تحریر : نذیر ناجی تاریخ اشاعت     23-01-2019

ایران ‘شمالی کوریا کی ایٹمی احتیاطیں

2018 ء کا سال امریکی خارجہ پالیسی کے حوالے سے واضح تصویرکھینچتا نظر نہیں آیا۔چین کے درمیان تجارتی جنگ ‘شمالی کوریا کے ساتھ سفارتکاری کا تنازعہ ‘ ایرانی نیوکلیئر ڈیل سے انحراف‘حالیہ شامی فوجی انخلاء ‘ عالمی مبصرین کوششوں میں ہیں کہ کوئی مفصل نتائج اخذکرسکیں۔2018ء معمولی تھا تو 2019ء واشنگٹن کے لیے خطرات سے بھرا ہوا دکھائی دیتا ہے؛اگر ٹرمپ انتظامیہ موجودہ پالیسیوں پر اکتفا کرتی رہی‘ تو آنے والے گیارہ ماہ میں اسے ایک نہیں تین نیوکلیئر بحرانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے؛پہلا شمالی کوریا‘دوسرا روس اور تیسرے میں ایران شامل ہے۔
اگرچہ کورین جزائر پر جنگ کے خطرے میں کمی آئی ہے‘مگرٹرمپ انتظامیہ کی اس حوالے سے پالیسی ناکام رہی ‘یہ محض مفروضے ہیں کہ شمالی کوریا اپنے نیوکلیئر پروگرام سے مکمل دستبردار ہو جائے گا ۔ 2017ء میں بین الاقوامی کانٹی نینٹل بیلسٹک میزائل (ICBM)اور تھرمو نیوکلیئر آزمائش کے بعد ٹرمپ اور کم جونگ کے درمیان لگی آگ میں کمی دیکھنے کو ملی۔ شمالی کوریا کے صدر نے اپنے سائنس دانوں کو 2018ء میں حکم جاری کیا کہ وہ اس کی پیداوار میں اضافہ نہ کریں ‘ساتھ ہی 2019ء کی پیداوار میںمزید کمی لانے کا عندیہ بھی دیا‘دونوں کوریائی ممالک کے درمیان امن کا نیا دور شروع ہوا۔ چین نے امریکی دباو کی کمی محسوس کرتے ہوئے سکھ کا سانس لیا۔ جون 2018ء میں بین الاقوامی اجلاس سنگاپور میں منعقد ہوا۔اجلاس میں کم جونگ نے دعوی کیا کہ وہ بے گھر ہونے جا رہا تھااور ٹرمپ نے اس کا اعتبار کیا۔ستمبر میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ شمالی کوریا کی محبت میں گرفتار ہوگیا ہے اور امریکہ کواب اس سے کوئی نیوکلیائی خطرہ نہیں ۔شمالی کوریا نے اپنے کئی آزمائشی نیوکلیئر پلانٹ بند کر دئیے ‘مگر اس بات سے منہ نہیں موڑا جاسکتا کہ اس کی میزائل اور جنگی ہتھیار بنانے کی استطاعت بالکل ختم ہو کر رہ گئی ہے ۔
شمالی کوریا کی مسلسل جاری ایٹمی سرگرمیوں کے بارے میں مزید ثبوت کے طور پر‘ اس حقیقت کا اندازہ لگایا گیا کہ ٹرمپ نے ان کے بارے میں پروا نہیں کی‘ بظاہر شمالی کوریا کوئی خاص سرگرمیاں نہیں دکھا رہا‘ مگر اندرون ِخانہ اس پر کام جاری رکھے ہوئے ہے‘اسے بظاہر ٹرمپ کی فتح قرار دیا جا رہا ہے۔ٹرمپ دنیاوی دکھاوے کے لیے شمالی کوریا کے ان اقدامات کی تعریف بھی کرتا رہتا ہے۔سابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی قیادت میں ٹرمپ کی قومی سلامتی کی ٹیم 2018ء کے آخری سہ ماہی میںشمالی کوریا کے ہم منصبوں کیساتھ مذاکرات ہوئے‘قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن اٹھ کھڑے ہوئے اور انہیں واشنگٹن کے تحفظات سے آگاہ کیا کہ پابندیوں میں نرمی برتنے سے پہلے شمالی کوریا کے پروگرام کو تفصیلی طور پر جان لینا چاہیے یاباقاعدہ دورہ کرنا چاہیے۔کم جونگ نے کہا کہ اس نے نیوکلیئرامتحان کی سائٹس کو بند کر کے اچھے اعتماد کے لیے اقدامات کیے ہیں‘ امریکہ رعایت کے ساتھ‘ کم از کم کچھ پابندیاں اٹھائے نہیں تو اس سے ''آگ کے تبادلے‘‘ کرے‘ اس نے پروگرام میں واپس آنے کی دھمکی بھی دی ۔مزید کہا کہ اس نے ٹرمپ کے نیچے امریکی ورکنگ سطح کے وفد سے ملنے کے لئے کوئی اپیل نہیں کی ‘ دوسری صدارتی سربراہی اجلاس کے لئے ہولڈنگ کرنا زیادہ پرکشش ہوگا‘ کیونکہ امکان یہ ہے کہ وہ ٹرمپ سے اہم رعایت نکال سکتے ہیں‘ سال 2019ء کے اجلاس میں شمالی کوریائی ہتھیار ڈالنے کی 
فکشن کو برقرار رکھنے اور کم از کم ٹیسٹنگ ‘ کچھ پابندیاں یا امریکہ کے علاقائی موجودگی کی بحالی پر اتفاق کرسکتے ہیں‘ جو کہ ایک امن معاہدے پر مبنی ہے اور سنگاپور اعلامیہ کی تشریح کے مطابق ہے ‘اگر امریکہ نے جنوبی اور شمالی کوریا کے درمیان تنازعات کی راہنمائی کی ہے تو کم سے کم ''تجدید کے تبادلے‘‘ کے خطرے پر عمل کیا جا سکتا ہے۔امریکی سفارتکاری اس حوالے سے ناکام رہی اور سیکریٹری دفاع جیمز میٹس کو استعفے کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ 2019ء میں بولٹن ونگ نے متبادل کے طور پر ‘شمالی کوریا کو طاقت کے ذریعے پریشان کرنے کے لئے حل تلاش کیا ہے‘ جو خطے اور دنیا کے لئے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔پچھلے سال واشنگٹن نے شمالی کوریاکو ہتھیار ڈالنے پر اصرار پرکیا ‘ جبکہ ٹرمپ نے زور دیا کہ وہ ایسا کروا چکا ہے۔ دونوں کے بیانات میں واضح تضاد دیکھنے کو ملا؛ اگر مسئلہ پہلے ہی حل کیا گیا ‘ تو بات چیت کرنے کی کیا ضرورت تھی؟کوئی ایسی حکمت عملی جو حقیقت پر منحصر ہو دھماکا خیز خطرہ اور شمالی کوریا کے ساتھ ایک نئے ایٹمی بحران کا باعث بن سکتی ہے۔
شمالی کوریا کے ایٹمی ہتھیاروں کے ساتھ ٹرمپ انتظامیہ سے نمٹنے یا نظر انداز کرنے کے باوجود‘ ماسکو کے ساتھ جوہری نمائش بھی جاری ہے۔دسمبر کے آغاز میں‘ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ 60 دنوں میں انٹرمیڈیٹ رینج نیوکلیورٹی فورسز (این ایف ایف) کے معاہدے سے انحرافی اختیارکر لے گا‘ جب تک روس معاہدے کے مطابق میزائل ختم نہیں کردیتا‘اس معاہدے کو چھوڑنے سے روس کے ساتھ ہتھیاروں کی نئی دوڑ کو فروغ ملے گا‘ کیونکہ ہر ملک اپنی خودمختاری اورجدیدی پروگرام کا پیچھا کرتا ہے ‘اس سے قبل 2018ء میں‘ روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے امریکی ایٹمی میزائل کے دفاعی منصوبے کو ختم کرنے کیلئے نئے ایٹمی ہتھیاروں کے منصوبوں کا اعلان کیاتھا۔دریں اثناء ٹرمپ انتظامیہ نے کم پیداوار کے ایٹمی ہتھیاروں کو تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے‘ وہ ہتھیار جس کا استعمال تباہی کے حساب سے کافی زیادہ ہوگا‘ جبکہ روسی علاقے اس کا ہدف ہوں گے ۔پیوٹن نے خود بتایا کہ روس کو سٹریٹیجک ایٹمی ہتھیاروں سے بازیاب کرنے سے قبل پیداوار کو دیکھنے کا انتظار نہیں ہوگا‘اس کے علاوہ‘ روس کا پہلا استعمال ایٹمی نظریات کا سامنا ہوسکتا ہے‘ جس کا مطلب یہ ہے کہ نیٹو کے ساتھ روایتی تنازع روس کو نئی جنگ میں دھکیل سکتا ہے۔ایٹمی کشیدگی میں پہلے سے زیادہ اضافہ ہوا‘ آئی این ایف کی واپسی سے امریکی ‘روسی ہتھیاروں کے کنٹرول میں خاطر خواہ نتیجہ نہیں دیکھنے کو مل رہا؛اگرچہ روسی ایٹمی فورسزیقینی طور پر امریکہ کا میزائل دفاع کرنے میں ناکام رہے ہیں‘جو روسی (اور چینی) جدیدیت چل رہا ہے ‘مستقبل قریب میں دیکھا جا سکتا ہے کہ روس شاید امریکہ کو ٹیکنالوجی اور نیوکلیئر کی دوڑ میں پیچھے چھوڑ دے۔
شمالی کوریا اور روس کے برعکس‘ ایران کے پاس ابھی تک جوہری ہتھیار نہیں ہیں‘ لیکن ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری معاہدے سے نکلنے اور پابندیاں بحال کرنے کے فیصلے کو 2019ء میں مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔ دو ناپسندیدہ نتائج کا امکان بہت زیادہ ہوگا‘ ایک ایرانی ایٹمی ہتھیار یا مشرق وسطی میں ایک اور جنگ؛اگرچہ ایران امریکی پابندیوںسے نہ نکلنے کے باوجود ایٹمی معاہدے کی حدود کے اندر ٹھہرارہا ‘ تاہم یہ ایک اہم موقع ہے کہ آنے والے سال میںایرانی پابند نہیں رہیں گے۔ ایران 2015 ء سے پہلے کی سطح پر اپنی افزودگی کے پروگرام کو بڑھانے کے لئے آزمائش دوبارہ سے شروع کر سکتا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved