تحریر : منیر احمد بلوچ تاریخ اشاعت     17-01-2019

زندگی گلزار ہے اگر۔۔۔۔؟

کامیاب اور با وقار زندگی گزارنا چاہتے ہیں تواس کیلئے قران پاک اور احادیث نبویﷺ میں کچھ رہنما اصول و ضوابط وضع کر دیئے گئے ہیں۔جیسے ہم پانچ وقت کی نمازوں میں اپنے اﷲ سے گزارش کرتے ہوئے کہتے ہیں :اے اﷲ! دکھا ہم کو سیدھا راستہ۔ اس دنیا میں وہ کون سا انسان ہے‘ جسے اپنی زندگی میں پیدل‘ گاڑی یا موٹر سائیکل‘ اونٹ‘ گھوڑے یا کسی بھی سواری پر کہیں آتے جاتے ہوئے کوئی ایک گلی‘ سڑک‘ چوک یا دو راہے سے اپنی منزل کی جانب بڑھتے ہوئے رستہ بھٹکنے کا اتفاق نہ ہوا اور یہ کوئی ایک مرتبہ نہیں‘ بلکہ زندگی کے روزمرہ کے معمولات کی انجام دہی یا سفر اورکسی بھی کام کیلئے شہر کی گلیوں بازاروں میں آتے جاتے ہوئے اس کا اتفاق ہوتا رہتا ہے اور یہ اتفاق کبھی تو اندازے کی ذرا سی غلطی سے یا یاد داشت کی کمزوری سے بھی ہوتا ہے اور کبھی لا علمی کی وجہ بھی بنتی ہے کہ اسے کسی نے بتایا نہیں ہوتا یا اس نے کسی سے پوچھا ہی نہیں ہوتا کہ جہاں وہ جا رہا ہے‘ اس تک کیسے پہنچنا ہے ؟اس کیلئے کدھر سے چلنا ہے ‘کدھر مڑنا ہے ‘کون سی سڑک اور گلی ہے‘ کون سا چوک یا شاہراہ ہے‘ چلتے چلتے یا گھر سے نکلتے ہوئے بس ایک ذرا سا غلط موڑ انسان کو ادھر ادھر گھماتارہتا ہے۔یہ بھی ہوتا ہے کہ ہم اپنی سوسائٹی میں جہاں ہمارے گھر ہوتے ہیں ‘وہاں اپنے ہمسایوں اور دوسرے ملنے جلنے والوں یا دور اور نزدیک کے عزیز وں رشتہ داروں کے حقوق یا جذبات کا احساس کئے بغیر کبھی لفظوں تو کبھی اپنی حرکات کی وجہ سے انہیں تنگ کرتے ہیں‘ انہیں تضحیک کا نشانہ بناتے ہیں ‘ان کی املاک اور عزت نفس کو مجروح کرتے رہتے ہیں ‘جبھی تو اس کتاب‘ جس کا ذکر کر رہاہوں‘ اس میں روزمرہ زندگی گزارنے کے چھوٹے چھوٹے طور طریقے قرانی احکامات کے ذریعے سجھائے گئے ہیں۔
اﷲ سبحان تعالیٰ کے بھیجے ہوئے قران پاک اور ہمارے آخری نبی محمد مصطفیٰ ﷺ کی حیات طیبہ اور ان کی زبان مبارک سے ادا کئے جانے والے پھولوں کی مہک سے سرشار اصول ضوابط کو اگر بہت زیا دہ نہیں تو ایک حد تک ہی اپنا ساتھی اور ہم سفر بنا لیا جائے‘ تو انسان دنیا اور آخرت میں سر خرو ہو سکتا ہے۔ گوشہ نشین اور زندگی بھر مخلوق خدا کیلئے اپنی زندگی وقف کر دینے والے مہر گلزار احمد‘ جو پنجاب یونیورسٹی سے گولڈ میڈل کے ساتھ ایل ایل بی ڈگری ہولڈر ہونے ‘سی ایس ایس میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد اپنی پوری سروس خدمت خلق کے جذبے سے انجام دیتے رہے‘ انہوں نے '' کامیاب وبا وقار زندگی کے رہنما اصول ضوابط‘‘ پر مشتمل ایک کتاب لکھی ہے۔ سچی بات ہے کہ کتاب میرے پاس پہنچی تو اپنی روزمرہ کی مصروفیات کی وجہ سے بس ایک سر سری نظر ڈال کر اپنی کتابوں کے ریک میںسجا کر رکھ دی‘ لیکن ایک دن جیسے ہی کچھ حالات و واقعات کی وجہ سے پریشان ہوا‘ تو اچانک میری نظر اس کتاب پر پڑی اور میں نے سستی اور کاہلی سے اسے ریک سے نکال کر اپنے سامنے رکھ لیا۔ کچھ وقفے کے بعد اس کتاب کو پڑھنا شروع کیا ‘تو بس پھر پڑھتا ہی گیا۔ کتاب کیا ہے‘ ایک روشنی ہے‘ جس سے میرے جیسے بھٹکے ہوئے انسان اپنا رستہ تلاش کر سکتے ہیں‘ لیکن اس کیلئے بنیادی شرط یہ ہے کہ اگر وہ خود سے چاہے‘ تو! ہم میں تو اکثر یہ بھی نہیں جانتے کہ اپنے گھر والوں سے حسن سلوک کے کیا معنی ہیں؟ جو معاشرتی آداب کے زمرے میں آتے ہیں‘ کیونکہ ہر انسان اپنے ماحول اور سوسائٹی کے اندر اپنے معاشرتی آداب سے پہچانا جاتا ہے؛ اگر وہی نرم لہجے میں عزت و تکریم سے کسی سے پیش آتا ہے ‘تو اسے حلیم طبع کہا جائے گا اور اگروہ اپنی تند زبانی اور کرخت لہجہ رکھتا ہے‘ تو کوئی بھی اس کیلئے اچھے الفاظ استعمال نہیں کرے گا اور یہی وہ گواہی ہے‘ جو کسی انسان کی آخرت کا سامان بن جاتی ہے۔ 
قرآن حکیم فرقان مجید سے اخذ کردہ اس کتاب کا ایک ایک لفظ اﷲ کی وحدانیت اور نبی کریم ﷺ کی عظمت پر مشتمل ہے ۔اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ایک لفظ بھی مصنف کا اپنا نہیں‘بلکہ سب قرآن پاک میں خدائے بزرگ بر تر کے دیئے گئے احکامات اور نصیحتیں ہیں۔ اس کتاب کے بارے میں یہ جان کر اور بھی خوشی ہوئی کہ اس کتاب کو انگریزی‘ فرانسیسی اور سندھی زبان میں بھی شائع کیا جا رہا ہے اور اس کیلئے دنیا بھر سے ایسے لوگ رضاکارانہ طور پر سامنے آ رہے ہیں‘ جو اسلام کی مکمل اور صحیح تصویر دنیا کے سامنے پیش کرنے کی سعادت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ کتاب 185 صفحات پر مشتمل ہونے کی وجہ سے دیکھنے میں با لکل چھوٹی سی لگتی ہے‘ لیکن یہ مختصر کتاب ان لوگوں کیلئے بے انتہا مفید ہے‘ جنہوں نے اﷲ سبحان تعالیٰ کا صرف نام سن رکھا ہے یا وہ اتنا محسوس کر چکے ہیں کہ اس کائنات کو چلانے والا کوئی ہے۔ مہر گلزار احمد ایڈووکیٹ مختصر کتاب میں چھوٹی چھوٹی مثالوں اور حوالوں کے ذریعے وہ کچھ کہہ گئے ہیں‘ جو بہت سی بڑی بڑی کتابوں میں بھی نہیں کہا جا سکا۔ اس کتاب کا قاری‘ ہر ایک عنوان کے تحت قرآن کریم کے مختلف انداز جو اﷲ کی شان و عظمت کی پر نور جھلکیوں ہیں‘ ان کو اپنے دل میں اترتا محسوس کرتا ہے‘ جس سے نا صرف اس کو روحانی تسکین ملتی ہے‘ بلکہ وہ کیفیت ایمان کی حقیقت کے بھی قریب ہوتا چلا جاتا ہے اور وہ یہ موتی چن کر اپنے راستوں کو منور کرنے کے قابل ہو سکتا ہے‘ تاکہ اسے کہیں ٹھوکر نہ لگ جائے‘ کسی غلط سمت یا موڑ کی جانب نہ چل پڑے۔
مہر گلزار جیسے مخلوق خدا کی مدد کے جذبے سے سرشار لوگ‘ جو کسی کو تکلیف میں دیکھ کر اپنے ہاتھ میں پکڑا ہوا روٹی کا نوالہ اس وقت تک اپنے منہ میں نہیں لے جاتے‘ جب تک اپنی بساط سے بھی بڑھ کر اس کی مدد نہ کر لیں۔ اچھی کتاب اور دلوں میں اثر کر دینے والے الفاظ دیر پا اثر رکھتے ہیں‘ جس کے دل میں اﷲ کی مخلوق کیلئے تڑپ نہ ہو‘ جو انسان تو دور کی بات ہے ‘کسی جانور کی تکلیف دیکھنے کی سکت نہ رکھتا ہو‘ ایسے ہی لوگ اﷲ کے منتخب کئے ہوتے ہیں۔ اپنی اس کتاب میں انہوں نے آج کی نوجوان نسل کیلئے اﷲ کے پیغام کو اس قدر آسان زبان میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے کہ ایک ایک لفظ دل میں اترتا محسوس ہوتا ہے۔ ماں باپ‘ بہن بھائیوں‘ ہمسایوں غرض اپنی زندگی میں آنے والے ہر شخص کے ساتھ گفتگو ‘لین دین کے بارے میں قرآنی احکام پڑھنے کو ملیں گے‘ منتخب کی گئی کوئی تین سو کے قریب قرآنی آیات کے ساتھ اس کا ترجمہ اور تشریح اس طرح پیش کی گئی ہے کہ دل کو تسلی ہو جاتی ہے اور نہ سمجھ میں آنے والی باتیں اثر کرتی چلی جاتی ہیں۔
اﷲ سبحان تعالیٰ کی عبا دت ذکر اور تسبیح کے متعلق قرآن پاک کے عین مطابق؛ ایک ایک چیز کھول کر دیکھنے کو ملتی ہے‘ بلکہ اس میں سب سے خوبصورت باب بھی ہے کہ قرآن پاک پڑھتے ہوئے خود کو تلاش کرنے کی سمت بھی نظر آتی ہے۔ یقین جانئے ‘ایک ایک سطر پڑھتے ہوئے انسان کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنے رب سے رابطہ کر رہا ہے۔ زرعی پیداوار اور عشر کے بارے میں قرآن پاک میں جو احکام ہیں‘ ان کو دیکھنے اور پڑھنے کے بعد زکوٰۃ کے بارے میں ہر بات بتائی گئی ہے۔ اﷲ اور اس کے محبوب محمد مصطفیٰ ﷺ سب کو ہدایت دینے والے ہیں‘ لیکن اس کیلئے وسیلہ بننے والا کوئی بھی شخص ہمارے لئے انتہائی عزت و تکریم کا مستحق ہے اور مہر گلزار ایڈووکیٹ‘ جنہوں نے اپنی پیرانہ سالی میں یہ کتاب لکھتے ہوئے مخلوق خدا کی رہنمائی کیلئے اپنی ایک بہترین کوشش کی ہے‘ بارگاہ الہٰی میں قبولیت حاصل کرے اور ہم سب کو اپنے خد ااور ان کے محبوب نبی کریم ﷺ کی ہدایات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے‘ کیونکہ ان کی بتائی گئی راہ پر چلنے سے ہی زندگی گلزار ہوگی۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved