تحریر : ڈاکٹر رشید احمد خاں تاریخ اشاعت     30-12-2018

وزیرخارجہ کا چار ملکی دورہ

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے حال ہی میں افغانستان ایران اور روس کا دورہ کیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں اس پر تبصرہ کرتے ہوئے جو کچھ کہا‘ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اگرچہ ان ممالک کے اعلیٰ حکام کے ساتھ بات چیت کے دوران دوطرفہ تعلقات اور باہمی روابط بھی زیر بحث آئے‘ لیکن بات چیت کا فوکس افغانستان میں امن کے قیام اور مصالحت کے فروغ کیلئے جاری کوششیں تھیں۔ وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق اس دورے کا مقصد افغانستان کے بارے میں ایک علاقائی اتفاق رائے کا حصول تھا‘ اور چونکہ ایران، چین اور روس کا بھی افغانستان سے گہرا تعلق ہے، اس لئے افغان مسئلے پر مذاکرات کو مزید آگے بڑھانے اور نتیجہ خیز بنانے کیلئے ان ممالک کے ساتھ مشاورت ضروری ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا ہے کہ وزیر خارجہ قطر کا بھی دورہ کر رہے ہیں‘ اور اس مقصد کیلئے مزید ممالک مثلاً ترکی اور وسط ایشیائی ریاستوں کا بھی دورہ کر سکتے ہیں۔ وزیر خارجہ نے بھی واپسی پر دورے کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری پاکستان کے اس دیرینہ موقف سے متفق ہوتی جا رہی ہے کہ افغانستان کا مسئلہ طاقت کے استعمال کی بجائے، سیاسی طریقے سے حل ہونا چاہیے اور اس مسئلے کا وہی حل کامیاب اور بار آور ثابت ہوگا جس کی قیادت اور رہنمائی افغانستان کے عوام کے ہاتھ میں ہوگی۔ 
وزیر خارجہ نے یہ دورہ ایک ایسے موقعہ پر کیا ہے، جب افغانستان کے مسئلے کا حل ڈھونڈنے کیلئے مختلف مقامات اور مختلف سطحوں پر کوششوں اور مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔ متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت دوبئی میں حال ہی میں طالبان اور امریکی وفود کے درمیان مذاکرات ہوئے۔ ان مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت افغانستان کے بارے میں امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد نے کی تھی۔ خلیل زاد کی قیادت میں امریکی وفد اس سے قبل قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کے دو رائونڈ کر چکا ہے۔ دوبئی میں ہونے والے مذاکرات میں امریکہ اور طالبان کے وفود کے علاوہ پاکستان، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے نمائندے بھی شریک تھے۔ اس لحاظ سے اب تک افغانستان پر جتنے بھی مذاکرات یا مشاورتیں ہوئی ہیں، اُن میں سے دوبئی میں ہونے والے مذاکرات سب سے زیادہ سنجیدہ تھے۔ اس کے باوجود کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوئی اور بڑے فریقین یعنی امریکہ اور طالبان کے درمیان ڈیڈ لاک بدستور موجود ہے بلکہ اب تک ہونے والی بات چیت پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے زلمے خلیل زاد نے تو طالبان پر امن مذاکرات میں غیر سنجیدہ ہونے کا الزام بھی عاید کر دیا تھا؛ تاہم دوبئی رائونڈ کے بعد بات چیت کے سلسلے کو قائم رکھنے اور آگے بڑھانے کیلئے چند قابل ذکر اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے افغانستان میں موجود امریکہ کی 14000فوجی نفری میں سے تقریباً آدھی کو واپس بلانے کا اعلان بھی شامل ہے۔ اس اعلان کا اگرچہ طالبان پر بظاہر کوئی بڑا اثر مرتب نہیں ہوا اور وہ بدستور اپنے دیرینہ موقف‘ یعنی غیر ملکی افواج کی فوری اور مکمل واپسی اور کابل حکومت سے براہ راست بات چیت سے صاف انکار‘ پر قائم ہیں؛ تاہم امریکہ کے اس فیصلے کو دیگر ممالک سمیت طالبان نے بھی سراہا ہے اور اسے آگے بڑھنے کیلئے مفید قرار دیا ہے۔ دوبئی میں امریکی اور طالبان وفود کے درمیان مذاکرات کے علاوہ، ایران اور طالبان کے درمیان بھی تلاش امن کیلئے بات چیت ہوئی ہے۔ اگرچہ اس بات چیت کی تفصیل سامنے نہیں آئی؛ تا ہم ایران کے ایک اعلیٰ سکیورٹی آفیسر نے مذاکرات کی تصدیق کی ہے۔ اگر یہ بات درست ہے تو یہ ایک غیر معمولی اور نہایت اہم واقعہ ہے۔ پاکستان کی طرح ایران کی بھی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں۔ پاکستان کی طرح ایران کی بھی سلامتی اور امن افغانستان میں امن سے منسلک ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایران کے افغانستان میں صدر اشرف غنی کی حکومت ساتھ گہرے، قریبی اور دوستانہ تعلقات ہیں۔ افغانستان میں جاری تعمیر و ترقی کے پروگرام میں جو ممالک شریک ہیں، ایران کو اُن میں ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔ اس کے علاوہ افغانستان ایران خصوصاً خلیج عمان کے ساحل پر واقع اس کی بندرگاہ چاہ بہار کے راستے بیرونی دنیا کے ساتھ تجارتی روابط بڑھا رہا ہے، تاکہ پاکستان پر اس کا انحصار کم ہو۔ اس لئے ایران اور طالبان کے درمیان مذاکرات کو ایک خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ خصوصاً اس صورت میں جبکہ ایرانی حکام کے بقول افغانستان کو بھی ان سے آگاہ رکھا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے‘ افغانستان میں امریکی فوجی دستے کے کمانڈر جنرل آسٹن سکاٹ نے‘ جی ایچ کیو راولپنڈی میں ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات میں افغانستان میں بات چیت کے ذریعے امن بحال کرنے کی کوششوں کی حمایت کی گئی ہے۔ اسلام آباد میں پاکستان کے بیرونی دنیا میں سفرا کی کانفرنس کے ایجنڈے میں بھی افغانستان کے مسئلے کو اہم حیثیت حاصل تھی۔
ان سب واقعات کو جب وزیر خارجہ کے چار ملکی دورے اور اس کے دوران ہونے والی بات چیت سے ملایا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ دوبئی میں کسی اہم پیش رفت کے حصول میں ناکامی کے باوجود، افغانستان پر امن مذاکرات کا سلسلہ جلد دوبارہ شروع ہونے کا قوی امکان موجود ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ افغانستان میں متحارب فریقین کے درمیان جنگ تیز ہونے کے ساتھ بین الاقوامی برادری خصوصاً افغانستان کے ہمسایہ ممالک میں تشویش میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کا اظہار ان ملکوں نے وزیر خارجہ کے دورے کے دوران ہونے والی بات چیت میں کیا ہے‘ مثلاً ماسکو میں روسی حکام کے ساتھ بات چیت میں افغانستان کے مسئلے پر جن دیگر پہلوؤں پر بات چیت ہوئی، ان میں افغانستان کی صورت حال سے ہمسایہ ممالک کی سلامتی کو لاحق خطرات پر روسی خدشات کا اظہار بھی شامل تھا۔ روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا ذخا رووا نے شاہ محمود قریشی کے دورے اور افغانستان سے امریکی افواج کے جزوی انخلا کے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کے فیصلے کو خوش آئند اور صحیح سمت میں ایک مثبت قدم قرار دیا ہے، لیکن ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ یہ عمل اور شفاف ہونا چاہئے اور اس پرخلوص کے ساتھ مکمل طورپر عمل ہونا چاہیے‘ کیونکہ ماضی میں بھی ایسے بہت سے اعلانات کئے گئے، مگر ان پر عمل نہیں ہوا۔ اس کے ساتھ روسی وزارت خارجہ نے جو اعلان جاری کیا (جو پاکستانی میڈیا میں بھی رپورٹ ہوا) وہ بڑا اہم‘ معنی خیز ہے اور پاکستان کیلئے خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں قیام امن کیلئے کسی سمجھوتے پر پہنچنے سے پہلے ضروری ہے کہ نہ صرف افغان عوام کے مفادات کو ملحوظ خاطر رکھا جائے،بلکہ افغانستان کے اُن ہمسایہ ممالک کے مفادات کو بھی پیش نظر رکھا جائے، جو اس ملک یعنی افغانستان کے حالات سے اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتے رہے ہیں۔ وزیر خارجہ کا یہ بیان درست ہے کہ پاکستان کے موقف پر مبنی، افغان مسئلہ کے حل کیلئے ایک علاقائی اتفاق رائے ابھر رہا ہے لیکن اس میں پاکستان کے علاوہ، افغانستان کے دیگر ہمسایہ ممالک کے خدشات اور تحفظات کو جگہ دینی پڑے گی۔ اس لیے کہ افغانستان کے مسئلے کا تعلق بنیادی طور پر افغانستان کے عوام سے ہے اور افغان عوام کو ہی اس کے حتمی حل کے خدوخال متعین کرنے کا حق پہنچتا ہے، مگر یہ مسئلہ اب ایک مقامی مسئلہ نہیں بلکہ علاقائی اور بین الاقوامی مسئلے کی نوعیت اختیار کر چکا ہے۔ 
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا بیرونی ممالک کا دورہ اور اس میں افغانستان، ایران، چین اور روس کے رہنماؤں کے ساتھ بات چیت سے جہاں افغان گتھی کو سلجھانے میں مدد ملے گی، وہاں افغانستان اور پورے خطے میں ترقی‘ تعاون اور خوشحالی کے ایک نئے دور کا بھی آغاز ہوگا۔ اس لیے کہ جنگ ختم ہونے کے بعد افغانستان میں تعمیر و ترقی کے کام کو مرکزی حیثیت حاصل ہو جائے گی۔ اس کے لیے افغانستان کو بین الاقوامی برادری کی امداد اور ہمسایہ ممالک کے تعاون کی ضرورت ہوگی۔ یہ صرف اُسی صورت ممکن ہے اگر افغانستان میں قیام امن اور مصالحت کے فروغ کے عمل میں افغان عوام کے بنیادی مفادات کے ساتھ ساتھ ہمسایہ ممالک کے سکیورٹی خدشات کو بھی پیش نظر رکھا جائے گا۔ اسی وجہ سے پاکستان نے اگرچہ جنوب مشرقی ایشیا کی دفاعی تنظیم (سیٹو) سے علیحدگی اختیار کر لی تھی، مگر ''سینٹو‘‘ جس میں برطانیہ، فرانس کے علاوہ، ایران اور ترکی بھی موجود تھے سے وابستگی برقرار رکھی۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved