تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     15-12-2018

اپنا کلینک

پچکے گال
غلام نبی خان کوٹ رادھا کشن
میری عمر 65 سال ہے‘ صحت تو بظاہر ٹھیک ہے لیکن گال پچک گئے ہیں۔ مشورہ دیں۔
آپ جو کچھ بھی کر لیں‘ اس عمر میں گالوں کی پچکاہٹ دور نہیں ہو سکتی۔ بلکہ غنیمت جانیں کہ اس صورت میں گال موجود تو ہیں؛ چنانچہ ہر طرح کی کوشش رائیگاں جائے گی بلکہ ہو سکتا ہے کہ ایسی کوشش کے دوران جسم کا کوئی اور حصہ نہ پچک جائے۔ تاہم اگر آپ اس بارے میں زیادہ ہی سنجیدہ ہوں تو ہر وقت دونوں گالوں میں ایک ایک ٹیبل ٹینس بال دبا کر رکھنے سے بھی پچکاہٹ دور ہو سکتی ہے۔ اگر اس سے بھی مسئلہ حل نہ ہو تو کرکٹ کی گیندیں استعمال کریں ‘ تاہم اتنا خیال رکھیں کہ کھانے سے پہلے یہ گیندیں باہر نکال لیں ورنہ گیندوں کا خرچہ بڑھ جائے گا۔
یادداشت بہتر ہے
مرزا خر دماغ بیگ‘ جہلم
ڈاکٹر صاحب آپ کے تجویز کردہ نسخہ سے میری یادداشت کافی بہتر ہو گئی ہے۔ کیا اسے میری بیوی بھی استعمال کر سکتی ہے؟
بھلا آپ کو بیوی کی یادداشت بہتر بنانے کی کیا مصیبت پڑی ہے حالانکہ اس نعمت سے آپ کو ہمیشہ کے لیے استفادہ کرنا چاہئے‘ بصورت دیگر اسے آپ کی جملہ سہیلیوں کے نام پھر سے یاد آ سکتے ہیں۔ دراصل ہم نے آپ کے لیے جو نسخہ تجویز کیا تھا وہ ہاضمہ تیز کرنے کیلئے کیا تھا‘ بصورت دیگر آپ کو اپنے واجب الادا قرضے بھی یاد آتے‘ حتیٰ کہ آپ کو یہ بھی یاد نہیں کہ آپ نے اپنے خط کے ساتھ فیس مشورہ ہی نہیں بھجوائی تھی۔ شرم کریں!
موٹاپا
نازک اندام خانم‘ بوریوالہ
ڈاکٹر صاحب میرا وزن مسلسل بڑھ رہا ہے‘ آپ کے نسخہ کے استعمال سے بھی فرق نہیں پڑا۔ بھوک بہت لگتی ہے۔
آپ ڈٹ کر کھایا کریں بلکہ کھانے کے بعد پھر کھانا شروع کر دیا کریں۔ معدے کی اس مشقت کی وجہ سے آپ کا وزن کم ہو جائے گا۔ اگر اس سے بھی افاقہ نہ ہو تو بے وزن شعر کہا کریں بلکہ آپ دھڑا دھڑ شاعری شروع کر دیجیے۔ بے وزن وہ لازمی طور پر ہوگی اور آپ کو اس سلسلے میں کوئی خاص تردد بھی نہیں کرنا پڑے گا۔ اگر حتمی طور پر وزن کم کرنا چاہتی ہوں تو کسی شٹل کے ذریعے خلا میں پہنچ جائیں جہاں آپ کا وزن بالکل ہی ختم ہو جائے گا بجائے اس کے کہ آپ خواہ مخواہ زمین کا بوجھ بنی رہیں۔ تاہم‘ موٹاپے کا ایک فائدہ ضرور ہے کہ لڑائی کے دوران آپ شوہر کے اوپر بیٹھ کر بھی اس کی طبیعت درست کر سکتی ہیں۔
جگر خراب ہے
کفایت علی‘ سرگودھا
ڈاکٹر صاحب بہت عرصے سے میرا جگر خراب ہے‘ آنکھوں کے آگے تارے سے ناچتے رہتے ہیں۔ رنگت پیلی پڑ گئی ہے اور بھوک کم لگتی ہے۔
آنکھوں کے آگے جو تارے ناچتے ہیں پہلے تو ان کے بارے میں تسلّی کریں کہ یہ کہیں فلمی ستارے تو نہیں ہیں کیونکہ ناچنے کی عادت فلمی ستاروں ہی کو ہوتی ہے‘ تاہم کچھ ستارے صحتمند اتنے ہوتے ہیں کہ انہیں ستاروں کی بجائے شہابِ ثاقب کہنا زیادہ مناسب ہے‘ چنانچہ صحتمند ستاروں کے رقص سے ایک طرح کے بھونچال کی کیفیت بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ بھوک نہیں لگتی تو خدا کا شکر ادا کریں کہ راشن کی بچت اور خرچہ کم ہوتا ہے۔ پیلی رنگت پسند نہیں تو چہرے پر کوئی پسندیدہ رنگ مل لیا کریں نیز جگر کی بہتری کے لیے حضرت جگر مراد آبادی کے کلام کا مطالعہ مفید رہے گا۔
گردہ فیل
محروم خان‘ بنّوں
ڈاکٹر صاحب میرا گردہ فیل ہو گیا ہے‘ بہت پریشان‘ سمجھ میں نہیں آتا کیا کروں‘ کوئی مفید مشورہ دیں۔
آج کل زندہ رہنا واقعی دل گردے کا کام ہے لیکن آپ فکر نہ کریں کیونکہ بہت جلد گردے کا کام خود دل سنبھال لے گا۔ پریشان ہونے کی ضرورت اس لیے نہیں کہ گردے کا کام صرف پیشاب بنانا ہے۔ چنانچہ اس پلید چیز کی پیداوار میں آپ کی کوئی دلچسپی نہیں ہونی چاہئے۔ بول و براز سے بے نیاز ہو جانا ہر کسی کی قسمت میں نہیں لکھا ہوتا‘ علاوہ ازیں پیشاب خطا ہونے کا بھی کوئی امکان نہیں رہتا۔ کیونکہ بانس ہی نہیں ہوگا تو بانسری کہاں سے بجے گی‘ تاہم اگر آپ واقعی فکر مند ہیں تو بوٹی مافیا کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بنائیں اور فیل شدہ گردے کو کسی طرح پاس کروانے کی کوشش کریں۔ یقینی افاقہ ہوگا۔ 
مکمل کورس برائے فروخت
ہمارے ہاں گھریلو ڈاکٹر کا مکمل کورس برائے فروخت موجود ہے۔صرف ڈیڑھ سو روپے کے ڈاک ٹکٹ بھیج کر مفت حاصل کریں۔ قدیمی شاہی نسخوں سے بھرپور۔ پہلا ایڈیشن تقریباً دس سال سے بازار میں آ چکا ہے لیکن محض نا قدریٔ زمانہ کی وجہ سے فروخت نہیں ہو سکا۔ ردّی کے بھائو لفافے وغیرہ بنانے والے شائقین توجہ فرمائیں۔ تیر بہدف نسخوں سے دکان چمکانے کا سنہری موقعہ۔ اتائی حضرات کے لیے نادر و نایاب تحفہ۔ نیم حکیم خطرۂ جان‘ لیکن آپ اس کی پروا نہ کریں کیونکہ زندگی اور موت صرف اور صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اس کتاب کو پڑھ کر آپ خود بھی حکمت شروع کر سکتے ہیں‘ کم از کم نیم حکیم ضرور بن سکتے ہیں۔ اگر یہ مناسب نہ سمجھیں تو دو دوست اکٹھے اسے خرید کر پورا حکیم بن سکتے ہیں۔ پہلے آئو‘ پہلے پائو‘ دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا۔
آج کا مطلع:
خالص نہیں وفا تو جفا ہے ملی جلی
یہ باغ وہ ہے جس کی ہوا ہے ملی جلی

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved