تحریر : آصف عفان تاریخ اشاعت     12-11-2018

روایت شکن وزیر اعظم چاہیے!

آٹھ سو سال قبل خاندان غلاماں نے مسافروں ،بے آسرا اور بے گھروں کے لیے سرائے تعمیر کرنے کا آغاز کیا تھا۔اس دور میں یہ عمل طرز حکمرانی میں ایک جدید اضافہ تھا۔اس کے بعد سلاطین دہلی اور مغلوں نے بھی اس روایت کو دوام بخشا۔
مملکت خداداد کے معرض وجود میں آنے کے بعد 1956 میں سکندر مرزا کی بیگم ناہید مرزا نے شہر کے مضافات میں ناداروں، بھکاریوں اور بے آسراافراد کے لیے شیلٹر ہوم قائم کیا۔ جو حکومتی کوششوں کے باوجود زیادہ دیر نہ چل سکا۔ بالآخر اس شیلٹر ہوم کی جگہ ہسپتال بنانا پڑا جو بعدازاں ایک بڑے ہسپتال میں تبدیل ہوا اور اسے آج ہم انسٹیٹیوٹ آف نیورو سائنسز اور جنرل ہسپتال کے نام سے جانتے ہیں۔
وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ روز صوبائی دارالحکومت میں پہلے شیلٹر ہوم کا سنگ بنیاد رکھ دیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ کراچی، پشاور اور راولپنڈی میں بھی اسی نوعیت کی ''پناہ گاہیں‘‘ بنا کر لوگوں کو غربت کی لکیر سے نہ صرف اوپر لائیں گے بلکہ آئندہ چند روز میں اس طبقے کے لیے خصوصی پیکیج بھی لائیں گے۔ وزیراعظم کی خوش گمانی بجا سہی... خوش گمانی یقینا ایک مثبت طرز فکر ہے۔
حضور والا!! آپ کا جذبہ اور نیت سر آنکھوں پر... لیکن ان کو ''مفت کی روٹی‘‘ اور ''مفت کی چارپائی‘‘ دینے سے کہیں بہتر ہے کہ بندۂ مزدور کی اوقات اور استعداد کار میں اضافہ کرنے کے لیے کوئی قابل عمل اور مستقل حکمت عملی وضع کی جائے۔ اس طرح نہ صرف ان کی عزت نفس محفوظ رہے گی بلکہ وہ معاشرے کا ایک فعال رکن بن کر جی بھی سکتا ہے‘ جو یقینا ''مفت بر‘‘ کہلوانے سے ہزار درجہ بہتر ہے۔ کھلے آسمان تلے پارکوں، گرین بیلٹوں اور فٹ پاتھوں پر سونے والوں کی اکثریت ان محنت کشوں کی ہے جو دور دراز سے روزی کمانے آئے ہوتے ہیں، یہ لوگ دن میں مختلف جگہ پر کام کاج کرتے اور رات کو محض پیسے بچانے کی خاطر کھلے آسمان تلے سو کر اپنی بچت میں اضافہ کرتے ہیں تاکہ جب بھی وہ اپنے گھر لوٹیں تو زیادہ سے زیادہ پیسے اپنے منتظر پیاروں کے لیے لے کر جائیں۔ 
ماضی میں شہباز شریف صاحب نے اپنے دور اقتدار میں سستی روٹی کے منصوبے کو اختلاف رائے کے باوجود ''ضد‘‘ بنا کر چلانے کی کوشش کی۔ نتیجہ آج بھی منہ چڑا رہا ہے۔ جبکہ کرنے والا کام یہ تھا کہ مزدور کی حالت اس قابل بنائی جائے کہ وہ روٹی خریدنے کے قابل رہے... نہ یہ کہ وہ سستی روٹی خریدنے کے لیے طویل قطاروں میں لگ کر اپنی غربت اور بھوک کا اشتہار بن جائے۔
یہ کوئی ''راکٹ سائنس‘‘ نہیں... ضرورت صرف ویژن اور Initiative کی ہے۔ محکمہ لیبر اپنے بہترین قوانین سمیت موجود ہے، سوشل سکیورٹی اور اولڈ ایج بینیفٹ جیسے ادارے بھی موجود ہیں۔ بخدا... اگر یہ ادارے اپنا حقیقی کردار ادا کریں اور اپنی سرکاری ذمہ داریاں بجا طور پر ادا کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ ''بندۂ مزدور‘‘ کی اوقات نہ بدلے۔ ان محکموں کی اصل ذمہ داری ''آجر اور اجیر‘‘ کے درمیان ''پل‘‘ کی سی ہے۔ محکمہ لیبر کی ہی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ کسی کاروباری اور صنعتی ادارے میں کسی مزدور کا استحصال نہ ہو۔
محنت کشوں کے حقوق کے لیے بنائے گئے مذکورہ محکمے عملی طور پر صرف ''سرمایہ داراور سیٹھ‘‘ کے مفادات کے تحفظ کے لیے کام کر رہے ہیں۔ لیبر قوانین کے مطابق کسی ادارے میں کام کرنے والے تمام ورکرز کی سو فیصد رجسٹریشن سرکار کی ذمہ داری ہے۔ اس امر کو یقینی بنانا بھی انہی کے فرائض کا حصہ ہے کہ ورکرز کو حکومت کی طرف سے کم از کم طے شدہ اجرت بروقت ملے۔ لیکن یہاں تو مذکورہ محکموں کا ''باوا آدم‘‘ ہی نرالا ہے۔ الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ ''سیٹھ‘‘ کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ جناب سارے ورکرز کی جسٹریشن کرانے کی ضرورت نہیں، ورکروں کی تعداد کے دس یا بیس فیصد کی رجسٹریشن کروا لیں اور باقی ایسے ہی چلنے دیں، ہم سنبھال لیں گے۔ اور سرکاری فائل کا ''پیٹ‘‘ بھی خود ہی بھر دیں گے۔ اس طرح سرکاری فائل کا ''پیٹ بھرنے‘‘ کے عوض سیٹھ ان کے ''پیٹ‘‘ کا مناسب بندوبست کر دیتا ہے۔ اور بندۂ مزدور کی اوقات ''جوں کی توں‘‘ رہتی ہے۔ اسی طرح سوشل سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ نے بھی ورکر کی سوشل سکیورٹی کی بجائے سیٹھ کی سکیورٹی کو ''نصب العین‘‘ بنا لیا ہے۔ وہ بھی تھوڑے بہت ورکرز کی رجسٹریشن کر کے دیگر ورکرز کو جملہ سہولیات اور فوائد سے محروم کر دیتے ہیں۔ حکومت اگر ان محکموں سے نیک نیتی سے اور بلا امتیاز کام لے تو مزدور کو رہائش ، بچوں کی تعلیم (پہلی سے لیکر اعلیٰ تعلیم تک)، بچیوں کی شادی کے لیے میرج گرانٹ، دوران ڈیوٹی حادثہ یا زخمی ہونے کی صورت میں مالی معاونت اور موت واقع ہونے پر بیوہ گرانٹ جیسی سہولیات ان ورکرز کا حق بن سکتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ مفت خوری کے بجائے ان ورکرز کی حالت زار کو بہتر بنانے پر توجہ دی جائے تاکہ یہ باوقار اور ذمہ دار شہری بن کر فخر سے معاشرے کا ایک فعال حصہ بن سکیں۔ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ اکثر غیر رجسٹرڈ ورکرز دوران ڈیوٹی حادثہ کے نتیجے میں ہاتھ، آنکھ اور دیگر اعضا ضائع کر بیٹھتے ہیں‘ لیکن رجسٹریشن نہ ہونے کی وجہ سے ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا اور زندگی بھر کی معذوری ان کا مقدر بن جاتی ہے۔ اور بعد ازاں اسی معذوری کو عذر بنا کر سیٹھ اسے کام سے چلتا کردیتا ہے۔
یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ماضی میں چوہدری پرویز الٰہی نے اپنے دور حکومت میں صنعتکاروں اور سرمایہ داروں کی خوشنودی کے لیے محکمہ لیبر کو سخت ممانعت تھی کہ وہ کسی صنعتی یا کاروباری ادارے میں قدم نہیں رکھ سکتے۔ یوں اس دور میں محکمہ لیبر کے افسران کسی یونٹ کی انسپیکشن نہیں کر سکے‘ اور اس طرح ورکرز اپنے سیٹھ کے رحم و کرم پر آ گئے۔ ''سیٹھ کا جبر اور سیٹھ کی من مانی‘‘ ان کا مقدر بن گئی اور اگر کسی جرات مند افسر نے کسی یونٹ میں انسپیکشن کی کوشش کی تو اسے حکومتی غیظ و غضب کا سامنا کرنا پڑا اور وہ سیٹھ کی شکایت پر کھڑے کھڑے معطل کر دیا گیا یا او ایس ڈی بنا دیا گیا۔
یہ بھی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ محکمہ لیبر کا قانون پوری قوت سے حرکت میں آنے سے محض اس لیے قاصر ہے کہ اکثر بڑے بڑے صنعتی یونٹ اور کاروباری ادارے حکومتی اور بااثر شخصیات کے ہیں۔ اور اسی لیے قانون حرکت میں آنے کے بجائے جبر، مصلحت اور معاملہ فہمی کا شکار ہو جاتا ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، سستی روٹی اور شیلٹر ہوم جیسے منصوبے ہمیں کسی صورت باوقار اور غیرت مند قوم نہیں بنا سکتے۔
وزیر اعظم صاحب!! قانون موجود ہے، ادارے موجود ہیں تو پھر کیا امر مانع ہے‘ آپ اور آپ کی ٹیم باوقار اور قابل عمل ذرائع کے بجائے ایسے ''غیر مقبول‘‘ اور ''غیر منطقی‘‘ منصوبوں کا سہارا کیوں لے رہے ہیں کہ ناکامی اور ندامت جن کا مقدر ہو۔ مزدور کی حالت بدلنی ہے تو سوچ بدلنا ہو گی، اپروچ بدلنا ہو گی... اٹھارہویں ترمیم کے باوجود وفاقی حکومت اور ورکرز ویلفیئر بورڈ اسلام آباد کا ''سکہ‘‘ تاحال چل رہا ہے۔ اور اس پر ستم یہ کہ فنڈز کی غیر منصفانہ تقسیم آپ کی خصوصی توجہ کی طلب گار ہے۔ آپ ایک ٹاسک فورس تشکیل دیں‘ جو اس امر کو یقینی بنائے کہ ملک بھر میں تمام یونٹس میں کام کرنے والے محنت کشوں کی سوشل سکیورٹی اور محکمہ لیبر میں سو فیصد رجسٹریشن ہو‘ اور تعاون نہ کرنے والے صنعتکار اور سرمایہ کار‘ بھلے وہ کتنے ہی بااثر کیوں نہ ہوں، کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے علاوہ ان کے یونٹس سربمہر کر دیے جائیں۔ اسی صورت میں آپ مطلوبہ نتائج حاصل کرسکتے ہیں اور محنت کش ایک غیرت مند اور باوقار شہری بن سکتا ہے۔ لیبر کالونیوں کو رہائش پذیر ناجائز قابضین سے واگزار کروایا جائے تاکہ وہاں حق دار اور محنت کش کو چھت مل سکے۔ آپ بین الاقوامی امور پر کافی گہری نظر اور مشاہدہ رکھتے ہیں اور اکثر ممالک میں رائج نظام اور طرز حکومت کی نشاندہی آپ برائے تقلید کرتے ہیں... تو پھر تعجب ہے کہ محنت کشوں اور مزدوروں سے متعلق اقوام متحدہ کے بین الاقوامی قوانین تاحال آپ کی نظر سے کیسے پوشیدہ ہیں؟؟

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved