تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     20-11-2018

سُرخیاں، متن اور جاوید راہی کی ’’جیل کہانی‘‘

نیا پاکستان کا نام لیکر پُرانا تباہ کرنیوالوں کا راستہ روکیں گے:بلاول
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ''نیا پاکستان کا نام لیکر پرانا تباہ کرنے والوں کا راستہ روکیں گے‘‘ جبکہ والدہ صاحب کے خلاف کارروائی کا صاف مطلب پرانا پاکستان تباہ کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے اور جس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ عوامی خدمت کا تصور ہی تبدیل کر دیا جائے گا‘ جبکہ ہماری قیادت کو تو کام ہی یہ ایک آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''حکومت کو لوگوں کی عزتیں اچھالنے سے ہی فرصت نہیں ہے‘‘اگرچہ بعض افراد کے نزدیک عزتیں وغیرہ کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتیں۔ انہوں نے کہا کہ ''خودکشی کرنے والے قرضہ ملنے پر مٹھائیاں بانٹ رہے ہیں‘‘ اور انکل نواز شریف کی طرف سے خزانہ خالی چھوڑنے کا مقصد بھی یہی تھا کہ نئے حکمران کشکول اُٹھا کر بھیک مانگتے پھریں۔ انہوں نے کہا کہ ''روٹی دس روپے کی اور نان 15روپے کا ملنے لگا ہے‘‘ اسی لیے میں نے ڈبل روٹی پر گزارہ کرنا شروع کر دیا ہے۔ آپ اگلے روز گلگت میں جلسۂ عام سے خطاب کر رہے تھے۔
شہباز نے عمران کی طرح تفریح کیلئے ہیلی کاپٹر استعمال نہیں کیا: مریم 
سابق وفاقی وزیر اطلاعات اور ن لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ''شہباز شریف نے عمران کی طرح تفریح کے لیے ہیلی کاپٹر استعمال نہیں کیا‘‘ بلکہ وہ فوت شدگان کی تعزیت کیلئے ہی ہیلی کاپٹر پر جایا کرتے تھے‘ تاکہ اُس مقام کی سوگوار فضا کا بھی جائزہ لے سکیں اور لواحقین کے گھر میں موجود دیگر تعزیت کرنے والوں کو بھی دیکھ سکیں‘ جو اُن سے پہلے پہنچ گئے تھے؛ اگرچہ راستے میں سیر و تفریح کا موقعہ بھی مل جاتا تھا‘ یعنی ایک ٹکٹ میں دو مزے۔ انہوں نے کہا کہ ''شہباز شریف نے جہاز اور ہیلی کاپٹر کا استعمال صرف عوامی خدمت کے لیے کیا‘‘ اور جو عوامی خدمت وہ دوسرے طریقے سے اور دونوں ہاتھوں سے کر رہے تھے‘ وہی کافی تھی‘ لیکن ورائٹی بھی آخر کوئی چیز ہوتی ہے ‘جبکہ وہ ویسے بھی شوقین مزاج واقع ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یوٹرن والی حکومت‘ حقائق کے مطابق بات کرے‘‘ جبکہ ہمارے قائدین کو ایک ہی کام آتا تھا اور انہوں نے کبھی یوٹرن نہیں لیا تھا۔ آپ اگلے روز لاہور سے ایک بیان جاری کر رہی تھیں۔
طاہر داوڑ قتل کیس کی شفاف تحقیقات کی جائیں: فضل الرحمن
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ طاہر داوڑ قتل کیس کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں‘‘ بلکہ اُس سے بھی پہلے میرے معاشی قتل کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں کہ کس طرح ایک کھاتے پیتے شریف آدمی کو مفلوک الحال کر کے رکھ دیا گیا ہے‘ جبکہ میاں نواز شریف کی حکومت بھی اسی سازش کے تحت ختم کی گئی کہ میرا معاشی قتل کیا جا سکے‘ کیونکہ جب بھی میرا کوئی اختلافی بیان اُن کی نظر سے گزرتا‘ وہ مجھے فوراً بلا کر اور جی بھر کے تلافی کر دیا کرتے تھے ‘کیونکہ بے حد ذہین آدمی تھے اور اُنہیں فوراً پتا چل جاتا تھا کہ بیان کس غرض سے دیا گیا ہے‘ جبکہ ان کے مقابلے میں عمران خان کافی مکھی چوس واقع ہوا ہے اور جب بھی اُن سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے خالی چائے کی پیالی پر ہی ٹرخا دیا اور یہ پوچھنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی کہ ان حالات میں آخر گزر بسر کس طرح سے ہو رہی ہے۔ آپ اگلے روز شہید کے گھر میں گفتگو کر رہے تھے۔
عمران خان کا سارا زور پکڑ دھکڑ پر ہے: محمد زبیر
سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا ہے کہ ''عمران خان کا سارا زور پکڑ دھکڑ پر ہے‘‘ جبکہ انہیں چاہیے تھا کہ پہلے اپنے پانچ سال پورے کرتے اور یہ نیک کام آخری دنوں کے لیے رکھتے‘ تاکہ اس وقت تک ہر شریف آدمی اپنی جمع پونجی کہیں ٹھکانے لگا سکے ؛حالانکہ پکڑ دھکڑ سے بھی حکومت غیر مقبول ہو رہی ہے‘ جبکہ پیسے کو اتنی اہمیت دینا تنگ دلی کی نشانی ہے اور جب موصوف مختلف ملکوں سے اتنا پیسہ اکٹھا کر رہے ہیں تو انہیں شرفا کے پیسوں پر حریصانہ نظر نہیں رکھنی چاہیے کہ یہ تو آنی جانی چیز ہے جس کا ثبوت سابقہ حکومت نے جاتے جاتے دے دیا تھا نیز جو پکڑ دھکڑ اب تک ہو چکی ‘ حکومت کو اُسے ہی کافی سمجھنا چاہیے اور لالچ سے کام نہیں لینا چاہئے کہ لالچ ویسے بھی بُری بلا ہوتی ہے‘ اس لیے اسے دل بڑا کر کے اس پکڑ دھکڑ کو بند کر دینا چاہیے۔ آپ اگلے روز ایک نجی ٹی وی چینل میں شریکِ گفتگو تھے۔
جیل کہانی
سینئر صحافی جاوید راہی کی تصنیف ہے‘ جن کا تعلق اوکاڑہ سے ہے۔ اسے قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل‘ لاہور نے چھاپا اور اس کی قیمت 800روپے رکھی ہے۔ پس سرورق ڈاکٹر عبدالقدیر خاں (نشانِ امتیاز‘ ہلالِ امتیاز) اور ڈاکٹر محمد اجمل نیازی (ستارئہ امتیاز) کی نمائشی آرا درج ہیں‘ جبکہ اندرون سرورق محمد فاروق چوہان اور جبار مرزا نے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ آغاز میں جاوید راہی ''مثبت پہلو شخصیت‘‘ کے عنوان سے عبدالستار عاصم کی تحریر ہے‘ جبکہ پیش لفظ مصنف کا قلمی ہے۔ کتاب میں جیل کے قیدیوں کا زبانی واقعاتِ جرم کی تفصیلات درج کی گئی ہیں ‘جو تعداد میں 21بنتی ہیں۔ کتاب سفید کاغذ پر عمدہ انداز میں شائع کی گئی ہے۔ اس میں محض قیدیوں کے انٹرویوز نہیں‘ بلکہ جاوید راہی نے اسے دلچسپ فکشن کے انداز میں پیش کیا ہے۔ انداز تحریر دلپذیر ہے‘ جبکہ واقعہ اور کہانی کی ہنرمندانہ آمیزش کی گئی ہے۔ کتاب پڑھنا شروع کر دیں‘ تو مکمل پڑھے بغیر اسے ہاتھ سے رکھنا بے حد مشکل ہے۔ ٹائٹل پر مصنف کی تصویر اور کتاب قریباً دو سو صفحات پر مشتمل ہے۔
آج کا مطلع
پتا نہیں ابھی کتنی‘ کہاں سے ہٹ کر ہے
مری زمین ترے آسماں سے ہٹ کر ہے

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved