تحریر : ھارون الرشید تاریخ اشاعت     17-04-2013

ما خانہ بدوشاں غمِ سیلاب نہ داریم

امام خمینیؒ کے پسندیدہ اشعار میں سے ایک یہ ہے : از زلزلہ تر سند ہمہ کاخ نشیناں ما خانہ بدوشاں غمِ سیلاب نہ داریم محلّات کے مکین زلزلے کے خوف سے ہراساں ‘ سیلاب کی ہم خانہ بدوشوں کو کیا پروا۔ حادثہ ہوگیا۔وہ حادثہ جس کا خوف تھا اور جسے روکنے کی بہت تدبیر کی ۔عبد العلیم خاں ، شاہ محمود قریشی اور تحریکِ انصاف کے صدر دفتر پر مسلّط کچھ سازشیوں کے علاوہ کچھ دوسرے کاسہ لیسوں اور ابن الوقتوں نے جال بُنا۔ کپتان اب مشکل سے دوچار ہے ۔ مسلسل تین دن میں اس سے بات کرتا رہا ۔ کوئی نتیجہ مگر نہ نکلا۔ پیر کی شام کپتان نے دعویٰ کیا کہ 80فیصد نوجوانوں کو ٹکٹ دئیے گئے۔ ان میں ایسے ہیںجو رکنِ اسمبلی تو کیا کونسلر بھی منتخب نہیں ہو سکتے۔ صرف جواں عمری تو کوئی اعزاز نہیں۔ ناتجربہ کاری کوئی وصف تو نہیں۔ایک خیال یہ ہے کہ شاید کوئی لہر اٹھے اور جنگ جیت لی جائے۔ اوّل تو ان امیدواروں کے ساتھ اب یہ مشکل ہے ۔ اٹھے بھی تو انہی کے ووٹ ملیں گے جو کپتان کی حمایت میں جذباتی ہیں ۔جن کی واحدترجیح یہ ہے کہ آصف علی زرداری اور نواز شریف سے نجات حاصل کر لی جائے‘ جو دونوں ہاتھوں سے ملک کولوٹتے آئے اور کل بھی جن سے کسی بھلائی کی ہرگزامید نہیں کی جا سکتی ۔جن کی جائیدادیں اور اولادیں ملک سے باہر ہیں اور مطمحِ نظر ان کا یہ ہے کہ کسی نہ کسی طرح عوام کو بیوقوف بنالیا جائے۔ کم از کم تیس چالیس فیصد امیدوار ناقص ہیں ۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ناراض لیڈر اور برہم کارکن شکست سامنے پاکر خان کی حمایت پہ تُل جائیں ؟ پانچ سات دن میں صورتِ حال واضح ہو جائے گی ۔ میڈیا قطعاً اسے رعایت نہ دے گا۔ امریکی اس کے خلاف ہیں اور اس سے ہم آہنگ یورپی اور عرب ممالک بھی ۔ اخبارات اور ٹیلی ویژن میں بھاڑے کے ٹٹوئوں کی کوئی کمی نہیں ۔ نون لیگ نے بہت سرمایہ کاری کی اور کرتی جا رہی ہے ۔کپتان کو پریشان کرنے ، الجھانے اور بدنام کرنے کا کوئی موقعہ وہ ہاتھ سے جانے نہ دیں گے ۔ ایسی جارحانہ مہم میں غیر جانبدار اور دیانت دار اخبار نویس مرعوب ہو کر بے معنی ہو جاتے ہیں ۔ پیر کی شب ایک ٹی وی پروگرام میں ایک بہت معقول میزبان نے ٹیکس نادہندگان کی فہرست میں کپتان کا نام شامل کیا۔ میں نے سخت احتجاج کیا ۔ نہ صرف یہ کہ ہمیشہ اس نے پورا ٹیکس ادا کیا بلکہ ذاتی اخراجات کے بعد جو بھی بچ رہتا ہے ، وہ سب کا سب شوکت خانم ہسپتال اور نمل یونیورسٹی پہ نثار کر دیتاہے ۔ جیسا کہ اپنی کتاب ’’میں اور میرا پاکستان‘‘ میں اس نے لکھا ہے ، وہ قرآنِ کریم کے فرمان ’’قل العفو‘‘ کا دل و جان سے قائل ہے۔ سترہ سال تک بہت قریب سے میں نے اسے دیکھا ہے اور میں گواہی دیتاہوں کہ روپیہ جمع کرنے کا ہرگز اسے کوئی شوق نہیں ؛اگرچہ اب کی بار زیادہ چندہ دینے والوں کو غیر معمولی اہمیت دی گئی جو بالکل احمقانہ فیصلہ تھا ۔ 1946ء کی انتخابی مہم میں قائد اعظم کو سب سے زیادہ عطیات شاید بانٹواکے گجراتیوں نے دیے تھے۔ ان میں سے کسی ایک کو بھی پارٹی کا کوئی عہدہ ملا اور نہ انتخابی ٹکٹ۔اگر شوکت خانم میں چندے کے ساتھ کبھی کوئی شرط وابستہ کرنے کی اجازت نہ دی گئی تو تحریکِ انصاف میں کیوں ؟ کیا سیاسی نظام کی اہمیت ہسپتال سے کم ہے ؟ کپتان اصرار کرتا رہا کہ الیکشن کے نتیجے کا تمام تر انحصار ٹکٹوں کی تقسیم پر ہوگا۔ حیرت انگیز طور پر کوئی نظام وضع کرنے کی بجائے ، جو حلقہ وار حقائق مرتب کرتا، سب کچھ مقامی لیڈروں اور مرکزی دفتر کے معمولی اہلکاروں پر چھوڑ دیا گیا ۔ان میں سے بعض امیدواروں سے ہر طرح کے تحائف وصول کرتے رہے،ہر طرح کے ۔ عالی جناب کے حسنِ ظن کا عالم یہ ہے کہ وہ اب بھی انہیں معصوم سمجھتے ہیں۔ خالد مسعود خان کا کہنا یہ ہے کہ ملتان میں شاہ محمود اور جاوید ہاشمی نے من مانی کی ۔ اپنے لیڈر اور پارٹی کو دھوکے میں رکھا ۔ شاہ محمود کے بارے میں تو یہ بدگمانی بھی ہے کہ نون لیگ کی قیادت سے اس کا رابطہ ہے ۔ دونوں معزز لیڈروںنے این اے 177میں رانا محبوب اختر کی بجائے ذوالفقار قریشی کی حمایت کی جو شاہ محمود کا بھانجا ہے ۔ پارٹی سے اس کا دور کا تعلق ہے اور نہ اس حلقہِ انتخاب سے ۔ رانا صاحب اس مرتبے کے آدمی ہیں کہ دشمن بھی ان کا احترام کریںاور دوست جاں نثار کرنے پر آمادہ۔اسی طرح میرے محترم دوستوں جہانگیر ترین اور اسحٰق خاکوانی نے این اے 170سے نور محمد بھابھا ایسے معتبر آدمی کو سبوتاژ کیا کہ کھچی خاندان سے دوستی نبھائیں۔ گوجرانوالہ میں ضلعی صدر کی اکثر سفارشات تسلیم کر لی گئیں؛حالانکہ باقی سب لیڈروں کووہ زچ کئے رکھتا ہے۔ جہلم کے ضلعی صدر نعیم عالم کو ، جو جواں سال، مقبول، سب سے بڑی برادری کا فرزند اور غیر معمولی توانائی کا آدمی ہے ،ٹکٹ دینے سے انکار کر دیا گیا۔ جہلم میں صوبائی اسمبلی کے دو ایسے ’’امیدواروں‘‘ کو ٹکٹ جاری ہوئے ، کاغذاتِ نامزدگی ہی جنہوںنے داخل نہ کئے تھے ۔ کون لوگ یہ کارنامہ انجام دے سکتے ہیں؟ وہی صدر دفتر کے احمق ۔ ان میں سے بعض کا مسئلہ یہ تھا کہ ہر اس شخص کو کھیل سے نکال دیا جائے جو پروفیسر احمد رفیق اختر سے حسنِ ظن رکھتا ہے ۔ گجر خان میں بھی یہی ’’اصول‘‘ ملحوظ رکھا گیا۔ سارا شہر چیخ چیخ کر کہتا رہا کہ عظیم چودھری بہت آسانی سے پرویز اشرف اور جاوید اخلاص کو ہرا سکتے ہیں مگر قرعہِ فال ایک ایسے نوجوان کے نام پڑا جو دس ہزار ووٹ بھی شاید حاصل نہ کر پائے ۔ خواجہ حمید الدین خلقِ خدا کے ایسے بے ریا خدمت گزار ہیں کہ بلدیاتی الیکشن میں قومی اسمبلی کی نشست جیتنے والی پیپلز پارٹی، نون لیگ اور جماعتِ اسلامی مل کر بھی کبھی اسے ہرا نہ سکیں ۔ایک ناگوار سے آدمی نے صدر دفتر میں ہر اعتبا رسے معزز او رمعتبر خواجہ کے بارے میں نازیبا انداز میں بات کی اور اس پہ فخر کا اظہار کرتا رہا۔ کپتان کو میں نے اس ذہنی مریض کی تعریف کرتے سنا اور دنگ رہ گیا۔ یہ ایک بھید ہے کہ سرحد میں جماعتِ اسلامی کے ساتھ سمجھوتہ سبوتاژ کیسے ہوا ؟ کراچی میں جماعتِ اسلامی کا دروازہ اب بھی چوپٹ کھلا ہے ۔ یہ ملک کے کاروباری مرکز کی ر ہائی کا سوال ہے ۔ کپتان ٹک ٹک دیدم، دم نہ کشیدم کی تصویر بنا ہے، اپنے امیدواروں کے ہاتھوں یرغمال۔ پروفیسر احمد رفیق اختر کے چالیس سال میں تربیت کیے گئے کارکن جن کی اکثریت غیر سیاسی ہے ، اب بھی کپتان کی مخالفت ہرگز نہ کریں گے ، جو اگر ناراض ہو کر بروئے کار آئیں تو درجنوں سیٹوں پر اسے ہرا سکتے ہیں مگر کوئی خود کو تباہ کرنے پر تلا ہوتو کون اس کی مدد کر سکتاہے ؟ پروفیسر صاحب نے کہاتھا: اچھے امیدواروں کو ٹکٹ دئیے جائیں اور موزوں حکمتِ عملی اختیار کی جائے تو دو کروڑ ووٹوں کا حصول ممکن ہے ۔ اب مگر یہ ایک خواب سا لگتاہے ۔ اگر وہ ہار گیا تو بہرحال یہ افسوسناک ہو گا۔ملک ایک بار پھر درندوں کے ہاتھ میں چلا جائے گا۔ اگر وہ جیت سکے تو امن وامان ، ٹیکس وصولی، معیشت، عدالتی نظام اور خارجہ پالیسی بدرجہا بہتر اور آزاد ہوگی۔ نواز شریف اور آصف علی زرداری کی مانند وہ ایک تابع مہمل قسم کا آدمی بہرحال نہیں۔ کپتان کا کہنا اب یہ ہے کہ ٹکٹوں کی تقسیم سے اس کا کوئی تعلق نہ تھا ۔ عجیب بات ہے ۔ لیڈر وہ شخص ہوتا ہے جو ذمہ داری قبول کرے ۔ وہ انکار اور گریز کیسے کر سکتاہے ۔جتلا دیا، سمجھا دیا۔ اب وہ جانے اور اس کا کام۔ امام خمینیؒ کے پسندیدہ اشعار میں سے ایک یہ ہے: از زلزلہ تر سند ہمہ کاخ نشیناں ما خانہ بدوشاں غمِ سیلاب نہ داریم محلّات کے مکین زلزلے کے خوف سے ہراساں ۔ سیلاب کی ہم خانہ بدوشوں کو کیا پروا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved