تحریر : امیر حمزہ تاریخ اشاعت     14-12-2018

گرونانک اور رائے بلار

ننکانہ کا پرانا تاریخی نام ''تلونڈی‘‘ تھا۔ اصل تلونڈی وہ ہے جہاں صدیوں سے دھولر نامی قبرستان ہے۔ گرونانک کے زمانے میں بھی یہاں قبرستان تھا اور آج بھی قبرستان ہے۔ میرے کچھ عزیزوں کی قبریں بھی اسی قبرستان میں ہیں۔ ایک بار میں اپنے والد محترم مولانا نذیر احمد رحمہ اللہ کے ہمراہ مذکورہ قبرستان میں تھا تو والد محترم مجھے قبرستان کی چوٹی پر لے گئے۔ قبرستان ایک چھوٹے پہاڑ کی مانند ہے۔ وہاں والد صاحب نے مجھے بتلایا کہ یہ قبر رائے بلار بھٹی کی ہے۔ بلار صاحب بابا گرونانک کے دوست تھے اور مسلمان تھے۔ تب تک گرونانک ایک مذہبی بزرگ کی حیثیت سے معروف ہو چکے تھے۔ وہ ہندوئوں کی جنگجو اور حکمرانی کرنے والی قوم کھشتری میں مہتّا کلیان کے گھر پیدا ہوئے تھے۔ ان کے دوستانے مسلمانوں کے ساتھ تھے۔ ہندو مذہب کی بت پرستی اور ذات پات کی اونچ نیچ سے انہیں نفرت ہو چکی تھی۔ رائے بلار بھٹی بھی مسلمان تھے۔ انہوں نے جب گرونانک میں بت پرستی سے نفرت دیکھی‘ توحید کی باتوں کو ملاحظہ کیا تو اپنی جاگیر میں سے ساڑھے سات سو مربع زمین بابا گرونانک کے نام کر دی۔ اسی زمین کی آمدن سے پچھلے ساڑھے پانچ سو سالوں سے گردواروں کی دیکھ بھال پر اخراجات کا نظام چلتا آ رہا ہے۔ رائے ریاض احمد بھٹی جو رائے بلار کی اولاد سے ہیں‘ محکمہ انکم ٹیکس میں آفیسر ہیں‘ میرے دوست اور کلاس فیلو ہیں‘ ہم دونوں نے چھٹی سے لے کر دسویں تک گورنمنٹ گرونانک ہائی سکول سے تعلیم حاصل کی ہے۔ وہ مجھے کبھی کبھار کہا کرتے تھے‘ ہمارے باپ رائے بلار نے گرونانک کو اتنی بڑی جاگیر دے دی اور اپنی اولاد کو محروم کر دیا۔ الغرض! مذکورہ بات رائے ریاض بھٹی ازراہِ تفنن کیا کرتے تھے۔
قارئین کرام! میں دس دسمبر 2018ء کی سہ پہر گردوارہ کرتارپور صاحب میں تھا۔ عرفان مہیس میرے ساتھ تھے۔ گردوارے کے انچارج اور گیانی گوبند سنگھ نے ہماری آئو بھگت اور سیوا کی۔ میں نے گیانی صاحب سے پوچھا کہ بابا جی نے کرتارپور میں ڈیرہ لگایا‘ وہ کھیتی باڑی کیا کرتے تھے‘ دریائے راوی سے پار انہوں نے اپنا ڈیرہ بنایا تھا۔ یہ ڈیرہ اب انڈیا میں ہے۔ اسے ''ڈیرہ بابا نانک‘‘ کہا جاتا ہے۔ مذکورہ زرعی زمین کتنی تھی اور بابا جی کو کس نے دی تھی۔ کہنے لگے‘ بابا جی کی بزرگی کو دیکھ کر دو ہندوئوں نے بابا جی کو زمین دی۔ یہ ہندو اجیتا رندھاوا اور دونی چند تھے۔ جو زمین انہوں نے دی اس کا رقبہ 104ایکڑ ہے۔ میرے دوست رائے ریاض بھٹی کی پریشانی اور حسرت اپنی جگہ پر مگر فرق کس قدر ہے کہ دو ہندو جاگیرداروں نے مل کر بابا جی کو جو زمین دی وہ چار مربع ہے اور اکیلے مسلمان جاگیردار نے جو زمین بابا جی کو دی وہ ساڑھے سات سو مربع ہے۔ ماسٹر تارا سنگھ اگر صرف اسی بات پر غور کر لیتا تو میرے بابا جی قائداعظم محمد علی جناح رحمہ اللہ کی بات کو رد نہ کرتا اور آج سکھ قوم کے پاس پورے پنجاب میں مذہبی اور معاشرتی زندگی کی آزادی ہوتی۔ بہرحال! وہ وقت گزر گیا‘ اب پھر سکھوں کو سینے سے لگا یاہے تو پاک فوج کے سربراہ جناب جنرل قمر جاوید باجوہ نے لگایا ہے۔ نوجوت سنگھ سدھو کو سینے سے لگایا۔ کرتارپور کی راہداری کو کھولا۔ اب وہاں بہت بڑا کمپلیکس اور انڈیا کے ڈیرہ بابا نانک تک روڈ بن رہا ہے۔ یہ راہداری امن کی راہداری ہے۔ متعصب لوگوں نے نوجوت سنگھ کے سر کی قیمت لگا دی ہے۔ یعنی ایک جانب سینے سے لگایا جا رہا ہے‘ دوسری جانب دہشت گردی کا اعلان کیا جا رہا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ مودی حکومت دہشت گردی کے اعلان پر خاموش ہے۔
اب میں کرتارپور کے گوردوارے میں داخل ہوا۔ آج میرا مقصد صرف اس قدر تھا کہ بابا جی کے وہ سلوگن جو گردوارے کے اندر اور باہر بورڈوں کی صورت میں آویزاں کئے گئے ہیں‘ میں وہ قارئین کی خدمت میں پیش کروں اور دنیا بھر کی سکھ برادری کو یہ باور کرائوں کہ بابا جی گرونانک نے نظریات لئے تو حضرت محمد کریمؐ کی تعلیمات سے لئے اور انہیں زمین ملی تو وہ بھی میرے حضورؐ کا کلمہ پڑھنے والے سے ملی اور سینے سے لگا کر جپھی ملی تو میرے حضورؐ کے ایک غلام... جو حرمتِ رسولؐ اور ختم نبوت کا علمبردار ہے‘ سے ملی۔ میری مراد! جنرل قمر جاوید باجوہ ہیں۔ ان سے جپھی ملی‘ محبت ملی‘ امن کی راہداری ملی۔ کرتارپور کے درشن کی دیداری اورچابی ملی۔ یہ وہ حقائق ہیں کہ ان کو سامنے رکھتے جائو‘ ہندو بنیے کی تنگدلی اور سنگ دلی دیکھتے جائو جبکہ میرے رسولِؐ مہربان و عالیشان کے پیروکاروں کی وسعتِ ظرفی اور سینے کی کشادگی دیکھتے جائو۔
سکھوں کا آخری گرو ان کی مذہبی کتاب ہے‘ جسے گروگرنتھ صاحب کہا جاتا ہے۔ بابا جی نانک نے پاکپتن کے بابا فرید رحمہ اللہ کے اشعار کو بھی اپنے گرنتھ صاحب کا حصہ بنایا ہے۔ بابا نانک توحید کے کیسے علمبردار تھے۔ میرے والد محترم مولانا نذیر احمد رحمہ اللہ بابا جی نانک کا ایک شعر سنایا کرتے تھے!
دادو! دنیا باوری
تے مڑیاں پوجن اوت
جیڑے موت دے مارے مر گئے
تینوں کتھوں دیون گے پوت
بابا جی گورونانک کا دوست دادو تھا۔ اسے مخاطب کر کے کہا‘ دنیا کے وہ لوگ باوری (پاگل) ہیںجو ہندو سادھوئوں کی لاشوں کی ڈھیریاں یعنی مڑیاں پوجتے ہیں۔ یہ ایسے بے وقوف ہیں کہ ان کو اتنی خبر نہیں کہ ان کو موت آئی وہ مر گئے۔ اب تجھے بیٹا کیا اور کہاں سے دیں گے... جی ہاں! کرتارپور کے گردوارے میں ایک سلوگن اس طرح سے تھا۔ ''وہ اپنے آپ سے ہے اور یکتا ہے‘‘۔یعنی نہ وہ کسی سے پیدا ہوا اور نہ کوئی اس سے پیدا ہوا اور وہ یکتا یعنی اکیلا اور واحد ہے۔ سورئہ اخلاص کی یہی تعلیم ہے اور وہیں سے یہ خوشبو لی گئی ہے۔ دوسرا سلوگن یوں ہے ''صرف اللہ تعالی ہی کو سجدہ کرو‘‘ تیسرا سلوگن ہے ''اللہ تعالیٰ سے بڑا اور کوئی نہیں‘‘ جی ہاں! اللہ اکبر کی مہک آ رہی ہے۔ اگلا سلوگن یوں ہے ''جس پروردگار نے پیدا کیا‘ اس کی بندگی کرو‘‘۔ سورۃ البقرہ میں ہے‘ اے انسانو! اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں پیدا فرمایا ہے۔ پانچواں سلوگن اس طرح سے ہے ''اللہ تعالیٰ بادشاہوں کا بھی بادشاہ ہے اے نانک‘‘ قرآن میں اللہ تعالیٰ اپنے پیارے رسولؐ کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں‘ کہہ دو! اے اللہ بادشاہوں کے بادشاہ جس کو چاہتا ہے بادشاہت دیتا ہے جس سے چاہتا ہے چھین لیتا ہے۔ چھٹا سلوگن میں نے یوں دیکھا ''اللہ تعالیٰ ہر کسی کے دل کی بات جانتا ہے‘‘ ساتواں یوں ہے ''اللہ تعالیٰ کے ذکر کے برابر اور کوئی چیز نہیں‘‘۔ قرآن بتاتا ہے ''وَلَذِکْرُاللّٰہُ اکْبَرُ‘‘(العنکبوت:45) حقیقت یہ ہے کہ اللہ کا ذکر ہی سب سے بڑی شے ہے۔ قارئین کرام! کالم کی تنگ دامانی حائل ہو گئی ہے وگرنہ میں سلوگن لکھتا جاتا اور آپ لوگ دیکھتے چلے جاتے کہ بابا گرونانک مسلمان صوفیا اور بزرگوں کے پاس بیٹھے تو میرے حضورؐ کے خادموں اور غلاموں کے خوشہ چین بنتے چلے گئے۔ پھر میں کیوں نا سکھ دوستوں سے کہوں! یارو... توحیدی نظریات میں بھی تم ہمارے ساجھے دار‘ زمینداری یعنی دنیاداری میں بھی ہم تمہارے طرفدار اور اب پھر ہم ہی ہیں امن کے علمبردار۔
سکھوں کا آخری گرو ان کی مذہبی کتاب ہے‘ جسے گروگرنتھ صاحب کہا جاتا ہے۔ بابا جی نانک نے پاکپتن کے بابا فرید رحمہ اللہ کے اشعار کو بھی اپنے گرنتھ صاحب کا حصہ بنایا ہے۔ بابا نانک توحید کے کیسے علمبردار تھے۔ میرے والد محترم مولانا نذیر احمد رحمہ اللہ بابا جی نانک کا ایک شعر سنایا کرتے تھے!
دادو! دنیا باوری
تے مڑیاں پوجن اوت
جیڑے موت دے مارے مر گئے
تینوں کتھوں دیون گے پوت

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved