تحریر : خورشید ندیم تاریخ اشاعت     31-01-2019

ترجیحات کا مسئلہ

آئین شکنی بڑا جرم ہے یا مالی بد عنوانی؟
انسانی جان کی حرمت زیادہ ہے یا میرے خود ساختہ تصوراتِ مذہب و سماج کی؟
معلوم نہیں کبھی یہ سوالات کسی سروے کا موضوع بنے ہیں یا نہیں۔ میں یہ بھی نہیں جانتا کہ انہیں میڈیا یا کسی سماجی فورم پر زیرِ بحث لایا گیا ہے یا نہیں؛ تاہم میرا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ لوگ آئین شکنی کو کچھ ایسا خطرناک جرم نہیں سمجھتے۔ ان کا خیال ہے کہ مالی بد عنوانی سب سے بڑا جرم ہے۔ انسانی جان کے مقابلے میں، وہ تصورات زیادہ اہم ہیں‘ جنہیں ایک فرد نے کسی مذہبی یا خاندانی عصبیت میں اختیار کر رکھا ہے۔ کوئی زبانِ قال سے کہے نہ کہے، زبانِ حال سے یہی کہتا سنائی دیتا ہے۔
امرِ واقعہ یہ ہے کہ آئین شکنی مالی کرپشن کے مقابلے میں کہیں بڑا جرم ہے۔ قانون کے پہلو سے بھی اور سماجی حوالے سے بھی۔ قانون یہ ہے کہ جو آئین توڑنے کا ارتکاب کرے گا، وہ سزائے موت کا مستحق ہے۔ جو مالی کرپشن کرے گا، اسے قید کی سزا ہو گی‘ جو عمر قید سے کم ہی ہے۔ سماجی پہلو سے دیکھیے تو آئین شکنی کا مرتکب دراصل زبانِ حال سے اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ وہ ریاست اور عوام کے مابین موجود معاہدے کو ختم کر رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ اس کا کوئی قانونی حق رکھتا ہے اور نہ اخلاقی۔ ایک فردِ واحد کروڑوں افراد کے حق کو جب پامال کرتا ہے تو اس کے لیے سخت سے سخت سزا ہی ہونی چاہیے۔
یہ محض ایک معاملہ نہیں۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ سماج کی کم و بیش ساری ترجیحات ایسی ہی ہیں۔ مثال کے طور پر مذہب۔ لوگ دین کے بنیادی ماخذ کی طرف رجوع نہیں کرتے۔ شخصیات کو مرکز مانتے ہیں۔ قرآن مجید کو کبھی سنجیدگی سے نہیں پڑھیں گے لیکن جماعتوں کے خود ساختہ لٹریچر کے حافظ ہوں گے۔ دین کی مستند روایت سے صرفِ نظر کریں گے اور کمزور روایات کے مبلغ بن جائیں گے۔ عملِ متواتر کو نظر انداز کریں گے اور خبرِ واحد کو عقیدے کی اساس بنا لیں گے۔ مستند بات پر قصے کہانیوں کو ترجیح دیں گے۔
سیاست میں حقیقی مسائل کے بجائے غیر ضروری معاملات کو اہم جانیں گے۔ ایسے معاملات پر سیاسی تحریکیں اٹھا دیں گے جن کا سیاسی تطہیر و تعمیر سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔ طاہرالقادری صاحب جیسے پڑھے لکھے آدمی نے گزشتہ سالوں میں دو تحریکیں اٹھائیں۔ لوگوں کو سخت سردی میں سڑکوں پر بٹھائے رکھا۔ اپنے کارکنوں کو حکومت سے ٹکرا دیا‘ جس کے نتیجے میں کئی بے گناہ لوگ مارے گئے۔ آج ہم جانتے ہیں کہ یہ ایک بے معنی عمل تھا‘ جس کی کوئی افادیت قوم پر واضح نہ ہو سکی۔ افسوس کہ کوئی پوچھنے والا نہیں۔ 
انفاق فی سبیل اللہ جیسی نیکی کو دیکھ لیں۔ ہم نہیں جانتے ہیں کہ کہاں خرچ کرنا چاہیے؟ کون زیادہ مستحق ہے؟ کس مد میں خرچ کرنا اللہ کی رحمت کو زیادہ متوجہ کرنے کا باعث ہو گا؟ حقیقی ضرورت مند ہمارے قریب موجود ہوں گے‘ اور ہمیں دکھائی نہیں دیں گے۔ ان سے صرفِ نظر کرتے ہوئے، ہم کہیں دور کسی مزار پر چادر چڑھانے کو ترجیح دیں گے۔
واقعہ یہ ہے کہ بطور قوم، کسی معاملے میں بھی ہماری ترجیحات درست نہیں ہیں۔ ہم مذہب میں ترجیحات کو درست کر سکے نہ سماجی معاملات میں۔ سیاست میں نہ معیشت میں۔ ہم گاڑی اس تیزی سے چلائیں گے کہ جیسے ہمارے لیے ایک ایک منٹ قیمتی ہے۔ دوسری طرف گھنٹوں بیٹھے چائے پیتے رہیں گے۔ ہمارا حال یہ ہے کہ ہم کبھی بیٹھ کر اپنی اداؤں پر غور نہیں کرتے۔ ملک جیسے ایک بازار ہو اور شہری اس میں گھومنے پھرنے والے خریدار۔ کبھی بلا وجہ ایک دکان پر رک گئے کبھی دوسری پر۔ تاثر یہ کہ سارا بازار خریدنے آئے ہیں، حقیقت یہ کہ محض راہگیر ہیں۔
جب ترجیحات درست نہ ہوں تو پھر رجالِ کار کا انتخاب بھی نہیں ہو سکتا۔ پھر یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کس منصب کے لیے کون موزوں ہے۔ ہمارے بعض قومی اداروں کا برسوں سے معاملہ یہ ہے کہ وہ کسی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکے۔ وجہ یہ ہے کہ افرادِ کار کا انتخاب کرتے وقت یہ نہیں دیکھا جاتا کہ ادارے کی ضرورت کیا ہے۔ یہاں پہلے افراد کی فہرست بنتی ہے کہ کس کس کو کھپانا ہے۔ پھر کہا جاتا ہے کہ وہ جگہیں تلاش کی جائیں جو خالی پڑی ہیں۔ اس کے بعد کسی کارکردگی کی خواہش بے معنی ہے۔
قومی سطح پر منصوبہ بندی کرتے وقت، یہ دیکھا جانا چاہیے کہ ہماری ترجیحات کیا ہیں؟ اصلاحِ احوال کا کوئی کام ترجیحات کا تعین کیے بغیر نہیں ہوتا۔ پیغمبر بھی یہی کرتے ہیں۔ وہ عقیدے کی اصلاح سے آغاز کرتے ہیں۔ پیغمبروں کی پہلی اور آخری ترجیح قیامت کا انذار ہے۔ اس کا انحصار حالات پر ہے کہ وہ اس کے لیے کیا حکمتِ عملی اختیار کرتے ہیں۔ اگر اقتدار میسر آ جائے تو ان کی ترجیح کچھ اور ہوتی ہے۔ جیسے حضرت یوسفؑ۔ اقتدار نہ ہو تو گلی بازار میں آخرت کی منادی کرتے ہیں جیسے حضرت مسیحؑ۔
فرد کا معاملہ بھی یہی ہے۔ کامیاب ہونے کیلئے اسے اپنی ترجیحات طے کرنا پڑتی ہیں۔ بعض اوقات مسائل ہمہ جہتی ہوتے ہیں۔ غربت، بے روزگاری، نا خواندگی۔ فرد کو طے کرنا پڑتا ہے کہ سب سے پہلے وہ کسے ہدف بنائے۔ ترجیحات میں غلطی منزل کھوٹی کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔ یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی مسئلہ حل نہ ہو اور وقت بھی گزر جائے۔
فرد کے مسائل کا حل تو یہ ہے کہ اسے درست راہنمائی ملے۔ یہ راہنمائی گھر سے مل سکتی ہے اور تعلیمی ادارے سے بھی۔ محلے سے بھی اور مسجد سے بھی۔ اس کے لیے اچھی کتابیں بھی مدد کر سکتی ہیں۔ شخصیت سازی پر مولانا وحیدالدین خان نے بہت اچھی کتابیں لکھی ہیں۔ انہوں نے ''رازِ حیات‘‘ جیسی کتابوں میں بتایا کہ فرد کو اپنی زندگی کی ترجیحات کے بارے میں کیسے فیصلہ کرنا چاہیے۔
قوموں کے لیے ضروری ہے کہ انہیں صاحبانِ بصیرت کی قیادت میسر آ جائے۔ وہی قیادت کسی قوم کے لیے ترجیحات کا درست تعین کر سکتی ہے۔ جیسے جنوبی افریقہ کو نیلسن منڈیلا کی قیادت ملی۔ انہوں نے قوم کو کالے گورے کی تمیز سے اٹھا دیا اور اسے ملک کا پہلا مسئلہ سمجھا۔ یوں انہوں نے ملک کو نسلی اختلافات سے نکال لیا جو ایک مدت سے جنوبی افریقہ کی ترقی کے راستے میں حائل رہے۔ 
پاکستان کو اچھی قیادت میسر نہ آ سکی جس کی وجہ سے ہماری قومی ترجیحات کا درست تعین نہیں ہو سکا۔ یہ قیادت سیاسی بھی ہے‘ اور مذہبی بھی۔ یہی وجہ ہے کہ ہم سیاست میں ترجیحات کا درست تعین کر سکے نہ مذہب میں۔ ریاستی ادارے بھی بدستور ابہام کا شکار ہیں۔ ''پیغامِ پاکستان‘‘ آ چکا مگر اس کی روشنی میں ادارے تعمیر نہیں ہو سکے۔ مثال کے طور پر مذہب میں تزکیہ نفس کسی مذہبی جماعت کی پہلی ترجیح نہ بن سکی۔ سیاست میں ہم کبھی انفراسٹرکچر تعمیر کر رہے ہوتے ہیں اور کبھی کرپٹ لوگوں کا پیچھا۔ 
ہمارے لیے ترجیحات کا تعین کافی نہیں، درست ترجیحات کا تعین ضروری ہے۔ اس کے لیے قومی سطح پر ایک مشاورتی عمل کا آغاز ہونا چاہیے۔ چیف جسٹس صاحب نے اس کی طرف توجہ دلائی ہے۔ کچھ اور لوگ بھی اس سے پہلے اسی نوعیت کی تجویز پیش کرتے رہے ہیں۔ قومی تعمیر کا کوئی منصوبہ اسی وقت نتیجہ خیز ہو سکتا ہے‘ جب قومی سطح پر اسے اپنا لیا جائے اور ہر فرد اسے اپنی ترجیح سمجھے۔
کاش عمران خان صاحب یہ کام کر سکتے۔ وہ ایک جماعت کے بجائے، پاکستان کا لیڈر بننے کا سوچتے۔ ان سے مگر یہ توقع عبث ہے۔ انسان اپنی افتادِ طبع کا اسیر ہے۔ سپیکر نے اسمبلی کی سطح پر ایک اچھا قدم اٹھایا ہے۔ انہیں چاہیے کہ اسے ایک ہمہ گیر سیاسی عمل کا حصہ بنا دیں۔ اگر اہلِ سیاست ایک دوسروں کو نیچا دکھانے کے بجائے باہم مل کر ملک کی ترقی کا سوچیں تو اس میں سب کے لیے آسانیاں ہیں۔ 
میرا خیال ہے کہ آغاز سماج سے ہو گا، ریاست سے نہیں۔ اس وقت ریاست اور سماج کی ترجیحات میں تفاوت ہے۔ یہ اسی وقت ختم ہو گا جب سماج کی سطح پر ترجیحات کا تعین ہو گا۔ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved