تحریر : منیر احمد بلوچ تاریخ اشاعت     29-01-2019

ہاتھی کے دانت

دنیا بھر میں سب سے بڑی جمہوریت کا دعوی ٰ کرنے والا بھارت‘ اس کا میڈیا‘ اس کے سفارت کار اور حکمرانی کی مسند پر بیٹھے ہوئے حکومتی نیتا ئوں کو اگر ان کی جمہوریت کا عکس کسی صاف ستھرے اور دھوکہ نہ دینے والے آئینے میں دکھانے کی کوشش کی جائے تو وہ یک لخت اپنا چہرہ یا تو دوسری جانب پھیر لیتے ہیں یا اس آئینے کو ہی توڑنے کیلئے زور آزمائی شروع کر دیتے ہیں ۔ آپ اپنے نام کے ساتھ جتنا بڑا لفظ لگا لیں ‘اپنی پہچان کروانے کیلئے جس قدر چاہیں‘ جھوٹ اور مکاری کا پہاڑ کھڑا کر لیں‘ مگر مت بھولئے کہ سچ وہی ہوتا ہے‘ جو آپ کے عمل سے سامنے آتا ہے۔
26 جنوری کو بھارت یوم جمہوریہ کے نام سے عرصے سے منا تا چلا آ رہا ہے‘ لیکن یہ اس کی کیسی سب سے بڑی جمہوریت ہے‘ جس میں اپنے سے کمزور اور اقلیتوں کو جینے کا حق ہی نہیں دیا جا رہا ؟ وہ معاشرہ اور حکومت جو اپنے سے کمزور شہریوں کو ان کا حق نہیں دے سکتی‘ جو ان کو اپنی اکثریت اور طاقت کے زور پر کچلنے اور دبانے کی کوشش کرتی ہے‘ وہ کسی طور پر مہذب اور جمہوری ملکوں کی صفوں میں کھڑے ہونے کی لائق نہیں سمجھی جا سکتی؛ اگر کوئی ملک اپنے سے کمزور قوم کو زبردستی غلام بنانے کی کوشش کرے ‘تو اسے جمہوریت کا نام لیتے ہوئے اور دنیا بھر کی جمہوریت پسند قوموں اور ملکوں کو اسے جمہوری ممالک کی صفوں میں اپنے ساتھ کھڑا کرتے ہوئے سوچنا چاہئے کہ اس طرح بلواسطہ یا بلاواسطہ وہ اس محکوم قوم پر ہونے والے ظلم و سفاکیت کی مدد کر رہے ہیں؟ ہاتھی کے کھانے کے دانت دیکھئے نہ کہ دکھانے کے۔ 
عالمی قوانین کی رو سے بھی دیکھا جائے ‘تو کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ کشمیر بھارت کا قانونی حصہ ہے‘ کیونکہ اس کی متنازع حیثیت کا اعلان اور اقرار اقوام متحدہ نے اپنی منظور شدہ ایک قرارداد کے ذریعے آج سے70 برس پہلے ہی کر دیا ہے۔ اب‘ اگر بھارت یا اس کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں رہنے والا کوئی ایک بھی شخص یا تنظیم بھارتی حکومت کو یاد دلاتے ہوئے کہتی ہے کہ آپ کا کشمیر پر قبضہ نا جائز ہے اور کشمیریوں کو ان سے کئے گئے آپ کے پہلے وزیر اعظم پنڈت نہرو کے وعدے اور اقوام عالم کی جانب سے منظور کی جانے والی قرار داد کے مطا بق؛ اپنی مرضی کی آزاد حکومت قائم کرنے سے نہ روکا جائے ‘تو یہ کس طرح دہشت گردی کہی جا سکتی ہے؟ اسے آپ کس طرح غیر قانونی قرار دے سکتے ہیں؟جب کسی کا حق اسے نہ دیں گے ‘تو اس کیلئے اس زیر قبضہ اور محکوم قوم کا جدو جہد کرنا کس طرح جرم کہا جا سکتا ہے؟
برطانوی سرکار سے آزادی کیلئے ہندوستان میں کتنی تحریکیں چلائی گئیں؟ہندوستان میں سبھاش چندر بوس ہندوئوں کا سب سے بڑا جنگی ہیرو ما نا جاتا ہے۔ کیا اس نے انگریز کے خلاف ہندوستان کی آزادی کیلئے اپنی علیحدہ فوج بنا کر انگریزی فوج کے خلاف جنگ شروع نہیں کی تھی؟ اگر سبھاش چندر بوس بھارت کا ہیرو ہے تو پھر کشمیر کی آزادی کیلئے سڑکوں اور میدانوں میں آنے والے دہشت گرد کیسے ہو گئے؟
26 جنوری 2019ء کو بھارت اپنا یوم جمہوریہ منانے سے پہلے اپنی خفیہ ایجنسیوں اور ان کے زیر سایہ متحرک انتہا پسند ہندوئوں اور ان کی عسکری تنظیموں کے ذریعے جمہوریت کے بنیادی ا صولوں کا گلہ گھونٹنے کا کیانیا طریقہ ڈھونڈ تی رہی ؟ اس کی ایک جھلک 14 جنوری2019 ء کو نئی دہلی میں Views on Article 370/35A and Trifurcation of J&K پر منعقدہ ایک سیمینار میں دیکھنے اور سننے کو ملی‘ جسے ہال میں موجود لوگوں کی جانب سے سنتے اور منظور ہوتے دیکھ کر لگا کہ سٹالن ‘ مسولینی ‘ چنگیز خان اور ہٹلر کی روحیں بھارت کے ''یوم جمہوریہ ‘‘ کا جشن منانے کیلئے ایک ساتھ بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میںاکٹھی ہو گئیں۔ 
Conclave on J&K Trifuraction: Create Fear among Kashmiri Muslims living outsideکے ایجنڈے پر کام کرنے کیلئے کسی مشترکہ پلان اور اس پر وسیع پیمانے پر عمل در آمد کرنے کیلئے ترتیب دیئے گئے اس سیمینار جس کا اہتمام بھارت کے کچھ سابق فوجی‘پولیس اور خفیہ اداروں سے ریٹائر ہونے والے انتہا پسند وں افسران اور نریندر مودی کی مذہبی انتہا پسند راشٹریہ سیوک سنگھ نے کیا تھا۔ اس میں شریک مقررین نے اس عجیب و غریب ایجنڈے پر اپنی اپنی رائے اور تجاویز دینا شروع کیں۔ اس قسم کے سیمینارز کے محرکین کو بھارت کی خفیہ ایجنسیوں کا تھنک ٹینک کہا جاتا ہے ‘کیونکہ ان کا بنیادی مقصد تو وہی پرانا تھا کہ بھارت میں اقلیتوں اور خاص طور پر مسلمانوں کو کس طرح ہر وقت اپنے قدموں میں اٹھارہویں صدی کے امریکی غلاموں کی طرح سر جھکائے رکھا جائے‘ لیکن اس میں نئی شق یہ رکھی گئی کہ طالب علموں‘ سرکاری ملازمت اور کاروبار سے منسلک کشمیریوں کے ذریعے تحریک آزادی کو کس طرح کنٹرول کیا جائے ؟ اس خصوسی طور پر منعقد کئے گئے سیمینار میں شریک ایک اانتہا پسند ہندو مقرر پشپندر کلشرستھ نے '' کشمیری مسلمانوں کیلئے ہر جگہ خوف و ہراس پیدا کر دو‘‘ کے عنوان سے اپنی تقریر میں جو تجویز ان سب کے سامنے رکھی ‘اس پر ہال میں موجود تمام سامعین نے بھر پور تالیاں بجاتے ہوئے پر زور طریقے سے داد دی ایسا لگا کہ پشپندر کی اس تجویز نے وہاں موجود تمام سامعین کے دل کی بات کہہ دی ہو۔ پشپندر کی اس رائے سے سب نے اتفاق کرتے ہوئے فوراًہی ''بھارت کے کسی بھی حصے میں موجود کشمیری مسلمان مرد وخواتین کو چاہے ‘وہ کسی تعلیمی ادارے میں ہوں یا سرکاری اور پرائیویٹ قسم کے ادارے میں کام کرتے ہوں‘ ان کا کاروبار ہو یا وہ دکاندار ہوں‘ فیصلہ کیا کہ با قاعدہ ایک تحریک کی شکل میں ان کے دلوں میں اس قدر خوف و ہراس پیدا کر تے ہوئے ذہنی اور جسمانی تشدد کا شکار کیا جائے کہ ان کا یہ واویلا جموں کشمیر میں ان کے والدین‘ عزیز وں اور دوستوں تک اس طرح پہنچے کہ وہ اس کے نتائج دیکھتے ہوئے سہم کر رہ جائیں‘‘۔پشپندر کہنے لگا '' یاد رکھو! کشمیری مسلمان ‘کسی اعلیٰ پوسٹ پر فائز ہو بھی جائیں تو ان کے اندر ''ذاکر موسیٰ ‘ ابو دجانہ‘ فلم ایکٹر عامر خان اورنصیر الدین شاہ اور حامد انصاری نہیں نکل سکتے۔اس لئے ان پر نظر رکھتے ہوئے کبھی غلطی سے بھی ان پربھروسہ مت کرو۔ جموں کشمیر میں رہنے والے ان کشمیری مسلمانوں جو تعلیم‘ کاروبار یا ملازمت سے منسلک ہیں ان کے جموں کشمیر میں رہنے والے والدین اور اہل خانہ کو ان پر تشدد اور کاروبار سمیت ان کے گھروں کوآگ لگانے کی خبروں اور اطلاعات سے اس قدر خوف زدہ کر دیا جائے کہ وہ کشمیر خصوصاً سری نگر اور جموں میں رہنے والے پنڈتوں کی جانب میلی آنکھ سے دیکھنے کی ہمت اور جرأت نہ کر سکیں۔ ان کشمیری مسلمانوں اور ان کے دوستوں عزیزوں کو یقین دلا دیاجائے کہ اگر انہوںنے یا ان کے کسی گھر والے نے بھارت کے زیر قبضہ جموںو کشمیر میں آزادی کیلئے کسی بھی قسم کی کوئی جدو جہد کی کسی کشمیری پنڈت کو وہاں تنگ کرنے کی کوشش کی توان کشمیری مسلمانوں کے بھارت کے کسی بھی حصے میں تعلیم یا ملازمت اور کاروبار کی نیت سے رہنے والے مردو خواتین کی زندگیاں جہنم بنا کر رکھ دی جائیںگی۔کشمیری مسلمانوں کے ساتھ بھارت کی ہر گلی‘ بازار‘ سکول کالج اور دفتر میں عرصہ حیات تنگ کر کے رکھ دیا جائے ‘‘۔
الغرض شپندر کے بقول '' یاد رکھو! اس سب کے با وجودان کشمیریوں پر کبھی بھی بھروسہ نہیں کرنا‘ کیونکہ یہ کسی بھی وقت عامر خان‘ ذاکر موسیٰ ‘ نصیر الدین شاہ اور حامد انصاری بن سکتے ہیں ‘‘۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved