تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     21-12-2018

سُرخیاں اُن کی، متن ہمارے

ترقی اور خوشحالی کا نیا دور شروع ہو گیا: عمران خان
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ''ترقی اور خوشحالی کا نیا دور شروع ہو گیا ہے‘‘ کیونکہ ترقی اور خوشحالی کا پرانا دور شریف برادران کے ساتھ اختتام کو پہنچا تھا اور اگرچہ مزید ترقی اور خوشحالی کی گنجائش تو نہیں تھی‘ تاہم ایک دور کے خاتمے کے بعد اس کا نیا دور بھی شروع ہوتا ہے‘ اس لیے ہماری ترقی کا دور بھی قابل غور ہے‘ جو پہلے دور سے ذرا مختلف ہے‘ کیونکہ وہ ترقی اشتہارات میں ہوتی تھی‘ جبکہ یہ ترقی بیانات کے ذ ریعے ہوگی اور جس کا آغاز میری آج کی تقریر سے ہو گیا ہے ‘کیونکہ اس بیان کے ساتھ ہی بجلی کے نرخ میں ایک روپیہ ستائیس پیسہ فی یونٹ کے حساب سے ترقی ہو رہی ہے اور اسی طرح دیگر اشیاء کی قیمتوں میں ترقی ساتھ ساتھ ہوتی رہے گی‘ کیونکہ ہمارے دور میں سب کچھ ساتھ ساتھ ہی ہوگا۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں ارکان اسمبلی کے وفد سے ملاقات کر رہے تھے۔
پاکستان میں جھوٹی‘ چور‘ دھوکے باز حکومت ہے: مریم اورنگزیب
ن لیگ کی ترجمان اور سابق وفاقی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ''پاکستان میں چور‘ جھوٹی اور دھوکے باز حکومت ہے‘‘ اگرچہ چوری کی تو کچھ زیادہ گنجائش نہیں تھی ‘کیونکہ ہم نے ملکی خزانے میں کچھ چھوڑا ہی نہیں تھا‘ اس لیے اس نے چوری کی بجائے ہیرا پھیری شروع کر دی ہے؛ حالانکہ ہم نے اس کی بھی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی تھی‘ کیونکہ اسحق ڈار صاحب یہی کام کیا کرتے تھے اور جہاں تک دھوکے بازی کا تعلق ہے‘ تو ووٹ کو عزت دو‘ سے بڑا فراڈ اور کیا ہو سکتا تھا‘ لیکن چونکہ ہماری مار کھا کھا کر عوام بھی خاصے سیانے ہو چکے ہیں‘ اس لیے انہوں نے اس انتہائی بے ضرر نعرے کو بھی پذیرائی نہ دی اور الیکشن میں ہمارا پانسہ پلٹ کر رکھ دیا؛ اگرچہ یہ پانسہ کافی مضبوط واقع ہوا تھا‘ لیکن پلٹنے کے لیے کسی چیز کا مضبوط ہونا کوئی خاص معامی نہیں رکھتا۔ بس اسے صرف اُٹھانا پڑتا ہے‘ جو کہ کوئی خاص مشکل کام نہیں ہوتا۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کر رہی تھیں۔
عمران خان نے مڈٹرم الیکشن کی بات 
کر کے ناکامیاں تسلیم کرلیں: خورشید شاہ
پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ ''عمران خان نے مڈٹرم الیکشن کی بات کر کے اپنی ناکامیاں تسلیم کر لیں‘‘ جبکہ یہ انتہائی بزدلی کی نشانی ہے ‘کیونکہ ہم نے اپنی ناکامیاں کبھی تسلیم نہیں کیں اور اگرچہ زرداری صاحب اپنا کام نہایت کامیابی سے چلا رہے تھے ‘لیکن نیب نے ان کی کامیابیوں پر لات مار دی‘ جو کہ اصولی طور پر غلط ہے‘ کیونکہ لات ہمیشہ حاتم طائی کی قبر پر ماری جاتی ہے‘ جبکہ تھوڑی بہت تگ و دور کر کے حاتم طائی کی قبر تلاش کی جا سکتی تھی‘ جو کہ نیب اپنی نااہلی کی وجہ سے ایسا نہیں کر سکی؛ حالانکہ کسی بھی گمنام قبر پر لات مار کر کہہ سکتے تھے کہ یہ حاتم طائی کی قبر تھی‘ تاہم قبر پر لات ذرا احتیاط سے مارنی چاہیے تاکہ مردہ کوئی پریشانی محسوس نہ کرے ‘جبکہ زندہ لوگوں کی نسبت مُردوں کے آرام و آسائش کا زیادہ خیال رکھنا چاہیے‘ کیونکہ مردہ ؛اگر کفن پھاڑ کر باہر نکل آئے‘ تو لینے کے دینے بھی پڑ سکتے ہیں۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں صحافیوں سے بات چیت کر رہے تھے۔
صرف نیب نہیں‘ کچھ وزراء بھی میڈیا ٹرائل کرتے ہیں: مشاہد اللہ
سینیٹر مشاہد اللہ خاں نے کہا ہے کہ ''صرف نیب نہیں‘ کچھ وزراء بھی میڈیا ٹرائل کرتے ہیں‘‘ کیونکہ ادھر نیب کوئی تفتیش شروع کرتی ہے اور ادھر بعض وزراء اس کا چرچا شروع کر دیتے؛ حالانکہ انہیں چاہیے کہ کیس کی سزا ہونے تک خاموشی اختیار کیے رکھیں ‘جبکہ سزا کے بعد بھی کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہوتی اور سزا یافتگان کے ساتھ اظہار ہمدردی کرنی چاہیے‘ لیکن یہ حضرات اس کی بجائے خوشی سے بغلیں بجانا شروع کر دیتے ہیں؛ حالانکہ بغلیں بجانے کے لیے نہیں ہوتیں‘ جبکہ بجایا صرف باجا ہی جاتا ہے ‘جو خود بھی بجایا جا سکتا ہے اور کوئی بینڈ کرائے پر منگوا کر بھی‘ اس لیے ہم نے اپنا بینڈ رکھا ہوا تھا ‘جو ترقی ہونے پر بجایا کرتے تھے‘ جبکہ ہم نے اپنا ایک ماتمی بینڈ بھی رکھا ہوا تھا‘ جو سزا کے موقعہ پر بجایا کرتے ہیں‘ کیونکہ ہماری حکومت ہر لحاظ سے نا صرف خود کفیل تھی ‘بلکہ دور اندیش بھی واقع ہوئی ہے اور اس بینڈ سے حسب ِرواج کام لینے کا وقت بھی آ چکا ہے۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
اللہ تعالیٰ دُعا ہے ‘انصاف کا بول بالا ہو: شہباز شریف
سابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ ''اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے‘ انصاف کا بول بالا ہو‘‘ اگرچہ انصاف کی دُعا مانگنا اصولی طور پر غلط ہے‘ کیونکہ انصاف میں تو خطرے ہی خطرے ہیں‘ اس لیے رحم کی کرنی چاہیے کیونکہ انصاف کی دعا اُلٹا گلے بھی پڑ سکتی ہے اور جس کے امکانات روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں ؛اگرچہ آج کل سموگ کی وجہ سے روزِ روشن خاصا کمیاب ہو گیا ہے‘ جس کی وجہ سرا سر عمران خان ہیں‘ کیونکہ ملک میں جو کچھ بھی ہوتا ہے‘ اس کی ذمہ دار حکومت ہوتی ہے ‘جبکہ اپنے زمانے میں ہم ہر چیز کے ذمہ دار ہوا کرتے تھے‘ لیکن خوفِ فسادِ خلق کی وجہ سے اسے تسلیم نہیں کرتے تھے ‘کیونکہ خوف بہرحال اچھی چیز ہے‘ شاید اسی لیے اہلیہ محترمہ ڈرتے ڈرتے میرے لیے این آر او کی تگ و دو کر رہی ہیں ‘کیونکہ ہم لوگوں میں خدا خوفی ویسے بھی ایک پختہ روایت کی حیثیت رکھتی ہے اور اب تو خدا خوفی کے ساتھ ساتھ عوام خوفی بھی شروع ہو گئی ہے‘ جن کے دلوں میں ہم دونوں بھائی دھڑکتے ہیں۔ آپ اگلے روز میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کر رہے تھے۔
آج کا مقطع
ظفرؔ‘ مجھے تو یہی چند کام آتے ہیں
مزے اُڑاؤں گا‘ روؤں گا اور گاؤں گا میں

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved