تحریر : خورشید ندیم تاریخ اشاعت     01-12-2018

ابہام کے سو دن

ریاست مدینہ؟ مملکتِ چین؟ مہاتیر محمدکاملائیشیا؟ آخر آپ پاکستان کو کیا بنانا چاہتے ہیں؟
حکومت کے ابتدائی سو دن جس طرح گزرے ہیں، اس کے لیے ایک ہی عنوان موزوں ہے: ''ابہام‘‘۔ غالب نے اس کیفیت کو بیان کیا ہے: '' پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہ بر کو میں‘‘۔
برسوں پہلے جب عمران خان صاحب سے یاداللہ تھی تو وہ سیاسی تنہائی کے حصار میں تھے۔ یہ 2011ء سے پہلے کی بات ہے۔ غور و فکر کے لیے وقت وافر تھا۔ ایک دن بات چل نکلی تو میں نے پوچھا: آپ کا سیاسی وژن کیا ہے؟ کہا: میں مہاتیر محمد کی طرح ملک کو بدل دینا چاہتا ہوں۔ میں نے سوال کیا: آپ کے نزدیک ان کا سیاسی وژن کیا ہے؟ انہوں نے جو تفہیم کی، مجھے اس سے اتفاق نہ ہو سکا۔ میں نے اپنا تجزیہ ان کے سامنے رکھا۔ سادہ لفظوں میں یہ وہی وژن ہے جسے نواز شریف نے پاکستان میں اپنایا: ایک بڑا انفراسٹرکچر، سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول اور تیز رفتار معاشی سرگرمیاں۔ پھر میں نے ملائیشیا کی نسلی تقسیم کا ذکر کیا کہ وہاں کی سیاسی فضا کی تشکیل میں، یہ تقسیم کیا کردار ادا کر رہی ہے۔ انور ابراہیم کے ساتھ ان کے اختلاف کی بات کی؟ ساتھ کلینتان جیسی ریاستوں میں اسلامائزیشن کا عمل۔ میں نے بتانے کی کوشش کی کہ پاکستان کے لیے یہ ماڈل کیوں موزوں نہیں۔
کہنے لگے: میں چین کے ماڈل کو اپنانا چاہتا ہوں۔ چین کے بارے میں بتایا کہ اس کی سماجی فضا پاکستان سے کس طرح مختلف ہے۔ ایک مذہبی اور جمہوری مزاج رکھنے والے ملک کے لیے چین کا ماڈل مثال نہیں بن سکتا۔ نظریات کے بارے میں عرض کیا کہ وہ سماجی اور سیاسی رویوں پر کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔ کہنے لگے: میں علامہ اقبال کے تصور کے مطابق ریاست کی تشکیل چاہتا ہوں۔ خان صاحب نے اپنا فہمِ اقبال پیش کیا جو شاعری سے ماخوذ عمومی تاثر پر مبنی تھا۔ میں نے ریاست کے باب میں اقبال کے خیالات کی بات کی اور بتایا کہ معاشرہ ان افکار سے ابھی بے خبر ہے اور یہاں ان کی پزیرائی کا کوئی امکان نہیں۔ آخر میں کہنے لگے: تو پھر آپ تحریک انصاف کا وژن لکھیں۔ میں نے خیر کیا لکھنا تھا۔ بات آئی گئی ہو گئی۔ سیف اللہ نیازی اس ملاقات میں موجود تھے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس دوران میں بہت کچھ تبدیل ہو گیا‘ مگر یہ ابہام اسی طرح آج بھی عمران خان صاحب کا ہم سفر ہے۔ 
ان سو دنوں میں جو کچھ ہوا، اس سے کسی منضبط (coherent) پالیسی کے خدوخال واضح نہیں ہوتے۔ یوں کہیے کہ حکومت کی کارکردگی ایک ایسی کتاب کی طرح ہے جسے متفرق اقوالِ زریں کا مجموعہ تو قرار دیا جا سکتا ہے، کسی متعین موضوع پر کوئی مبسوط تحریر نہیں۔ مثال کے طور پر معاشی پالیسی ہے۔ عمران خان اس کے قائل رہے ہیں کہ انسانی وسائل کو ترقی دے کر وہ فضا پیدا کرنی چاہیے جس سے داخلی سطح پر وسائل متحرک ہوں اور یوں معاشی ترقی کا عمل آگے بڑھے۔ اب پاکستان کی جیسی تیسی اقتصادی پیش رفت ہے، اس کے خدوخال کا تعین بڑی حد تک اس وژن پر ہے جس میں انفراسٹرکچر اور سرمایہ کاری بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ دنیا بھر میں اسے کامیاب ماڈل سمجھا جاتا ہے۔ ملائیشیا، ترکی ،چین وغیرہ نے اپنے سماجی حالات کی رعایت سے اسی ماڈل کو اپنایا ہے۔ عمران خان اس کو بدلنا چاہتے ہیں لیکن وہ اس کا کوئی واضح تصور نہیں رکھتے کہ یہ کیسے ممکن ہو گا۔
اسد عمر صاحب کے بارے میں یہ تاثر دیا گیا تھا کہ ایک اقتصادی نابغہ ان کے ہاتھ لگ گیا ہے‘ جو معیشت کے ایک اچھوتے وژن کے ساتھ پاکستان کی کایا پلٹ دے گا۔ سو دن میں پوری طرح واضح ہو گیا کہ اسد عمر کے پاس کہنے کو کچھ نیا نہیں ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان پر اچانک ایک افتاد آ پڑی ہے اور وہ اب خلا میں ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔ وہ اسی پامال راستے کو اپنانے پر مجبور ہیں جن پر کسی اسحاق ڈار اور کسی حفیظ پاشا کے قدموں کے نشان ہیں۔ ان کے علاوہ جو افراد جمع کیے گئے ہیں، ان کا عمران خان صاحب کے (خام) اقتصادی وژن سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ وہ اسی معاشی ماڈل کے ماہر ہیں، نواز شریف جس کے علم بردار تھے۔ رہی ریاست مدینہ تو انہیں اس کی بھنک تک نہیں پڑی۔
سو دنوں میں صورت حال یہ ہے کہ متفرق طبیب ہیں جو بیمار معیشت کی صحت مندی کے لیے طرح طرح کے نسخے آزما رہے ہیں۔ کوئی اسے پچاس لاکھ گھروں کا معجون کھلانا چاہتا ہے کہ اس سے شفا ہو جائے گی۔ کسی کا خیال ہے‘ ترقیاتی فنڈ ختم کر دو، مریض بچ جائے گا۔ کوئی کہہ رہا ہے: قرض کا بندوبست کرو کہ اس معیشت کو فوری خون کی ضرورت ہے۔ اب خان صاحب ادھر ادھر دوڑ رہے ہیں کہ کسی سے قرض ہی مل جائے، حالانکہ وہ اسے قومی معیشت کے لیے زہر قرار دے چکے۔ جسے یُو ٹرن کہا جا رہا ہے، وہ دراصل یہی ابہام ہے۔ 
عمران خان کو حکومت چلانے کے لیے جو ٹیم میسر ہے، اس میں بھی کوئی ہم آہنگی نہیں۔ ان کے سیاسی اتحادی، سیاست کے وہ پرانے کھلاڑی ہیں‘ جن کا واحد مقصدِ حیات ایوانِ اقتدار تک رسائی ہے۔ یہ بات کہ اقتدار کسی مقصد کے لیے حاصل کیا جاتا ہے یا سیاست میں وژن نام کی کوئی چڑیا بھی ہوتی ہے، ان کے لیے اجنبی تصورات ہیں۔ بعض کی دلچسپی اس سے ہے کہ پنجاب کے تخت پر ان کی گرفت مضبوط ہو۔ کچھ نئے سیاسی بندوبست کا حصہ بن کر اپنے ماضی سے جان چھڑانا چاہتے ہیں۔ تحریکِ انصاف کا حال یہ ہے کہ اس کا کوئی وژن نہیں۔ کیا نذر گوندل یا غلام سرور صاحب، ریاست مدینہ بنانے کے لیے تحریکِ انصاف میں شامل ہوئے تھے؟
عمران خان صاحب رحم کو ریاست کی بنیاد بنانا چاہتے ہیں مگر ان پر انتقام اور ہیجان کا غلبہ ہے۔ ان کی ترجیحات اسی انتقامی سوچ کے زیرِ اثر طے ہو رہی ہیں۔ وہ یہ نہیں سوچ پائے کہ اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن نہیں، سیاسی و معاشی استحکام ہے۔ بہت دنوں سے، میں تنہا تھا جو تکرار کے ساتھ یہ بات لکھ رہا تھا۔ اب تو ماشااللہ دانش ور بھی یہی کہنے لگے ہیں۔ تاریخ کی شہادت ہے کہ منفی سوچ کے ساتھ کوئی بڑا کارنامہ سر انجام نہیں دیا جا سکتا۔ کارنامے انہی کے مقدر میں لکھے جاتے ہیں جو شخصی جذبات اور اپنے عہد سے اٹھ کر تاریخ کے تناظر میں سوچتے ہیں۔ عمران خان نے اپنی ذات میں ان گنت تضادات کو جمع کر لیا ہے۔ ان کے ساتھ، مجھے حیرت ہے کہ وہ چین کی نیند کیسے سوتے ہوں گے۔
سو دن کا ہدف عمران خان نے خود طے کیا۔ تحریکِ انصاف کی طرف سے اب یہ کہا جاتا ہے کہ کارکردگی جانچنے کے لیے یہ مدت کافی نہیں۔ یہ بات درست ہونے کے باوجود، تحریکِ انصاف والوں کی طرف سے کہی جائے تو کوئی جواز نہیں رکھتی کہ یہ ہدف ان کا اپنا طے کردہ ہے۔ خان صاحب نے توقعات کا ایک انبار رضاکارانہ طور پر اپنی پیٹھ پر لاد لیا تھا۔ اس کو اتارنے کی کوشش میں، اس میں مزید اضافہ کر بیٹھے۔
ریاست مدینہ؟ مملکتِ چین؟ مہاتیر محمد کا ملائیشیا؟ اقبال کا پاکستان؟ درست طرزِ عمل یہ ہوتا ہے کہ وہ مقامی ضرویات کو سامنے رکھتے ہوئے، ایک وژن اپناتے اور پھر اس کی روشنی میں ایک خاکہ بناتے۔ اس کے بعد وہ ان لوگوں کو تلاش کرتے جو اس سے اتفاق رکھتے اور اس خاکے میں رنگ بھرنے کے اہل ہوتے۔ یہ پالیسی بنائی جاتی کہ کیسے پانچ سال میں اسے تصور سے حقیقت بنانا ہے۔
سو دن ابہامات اور تضادات کی نذر ہو گئے۔ عمران خان تبدیلی چاہتے ہیں مگر یہ نہیں جانتے کہ کیسے آئے گی۔
چلتا ہوں تھوڑی دور ہر اک تیز رو کے ساتھ
پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہ بر کو میں

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved