تحریر : نذیر ناجی تاریخ اشاعت     10-01-2019

چین اور امریکہ کی تجارتی کشمکش

تجارتی جنگ امریکہ کی نسبت چین کو زیادہ متاثر اور پریشان کن مراحل میں داخل کر سکتی ہے۔ فی الوقت چین اس جنگ میں برتری حاصل کئے ہوئے ہے اور اس کی رفتار بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔امریکہ بھی کچھوے کے مانند سست روی سے مسلسل پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہے۔ بینک آف امریکہ کے معاشی ماہر میرل لائج کے مطابق؛ چین رواں سال کے چندمہینوں میں معاشی طور پر پیچھے کی طرف آتا دکھائی دے گا۔ اصل وجہ اس کی بڑے پیمانے پر اندرونی اور گھریلو محرکات ہیں۔ امریکی معیشت میں سال کے وسط میں ٹھہرائو دیکھا جائے گا‘ مگر اس میں دو فیصد اضافہ بھی ہو گا‘ ایسا ٹیکس کی مد میں ہو سکتاہے۔تجارتی ماہرین کا اجلاس رواں ہفتے چین میں منعقد ہوا۔ مثبت بات یہ ہے کہ اس اجلاس میں مارکیٹ کے چھوٹے بڑے سرمایہ کاروں کو تحفظ دینے کے حوالے سے پالیسیاں زیر غور رہیں۔
تجارتی جنگ چینی مارکیٹ پر اگلے موسم بہار میں خزاں کا موسم دکھا سکتی ہے۔ بینک آف امریکہ کے تجارتی نوٹ میں ایک بات قابل غور تھی‘ جس میںانہوں نے کہا ؛امریکہ اپنے ٹیرف پر نظر ثانی کر رہا ہے اور اس میں شامل پیچیدگیاں اس کے لئے کافی مسائل پیدا کئے ہوئے ہے۔ مستقبل قریب میں اس میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔ تجارتی ماہر نے یہ بھی کہا کہ چین مستقبل میں کافی حد تک متاثر ہو گا‘ جبکہ امریکی پریشانیاں اس سے کم ہوں گی۔ اس بات سے منہ نہیں موڑا جا سکتا کہ امریکہ پر عالمی معیشت کے اثرات بالکل نہیں ہوں گے۔ امریکی تحقیقاتی تجارتی ادارے نے لکھا کہ '' پچھلے صارفین اور تاجروں میں شیفتگی سی کیفیت دیکھنے کو ملی جو امریکہ کے لئے خوشی کی خبر نہیں ہے‘‘۔ رہی سہی کسر امریکی ٹیکسز اور کٹوتیوں نے پوری کر دی۔ محرکات کو تلاش کریں ‘تو یقینا حالات مایوس کن خبر پیدا کریں گے۔ ماضی کو بھول کر آگے بڑھنا چاہیے۔
موبائل کمپنی ایپل کی آمدنی میں گزشتہ ہفتے تنزلی دیکھنے کو ملی۔ کہا جا رہا ہے کہ چینی تجارت کی یہ جنگ ‘چینی کمپنیوں پر امریکن کمپنیوں سے کہیں زیادہ اثر ڈالے گی۔ ایپل نے الزام لگایا کہ اس کی آمدن میں کمی چینی مارکیٹ میں ان کی مصنوعات کی کم فروخت کی بدولت ہوئی ‘ جبکہ امریکی ماہرین کا کہنا ہے‘ ایسا چینی مارکیٹ کی گراوٹ کی وجہ سے ہوا ۔ اس کے علاوہ دیگر وجوہ بھی ہو سکتی ہیں۔ جیسا کہ دوسرے مدمقابل مصنوعات کا زیادہ ہو جانا‘ اضافی قیمتیں‘ غیر رسمی دیگر مصنوعات سے انحرافی وغیرہ۔ موجودہ صورت حال چینی کرنسی میں تنزل کا سبب بن سکتی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ اور امریکی صدر نے چینی معیشت کو بیجنگ کے مختلف معاملات میں ڈیل کی وجہ قرار دیا ۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ '' میرے خیال میں چین تمام معاملات کو خوش اسلوبی سے حل کر لے گا۔ ان کی معیشت بہتری کی جانب نہیں جا رہی‘‘۔گزشتہ روز زیر گردش افواہوں کو مدنظر رکھتے ہوئے امریکی صدر نے رپورٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا '' میرے خیال میں گفت و شنید بہتر حل ہے‘‘۔امریکہ کے کامرس سیکریٹری ولبرروز نے اپنے ایک بیان میںکہا ہے کہ ٹیرف چین کے لئے نا صرف تجارتی‘ بلکہ معاشرتی مسائل بھی پیدا کرے گا۔
ٹرمپ انتظامیہ نے چین کی مزید 279 مصنوعات پر اضافی درآمدی ٹیکس عائد کر دیے ہیں۔ گزشتہ ہفتے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ۔ امریکا چینی درآمدات پر پچیس فیصد (سولہ ارب ڈالر) اضافی ٹیکس عائد کرے گا۔ یہ اضافی ٹیکس ان محصولات کے علاوہ ہوگا‘ جو پہلے ہی عائد کیے جا چکے ہیں۔قبل ازیں امریکہ نے چھ جولائی کو چینی مصنوعات کی درآمدات پر 34 ارب ڈالر کے اضافی ٹیکس عائد کیے تھے ‘لیکن امریکی کمپنیوں کے خدشات کے باعث سولہ بلین ڈالر کے اضافی ٹیکس عائد کرنے کا منصوبہ معطل کر دیا گیا تھا۔چین نے اس اقدام کے بدلے میں امریکی مصنوعات پر ساٹھ بلین ڈالر کے جوابی محصولات عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تب چین نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ مزید اقدامات بھی کر سکتا ہے اور تجارتی جنگ میں پیچھے نہیں ہٹے گا۔اب امریکہ کی طرف سے سولہ بلین ڈالر کے اضافی ٹیکس عائد کرنے کے بعد چین نے ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ ایک ڈالر اضافی ٹیکس کا جواب ڈالر میں ہی دیا جائے گا۔ چین کا کہنا ہے کہ اس کی طرف سے جوابی اقدامات منطقی ہیں۔چین اور امریکہ کی طرف سے ایک دوسرے کی مصنوعات پر اضافی درآمدی محصولات عائد کرنے کے باعث عالمی سطح پرتجارتی جنگ میں شدت کاخدشہ پیدا ہو چکا ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کو دھمکیاں دینے کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔وائٹ ہاؤس کے مشیر برائے اقتصادیات نے بھی واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین امریکی صدر کے ارادوں کو کمزور نہ سمجھے ‘ وہ اپنی تجارتی پالیسیوں پر عمل پیرا رہیں گے۔امریکا کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق ؛امریکی ٹیکنالوجی چوری کرنے اور اسے استعمال کرنے کی وجہ سے چینی مصنوعات پر اضافی درآمدی محصولات عائد کیے گئے ہیں۔ ان مصنوعات میں موٹر سائیکل‘ ٹریکٹر‘ ریلوے کے پرزہ جات‘ الیکٹرانک سرکٹ ‘ موٹریں اور کھیتی باڑی کا سامان شامل ہے۔دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے مابین اس جنگ میں کسان اور کمپنیاں پھنس کر رہ گئے ہیں۔
غیر ملکی مبصرین کے مطابق ؛چین اس جنگ میں اپنی برتری برقرار رکھنے کے لیے اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لائے گا ۔چینی معاشی ماہرین اس حوالے سے سر جوڑے ہوئے ہیں اور نئی پالیسیاں ترتیب دینے میںلگے ہیں ۔

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved