تحریر : ایاز امیر تاریخ اشاعت     03-11-2018

زمین میں لکیر کھینچنے کا وقت

وزیر اعظم عمران خان نے جو تقریر میں کہا وقت کی ضرورت تھی کہ ریاست کو آزمایا نہ جائے اور اُسے ایکشن لینے پہ مجبور نہ کیا جائے۔ یہ پیغام دو ٹوک انداز میں دینے کی ضرورت تھی جو وزیر اعظم نے دے دیا۔ سیاست دانوں میں سب سے میچور ردِ عمل بلاول بھٹو کا ہے‘ جنہوں نے کہا کہ ملک کے تمام عناصر کو سپریم کورٹ کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ 
ملک کی تاریخ میں موجودہ سپریم کورٹ کا نام ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ موجودہ جج صاحبان نے بلا خوف و خطر بڑے فیصلے کیے ہیں۔ قوم کو واقعی اس نازک موڑ پر سپریم کورٹ کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ عرصۂ دراز سے یہ معاملہ لٹک رہا تھا اور جج صاحبان خوف یا مصلحت کا شکار ہوتے تو اِسے مزید ٹال سکتے تھے‘ لیکن اُنہوں نے چیلنج قبول کیا اور فیصلہ سُنا دیا۔
مصلحت اور کمزوری کا شکار دراصل ریاست رہی ہے۔ پہلے انتہا پسندی کو گلے سے لگایا۔ قوم بتدریج فرسودہ خیالات اور انتہا پسندی کی دلدل میں پھنستی گئی۔ پھر ایک وقت آیا جب یہ تاثر پختہ ہوا کہ انتہا پسند قوتوں کے سامنے ریاست بے بس ہے۔ سوات اور شمالی وزیرستان میں عسکری آپریشن نہ کیے جاتے تو ملک کا وجود خطرے میں پڑ جاتا اور پاکستان کا وہی حال ہونا تھا جو متعدد عرب ممالک کا ہو چکا ہے۔ شمالی وزیرستان آپریشن سے نہ صرف فوج کا وقار بحال ہوا بلکہ مہلک خطرات سے ملک بھی بچ گیا۔ یہ آپریشن نہ ہوتا تو اُس کے بعد کراچی میں پیش قدمی ناممکن تھی۔ جہاں قبائلی علاقوں میں مذہبی انتہا پسندی نے اپنے پرچم بلند کیے وہاں کراچی میں ایک مختلف قسم کی دہشتگردی نے پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور کاروباری مرکز پہ اپنا قبضہ جمایا۔ فوج آنکھیں نہ کھولتی تو فاٹا بھی گیا تھا‘ اور کراچی بھی ریاست کے کنٹرول سے باہر رہتا۔ وہاں حکم چلتا تو الطاف حسین کا۔ 
موجودہ انتہا پسندی کی لہر اور قسم کی ہے لیکن اِسے جو بھی نام دیا جائے، ہے تو سخت نوعیت کی انتہا پسندی۔ کوئی ملک ایسے چل سکتا ہے کہ چھوٹے سے گروہ ریاست کو للکاریں؟ بات بات پہ سڑکوں پہ آ کے چوراہوں پہ قبضہ کر لیں۔ اَب کی بار بغاوت کی کھلی دعوت دی جا چکی ہے۔ کون ریاست ایسی روشوں کی متحمل ہو سکتی ہے؟ یہ وقت ہے ریاست کے زمین میں لکیر کھینچنے کا۔ اور یہ کہنے کا کہ یہاں تک تو ٹھیک لیکن اِس سے آگے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ 
جلد یا بدیر یہ وقت آنا تھا۔ اِس سے پہلے فاٹا میں تحریک طالبانِ پاکستان نہ سمجھ سکی کہ اُسے ریاست کو کتنا للکارنا چاہیے۔ نہ الطاف حسین کراچی میں سمجھ سکے کہ اُنہیں کہاں تک جانا چاہیے۔ بالکل اِسی طرح موجودہ انتہا پسندی کے شاہسوار نہیں سمجھ سکے کہ اُنہیں کہاں تک قدم رکھنا چاہیے۔ اُس کے لیڈران غلطی کر بیٹھے ہیں، اُنہیں یہ زبان استعمال نہیں کرنی چاہیے تھی۔ اَب بھی رُ ک جائیں تو اُن کیلئے بہتر ہے۔ جب دریا عبور ہو جائے تو واپس مڑنا مشکل ہو جاتا ہے۔ 
موجودہ سپریم کورٹ نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی۔ سلمان تاثیر کے قتل کی پاداش میں جو مقدمہ بنا اُس میں بھی سپریم کورٹ کسی مصلحت کی شکار نہ ہوئی۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کا فیصلہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ موجودہ کیس میں بھی سپریم کورٹ نے ذمہ داری پوری کی۔ اَب ریاست نے اپنی ذمہ داری پوری کرنی ہے کہ ملک میں انتشار سر نہ اُٹھائے۔
جو بھی ہم کہیں، جو بھی ہم تنقید پاکستان کی کمزوریوں پر کریں، پاکستان ایک کمزور ریاست نہیں ہے۔ غفلت کا شکار ریاست ضرور رہی ہے لیکن کسی بڑے فیصلے کا عزم کر لے تو اُس میں اتنا دَم خَم ہے کہ مقصد پورا ہو جائے۔ شمالی وزیرستان میں آپریشن اور کراچی میں ایم کیو ایم کی بلا کو تائب کرنا چھوٹے فیصلے نہ تھے۔ لیکن ریاست یا یوں کہیے افواج نے تہیہ کیا اور اُس پہ پورا اُتریں۔ گزرے ہوئے کل کے بڑے دہشت گرد ملک اسحاق کے بارے میں سمجھا جاتا تھا کہ اُسے کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا۔ لیکن جب وقت آیا اور اندرونِ خانہ فیصلہ ہوا تو وہ ایسے گئے کہ پیچھے نشان نہ رہا۔ موجودہ انتہا پسندی کی روش کو بہت ڈھیل ملتی رہی ہے۔ ججوں کو کھلم کھلا گالیاں اور یہ سب ویڈیوز یو ٹیوب پہ موجود ہیں، یہ کون سی ریاست میں ممکن ہے؟
فیض آباد دھرنے کو جس طریقے سے ہینڈل کیا گیا وہ بھی ڈھیل دینے کی علامت تھی۔ اسلام آباد پولیس دھرنا منتشر کرنے میں مکمل ناکام رہی‘ لیکن اور اقدام ہو سکتے تھے جو نہ کیے گئے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کی سکیورٹی پہ مامور ٹرپل ون بریگیڈ کہیں نظر نہ آئی۔ آخر کار دھرنے والوں سے جو معاہدہ ہوا اس کے دستخطیوں میں ایک فوج کے حاضر سروس اعلیٰ افسر بھی تھے۔ یہ تو دھرنے والوں کو شہ دینے کے متراد ف تھا کہ اَب وردی میں ملبوس اعلیٰ افسران بھی اُن سے بات چیت کر رہے ہیں۔ تب اگر صحیح حکمت عملی اپنائی جاتی تو شاید آج کے حالات جنم نہ لیتے۔ 
1989ء میں چین میں وسیع پیمانے پہ جمہوریت کے نام پرگڑ بڑ شروع ہوئی۔ چین میں اُس وقت وہی کچھ ہو رہا تھا جو سوویت یونین میں ہو چکا تھا۔ جس کے نتیجے میں سوویت یونین کے ٹکڑے ہونے جا رہے تھے۔ بیجنگ میں طالب علم چوراہوں پہ نکل آئے تھے اور تیان آن مِن سکوائر پہ اُن کا مکمل قبضہ تھا۔ چین کے لیڈر ڈینگ یاؤ پنگ تھے۔ چینی کمیونسٹ پارٹی کے لئے کٹھن مرحلہ تھا کہ طالب علموں کے سامنے گھٹنے ٹیک دے یا ہر قیمت پر گڑ بڑ پہ قابو پائے۔ ڈینگ یاؤ پنگ نے فیصلہ کیا کہ طالب علموں کو کریش کرنا ہے۔ پھر فوجی ٹینکوں کو تیان آن مِن سکوائر کی طرف جانے کا حکم ہوا۔ پھر جو ہوا تاریخ کا حصہ ہے اور اُس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔ لیکن وہ بر وقت قدم نہ اٹھایا جاتا تو سوویت یونین کی طرح چین کا شیرازہ بھی بکھر جاتا۔ 
پاکستانی ریاست بہت حد تک دہشت گردی پہ قابو پا چکی ہے‘ لیکن نظریے کی انتہا پسندی اَب بھی مسئلہ ہے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ ایک اور طریقے سے بھی احسن ہے کہ اُس نے ایک ایسی صورتحال پیدا کر دی ہے‘ جس میں ریاست کو بنیادی فیصلہ کرنا ہے کہ انتہا پسندی کے سامنے جھکنا ہے یا اُس پہ قابو پانا ہے۔ اگر اِس موقع پہ کھلم کھلا للکار نہ آتی تو شاید ریاست کے لئے گنجائش باقی رہتی کہ وہ آنکھیں بند کر کے خوابِ خرگوش میں محو رہے۔ لیکن للکار کی شدت اور نوعیت نے ایسی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی۔ موجودہ انتہا پسندی کے اکابرین اَب بھی نہیں سمجھ رہے کہ وہ کس طرف نکل پڑے ہیں۔ قوموں کی زندگی میں ایسے موڑ آتے ہیں اور قومیں یا برباد ہو جاتی ہیں یا ایندھن سے گزر کے مزید فولاد بن جاتی ہیں۔ پاکستان ایک ایسے موڑ پہ آن پہنچا ہے۔ حکومت، اعلیٰ عدلیہ اور افواج ایک ہی جگہ کھڑے ہیں۔ یہ خوش آئند امر ہے۔ جیسا کہ وزیر اعظم نے صاف اشارہ دیا‘ ریاست کا مصلحت کا شکار ہونے کاکوئی ارادہ نہیں۔
دنیا بھی ہم پہ حیران ہوتی ہو گی کہ ہم نے اپنے لیے کیسے کیسے مسائل پیدا کیے ہیں۔ مقدمے کی کہانی پڑھی جائے تو رونا آتا ہے کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ یہ کیا بات ہوئی کہ بیماری کا مداوا ہو تو سپریم کورٹ ہی سے؟ ماتحت عدالتیں کس خوف کا شکار تھیں؟ یہ کیسا معاشرہ ہم نے تشکیل دیا کہ جس کے ہاتھ میں لاؤڈ سپیکر ہو وہ اپنی بات منوا لے اور لوگوں کو ڈراتا پھرے۔ 
پولیس پہ بھی رونا ہے۔ جب ایسے واقعات رُونما ہوتے ہیں تو وہ اپنی ذمہ داریوں سے اتنی جلدی کیوں سبکدوش ہو جاتی ہے؟ ایسے واقعات کی جانچ کی جائے تو پہلی کمزوری پولیس والوں سے سرزَد ہوتی ہے۔ ایک دو لاؤڈ سپیکر والے آئے اور متعلقہ تھانے‘ جو ویسے ظلم اور زیادتی کی نشانیاں ہوتے ہیں‘ ہتھیار پھینک کے گمراہ کن مقدمہ درج کر دیتے ہیں۔ پھر مداوا اعلیٰ ترین عدلیہ سے ہوتا ہے۔ یہ کہاں کی ایڈمنسٹریشن ہے اور کہاں کا انصاف؟

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved