تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     06-01-2019

سُرخیاں‘ متن اور تازہ غزل

ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو نیا حوصلہ دیا: آصف علی زرداری
سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ''ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو نیا حوصلہ دیا‘‘ جبکہ قوم تو اس قابل نہیں تھی اس لیے سارا حوصلہ میں نے ہی اکٹھا کر لیا‘ کیونکہ جو کام میں نے کرنے تھے‘ اس کے لیے اتنا ہی بڑا حوصلہ درکار تھا‘ ویسے بھی یہ میرا حق تھا‘ کیونکہ محاورہ کے مطابق؛ ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں اور ایک دوسرے محاورے کے مطابق؛ ہاتھی تو سب کا ساتھی ہوتا ہے اور یہ واحد سواری ہے‘ جس کی کوئی لگام یا نکیل نہیں ہوتی اور یہ سوار کو جدھر چاہے‘ لیے پھرتا ہے‘ جبکہ ہاتھی ہاتھ سے ہے‘ اس لیے جو چیز ہاتھ آئے اسے قبضے میں کر لینا چاہیے‘ جس کیلئے ہاتھ کی صفائی دکھانا بھی ضروری ہوتا ہے جس میں ملکی وسائل کی صفائی بھی شامل ہے ‘جبکہ وسائل کے بغیر مقاصد بھی حاصل نہیں کیے جا سکتے‘ اس لیے یہ ساری چیزیں آپس میں جڑی ہوئی ہیں۔ آپ اگلے روز لاہور میں بھٹو صاحب کی سالگرہ پر پیغام جاری کر رہے تھے۔
پنجاب میں کوئی بچہ تعلیم کے بغیر نہیں رہے گا: مراد راس
صوبائی وزیر سکولز ایجوکیشن پنجاب ڈاکٹر مراد راس نے کہا ہے کہ ''پنجاب میں کوئی بچہ تعلیم کے بغیر نہیں رہے گا‘‘ جس کے لیے ہمارا پروگرام ہے کہ ہر بچے کو تعلیم کا ٹیکہ لگا دیا جائے ‘کیونکہ اتنا بڑا اور لمبا کام ہم سے ہرگز نہیں ہو سکے گا‘ جبکہ ہمیں تو چھوٹے کاموں بھی لالے پڑے ہوئے ہیں‘ اس لیے تعلیم کے ٹیکے حسب ِ ضرورت درآمد کیے جائیں گے اور امید ہے کہ کوئی انسان دوست ملک ہمیں یہ ٹیکے مفت یا تاخیری ادائیگی پر دے دیگا‘ کیونکہ ہم زیادہ تر چیزوں کی مفت فراہمی کیلئے ہی دوسرے ملکوں سے کوشش کرتے ہیں اور اگر یہ تجربہ کامیاب رہا تو خوراک کے ٹیکے بھی درآمد کیے جائیں گے‘ جس سے ایک ٹیکا لگوانے کے بعد ایک سال تک بھوک ہی نہیں لگے گی اور ہماری آبادی جس رفتار سے بڑھ رہی ہے تو اس کے لیے خوراک مہیا کرنا بھی روز بروز مشکل سے مشکل تر ہوتا چلا جا رہا ہے‘ جبکہ پیاس مار ٹیکہ تو ویسے بھی بہت ضروری ہو گیا ہے کہ پانی کی ملک بھر میں قلت تھوڑے ہی عرصے میں قحطِ آب میں تبدیل ہونے والی ہے۔ آپ اگلے روز لاہور میں کھلی کچہری میں گفتگو کر رہے تھے۔
تحریکِ انصاف سیاسی جماعت نہیں‘ سازشی گروہ ہے: فضل الرحمن
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ''تحریک انصاف سیاسی جماعت نہیں‘ سیاسی گروہ ہے‘‘ کیونکہ الیکشن میں میری شکست بھی اسی سازش کا نتیجہ تھی‘ جو کہ بڑی ہوشیاری سے انجام دی گئی‘ جبکہ اس نے میرے حلقے کے رائے دہندگان سے سازش کی اور میرا چھابا اُلٹا کر رکھ دیا گیا‘ ورنہ رائے دہندگان کو‘ اگر بہلایا پھسلایا نہ جاتا تو میری کامیابی یقینی تھی اور اگر مجھے اس سازش کا علم پہلے ہو جاتا تو پھر بھی نتیجہ تو وہی نکلنا تھا‘ کیونکہ رائے دہندگان میرے اوصافِ حمیدہ اور حسن کارکردگی سے پہلے ہی کافی واقف تھے اور شاید وہ سمجھتے تھے کہ اوصافِ حمیدہ‘ حمیدہ نامی کسی خاتون سے متعلق ہیں اور اسی وجہ سے پورے حلقے میں مجھے ایک بھی زنانہ ووٹ نہیں پڑا‘ جبکہ یہ بھی تحریک انصاف کی سازش ہی کا حصہ تھا‘ اس لیے میں زور دے کر کہتا ہوں کہ ملکِ عزیز میں سازشوں پر پابندی عائد ہونی چاہیے۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
جیل میں کچے انڈے اور ٹھنڈے سلائس کا ناشتہ دیا گیا: سعد رفیق
سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ ''مجھے لاک اپ میں کچے انڈے اور ٹھنڈے سلائس کا ناشتہ دیا گیا‘‘ کہ یہ بھی حکام کی ایذا رسانی کا ایک انداز ہے اور اگر لاک اپ میں میرے ساتھ یہی سلوک ہونا ہے تو میرا مطالبہ ہے کہ نمک حرام‘ وعدہ معاف گواہوں کے بیانات جلد از جلد قلمبند کر کے مجھے جیل بھیج دیا جائے کہ وہاں کم از کم ناشتہ تو ڈھنگ کا ملتا ہے‘ نیز دیگر عیاشیاں بھی‘ جن سے ہمارے قائد لطف اندوز ہوا کرتے ہیں‘ بصورت ِدیگر انہیں چاہیے کہ ناشتہ تیار کرنے کی ٹریننگ حاصل کریں ‘تاکہ شریف آدمیوں کو خوار کرنے کا یہ سلسلہ بند ہو سکے‘ کیونکہ ناشتے سے آغاز کر کے ہی آدمی جملہ کار ہائے نمایاں و خفیہ انجام دیتا ہے؛ اگرچہ خفیہ کارناموں کی تو اب گنجائش ہی نہیں رہی‘ کیونکہ وعدہ معاف گواہیوں کا جو غلط رواج پڑ گیا ہے‘ تو سارا کچھ ہاتھ روک کر ہی کرنا پڑے گا‘ جبکہ وعدہ معاف گواہی جیسی انتہائی غیر اخلاقی حرکت پر پابندی عائد ہونی چاہیے۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
اور اب آخر میں اس ہفتے کی تازہ غزل:
یہ کیسا بند خواہشوں کا باب ہو گیا
جو ہو نہیں سکا وہ بے حساب ہو گیا
جو شے جہاں پڑی تھی وہ وہیں پڑی رہی
مگر کچھ اندر اندر انقلاب ہو گیا
رواں تھی لہر لہر اور مچا ہوا تھا شور
مگر وہیں وہ آب ہی سراب ہو گیا
وہ سانس تھی کہ بیچ میں اٹک کے رہ گئی
وہ سوچ تھی کہ سوچنا عذاب ہو گیا
جو سوئے تھے اُسی طرح سے اُٹھ کھڑے ہوئے
اُنہیں تو خواب دیکھنا بھی خواب ہو گیا
زیادہ حیرتیں تھیں اور رنج کم سے کم
وہاں جو ہر سوال خود جواب ہو گیا
لڑائی کر رہا تھا وہ خموش رہ کے بھی
زباں نہیں ہلی مگر خطاب ہو گیا
جو ہلکے پھلکے لگ رہے ہیں خود کو آج ہم
تو اس لیے کہ جو ہوا شتاب ہو گیا
بدل گیا ہے وہ تو اور کیا کہیں‘ ظفرؔ
یہ دودھ خود پڑے پڑے خراب ہو گیا
آج کا مقطع
ظفرؔ کو آ کے بتائے گا کوئی تو اک دن
کہ ایسا لگتا ہے اب جھنگ تیرے ہونے سے

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved