تحریر : نذیر ناجی تاریخ اشاعت     25-01-2019

بہت نئے نہ بہت پرانے

یہ کالم بہت پہلے لکھا تھا۔2019ء میں نیا لگتا ہے۔شاید یہ کچھ بھی نہیں لگتا ۔ آج کیا لگتا ہے؟ کچھ تو فرق پڑا ہو گا۔
''غالباً1964ء کا زمانہ تھا ۔ ایک ٹرک پر دو جملے پڑھے ایک یہ تھا '' فیلڈ مارشل صدر ایوب خان کی عظمتوں کو سلام‘‘ اور اس کے سامنے یہ جملہ بھی درج تھا '' یہ دن بھی گزر جائیں گے‘‘۔ یہ ترتیب خوب رہتی ۔اکثر اخباری سرخیاں پڑھ کر آخر میں ''یہ دن بھی گزر جائیں گے‘‘ کی گرہ لگا دیتا اور ہر بار ایک نیا لطف آتا '' جیسے جنرل یحییٰ خان نے شیخ مجیب الرحمن کو وزیراعظم بنانے کا اعلان کر دیا۔
'' یہ دن بھی گزر جائیں گے‘‘۔
ذوالفقار علی بھٹو نے صدر اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا۔
'' یہ دن بھی گزر جائیں گے‘‘۔
جنرل ضیا الحق نے نوے دنوں کے اندر انتخاب کا اعلان کر دیا۔
'' یہ دن بھی گزر جائیں گے‘‘۔
نواز شریف دو تہائی اکثریت کے وزیراعظم بن گئے۔
'' یہ دن بھی گزر جائیں گے‘‘۔
اب بھی خبروں کے ساتھ یہ جملہ لگا کر میں اکثر لطف اندوز ہوتا ہوں۔ گزشتہ روز یہ مشق دہرائی تو بہت دلچسپ رہی۔ آپ بھی پڑھ لیں۔
ڈکیتی کے مقدمات درج نہ کرنے والے تھانہ انچارجوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
'' یہ دن بھی گزر جائیں گے‘‘۔
ملکی استحکام پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
'' یہ دن بھی گزر جائیں گے‘‘۔
عوام کے جان و مال کا تحفظ کیا جائے گا۔
'' یہ دن بھی گزر جائیں گے‘‘۔
نئی کابینہ کی تشکیل‘ ایوان صدر سرگرمیوں کا مرکز بن گیا۔
'' یہ دن بھی گزر جائیں گے‘‘۔
نئی وفاقی کابینہ میں خواتین کو پہلے سے زیادہ نمائندگی دی جائے گی۔
'' یہ دن بھی گزر جائیں گے‘‘۔
بھارت کے ساتھ مذاکرات۔
'' یہ دن بھی گزر جائیں گے‘‘۔
حکومتی اقدمات کے خلاف وکلا جلد ملک گیر تحریک چلائیں گے۔
'' یہ دن بھی گزر جائیں گے‘‘۔
سو دنوں میں مسلم لیگ کویونین کونسل کی سطح تک منظم کیا جائے گا۔
'' یہ دن بھی گزر جائیں گے‘‘۔
حکومت کی طرف سے نئے پاکستان کی تعمیر کا عزم۔
'' یہ دن بھی گزر جائیں گے‘‘۔
وزیراعظم کے طور پر سب پارٹیوں کو ساتھ لے کر چلوں گا۔
'' یہ دن بھی گزر جائیں گے‘‘۔
ملک میں ایسا وزیراعظم ہے جو جغرافیائی سرحدوں اور عوامی مسائل کے بارے میں جانتا ہے۔
'' یہ دن بھی گزر جائیں گے‘‘۔
دہشت گردی کے خلاف پاکستان اور افغانستان مشترکہ کوششیں جاری رکھیں گے۔
'' یہ دن بھی گزر جائیں گے‘‘۔
مسلم لیگ اب بھی بڑی جماعت ہے۔
'' یہ دن بھی گزر جائیں گے‘‘۔
تھرپارکر کی ترقی کے لئے پیکیج لائیں گے۔
'' یہ دن بھی گزر جائیں گے‘‘۔
شیخ رشید نئی کابینہ میں وزیر ہوں گے۔
'' یہ دن بھی گزر جائیں گے‘‘۔
قومی اسمبلی کے سپیکر کو تبدیل نہیں کیا جائے گا۔
'' یہ دن بھی گزر جائیں گے‘‘۔
سید فخر امام اور بیگم عابدہ حسین فی الحال کسی سیاسی جماعت میں شامل نہیں ہو رہے۔
'' یہ دن بھی گزر جائیں گے‘‘۔
آپ کبھی فرصت کے وقت اخبار سامنے رکھ کر خبروں اور مضامین کی منتخب سرخیاں پڑھیں اور آخر میں '' یہ دن بھی گزر جائیں گے‘‘ لگاتے جائیں‘ ہر بار نیا لطف آئے گا‘‘ ۔ 
27)اگست2004ئ)

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved