تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     03-10-2018

سرخیاں اُن کی، متن ہمارے

لیگی ارکان بیان بازی سے گریز کریں: شہباز شریف
سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور نواز لیگ کے صدر میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ ''لیگی ارکان پارلیمنٹ ‘اتحادی جماعتوں کے خلاف بیان بازی سے گریز کریں‘‘ اور اپوزیشن کا مزید شیرازہ نہ بکھرائیں جو کہ پیپلز پارٹی کے نکلنے سے پہلے ہی کافی بکھر چکا ہے‘ کیونکہ نیب اور ایف آئی اے‘ جو ہمارے پیچھے پڑے ہوئے ہیں‘ ہمارا کام تمام کرنے کے لئے وہی کافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے خلاف سازش ہوئی تو ڈٹ کر مقابلہ کریں گے‘‘ اگرچہ ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا ہم میں اب وہ دم خم ہی نہیں رہا ہے اور جیل سے باہر رہنے کے بھی گنے چُنے دن ہی باقی رہ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ''پوائنٹ سکورنگ سے بھی گریز کریں‘‘کیونکہ ہم نے خود 30سال تک جو پوائنٹ سکورنگ کی ہے‘ اس کو کافی سمجھیں جو کہ اکثر غلط ہی ثابت ہوتی رہی ہے اور الٹی گلے پڑ جاتی ہے‘ جبکہ پہلے ہی اتنی بلائیں انکوائریوں کی صورت میں گلے پڑی ہوئی ہیںتوبہ ہی بھلی۔آپ اگلے روز اسلام آباد میں ایک عشائیے سے خطاب کر رہے تھے۔
میرے خلاف سیاسی مقدمات بنائے گئے ہیں: اسحق ڈار 
سابق وزیر خزانہ اور عدالت سے مفرور اسحق ڈار نے کہا ہے کہ ''میرے خلاف سیاسی مقدمات بنائے گئے ہیں‘‘ کیونکہ منی لانڈرنگ اوروسائل سے زیادہ اثاثے بنانا سیاست کا ضروری حصہ ہیں‘ جس کی ابتداء ہمارے قائد نے کی تھی اور عدالت سے انہیں جو سزا مل چکی ہے یا ابھی اور ملنے والی ہے‘ اس کو کافی سمجھا جائے‘ کیونکہ ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤںاور کتنے افسوس کی بات ہے کہ حکومت محاوروں کا مطلب بھی نہیں سمجھتی‘ جو بڑی محنت سے بنائے گئے ہیں اور اب اوپر سے پاکستان میں میری جائیداد اور بینک اکاؤنٹ بھی نیلام اور ضبط کئے جانے کا حکم ہو گیا ہے‘ لیکن فکر کی کوئی بات نہیں‘ دُبئی وغیرہ میں میرا کافی کچھ موجود ہے‘ بلکہ آہستہ آہستہ اسے بھی ٹھکانے لگا رہا ہوں‘ کیونکہ لالچی حکومت کی نظریں ‘اس پر بھی ہیں۔ آپ اگلے روز ٹویٹر پر پیغام جاری کر رہے تھے۔
سمجھ نہیں آتا کہ عمران نیا پاکستان کیسے بنائیں گے: سعد رفیق
سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ ''مجھے سمجھ نہیں آتی کہ عمران خان لوٹوں کی مدد سے نیا پاکستان کیسے بنائیں گے‘‘ جبکہ ہمارے ساتھ بھی مشرف دور کے لوٹے ہی تھے‘ جس کے نتیجے میں ملک اس حالت کو پہنچ گیا ہے کہ گاڑیاں اور بھینسیں تک بیچنی پڑ گئی ہیں‘ اس لیے بہتر ہوتا کہ نیا پاکستان بنانے کا طریقہ عمران خان مجھ سے معلوم کر لیتے ‘کیونکہ میں اگر پرانے انجنوں سے نئے انجنوں کا کام لے سکتا ہوں‘ تو پرانے پاکستان کو نیا بنانے کا نسخہ میرے پاس کیوں نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ''ڈیڑھ ماہ میں ہر چیز مہنگی ہو گئی ہے‘‘ جبکہ ہم یہ کارنامہ مسلسل ہی انجام دیتے رہے ہیں‘ جبکہ اشتہارات کے ذریعے ترقی کرنے میں بھی مصروف تھے۔ آپ اگلے روز لاہور میں ایک کارنر میٹنگ سے خطاب کر رہے تھے۔
ضمنی الیکشن ہمارے لئے بڑی اہمیت کا حامل ہے: حمزہ شہباز
نواز لیگ کے مرکزی رہنما اور رکن قومی اسمبلی حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ ''ضمنی الیکشن ہمارے لئے بڑی اہمیت کا حامل ہے‘‘ کیونکہ ہمارے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی اس میں حصہ لے رہے ہیں اور اگر وہ پھر ہار جاتے ہیں‘ تو ہمارے لئے بہت بدنامی کا باعث ہوگا اور ہمارے جیسے نیک نام افراد کے لئے بدامنی بہت بڑا صدمہ ہوگا‘ جبکہ ایسے صدمات ہم مسلسل اُٹھا رہے ہیں ‘بلکہ ان کے علاوہ بھی بہت سے صدمات کے لئے تیار بیٹھے ہیں‘ ورنہ ہم سب کے لیے حدیبیہ پیپر مل کیس ہی کافی تھا۔ انہوں نے کہا کہ ''کارکن جان کی بازی لگا دیں‘‘ اگرچہ ان کی جان ہمارے ساتھ پہلے ہی کافی نکل چکی ہے ‘لیکن جو تھوڑی بہت باقی ہے ‘وہ تو ضرور دیں؛ اگرچہ اس کا نتیجہ بھی کچھ نہیں نکلے گا‘ کیونکہ ووٹر بھی وہی ہیں اور ہم بھی وہی اور جو ووٹ کو عزت دو‘ کا مطلب بھی اب اچھی طرح سے سمجھ گئے ہیں اور تایا جان کی جان کو رو رہے ہیں۔ آپ اگلے روز لاہور میں ایک اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔
تیس روز میں جتنے لطیفے بنے‘ اتنے کبھی نہیں بنے: احسن اقبال
سابق وفاقی وزیر داخلہ اور رکن قومی اسمبلی چوہدری احسن اقبال نے کہا ہے کہ ''تیس روز میں جتنے لطیفے بنے‘ کسی حکومت کے دور میں نہیں بنے‘‘ جبکہ ہمارے زمانے میں لطیفے جتنے بھی بنے‘ ہمارے کے حوالے سے بنے تھے اور ان لطیفوں کی کئی کتابیں چھپ چکی ہیں‘ جن کے تازہ ایڈیشن بھی گاہے بگاہے چھپتے رہتے ہیں اور جنہیں پڑھ پڑھ کر ہماری قوم خوش و خرم رہتی ہے‘ مثلاً: ہنسی کے پروانے‘ ہنسی کے حلوہ کدو وغیرہ۔ انہوں نے کہا کہ ''نواز شریف کی رہائی کسی ڈیل کا نتیجہ نہیں‘‘ اور ہم کئی بار اس کی تردید کر چکے ہیں‘ لیکن کوئی مانتا ہی نہیں‘ ویسے بھی ابھی صرف ضمانت پر رہا ہوئے ہیں۔ سارار کیس تو ابھی باقی ہے ‘جبکہ اس رہائی کے خلاف بھی نیب سپریم کورٹ میں اپیل دائر کررہی ہے‘ جس سے ہمارے حلقوں میں کافی تشویش پائی جاتی ہے‘ جبکہ دیگر زیر سماعت اور نئے قائم ہونے والے مقدمات ہی اتنے زیادہ ہیں کہ میاں صاحب نے کھانا پینا چھوڑ دیا ہے اور دن میں صرف تین بار اسے زہر مار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ''سی پیک کے بارے شکوک و شبہات پیدا نہ کئے جائیں‘ کیونکہ وہ ایک مقدس دستاویز ہے اور جس کی جھلک دیکھنا پارلیمنٹ کو بھی نصیب نہیں ہوئی‘ عوام کس کھیت کی مولی ہیں۔ آپ اگلے روز گوجرانوالہ کسی عدالت میں بیان ریکارڈ کرانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
آ ج کا مقطع
ہم اتنے عقلمند نہ ہوں گے‘ ظفرؔ مگر
کافی تھا اس کا ایک اشارہ کہ اب نہیں

 

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved