تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     18-12-2018

سُرخیاں، متن اور ادریس بابر کی کچھ مزید شاعری

قبل از وقت الیکشن کا اشارہ مل گیا ہے: آصف علی زرداری
سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ''قبل از وقت الیکشن کا اشارہ مل گیا ہے‘‘ اور آپ کو یاد ہوگا یہ اشارہ کل والی تقریر میں‘ میں نے ہی دیا تھا‘ کیونکہ میں ہمیشہ اشاروں سے کام لیتا ہوں‘ کیونکہ میں زبان کا استعمال بہت کم کرتا ہوں؛ البتہ اینٹ سے اینٹ بجانے کا دعویٰ میں نے زبان سے کیا تھا‘ لیکن وہ زبان درازی ہی ثابت ہوئی اور مجھے کسی گوشۂ عافیت کی تلاش میں چند سال تک بیرون ملک جانا پڑا‘ جبکہ جیل میرے لیے ایک مستقل گوشۂ عافیت ہے جس سے میں گھبراتا نہیں‘ بلکہ بڑے ذوق و شوق سے اس میں جایا کرتا ہوں‘ جبکہ میرے شوق تو کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ‘ ویسے بھی میں کوئی کام چھپ کر نہیں کرتا‘ بلکہ علی الاعلان کرتا ہوں‘ جبکہ بہادروں کا شیوہ بھی یہی ہے کہ ہر کام ڈنکے کی چوٹ پر کیا جائے؛ اگرچہ آج کل میرا ڈنکا ذرا کمزور ہو گیا ہے اور بجتا بھی کم ہے؛ حتیٰ کہ اینٹ سے اینٹ بھی نہیں بجائی جا سکتی‘ تاہم میں نے انہیں اُن کی اوقات یاد دلا دی ہے کہ تین سال کی معیاد ہے اور پورے ملک کا کام تم چلا رہے ہو؛ اگرچہ میں بھی اپنا کام ساتھ چلاتا رہتا ہوں‘ بلکہ میں تو آرام سے گھر بیٹھتا ہوں اور میرے جاں نثار فرنٹ مین میرے اشاروں پر کام کرتے رہتے ہیں‘ جبکہ میرا اگلا کام حکومت سنبھالنا ہے‘ کیونکہ موجودہ حکومت مجھے جیل میں ڈال کر اتنی شرمندہ ہوگی کہ خود ہی مستعفی ہو جائے گی کہ کیسی برگزیدہ ہستی کو جیل میں ڈال دیا ہے‘ بلکہ اب تو میرے جملہ ساتھی بھی کافی برگزیدہ ہو چکے ہیں اور انہیں جیل میں ڈال کر حکومت مزید ‘بلکہ اتنا شرمندہ ہوگی کہ شاید ملک ہی چھوڑ جائے‘ لیکن بیرون ملک جا کر بھی بھوکوں ہی مرے گی کیونکہ انہیں عقل ہی نہ آئی کہ وہاں کوئی ایک آدھ پلازہ وغیرہ ہی بنا لیتے ۔ آپ اگلے روز حیدر آباد میں پریس کانفرنس کر رہے تھے۔
کچی آبادیوں کے لیے نئی پالیسی لائیں گے: علیم خان
پنجاب کے سینئر وزیر علیم خان نے کہا ہے کہ ''کچی آبادیوں کے لیے نئی پالیسی لائیں گے‘‘ کیونکہ ہماری حکومت بھی کچی کچی ہی ہے ‘بلکہ میرا معاملہ تو ویسے ہی انتہائی مخدوش ہے‘ کیونکہ نیب والے اپنی کارروائی میرے خلاف بھی کر سکتے ہیں کہ ابھی حال ہی میں وزیراعظم نے اُسے ڈانٹا تھا کہ سست روی کی شکار کیوں ہے؛ چنانچہ وہ تاؤ کھا کر ہمارے خلاف بھی تیزی دکھا سکتی ہے‘ جبکہ خود وزیراعظم کے خلاف سرکاری جہاز استعمال کرنے کا الزام ہے‘ جبکہ وزیر دفاع اور کئی دیگر معززین بھی سخت تشویش میں مبتلا ہیں ‘لیکن گھی سیدھی اُنگلیوں سے نکلنے والا نہیں ہے؛ چنانچہ راجہ بشارت نے تبادلے کے لیے ایک ڈاکٹر کو دھمکی لگائی ہے‘ اب یا تو تبادلہ ہو جائے گا یا راجہ بشارت صاحب کو عدالت لائن حاضرکریں‘ بلکہ یہ تو آ بیل مجھے مار ‘والی بات ہے‘ کیونکہ یہ سارے کوہلو کے بیل نہیں ہیں‘ تاہم کولہو چلتے اور تیل نکلتے رہنا چاہیے۔ آپ اگلے روز لاہور میں مختلف وفود سے ملاقات کر رہے تھے۔
اے پی ایس کے شہدا کا دُکھ آج بھی پوری 
قوم کے دل میں تازہ ہے: نواز شریف
مستقل نااہل اور سابق سزا یافتہ وزیر اعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ''اے پی ایس کے شہداء کا دُکھ آج بھی قوم کے دلوںمیں تازہ ہے‘‘ جبکہ میرے دُکھ پر کسی کی آنکھ نم نہیں ہوتی‘ جبکہ ابھی نا صرف دو اور فیصلے آنے والے ہیں‘ بلکہ پاکپتن میں اوقاف کی زمین کا اور کئی اور بھی رفتہ رفتہ سر اُٹھا رہے ہیں‘ اس لیے میں کافی عرصے سے کوشش کر رہا ہوں کہ مجھے بیرون ملک بھجوا دیا جائے۔ چاہے‘ مجھے وہاں کی جیل میں رکھ لیا جائے‘ کیونکہ جیل میں رہنے کی مجھے عادت بھی پڑ گئی ہے‘ کیونکہ شومئی قسمت سے‘ میں جو کام بھی کروں مجھے اُس کی عادت پڑ جاتی ہے‘ جبکہ میں نے خدمت شروع کی تو رفتہ رفتہ عادت ہی پڑ گئی اور اس قدر راسخ ہو گئی کہ کھانا کھانے کے علاوہ مجھے اور کوئی کام پسند ہی نہیں تھا‘ اس لیے حکومت کو کم از کم اس کا تو خیال رکھنا چاہیے کہ میری مجبوریوں ہی کا کچھ لحاظ کرے جبکہ مجھے یہاں سے بھجوانے سے حکومت میرے کھانے کے خرچے سے بھی بچ جائے گی۔ آپ اگلے روز لاہور سے شہیدوں کی برسی پر ایک پیغام جاری کر رہے تھے۔
اور‘ اب آخر میں ادریس بابر کی شاعری:
سو دنیا میں جینا مرنا‘ دل کو مرنے مت دینا
یار‘ کرایہ دار کو دل پر قبضہ کرنے مت دینا
روشنی کی طرح مدھم نہیں کی جا سکتی
یہ محبت ہے تو پھر کم نہیں کی جا سکتی
یہ آدم خور بستی کا سفر ہے
غنیمت جان جتنا رہ گیا ہوں
پہاڑوں کے جگر چھلنی پڑے ہیں
انہیں اندر سے دریا کاٹتا ہے
دل کی ہر ایک خرابی کا سبب جانتے ہیں
پھر بھی ممکن ہے کہ ہم تم سے رعایت کر جائیں
نظر آئے تو اُسے دیکھتے رہنا کہ وہ شخص
خواب ہے اور مکرر نہیں ہونے والا
اور کب تک نہیں ملیں گے ہم
آپ کے پاس تو گھڑی ہو گی؟
وہ مجھے دیکھ کر خموش رہا
اور اک شور مچ گیا مجھ میں
یہ وقت بھی گزر نہیں رہا ہے‘ اور
میں خود اسے گزار بھی نہیں رہا
آج کا مقطع
اپنی باری کے منتظر ہیں‘ ظفرؔ
کہ لگے ہیں قطار میں ہم بھی

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved