تحریر : اسلم اعوان تاریخ اشاعت     22-12-2018

نارملائزیشن کیسے ہو گی؟

پچھلے چالیس سالوں میں افغان جنگ کی حرکیات نے ہمارے سماجی رجحانات، ملکی سیاست اور اس خطے کی صحافت کو بتدریج انتشار کی طرف دھکیل کر پورے معاشرہ کو سماجی رواداری، باہمی ایثار، برداشت، عفو و درگزر اور ابلاغِ حق جیسے ان اوصاف حمیدہ سے محروم کر دیا، ماضی میں جنہیں انسانیت سے سچی ہمدردی رکھنے والے معلمینِ اخلاق، شاعروں، ادیبوں اور صوفیا کرام نے پروان چڑھایا تھا۔ اسی جدلیات کی بدولت رفتہ رفتہ ہمارے سماج کی اجتماعی سوچ میں ایسی گہری اور خطرناک تبدیلیاں رونما ہوئیں‘ جنہوں نے خیر و شر کے پیمانے بدل ڈالے۔ نیکی کی جگہ توہمات اور اخلاص کی جگہ ریا کاری نے لے لی۔ جوں جوں سیاسی، فکری اور سماجی آزادیاں گھٹتی گئیں توں توں ہماری زندگی کے مقاصد ایک خاص قسم کی خود غرضی کے دائروں میں محصور ہوتے گئے‘ اور ہم نے اپنے اجتماعی وجود سے اس حریتِ فکر اور وسعت نظری کو نکال باہر پھینکا‘ جو ابتدائی ادوار کے مسلمانوںکا شیوا تھی۔ ہم سے پہلے لوگ کسی ایسی چیز کی تمنا نہیں کرتے تھے جس کے حصول کی کھلے دل سے وہ دوسروں کو اجازت نہ دے سکتے ہوں‘ لیکن اب حالت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ ہمارے سیاسی نظام اور سماجی رجحانات کو ریگولیٹ کرنے والے گروہ جب قانون اور رواجوں کے ہاتھوں نالاں ہوں، تو کہتے ہیں، رواج پہ مٹی ڈالو یہ دیکھو کہ عقل کا تقاضا کیا ہے، قانون کو بھاڑ میں جھونکو یہ دیکھو کہ فطرت کیا کہتی ہے۔ نظریہ ضرورت کی اسی منطق نے قانون اور رواج‘ دونوں کو تباہ کر ڈالا۔
مسلح گروہوں کی سیاست میں تلویث کے باعث سیاسی ماحول پہ ایسی شدت پسندی چھا گئی، جس نے ابھرتی ہوئی سیاسی قیادت کو نگل کے صحت مندانہ سیاسی سرگرمیوں کا دائرہ مزید تنگ کر دیا اورصحافت میں مذہبی نظریات کی تلویث نے اُس صحت مندانہ بحث کے دروازے بند کر دیئے جو ہمارے سماج کے فکری ارتقاء کا زینہ بن سکتی تھی۔ اب ہمارا فعال میڈیا محض جذباتی ابلاغ کا آلۂ کار بن چکا ہے، چنانچہ پورا معاشرہ ایک ایسی نا مطلوب کشمکش میں پھنس کے رہ گیا ہے، جس میں ہر گروہ دوسرے کے بنیادی حقوق اور فطری آزادیوں کو سلب کرنے میں سرگرداں نظر آتا ہے۔ اس پراگندہ ماحول میں مرضی کا مذہبی عقیدہ رکھنے کا حق اور اظہار رائے کی آزادیاں چھن گئیں اور عام انسانوں کیلئے اپنی مرضی سے زندہ رہنے کا حق محدود ہو گیا۔ دانشوروں، شاعروں اور ادیبوں نے مقابلہ کرنے کی بجائے صداقت کے ہر محاذ سے راہ فرار اختیار کر کے مصلحت کی تنگ و نا رسا گلیوں میں پناہ لی، یعنی معاشرے کو روشنی کی طرف لانے والے اہل علم حوصلہ ہار بیٹھے۔ تاہم اب چالیس سال بعد عمران خان تبدیلی کے نقیب بن کر سریر آرا ہوئے تو دنیائے صحافت کے کئی بڑے قلم کار سوسائٹی کو نارملائز کرنے کی ضرورت پہ نہایت محتاط انداز میں مضامین لکھ کے پچھلی چار دہائیوں میں ہمارے سماج کو اپنی لپیٹ میں لینے والی توہمات اور ریا کاری جیسے روحانی امراض سے نجات اور ان فطری آزادیوں کی بحالی کا تقاضا کرنے لگے جن کی بدولت دکھوں سے لبریز اس زندگی میں جینے کی آرزو پیدا ہو سکتی تھی۔ ان کا خیال ہے کہ عمران خان کے لئے مدینہ جیسی ریاست بنانے سے قبل ان سماجی وظائف کو معمول پہ لانا لازمی ہو گا، جو کسی بھی سماج میں صحت مند دل و دماغ کی نشوونما کیلئے ضروری سمجھے جاتے ہیں۔ بے شک، جب تک خوف پہ قابو نہیں پا لیا جاتا اس وقت تک تہذیبی نشوونما ممکن ہو سکے گی‘ نہ تجسّس اور تعمیری اپچ آزاد ہو سکے گی‘ کیونکہ صرف آزادی ہی انسان کی فطرتِ سلیم کی محافظ ہے، خوف و غلامی کے چند دن ہماری آدھی مردانگی لے جاتے ہیں۔ اہل روم کہتے تھے، غلامی چاہے کتنی ہی منصفانہ کیوں نہ ہو روح کیلئے پنجرے کی حیثیت رکھتی ہے۔ ''حیات محمدﷺ‘‘ کے مصری مصنف حسین ہیکل نے لکھا ہے کہ حضورﷺ کی بعثت سے قبل کم و بیش دو ہزار سال تک عرب سماج لا محدود آزادیوں سے بہرہ ور رہا، وسیع و عریض اور لق و دق صحرا کے مرکز میں آباد بلاد عرب میں بیرونی حملہ آوروں کیلئے کوئی کشش نہیں تھی، لہٰذا جہاں بانی کے شوق میں مبتلا شرق و غرب کے فاتحین یمن جیسے سرسبز و شاداب ساحلی علاقوں یا پھر بازنطینی ریاست کے مرکز، شام کا رخ کرتے۔ اس لئے قدرتی طور پہ عرب معاشرہ بیرونی جارحیت اور اجنبی تہذیب و تمدن کے غلبہ سے محفوظ رہا، ہزاروں سال تک وہاں کا قبائلی سماج ایک ایسی غیر مشروط آزادی سے لطف اندوز ہوتا رہا‘ جس کی مثال ڈھونڈنا مشکل تھی، بدوی تمدن کے خُوگر ہمہ وقت انہی مہیب صحرائوں میں محو خرام رہتے، جہاں سے انسانوں کا گزر محال تھا۔ 
مؤرخین کہتے ہیں کہ روزمرہ استعمال کا پانی بہانے کی وجہ سے جب کسی خانہ بدوش قبیلے کے خیموں کے آس پاس گھاس کی کونپلیں پھوٹنے لگتیں تو وہ اسے مستقل قیام کی علامت سمجھ کے خیمہ اکھاڑ کے فوراً کوچ کو ترجیح دیتا۔ اس عمیق آزادی کی بدولت شراب نوشی اور حسن پرستی جیسی قباحتوں کے پہلو بہ پہلو وہاں لا فانی شاعری، بے پناہ سخاوت، مہمان نوازی، شجاعت اور عہد و پیماں نبھانے کی مضبوط اخلاقی اقدار اور دل پذیر سماجی روایات بھی پنپتی رہیں۔ انہی بادیہ نشینوں کی صفات بیان کرتے ہوئے علامہ اقبالؒ نے کہا تھا کہ پلتی ہے بیاباں میں ستّاری و غفّاری،گویا کسی مجبور معاشرے کے افراد کے اندر عالی ظرفی، بلند حوصلگی اور مجاہدانہ صفات پیدا نہیں ہو سکتیں۔ ابن خلد نے لکھا ہے کہ عرب کے جن بدوئوں کو ہم جاہل سمجھتے ہیں وہ اپنی افتاد طبع میں نہایت ذہین، خود دار،جفا کیش اور بہادر لوگ تھے۔ مٹھی بھر ریت کو سونگھ کے بتا سکتے تھے کہ یہ صحرا اونٹ کی کتنی رفتار سے کتنے دنوں میں عبور کیا جا سکتا ہے۔ ایک سرخ اونٹنی کو دیکھ کے اس کی سات نسلیں پہچان لیتے تھے۔ بہادر ایسے کہ میدان جنگ میں موت ان کی محبوبہ نظر آتی تھی اور ان کے جسموں پہ تلواروں کے گہرے زخموں کے نشان سنہری تمغے سمجھے جاتے تھے۔ ''سیرتِ سرورِ عالم‘‘ میں مولانا مودودی نے بھی لکھا کہ حضور اکرمﷺ کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ آپﷺ کو ایسی قوم ملی جو انتہائی بہادر، سخی اور اپنے قول پہ کٹ مرنے جیسی اعلیٰ صفات کی حامل تھی۔ قصہ کوتاہ‘ انسانی ارتقاء کی تاریخ گواہی دیتی ہے کہ فطری آزادیوں کے ماحول میں ہی توانا دماغ اور وہ اخلاقی اقدار پروان چڑھتی ہیں‘ جو ایک ایسی قوم کی تشکیل کا سبب بنتی ہیں جو دنیائے انسانیت کے طرزِ زندگی کو متاثر کر سکتی ہے۔ اگر عمران خان کو ریاستِ مدینہ کے بہترین شہری بننے والے لوگ اور ایسے پختہ کار رجال کار درکار ہیں جو دنیا بھر کی قوموں کی امامت کر سکیں تو پہلے انہیں ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کی ضرورت پڑے گی جس میں لوگوں کو وہ مطلق آزادی میسر آئے جس میں بہترین اذہان کی نشوونما اور قومی کردار کی اعلیٰ صفات پروان چڑھ سکیں۔ علامہ اقبالؒ کو بھی شاید یہی مشکل درپیش تھی، جب انہوں نے اپنے رب سے التجا کرتے ہوئے کہا تھا ''کارِ جہاں دگر طراز، آدم پختہ تر بیاد۔ لوبت خاک ساختند نہ می سزد خدائے را‘‘۔ (میرے اللہ، اس جہاں کا نظام کسی اور قسم کا ہے، یہاں پختہ کار انسانوں کو بھیجو۔ اے رب! ہم جیسے خاک کے پتلوں کی تخلیق آپ کے شایان شان بھی نہیں)۔ سترہویں صدی کے عظیم دانشور، ادیب والٹیئر نے فرانس میں ریا کاری اور توہمات کے خلاف نہایت بے جگری کے ساتھ پچاس سالوں پہ محیط طویل جنگ لڑی اور تہتّر سال کی عمر میں جب مرے تو وہ کلیسا کے سماجی جبر کو توڑ چکے تھے، اور انہی کی قلمی مساعی بالآخر انقلاب فرانس کی بنیاد بنی جس نے یورپ میں پرانے اور جمود پرور رجحانات کو توڑ کے فکر و خیال کی نئی راہیں کھول دیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved