تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     09-10-2018

سرخیاں‘ متن اور پروفیسر افضل خاکسار کی شاعری

احتساب کا کوئی خوف نہیں‘ انتقام کی بُو آ رہی ہے: خورشید شاہ
پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ ''ہمیں احتساب کا کوئی خوف نہیں‘ انتقام کی بُو آ رہی ہے‘‘ اور یہ بُو ن لیگی حضرات سمیت ہر شریف آدمی کو آ رہی ہے‘ بلکہ سب سے زیادہ زرداری صاحب کو آ رہی ہے‘ کیونکہ اُن کی قوتِ شامہ بھی کچھ زیادہ ہی تیز ہے اور جب یہ انکوائریاں اور تفتیشیں مکمل ہوتی ہیں‘ تو یہ بُو باقاعدہ بدبو کی شکل اختیار کر جائے گی‘ جس کے لئے ناک پر رکھنے کے لئے تھوک کے حساب سے رومالوں کی تیاری کا آرڈر دے دیا گیا ہے‘ کیونکہ ہمارے علاوہ ماشاء اللہ فرنٹ مینوں کی تعداد ہی اتنی ہے کہ شاید یہ آرڈر بار بار دینا پڑے۔ آپ اگلے روز سکھر میں ایک اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔
لندن تو کیا پاکستان سے باہر کہیں کوئی جائیداد نہیں: اسحق ڈار
سابق وزیر خزانہ اور عدالتی مفرور اسحق ڈار نے کہا ہے کہ ''لندن تو کیا‘ پاکستان سے باہر کہیں کوئی جائیداد نہیں‘‘ اگر ہو بھی تو ٹھکانے لگائی جا چکی ہے‘ کیونکہ میں اتنا بیوقوف نہیں‘ بلکہ دور اندیش آدمی ہیں اور ہمیں دوراندیشی کا ثبوت برخورداران حسین نواز اور حسن نواز نے بھی دیا ہے اور جب سے میں بیمار ہوا ہوں اور بیماری ن ے زیادہ زور پکڑا ہے۔ آخرت بھی نظر آ رہی ہے‘ اس لیے بھی کوئی جائیداد رکھنا محض لالچ کی بات ہوتی ‘جبکہ شریف برادران کی طرح میں بھی کوئی لالچی آدمی نہیں ہوں اور صحت کی بہتری کے لیے ڈاکٹر نے روزانہ پانچ میل پیدل تیز چلنے کا حکم دیا ہے‘ تاہم بیماری میں اس کے باوجود روز بروز اضافہ ہی ہوا ہے ‘جبکہ میں وطن واپس آنے کے لیے بہت بے تاب ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ''حکومت‘‘ نیب کو انتقامی کارروائیوں کے لئے استعمال کر رہی ہے‘‘ جس سے جمہوریت کو سخت خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ آپ اگلے روز لندن میں دوڑنے کے دوران میڈیا سے بات چیت کر رہے تھے۔
شوق ہے تو جیلوں میں ڈالو‘ ہم توڑ کر باہر آئیں گے: سعد رفیق
سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ ''شوق ہے تو جیلوں میں ڈالو‘ ہم توڑ کر باہر آئیں گے‘‘ جبکہ ہم نے ایک جیلی آرڈر ونگ بھی تشکیل دے دیا ہے ‘جو بڑے زور شور سے ریہرسل کر رہا ہے‘ تاکہ اگر ہمارے قائد ایک بار پھر اندر ہو جائیں تو سب سے پہلے انہیں جیل توڑ کر باہر نکالا جائے اور اگر بہت پہلے یہ تردد کر لیا گیا ہوتا تو یہ نوبت ہی نہیں آنی تھی ‘جبکہ تجربے کے طور پر سب سے پہلے حنیف عباسی کو باہر نکالا جائے گا اور پھر چل سو چل۔ انہوں نے کہا کہ ''شہباز شریف کو جیل میں ڈالا گیا تو ہم نے برداشت کیا‘ لیکن اب نہیں کریں گے‘‘ اور وہ بھی ہم نے اپنے قائد کے بچنے پر برداشت کیا تھا ‘کیونکہ وہ اُن کی حرکتوں سے بہت تنگ تھے ‘جبکہ اب خاکسار سمیت کئی دیگر معززین کو بھی جیل میں ڈالنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں اور بہت سے نمک حرام وعدہ معاف گواہ بھی بننے کے لیے تیار ہو رہے ہیں؛ حالانکہ وعدہ معاف گواہوں کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ آپ اگلے روز لا ہور میں ایک کارنر میٹنگ سے خطاب کر رہے تھے۔
شہباز شریف کو 23سو ارب بچانے کی سزا دی گئی: حمزہ شہباز
نواز لیگ کے مرکزی لیڈر اور رکن قومی اسمبلی حمزہ شہباز شریف نے کہا ہے کہ ''شہباز شریف کو 23سو ارب بچانے کی سزا دی گئی‘‘ جس کے بارے میں نے بھی کئی بار پوچھا تھا کہ 23سو ارب کہاں ہے اور کیسے بچائے گئے ہیں‘ لیکن انہوں نے یہی کہا کہ کہنے میں کیا ہرج ہے‘ جبکہ ویسے بھی اُنکے پاس جتنی بھی رقم بچتی یا جمع ہوتی تھی‘ وہ ملک سے باہر بھیج کر خیرات کر دیتے تھے‘ کیونکہ اُنکا خیال تھا بیرون ملک غربت زیادہ ہے اور زیادہ ثواب وہیں کمایا جا سکتا ہے‘ جبکہ اب خاکسار کیخلاف بھی من پسند لوگوں کو ٹھیکے دینے پر انکوائری ہو رہی ہے‘ یہ لوگ بتائیں کہ ٹھیکے من پسند لوگوں کی بجائے کیا دشمنوں کو دیئے جائیں؟ ۔ آپ اگلے روز لاہور میں خواتین کنونشن سے خطاب کر رہے تھے۔
اور اب فیصل آباد سے پروفیسر افضل خاکسار کی شاعری:
حضرت امام زین العابدین کے حضور نذرانہ عقیدت
ایک بیمار کو زنجیر جو پہنائی گئی
کیوں نہ اے چشمِ تماشا تری بینائی گئی
جب تصور میں جلے شامِ اسیری کے چراغ
آنکھ بھر آئی‘ مری آبِ شکیبائی گئی
دشتِ کربل کو چلا قافلہ گلبدناں
جانبِ شامِ الم صبحِ دل آرائی گئی
تھا نہ معلوم یہ قاتل کو‘ لہو بولے گا
وہ سمجھتا تھا کہ اب بات گئی آئی گئی
جس طرف ماتمیانِ غمِ شبیر چلے
دُور تک اُن کے جلو میں مری تنہائی گئی
غزوہ بدر کے کچھ زخم ابھی تازہ تھے
کربلا میں وہی تاریخ تھی دہرائی گئی
کونسا جرم تھا آخر کوئی ایسا افضلؔ
کس لیے آلِ نبیؐ خون میں نہلائی گئی
خاکِ آوارگیٔ و باد پہن کر نکلا
اک بگولا مرا ہمزاد پہن کر نکلا
ورنہ اس شہر میں میرا کہیں مذکور نہ تھا
کوئی ہر سُو مری روداد پہن کر نکلا
زمیں پہ آسماں سے آ گئے
کہاں یہ ہم کہاں سے آ گئے
تھی ناتمام داستاں ہنوز
ہم اُٹھ کے درمیاں سے آ گئے
آج کا مطلع
طرف جو اطراف کے علاوہ نکل رہی ہے
ہمارے نزدیک و دُور ہر شے بدل رہی ہے

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved