تحریر : خورشید ندیم تاریخ اشاعت     29-11-2018

پیغامِ پاکستان، حکومت اور نظریاتی کونسل

مذہب اور ریاست کے باہمی تعلق کی تشکیل نو کے بغیر اب چارہ نہیں۔
نواز شریف حکومت کو دو مسائل نے اپنی گرفت میں لیے رکھا۔ ایک مسئلہ یہی تھا: مذہب اور ریاست کا تعلق۔ انتخابی قوانین میں ترمیم کو ایک مذہبی بیانیے میں بدل دیا گیا اور حکومت بے بسی کی تصویر بن گئی۔ اس نے انتخابات تک نون لیگ کا پیچھا نہیں چھوڑا۔ تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئے ابھی سو دن پورے نہیں ہوئے کہ ایک سے زائد بار مذہبی مسائل سیاسی اضطراب کا باعث بن چکے۔ عاطف میاں سے بات شروع ہوئی اور تادم تحریر اس کا آخری پڑاؤ خادم حسین رضوی صاحب کی گرفتاری ہے۔
تحریک انصاف کی حکومت اگر چاہتی ہے کہ وہ اطمینان کے ساتھ حکومت کرے تو اسے ایسے تمام روزن بند کرنا ہوں گے جو ہر حکومت کو مشکل میں ڈالتے رہے ہیں اور ان میں سر فہرست یہی مذہب اور ریاست کا باہمی تعلق ہے۔ کیا حکومت کو اس کا احساس ہے؟ 
اس سوال کا مثبت جواب اس وقت سامنے آیا جب حکومت نے ایسے امور میں اسلامی نظریاتی کونسل کے ساتھ ایک فعال تعلق قائم کرنے کا اشارہ دیا۔ اس دفعہ اجلاس ہوا تو حکومت نے کونسل کو براہ راست اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا۔ ڈاکٹر نورالحق قادری مذہبی امور کے وفاقی وزیر ہیں۔ تحریک لبیک کے ساتھ مذاکرات کے مرکزی کردار وہی تھے۔ ان کا تعارف ایک سنجیدہ مذہبی شخصیت کا ہے۔ چونکہ عرصۂ دراز سے اقتدار کی سیاست میں بھی فعال ہیں اس لیے ریاست کے مسائل کو جانتے ہیں۔ علی محمد خان ایک جواں سال اور فعال پارلیمنٹیرین ہیں جو اس وقت پارلیمانی امور کے وزیر مملکت ہیں۔ وہ ایک مذہبی ذہن رکھتے ہیں اور اپنے خیالات کو پوری شرح کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔
حکومت نے ان دونوں کو اپنا نمائندہ بنایا اور انہیں کونسل کے اجلاس میں بھیجا۔ ڈاکٹر قبلہ ایاز نے‘ جو کونسل کے چیئرمین ہیں، پل کا کردار ادا کیا اور یوں کونسل اور حکومت کو بالمشافہ گفتگو کرنے کا موقع فراہم کیا۔
میرا احساس یہ ہے کہ یہ ایک مثبت پیش قدمی ہے۔ حکومت اگر چاہتی ہے کہ وہ مذہبی گروہوں کے ہاتھوں بلیک میل نہ ہو تو اس کا واحد راستہ آئینی اداروں کو مضبوط بنانا ہے۔ یہاں حکومتوں کا وتیرہ یہ رہا ہے کہ انہوں نے مذہبی معاملات میں ہمیشہ کونسل کو نظر انداز کیا‘ جو ایسے امور کے لیے قائم آئینی ادارہ ہے۔ اس کی قیمت انہیں یہ چکانا پڑی کہ ہر مذہبی طبقے کے ہاتھوں انہیں رسوا ہونا پڑا۔ 
اس وقت اگر حکومت اپنے اس عزم پہ قائم رہتی ہے کہ وہ ان امور کو ریاستی اداروں کی مدد سے حل کرے گی تو یہ ایک نیک شگون ہے اور امید کی جا سکتی ہے کہ آنے والے دنوں میں مذہب کے نام پر کسی غیر آئینی مطالبے کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ ڈاکٹر قبلہ ایاز نے اپنی خیر مقدمی تقریر میں حکومت کو ''پیغامِ پاکستان‘‘ کی طرف متوجہ کیا۔ یہ وہ اہم مگر مظلوم دستاویز ہے جس کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ بن کھلے مرجھا گئی۔ ''پیغامِ پاکستان‘‘ کا اعلان جنوری 2017 ء میں ہوا لیکن اسے دن کی روشنی نصیب نہ ہوئی۔ اگر اسے قومی بیانیہ بنا دیا جاتا تو ہم وہ تماشہ نہ دیکھتے جو مذہب کے نام پر ایک بار پھر برپا کیا گیا۔ ڈاکٹر قبلہ ایاز نے ''پیغامِ پاکستان‘‘ کے چند اہم نکات کا بطورِ خاص ذکر کیا۔ مثال کے طور پر تمام علما اور مذہبی جماعتوں نے اقرار کیا:
1۔ ہم متفقہ طور پر اسلام اور برداشت کے نام پر انتہا پسندانہ سوچ اور شدت پسندی کو مسترد کرتے ہیں۔ یہ فکری سوچ جس جگہ بھی ہو ہماری دشمن ہے اور اس کے خلاف فکری و انتظامی جدوجہد دینی تقاضا ہے۔
2۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ فرقہ وارانہ منافرت، مسلح فرقہ وارانہ تصادم اور طاقت کے بل پر اپنے نظریات کو دوسروں پر مسلط کرنے کی روش شریعت کے احکام کے منافی اور فساد فی الارض ہے، نیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور‘ قانون کی روح سے ایک قومی و ملی جرم ہے۔ اس لیے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت کے ادارے ایسی (منفی) سرگرمیوں کے سد باب کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کریں۔
3۔ پاکستان میں نفاذ شریعت کے نام پر طاقت کا استعمال ریاست کے خلاف مسلح محاذ آرائی، تخریب و فساد اور دہشت گردی کی تمام صورتیں‘ جن کا ہمارے ملک کو سامنا ہے‘ اسلامی شریعت کی رو سے ممنوع اور قطعی حرام ہیں اور بغاوت کے زمرے میں آتی ہیں اور ان کا تمام تر فائدہ اسلام اور ملک دشمن عناصر کو پہنچ رہا ہے۔
4۔ دینی شعائر اور نعروں کو نجی عسکری مقاصد اور مسلح طاقت کے حصول کے لیے استعمال کرنا قرآن و سنت کی رو سے درست نہیں۔
5۔ جہاد کے اس پہلو‘ جس میں جنگ اور قتال شامل ہیں‘ کو شروع کرنے کا اختیار صرف اسلامی ریاست کا ہے اور کسی شخص یا گروہ کو اس کا اختیار حاصل نہیں۔ کسی بھی فرد یا گروہ کے ایسے اقدامات کو ریاست کی حاکمیت میں دخل اندازی سمجھا جائے گا‘ اور ان کے یہ اقدامات ریاست کے خلاف بغاوت تصور ہوں گے جو اسلامی تعلیمات کی رو سے سنگین اور واجب تعزیر جرم ہے۔
6۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے تمام شہری، دستور و آئینی میثاق کے پابند ہیں‘ جس کی رو سے ان پر لازم قرار پاتا ہے کہ وہ بہر صورت حب الوطنی اور ملکی و قومی مفادات کا تحفظ پہلی ترجیحِ کلی طور پر کریں اور اس پر کسی صورت آنچ نہ آنے دیں، ملک و قوم کے اجتماعی مفادات کو کسی بھی عنوان سے نظر انداز کرنے کی حکمت عملی اسلامی تعلیمات کی رو سے عہد شکنی اور غدر قرار پاتی ہے، جو دینی نقطہ نظر سے سنگین جرم اور لائق تعزیر ہے۔
کونسل نے 17 جنوری کے اجلاس میں اس دستاویز کی تائید اور تحسین کی اور 8 فروری کے اجلاس میں اس قومی دستاویز کو مؤثر بنانے کے لیے درج ذیل سفارشات پر اتفاق کیا:
''(الف) پیغام پاکستان کو ایوان زیریں (قومی اسمبلی) ایوان بالا (سینیٹ) اور تمام صوبائی اسمبلیوں میں زیر بحث لایا جائے اور اس کی روشنی میں ضرورت کے مطابق مناسب قانون سازی کی جائے۔
(ب) مدارس اور یونیورسٹیوں کی تقریبات میں پیغام پاکستان کی تشہیر اور تحسین کے عمل کو آگے بڑھایا جائے جس کے لیے وفاق ہائے مدارس کے صدور و ناظمین اور یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کے نام خطوط ارسال کیے جائیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن اس کو جامعات کے نصاب اور ماحول کا حصہ بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔
(ج) حکومت اسلام آباد، صوبائی دارالحکومتوں اور دیگر شہروں میں ''پیغام پاکستان‘‘ کے تعارف اور تشہیر کے لیے کل مسالک علما و اساتذہ کے سیمینارز کا انعقاد کرے، تاکہ منبر و محراب کے ذریعے اس دستاویز کے مندرجات کی بہتر تفہیم کا انتظام ہو سکے۔
(د) پیغام پاکستان کو نصاب کا باقاعدہ حصہ بنایا جائے، علما/ سکالرز، پروفیسرز حضرات اس انداز میں اس کی تدریس کریں اور مطالعہ کرائیں کہ طلبا کو پیغام پاکستان میں بیان کیے گئے مؤقف کی شرعی اور قانونی بنیادوں تک رسائی اور فہم حاصل ہو جائے۔ اس تجویز کو قابل عمل بنانے کے لیے وفاقی و صوبائی وزارت ہائے تعلیم کو خطوط لکھے جائیں۔
(ھ) پیغام پاکستان میں بیان کیے گئے اعلامیے/ بیانیہ کو عوامی مکالمہ کا موضوع بنایا جائے، اس مقصد کے حصول کے لیے میڈیا کو اس حوالے سے پروگرام منعقد کروانے کی ہدایت کی جائے جس کے لیے پیمرا کو خط ارسال کیا جائے۔
حکومت اگر اس باب میں پیش قدمی کرتی ہے تو 'پیغامِ پاکستان‘ اس کے سامنے ہے اور اسلامی نظریاتی کونسل بھی تائید میں کھڑی ہے۔ مذہب ا ور ریاست کا باہمی تعلق میرا خیال ہے کہ بڑی حد تک حل ہو سکتا ہے۔ پھر شاید کسی نئی قانون سازی کی ضرورت نہ رہے۔ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved