تحریر : ھارون الرشید تاریخ اشاعت     21-12-2018

گنبدِ نیلوفری رنگ بدلتا ہے کیا؟

آئندہ چند ہفتے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ ایک آدھ نہیں ممکن ہے کہ کئی شہسوار ڈوب جائیں۔
دیکھیے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیا
گنبد نیلوفری رنگ بدلتا ہے کیا
میاں محمد نواز شریف اور آصف علی زرداری قصوروار ہیں۔ آج نہیں تو کل‘ اپنا بویا انہیں کاٹنا ہے‘ لیکن کیا اس سے عمران خان کا مسئلہ حل ہو جائے گا؟
کالا دھن سفید کرنے کے باب میں‘ آصف علی زرداری اور ان کے کارندوں کے خلاف 7500 صفحات پر پھیلے ہوئے شواہد موجود ہیں۔ ان کی ہمشیرہ محترمہ اس صف میں شامل ہیں۔ سینکڑوں ارب روپے ملک سے باہر بھیجے گئے اور اس کا جواز یہ لوگ پیش نہیں کر سکے۔ ایک آدھ نہیں‘ بینکوں کے سینکڑوں جعلی کھاتوں کا سراغ لگایا گیا۔ فیصلہ تو عدالت کو کرنا ہے‘ مگر بظاہر بچ نکلنے کا امکان کم نظر آتا ہے۔
واشنگٹن میں زرداری صاحب کے فلیٹ کی شہادت منظرِ عام پر آئی تو خاندان کی طرف سے اس کی تردید ہوئی اور نہ پارٹی کی جانب سے۔ قانون کی زبان میں یہ ایک ایسا مقدمہ ہے جو کھولا اور بند کر دیا جائے گا۔ فرحت اللہ بابر سمیت‘ پارٹی کے رہنما لپک کر الیکشن کمیشن گئے۔ دعویٰ ان کا یہ ہے کہ عمران خان اور فیصل واوڈا کو بھی قصور وار ثابت کر دیں گے۔ یعنی یہ کہ اس حمام میں سبھی ننگے ہیں۔ وزیر اعظم اور ان کے وزیر خطا کار ثابت ہوں گے یا نہیں‘ یہ بعد کی بات ہے مگر اس طرح آصف علی زرداری کو معصوم قرار دینے میں تو کوئی مدد ملے گی نہیں۔
تین صوبے پہلے ہی آنجناب سے اکتا چکے تھے‘ بالخصوص 56 فیصد آبادی کا پنجاب‘ کوئی سیاسی پارٹی‘ جس کے بغیر پنپ نہیں سکتی۔ سندھ بھی بیزار ہے۔ زرداری کے دس سالہ اقتدار نے اسے کچھ نہیں دیا۔ شہری سندھ میں تو پارٹی کا جنازہ نکل چکا۔ دیہی سندھ کی نفسیات کو ملحوظ رکھا جائے تو مقتول بے نظیر بھٹو کے بیٹے بلاول کو شاید مہلت مل جائے۔ آصف علی زرداری کو رونے والے کم ہوں گے۔ خیال یہ ہے کہ چند جلسے ‘ چند جلوس اور ٹائیں ٹائیں فش۔
سندھ میں پیپلز پارٹی کی طاقت کا راز اس کے حریفوں کی بے عملی اور بد ذوقی میں پوشیدہ ہے۔ جب بھی ایک متحدہ محاذ بنانے میں وہ کامیاب ہوئے‘ سیاسی طور پر زرداری خاندان کے زوال کا آغاز ہو جائے گا۔ زرداری صاحب ‘ ان کی ہمشیرہ اور ان کے کارندوں کی گرفتاریوں سے حالات کچھ زیادہ بگڑے‘ ہنگامہ کچھ زیادہ بڑھا تو گورنر راج نافذ کیا جا سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو پارٹی کے بعض لیڈر اسے چھوڑ جائیں گے۔ قربانی خلق ان کے لیے دیتی ہے‘ جنہوں نے ان کا درد پالا ہو۔ 
پنجاب کی صورتِ حال کچھ زیادہ پیچیدگی رکھتی ہے۔ صوبے کا اعتبار پی ٹی آئی کو حاصل نہیں۔ جنوب میں ارکانِ اسمبلی ہانک کر لائے گئے اور تحریکِ انصاف میں شامل کر دیئے گئے۔ نواز شریف اور آصف زرداری کے درمیان خفیہ رابطوں کے بعد پیپلز پارٹی نے ایک بڑی چال چلی ہے۔ جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کی تائید کر دی ہے۔ اس کے اتباع میں شہباز شریف نے بھی۔ جنوبی پنجاب الگ ہوتا ہے تو وسطی پنجاب میں تحریکِ انصاف کی اکثریت ختم ہو جائے گی۔ بقا کی ایک ہی صورت ممکن ہو گی کہ نون لیگ میں فارورڈ بلاک تشکیل دیا جائے۔ نا ممکن تو نہیں مگر یہ سہل نہ ہو گا۔ اسٹیبلشمنٹ کی تائید کے بغیر‘ یہ مہم سر نہیں کی جا سکتی۔ کیا ایک بار پھر وہ خود فریق بنے گی؟ مشورہ دینے والوں نے اسٹیبلشمنٹ کو ایک مشورہ یہ بھی دیا ہے کہ شریف خاندان کے بغیر‘ پنجاب میں نون لیگ کی حکومت قائم کر دی جائے۔ 
بجلی کے نرخوں میں کل پھر اضافہ کر دیا گیا۔ منی لانڈرنگ کا سلسلہ فقط جاری ہی نہیں‘ بہت بڑھ گیا ہے۔ بازارِ حصص دبائو کا شکار ہے اور ڈالر بھی۔ ہنگامہ آرائی اگر بڑھتی چلی گئی‘ جس کا اندیشہ ہے تو معاشی استحکام کا حصول نا ممکن ہو گا۔ مہنگائی اور بے روزگاری بڑھتی چلی جائے گی۔ عوام بیزار ہوتے جائیں گے۔ ممکن ہے کہ تب نون لیگ کو موقعہ دینے کا فیصلہ کر لیا جائے۔ اگر ایسا ہوا تو سیاسی صورتِ حال ایک بڑا موڑ مڑ جائے گی۔
ایسے میں عمران خان کیا کریں گے؟
نواز شریف خود کو بے گناہ ثابت کرنے میں ناکام رہے۔ دعویٰ یہ تھا کہ دبئی سٹیل مل کی آمدن سے سعودی عرب کا کارخانہ انہوں نے قائم کیا۔ شواہد وہ فراہم نہ کر سکے۔ قطری خط اور پارلیمنٹ میں اپنی تقریر سے وہ دستبردار ہو چکے۔ دستاویزات سے ثابت ہو گیا کہ تحائف کی شکل میں سعودی عرب کی سٹیل مل کا 88 فیصد منافع وہ وصول کرتے رہے۔ تحائف کے باب میں قانون یہ کہتا ہے کہ وصول کرنے والے سے زیادہ‘ اس میں عطا کرنے والے کی شہادت اہم ہوتی ہے۔ ان کے صاحب زادگان شہادت دینے نہیں آئے۔ اس طرح مقدمہ ان کا کمزور ہو گیا اور بہت ہی کمزور۔ مزید جائیدادوں کی کھوج جاری ہے۔ بظاہر کوئی چیز انہیں سزا سے بچا نہیں سکتی۔ 
کیا ایسے میں اربوں ڈالر بچانے کے لیے وہ سیاست سے دستبردار ہونا قبول کر لیں گے؟
یہ تو آشکار ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سے ‘ کسی نہ کسی طرح کی مفاہمت پہلے ہی موجود ہے۔ شہباز شریف تو مدتوں سے سر نگوں ہیں۔ محترمہ مریم نواز نے چپ سادھ رکھی ہے۔ طویل عرصے کے بعد نواز شریف بولے ہیں تو منمناتے ہوئے سے۔ شیر کی دھاڑ رخصت ہو چکی۔
عمران خان اگر خوش قسمت ہیں تو زرداری اور شریف خاندان پسپا ہو جائیں گے۔ مگر اس سے بھی انہیں تھوڑی سی مہلت ہی مل سکتی ہے۔ بڑھتی ہوئی عوامی نا مقبولیت سے وہ نجات نہیں پا سکتے۔ اس کا واحد راستہ معیشت کی بحالی ہے‘ مگر فی الحال دور دور تک اس کا امکان دکھائی نہیں دیتا۔
کہا جاتا ہے کہ کابینہ کے حالیہ اجلاسوں میں بحث اس پر ہوتی رہی کہ وقتی طور پر‘ قوم کو آسودہ رکھنے کے لیے کیا کیا چمتکار ممکن ہیں۔ لاہور میں بسنت منانے کی اجازت غالباً اسی سلسلے کا ایک اقدام ہے۔ اب اس کا انحصار بھی عدالت پہ ہے۔ جہاں تک اہل لاہور کا تعلق ہے‘ وہ اس پر منقسم ہیں۔ غمِ روزگار میں الجھی عظیم اکثریت اگرچہ لا تعلق ہے۔ سوال کیا جائے تو وہ بیزاری کا اظہار کرتے ہیں۔
کیا پنجاب پولیس صورتِ حال کو سنبھالنے کی اہلیت رکھتی ہے؟ عمران خان کے دوست یوسف صلاح الدین کہتے ہیں کہ تہوار کو دن تک محدود کر دیا جائے اور موٹر سائیکل سواروں کے گھر سے نکلنے پر پابندی لگا دی جائے۔ بجا ارشاد‘ مگر اس کے باوجود اگر حادثہ ہو گیا۔ ایک آدھ جان بھی اگر چلی گئی‘ جس کا اندیشہ ہے‘ تو نتائج اتنے خطرناک ہوں گے کہ نا مقبول ہوتی ہوئی حکومت آسانی سے بوجھ اٹھا نہ سکے گی۔
لاہور کا مطلب صرف لاہور نہیں۔ ثقافتی دارالحکومت میں بسنت اگر منائی جائے گی تو قصور‘ گوجرانوالہ‘ شیخوپورہ اور فیصل آباد سمیت‘ تین چار کروڑ کے وسطی شہر لازماً شریک ہو جائیں گے۔ اندیشہ یہ ہے کہ بسنت خون کے چھینٹے اڑاتے ہوئے گزرے گی۔ ظاہر ہے کہ پھر خون بہا کا مطالبہ کیا جائے گا۔ لگتا ہے کہ وزیر اعظم کو نالائق لوگوں نے گھیر رکھا ہے۔ اگر یہی کرنا تھا تو دو تین ماہ پہلے تیاری شروع کر دی ہوتی۔ 
ایک طرف پیپلز پارٹی اور نون لیگ ہیں‘ جن کی قیادت پر کرپشن کے سنگین الزامات ہیں۔ ان الزامات کی زد میں آ کر وہ ہلاک ہوتی نظر آتی ہیں۔ دوسری طرف حکومت ہے‘ جو اپنی سمت ہی طے نہیں کر سکی۔
آئندہ چند ہفتے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ ایک آدھ نہیں ممکن ہے کہ کئی شہسوار ڈوب جائیں۔
دیکھیے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیا
گنبدِ نیلوفری رنگ بدلتا ہے کیا

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved