی گنجائش نہیں بنتی تھی۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ لیڈروں کی شہادتوں اور قربانیوں پر سیاست زیادہ طویل نہیں چلائی جا سکتی۔ پسماندگی کی انتہائوں میں دولت مند حکمران ان شہادتوں کے نام پر ووٹ لے کر جو حرکات کرتے ہیں ان کے تسلسل سے آخر کار ان شہادتوں کا عمومی تاثر بری طرح مجروح ہوتا ہے۔ تاہم اب حالات خاصے بدل چکے ہیں اور جس بے دریغی سے بھٹو کے نام اور اس کی شہادت کو استعمال کیا گیا ہے اس سے تو اب بھٹو کا نام بے اثر ہونا شروع ہو گیا ہے۔ جب سر پر لکڑیاں اٹھائے تھر کے ایک ننگے بچے کی تصویر سوشل میڈیا پر چلتی ہے اور اس پر کیپشن لگی ہوئی ہوتی ہے کہ 'تھر میں بھٹو ننگا ہے‘ دبئی میں بھٹو زندہ ہے‘ تو پیپلز پارٹی اور ذوالفقار علی بھٹو کے پرانے جیالوں اور متوالوں کے ماتھے پر بل پڑتے ہیں‘ اور اس اذیت ناک حقیقت سے ان کے دل و دماغ مزید غم اور بے بسی کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ لیکن آج کی‘ خصوصاً درمیانے طبقے کی نئی نسل‘ جو بھاری اکثریت میں سوشل میڈیا میں سرگرم ہے‘ وہ اس طنز سے شاید محظوظ ہوتے ہوں گے۔ آج کے اس افراتفری اور مفاد پرستی کی سیاسی بالا دستی میں‘ بھلا مرتضیٰ بھٹو کی شہادت اور قربانی کے نام پر کتنی حمایت حاصل ہو سکتی ہے؟ مرتضیٰ بھٹو کا اپنا سیاسی سفر بھی انہی پیچیدگیوں پر مبنی تھا۔ در حقیقت عملاً مرتضیٰ بھٹو کی اپنی سیاسی زندگی کا آغاز ذوالفقار علی بھٹو کو سپریم کورٹ سے سزائے موت ملنے کے بعد اچانک ہوا تھا۔ سب سے پہلے انہوں نے بھٹو سے اچھے تعلقات رکھنے والے بین الاقوامی حکمرانوں سے ملاقاتیں کر کے بھٹو کی پھانسی رکوانے کی اپیلیں کیں، اس سلسلے میں بہت سے ممالک کے دورے کیے لیکن در حقیقت صرف شام کے صدر حافظ الاسد نے دل سے مرتضیٰ کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا اور نبھانے کے لئے بھرپور کاوشیں کیں۔ زیادہ تر نے منافقت سے ہاں تو کر دی‘ لیکن یہ دولت مند بادشاہتیں کب کسی ''پرانے دوست‘‘ کی سگی ہوتی ہیں۔ سفارت کاری کے تعلقات تو ریا کاری اور جھوٹ پر مبنی ہوتے ہیں۔ مرتضیٰ نے بیرون ملک بھٹو کی رہائی کے لئے بڑے بڑے مظاہرے بھی کروائے لیکن امریکی سامراج کی مکمل پشت پناہی میں ضیاء الحق نے بھٹو کا عدالتی قتل کروا دیا۔ اس کے بعد غم و غصے میں مرتضیٰ نے' مسلح جدوجہد‘ کے ذریعے بھٹو کا انتقام لینے کے لئے ایک شہری گوریلا جنگ کا راستہ اپنایا اور کابل شفٹ ہو گیا۔ وہاں ''الذوالفقار‘‘ کا اجرا کیا گیا‘ اور تحریک کی پسپائی سے تنگ آنے والے نوجوانوں کو مختلف مسلح حملوں کے لئے ملک میں بھیجا گیا۔ ایک کامیاب ''ہائی جیکنگ‘‘ بھی کروائی گئی‘ لیکن ان مسلح کارروائیوں سے پاکستان میں عمومی طور پر بھٹو کے قتل کے صدمے، ریاستی جبر اور معاشی حملوں سے مجروح محنت کش عوام کی ہراول پرتیں بہت حد تک پسپائی میں جا چکی تھیں۔ مرتضیٰ کی توقعات کے برعکس یہ مسلح جدوجہد پر مبنی حملے اور دھماکے ان کو ابھارنے میں ناکام رہے۔ پھر ''الذوالفقار‘‘ میں بھی غداریاں ہونے لگیں اور چند سال بعد یہ تنظیم شدید تنزلی کا شکار ہو گئی۔ اس کے بھگوڑے اور وعدہ معاف گواہ‘ آج کی حکومت میں وزیر بنے بیٹھے ہیں۔ پھر جب دوسری مرتبہ مرتضیٰ کی بہن بے نظیر کی حکومت آئی تو والدہ نصرت بھٹو نے دونوں کے درمیان صلح کروانے اور مرتضیٰ بھٹو کو واپس بلوا کر سیاست میں کردار ادا کرنے کی کوششیں شروع کیں؛ تاہم مرتضیٰ اور بے نظیر کے پہلے سے موجود اختلافات بے نظیر کی زرداری سے شادی کے بعد بہت زیادہ تلخ ہو چکے تھے‘ اس لیے صلح کا تو کوئی امکان نہیں تھا۔ نصرت بھٹو اپنی سیاسی ساکھ کے زور پر مرتضیٰ کو واپس پاکستان تو لے آئیں لیکن وہ سیدھا جیل میں گیا اور اس کے رہائی کے بعد نصرت بھٹو کو پارٹی کی چیئرپرسن کے عہدے اور تمام کلیدی ذمہ داریوں سے برطرفی کی سزا دی گئی۔ نصرت بھٹو کی بھرپور انتخابی مہم کے باوجود مرتضیٰ کو سرکاری پیپلز پارٹی کے خلاف سخت مقابلے کے بعد صرف سندھ اسمبلی کی ایک صوبائی نشست حاصل ہو سکی۔ اس مہم کے دوران لاڑکانہ کے مرتضیٰ ہائوس پر بے نظیر حکومت نے آنسو گیس کا استعمال کیا‘ اور ریاستی تشدد کروایا جس میں بیگم نصرف بھٹو زخمی بھی ہوئیں‘ لیکن مرتضیٰ‘ جس میں بے پناہ عزم اور حوصلہ تھا‘ پارٹی کو واپس سوشلسٹ منشور پر لانے کی جدوجہد کرنے لگے۔ انہوں نے مارکسزم کے استادوں کو پڑھنا بھی شروع کیا۔ وہ دقیق موضوعات پر بھی بلند درجے کی بحثوں کا حصہ بنتے تھے تاکہ پارٹی کو ایک انقلابی سوشلزم کا لائحہ عمل دیا جا سکے‘ لیکن مرتضیٰ بھٹو نے دو سب سے بڑی غلطیاں کیں۔ پہلے تو اس نے ان حالات میں اپنی طاقت کے توازن کو کسی حد تک مبالغہ سے پرکھا اور یہ سمجھ بیٹھا کہ سویلین عدالتوں اور حکومتوں میں اس کے ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے اور مسلح جدوجہد کرنے کے عمل کو شاید ریاست فراموش کر چکی ہے۔ دوسری غلطی چند سندھی وڈیروں کی غلط مشاورت پر نئی متبادل پیپلز پارٹی کا اعلان کرنا تھا۔ یہ غلطیاں اس کے لیے جان لیوا ثابت ہوئیں۔ اس نے اپنی طاقت کا غلط اندازہ لگایا تھا اور یہ سمجھ نہیں سکا کہ کوئی بھی ریاست اپنے خلاف مسلح بغاوت کو کبھی فراموش نہیں کرتی‘ جب تک کہ وہ افراد یا تنظیمیں ریاست کی ذیلی غلامی اختیار نہ کر لیں۔ 20 ستمبر 1996ء کی شام کو جب وہ ایک جلسے سے واپس اپنے تاریخی گھر 70 کلفٹن کے قریب پہنچا تو بجلی بند کر دی گئی۔ مرتضیٰ اور ان کے ساتھیوں کو گولیوں کی بوچھاڑ سے لہولہان کر دیا گیا۔ وہ سڑک پر پڑا رہا اور اس کا لہو بہتا رہا۔ جب اس کی موت تقریباً یقینی ہو گئی تو اس کو ہسپتال لے جایا گیا جہاں پہنچتے ہی اس نے دم توڑ دیا۔ اس کے قاتلوں کی تلاش جاری ہے۔ جب تک یہ نظام رہے گا یہ تلاش بھی جاری رہے گی۔ لیکن مرتضیٰ کی زندگی اور موت کا سبق صرف یہی ہے کہ سوشلسٹ انقلاب مزدور طبقے کی قیادت میں عوام کی ہڑتالوں‘ شعوری مداخلت اور ابھرے ہوئے بغاوت کے جذبوں پر مبنی اشتراکی تحریک اور جدوجہد سے آتے ہیں۔ مسلح جدوجہد اور بندوقوں کی گولیوں سے ہونے والے قتل اور حملے اکثر اوقات ظالم حاکمیت کو کمزور کرنے کی بجائے اس کی مضبوطی کے جواز بن جاتے ہیں۔

 

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved